| عنوان: | قلم کی اہمیت |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| منجانب: | تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف |
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں اور خوبیوں سے نوازا ہے۔ اس کی ان نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت قلم ہے۔ اس عظیم نعمت کی اہمیت اور عظمت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی اس میں رب تبارک وتعالیٰ نے قلم کا ذکر فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ط خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ط اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ط الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ط عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ط
ترجمہ: پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی، انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (سورۂ علق)
وہیں دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کی قسم یاد فرمائی ہے ان میں سے ایک قلم بھی ہے۔ ارشاد فرمایا:
نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ
ترجمہ: نٓ، قلم کی اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں اس کی قسم۔ (سورۂ قلم، آیت: ۱)
رب تبارک وتعالیٰ کا قلم کی قسم یاد فرمانے سے واضح ہو گیا کہ بارگاہِ خداوندی میں قلم کی بہت قدر و منزلت ہے؛ کیونکہ قسم اسی کی اٹھائی جاتی ہے جو چیز قدر و اہمیت کی حامل ہو۔ قلم اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ قلم ہی کے ذریعہ احادیث کا خزانہ، شریعت کے مسائل، انبیاء علیہم السلام کے احوال و کوائف، سیرتِ نبی اکرم ﷺ، سوانحِ اولیاء اور تاریخِ اقوامِ عالم محفوظ ہوئیں۔ تصانیف و تالیفات کے ذخائر اس بات کا ثبوت ہیں کہ قلم نے دنیا کے علوم اور اقوامِ عالم کی تواریخ کو محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
قلم محض ایک آلہ نہیں بلکہ علم، دعوت، اصلاح اور تعمیرِ امت کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ موجودہ دور فکری انتشار، اخلاقی انحطاط، بے راہ روی اور معلومات کے سیلاب کا دور ہے جہاں باطل افکار و نظریات نت نئے انداز سے عوام کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں، ایسے ماحول میں اہلِ حق کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ علم و حکمت کے ساتھ صحیح دینی فکر، معتدل اسلامی تعلیمات اور صالح اقدار کو عام کریں اور بے راہ روی کی دنیا میں بھٹک رہے لوگوں کی صحیح سمت رہنمائی کریں۔ اس تعلق سے علمی رسائل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ رسائل ایک طرف دینی اور ادبی حلقوں کی پیاس بجھاتے ہیں، وہیں دوسری جانب نئی نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت کا اہم فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔
اسلام نے قلم کو غیر معمولی عزت بخشی ہے۔ قرآنِ مجید نے سب سے پہلے انسان کو پڑھنے کی دعوت دی اور پھر تعلیمِ قلم کا ذکر فرمایا۔ گویا پڑھنا اور لکھنا اسلامی تہذیب کی بنیاد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو آپ پائیں گے کہ مسلمانوں نے دنیا کو عظیم کتب خانے، علمی مراکز اور بے مثال تصنیفات کا تحفہ دیا۔ محدثین نے لاکھوں روایات کی چھان بین کی، مفسرین نے قرآن کے علوم کو مرتب کیا، فقہاء نے مسائلِ شریعت کی توضیح کی، اور یہ سب قلم ہی کے ذریعے ممکن ہوا۔
قلم صرف علم کا محافظ نہیں بلکہ ضمیر کی آواز بھی ہے۔ جب ظلم کے اندھیرے چھا جائیں، جب باطل کو حق بنا کر پیش کیا جانے لگے اور جب معاشرہ فکری انتشار اور اخلاقی زوال کا شکار ہو جائے، تب صاحبِ قلم کا فرض ہے کہ وہ حق کی گواہی دے۔ اس کا قلم کمزوروں کی حمایت، مظلوموں کی ترجمانی اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کا ذریعہ بنے۔
بدقسمتی سے آج قلم کا استعمال بہت سے مواقع پر سنسنی پھیلانے، کردار کشی کرنے اور تعصب کو ہوا دینے کے لیے بھی کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ قلم ایک مقدس امانت ہے۔ اس سے نکلنے والا ہر لفظ انسان کے حق میں بھی حجت بن سکتا ہے اور اس کے خلاف بھی۔ اس لیے ضروری ہے کہ قلم کو اخلاص، دیانت، تحقیق اور خوفِ خدا کے ساتھ استعمال کیا جائے۔
اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان نسل میں مطالعہ اور تحریر کا ذوق پیدا کریں۔ انہیں سکھائیں کہ قلم شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمتِ دین اور خدمتِ خلق کا وسیلہ ہے۔ وہ قلم ہی کیا جو دلوں میں امید پیدا نہ کرے، کردار سازی نہ کرے اور انسان کو اس کے رب سے قریب نہ کرے؟
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بہت سی جنگیں تلواروں سے جیتی گئیں، لیکن دلوں کو فتح کرنے کا کام قلم نے کیا۔ بلاشبہ تلوار وقتی فتوحات حاصل کر سکتی ہے، مگر قلم کی فتوحات صدیوں تک باقی رہتی ہیں۔ سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں، حکومتیں بدل جاتی ہیں، لیکن اہلِ قلم کے افکار اور تحریریں زمانوں تک زندہ رہتی ہیں۔ آپ اسلاف کی حیات کو دیکھیں؛ امام بخاری، امام غزالی، امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہم الرحمہ اور دیگر اکابرینِ امت آج ہمارے درمیان بظاہر موجود نہیں، مگر ان کے قلم کی روشنی آج بھی علم کے متلاشیوں کی رہنمائی کر رہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے قلم کو نفرت کے بجائے محبت اور انتشار کے بجائے اصلاح و خیر خواہی کا ذریعہ بنائیں۔ اگر اہلِ حق نے قلم کا حق ادا کیا تو یہ معاشرے کی تقدیر بدل سکتا ہے، اور اگر اس سے غفلت برتی گئی تو فکری خلا کو گمراہ کن آوازیں پُر کر دیں گی۔
آئیے! ہم عہد کریں کہ ہمارا قلم سچائی کا ترجمان، دین کا خادم، اخلاق کا محافظ اور انسانیت کی بھلائی کا پیامبر بنے گا۔ یہی قلم کی اصل عظمت ہے، یہی اس کی امانت کا تقاضا ہے، اور یہی ایک صاحبِ ایمان کی ذمہ داری بھی۔
قلم کے اندر تلوار سے زیادہ طاقت ہے۔ اہلِ قلم نے اسی قلم کی تلوار کے ذریعہ فتنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان پر فتح پائی۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
کلکِ رضا ہے خنجرِ خونخوار برق بار
اعدا سے کہہ دو خیر منائیں، نہ شر کریں
(منجانب: تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف)
