| عنوان: | فتاویٰ و رسائل رضویہ کی خصوصیات (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا مفتی محمد کمال الدین مصباحی اشرفی |
| پیش کش: | عائشہ صدیقہ بنت مجیب احمد |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
سوال بزبان انگریزی
Rangoon, The 19th May, 1908
To Moulvi Haji Ahmad Raza Khan, Esqur. Bareily, United Provinces
Honoured Sir,
We desire to place before you a certain religious matter on which we solicit your valuable opinion. The facts are briefly these: There is a Chulian mosque in Moung Taulay street at this place. There are five duly elected trustees or motawallis who manage the affairs of the said mosque according to a scheme framed by the chief court of Lower Burma. The trustees are given the power of discharging the Imam, Muazzin and Clerks of the mosque. In virtue of said power the trustees at a meeting discharged their Imam, one Syed Muckbool, for irregularity, misconduct and disobedience. After the discharge the trustees filed a suit in the chief court of Lower Burma for declaration that the discharge of the Imam may be confirmed. The Imam now questions the authority of the trustees and maintains that they have no power to discharge him. Having placed the facts briefly we request you most humbly to give your fatwa as to whether the trustees have the power to discharge the imam when they find it necessary to do so. This is a vital point which is at present engaging the attention of the leading member of the Chulian Sunni Mohammadan community and we shall thank you very much if you can send your fatwa before the last week of June. Thanking you in anticipation. We beg to remain, Honoured Sir,
Your most obedient and humble followers,
M. Qadri Gani, President, The Madras Muslim Association, No. 37, Tocckay, Moung Taulay street.
[فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 16، ص: 549]
ترجمۂ سوال
مسئولہ از رنگون، مورخہ 19 مئی 1908ء
بخدمت جناب حاجی احمد رضا خان صاحب محلہ سوداگران، بریلی، یو پی۔
مولانائے محترم! ہم سب آپ کی خدمت میں چند مذہبی امور کے بارے میں رائے عالی جاننے کے لیے یہ پیش کر رہے ہیں اور مختصراً واقعہ کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں۔ یہاں ایک مسجد چولیان مونگ تلا اسٹریٹ میں واقع ہے، جس کے چنے ہوئے پانچ متولیان ہیں جو مسجد کا انتظام اس قانون کے تحت انجام دے رہے ہیں جس کو عدالت العالیہ برما نے مرتب کیا ہے۔ جس کے مطابق متولیوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ امام، مؤذن اور عملہ کو برخاست کر سکتے ہیں۔ اس قانون کے مطابق متولیان نے ایک مجلس شوریٰ کے اندر سید مقبول امامِ مسجد کو ان کی بے ضابطگی، برے چلن اور حکم عدولی کے باعث برخاست کر دیا۔ اس برخاستگی کے بعد متولیوں نے ایک مقدمہ استقراریہ اس امر کا عدالت العالیہ برما میں دائر کیا کہ امام کی برخاستگی مستقل کر دی جائے۔ اب امام نے یہ باز پرس متولیوں کی مجلسِ قانون سے کی ہے کہ قانون کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہے، ان لوگوں کو برخاست کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس مختصر واقعہ کو پیش کرتے ہوئے نہایت ادب سے التجا کرتے ہیں کہ آپ اس کے متعلق اپنا فتویٰ مرحمت فرمائیں، کیا متولیان کو امام کی برخاستگی کا حق حاصل ہے کہ جب وہ چاہیں برخاست کر دیں؟ یہ آج کل بہت بڑا مسئلہ ممبرانِ چولیان سنی محمڈن کمیونٹی کا بنا ہوا ہے، ہم لوگ بے حد شکر گزار ہوں گے اگر آپ اپنا فتویٰ ماہ جون کے اوائل ہفتہ میں روانہ فرما دیں۔ فقط۔ آپ کا فرمانبردار خاکسار معتمد، قادر غنی، صدر مدراس مسلم ایسوسی ایشن، مونگ تلا اسٹریٹ۔
[فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 16، ص: 553]
جواب بزبان انگریزی
From: Bareilly, the 28th of May 1908
To: M. Qadir Gani, President, The Madrasa Muslim Association
Sir, with reference to your letter dated 19th of May 1908, I send my fatwa for your perusal. The trustees can discharge an Imam by their authority when such indifferences are found in him which may be the sufficient reason of "Shara" for him to be dismissed. Vide Lisnul Hukkam, printed at Misr, page No. 123.
فِي فَتَاوَى قَاضِي خَان: إِذَا عَرَضَ لِلْإِمَامِ أَو لِلْمُؤَذِّنِ عُذْرٌ مَنَعَهُ عَنِ الْمُبَاشَرَةِ مُدَّةَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَلِلْمُتَوَلِّي أَنْ يَعْزِلَهُ وَيُوَلِّيَ غَيْرَهُ وَإِنْ كَانَ لِلْمَعْزُولِ نَائِبٌ. [فتاویٰ قاضی خان]
Translation: There is in Fatwa Qazi Khan: when an Imam or Muazzin has some certain business which may be the cause of six months absence from the mosque, notwithstanding he may have given some person for him to act, at such opportunity the trustees can discharge him and may establish or appoint another Imam in his place.
وَتَقَدَّمَ مَا يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ عَزْلِهِ إِذَا مَضَى شَهْرٌ (بِيرِي). [شامی، ج: 3، ص: 639]
Translation: Allama Birizada has said that the books aforesaid style shows that a trustee can discharge an Imam on account of a month absence from the mosque. The trustees had no need of taking sanction of discharging the Imam from the court or from any higher officer or Governor because the authority of trustees in these matters is over the powers of a Mohammadan Governor although the same Mutavallis or Trustees may have been fixed by the same Mohammadan Governor. See Ashbahunnazair, printed Lucknow, page 179, copies from the fatwa of Imam Rashiduddin.
لَا يَمْلِكُ الْقَاضِي التَّصَرُّفَ فِي الْوَقْفِ مَعَ وُجُودِ نَاظِرِهِ وَلَوْ مِنْ قِبَلِهِ. [حموی شرح اشباہ، ص: 179]
Translation: A Qazi cannot interfere a waqf in presence of a trustee although the trustees may have been fixed by the same Qazi. Hamawi Sharah Ashbah, printed Lucknow, page No. 179, copies from fatwa Imam Zahiruddin.
قَاضِي الْبَلَدِ إِذَا نَصَبَ رَجُلًا مُتَوَلِّيًا لِلْوَقْفِ بَعْدَ مَا قَلَّدَهُ الْحَاكِمُ الْحُكُومَةَ فَلَيْسَ لِلْحَاكِمِ عَلَى الْوَقْفِ سَبِيلٌ حَتَّى لَا يَمْلِكَ الْإِيجَارَ وَلَا غَيْرَهَا. [لسان الحکام]
Translation: A king appointed a qazi and after it the qazi fixed a trustee on a waqf, now the king has no connection with the waqf nor has he any power of its contract etc. Another style from Lisnaul Hukkam, copies from fatwa Imam Sowri.
لَا تَدْخُلُ وِلَايَةُ السُّلْطَانِ عَلَى وِلَايَةِ الْمُتَوَلِّي فِي الْوَقْفِ. [لسان الحکام]
Translation: A king cannot interfere a waqf against a trustee authorities. In this case the higher officers or governors are not Mohammadan ones and therefore they do not know the schemes of Shara as a Mohammadan trustee knows. The trustees can discharge an Imam when the Imam leaves Sunnia doctrine or commits an open sin against Shara or there may be found in him something which may be the cause of abhorrence which decreases the number of peoples at prayers or he may be disobedient against the managing rules of affairs of the mosque, or assembly of persons at prayers or there may be something such in him, otherwise he will not be discharged without fault. See Raddul Mohtar, printed Constantinople, volume 3, page 597.
قَالَ فِي الْبَحْرِ: وَاسْتُفِيدَ مِنْ عَدَمِ صِحَّةِ عِزْلِ النَّاظِرِ بِلَا جُنْحَةٍ عَدَمُهَا لِصَاحِبِ وَظِيفَةٍ فِي وَقْفٍ بِغَيْرِ جُنْحَةٍ وَعَدَمِ أَهْلِيَّةٍ. [بحر الرائق]
Translation: It is said in Bahrul Raiq that as a mutawali cannot be dismissed without fault, from this it is manifest that any receiver of a salary of a waqf cannot be discharged until his fault be proved or he may be proved to be unfit for his duties.
امر برقمه عبده المذنب احمد رضا البريلوي، عفى عنه بمحمد المصطفى النبي الأمي صلى الله عليه وسلم.
[فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 16، ص: 551-552]
ترجمۂ جواب
بریلی، مورخہ 28 مئی 1908ء
بخدمت جناب ایم قادری غنی، صدر مدرس مسلم ایسوسی ایشن۔
محترم! آپ کے مراسلہ مورخہ 19 مئی 1908ء کے مطابق میں اپنا فتویٰ برائے ملاحظہ ارسال کر رہا ہوں، متولیان ایک امام کو برخاست کر سکتے ہیں جبکہ کوئی ایسا اختلاف اور وجہِ معقول شرعی طور پر پائی جائے۔ [لسان الحکام مطبوعہ مصر، ص: 123]
ترجمہ: فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ جب امام یا مؤذن کے درمیان کوئی ایسی چیز عارض ہو جس کی وجہ سے وہ چھ ماہ تک مسجد سے غیر حاضر رہے اور اس نے اپنا کوئی بدل نہ دیا ہو تو اس وقت متولی اس کو برطرف کر سکتا ہے اور دوسرا امام اس کی جگہ مقرر کر سکتا ہے۔ [طحطاوی مطبوعہ مصر اور شامی مطبوعہ قسطنطنیہ جلد 3، ص: 639]
ترجمہ: علامہ بیری زادہ کتاب مذکور میں فرماتے ہیں کہ متولی ایک امام کو مسجد سے ایک ماہ کی غیر حاضری پر برطرف کر سکتا ہے۔ متولی کو کوئی ضرورت امام کی برطرفی کے لیے عدالت یا کسی افسرِ بالا یا گورنر سے اجازت لینے کی نہیں ہے کیونکہ متولی اپنے اختیارِ خصوصی سے ان معاملات میں خود اسلامی گورنر جیسا اختیار رکھتا ہے، اگرچہ یہ متولی خود ایک اسلامی گورنر کے مقرر کردہ ہوں۔ [اشباہ والنظائر مطبوعہ لکھنؤ، ص: 179، منقول از فتاویٰ امام رشید الدین]
ترجمہ: ایک قاضی وقف کے کسی معاملہ میں متولی کی موجودگی میں دخل نہیں دے سکتا جبکہ اسی قاضی نے اس کو متولی بنایا ہو۔ [حموی شرح اشباہ مطبوعہ لکھنؤ، ص: 179، منقول از فتاویٰ امام ظہیر الدین]
ترجمہ: ایک بادشاہ نے ایک قاضی مقرر کیا اور اس کے بعد قاضی نے وقف کا ایک متولی مقرر کیا، اب بادشاہ کو کوئی تعلق اس وقف سے نہ رہا اور نہ کوئی اختیار اس کو رد و بدل کا باقی رہا۔ [لسان الحکام، منقولہ از فتاویٰ امام ثوری]
ترجمہ: ایک بادشاہ ایک متولی کے معاملہ میں دخیل نہیں ہو سکتا جبکہ حکامِ بالا یا گورنر جو کہ مسلمان نہیں اور جو اس قانونِ تولیت سے واقفیت بمقابلہ متولی نہیں رکھتے، اس وقت متولی امام کو برخاست کر سکتا ہے جبکہ امام عقائدِ سنیہ کو ترک کر دیتا ہے یا برملا شرع کی خلاف ورزی کرتا ہو یا کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہو جس سے نمازِ جماعت میں کمی واقع ہو یا کمیٹی کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہو جو مسجد سے متعلق ہوں۔ اس کے علاوہ بغیر کسی قصور کے برخاست نہیں کیا جا سکتا۔ [رد المحتار مطبوعہ قسطنطنیہ، جلد 3، ص: 597]
ترجمہ: بحر الرائق میں ہے کہ ایک متولی بغیر قصور کے برخاست نہیں کیا جا سکتا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک وقف سے تنخواہ پانے والا شخص بغیر کسی قصور کے برخواست نہیں کیا جا سکتا جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں قاصر ہے۔
[فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 16، ص: 553-554]
فتاویٰ رضویہ کے ابتدائی خطبہ کی براعتِ استہلال
فقہ اور فتاویٰ کی کتابوں میں تمام مصنفین کا یہی طریقہ ہوتا ہے کہ پہلے ایک خطبہ تحریر کرتے ہیں جس میں حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اور وجہِ تالیف کا اظہار کرتے ہیں، لیکن امام احمد رضا قدس سرہٗ نے فتاویٰ رضویہ کا ایسا خطبہ تحریر فرمایا ہے جو دیگر کتابوں کے خطبوں سے بالکل الگ تھلگ اور منفرد ہے۔ جو بلا شبہ فصاحت و بلاغت کا اچھوتا شاہکار ہے، دلکش اشارات، روشن تلمیحات، خوبصورت استعارات اور خوشنما تشبیہات پر مشتمل ہے۔ اس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ خطبے کے اندر اللہ تعالیٰ کی حمد، رسول اللہ ﷺ کی تعریف، صحابہ اور اہل بیت کی مدح اور درود و سلام یہ تمام چیزیں ائمہ کرام کی کتابوں کے ناموں سے ادا کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جملہ محسناتِ بدیعیہ از قسم براعتِ استہلال و رعایتِ سجع وغیرہ بھی پوری طرح ملحوظ رکھی گئی ہے۔ اتنی قیودات اور پابندیوں کے باوجود خطبے کی سلاست و روانی میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں۔ ذیل میں فتاویٰ رضویہ کا براعتِ استہلال اور کتبِ فقہ و ائمہ کرام کے ناموں کا شاہکار خطبہ ہدیۂ ناظرین ہے۔
خطبة الکتاب
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ. نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ. اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ هُوَ الْفِقْهُ الْأَكْبَرُ، وَالْجَامِعُ الْكَبِيرُ، لِزِيَادَاتِ فَائِضِهِ الْمَبْسُوطِ وَالدُّرَرِ وَالْغُرَرِ، بِهِ الْهِدَايَةُ، وَمِنْهُ الْبِدَايَةُ، وَإِلَيْهِ النِّهَايَةُ، بِحَمْدِهِ الْوِقَايَةُ، وَنِقَايَةُ الدِّرَايَةِ، وَعَيْنُ الْعِنَايَةِ، وَحُسْنُ الْكِفَايَةِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى الْإِمَامِ الْأَعْظَمِ لِلرُّسُلِ الْكِرَامِ، مَالِكِي، وَشَافِعِي، وَأَحْمَدَ الْكِرَامِ، يَقُولُ الْحَسَنُ بِلَا تَوَقُّفٍ، مُحَمَّدٌ نِ الْحَسَنِ أَبُو يُوسُفَ، فَإِنَّهُ الْأَصْلُ الْمُحِيطُ، لِكُلِّ فَضْلٍ بَسِيطٍ، وَوَجِيزٍ وَوَسِيطٍ، اَلْبَحْرُ الزَّخَّامُ، وَالدُّرُّ الْمُخْتَارُ، وَخَزَائِنُ الْأَسْرَارِ، وَتَنْوِيرُ الْأَبْصَارِ وَرَدُّ الْمُحْتَارِ، عَلَى مَنَحِ الْغَفَّارِ، وَفَتْحُ الْقَدِيرِ وَزَادُ الْفَقِيرِ، وَمُلْتَقَى الْأَبْحُرِ، وَمَجْمَعُ الْأَنْهَارِ، وَكَنْزُ الدَّقَائِقِ، تَبْيِينُ الْحَقَائِقِ، وَالْبَحْرُ الرَّائِقُ، مِنْهُ يَسْتَمِدُّ كُلُّ نَهْرٍ فَائِقٍ، فِيهِ الْمُنْيَةُ، وَبِهِ الْغُنْيَةُ، وَمَرَاقِي الْفَلَاحِ، وَإِمْدَادُ الْفَتَّاحِ، وَإِيضَاحُ الْإِصْلَاحِ، وَنُورُ الْإِيضَاحِ، وَكَشْفُ الْمُضْمَرَاتِ، وَحَلُّ الْمُشْكِلَاتِ، وَالدُّرُّرُ الْمُنْتَقَى، وَيَنَابِيعُ الْمُبْتَغَى، وَتَنْوِيرُ الْبَصَائِرِ، وَزَوَاهِرُ الْجَوَاهِرِ، اَلْبَدَائِعُ النَّوَادِرُ، الْمُنَزَّهُ وُجُوبًا عَنِ الْأَشْبَاهِ وَالنَّظَائِرِ، مُغْنِي السَّائِلِينَ، وَنِصَابُ الْمَسَاكِينِ، اَلْحَاوِي الْقُدْسِي، لِكُلِّ كَمَالٍ قُدْسِيٍّ وَإِنْسِيٍّ، اَلْكَافِي الْوَافِي الشَّافِي، عِدَّةُ النَّوَازِلِ، وَأَنْفَعُ الْوَسَائِلِ، لِإِسْعَافِ السَّائِلِ، بِعُيُونِ الْمَسَائِلِ، عُمْدَةُ الْأَوَاخِرِ وَخُلَاصَةُ الْأَوَّائِلِ، وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَحِزْبِهِ، وَمَصَابِيحِ الدُّجَى، وَمَفَاتِيحِ الْهُدَى، لَا سِيَّمَا الشَّيْخَيْنِ الصَّاحِبَيْنِ، الْآخِذَيْنِ مِنَ الشَّرِيعَةِ وَالْحَقِيقَةِ بِكِلَا الطَّرَفَيْنِ، الْخِتْنَيْنِ وَالْكَرِيمَيْنِ، كُلٌّ مِنْهُمَا نُورُ الْعَيْنِ، وَمَجْمَعُ الْبَحْرَيْنِ، وَعَلَى مُجْتَهِدِي مِلَّتِهِ، وَأَئِمَّةِ أُمَّتِهِ، خُصُوصًا الْأَرْكَانِ الْأَرْبَعَةِ، وَالْأَنْوَارِ اللَّامِعَةِ، وَابْنِهِ الْأَكْرَمِ الْغَوْثِ الْأَعْظَمِ، ذَخِيرَةِ الْأَوْلِيَاءِ، وَتُحْفَةِ الْفُقَهَاءِ وَجَامِعِ الْفُصُولَيْنِ، فُصُولِ الْحَقَائِقِ، وَالشَّرْعِ الْمُذَهَّبِ بِكُلِّ زِينٍ، وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ وَبِهِمْ وَلَهُمْ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ آمِينَ آمِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.
ترجمۂ خطبہ
ہم اس کی حمد کرتے ہیں اور اس کے کرم والے رسول ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ سب خوبیاں خدا کو ہیں، یہی سب سے بڑی فقہ و دانشمندی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فیضِ کشادہ کی افزائشوں کے نہایت روشن موتی ہیں، ان کے لیے بڑی جامع ہے۔ اللہ ہی سے ہدایت ہے اور اسی سے آغاز ہے اور اسی کی طرف انتہا، اسی کی حمد سے حفظ ہے اور عقل کی پاکیزگی اور عنایت کی نگاہ اور کفایت کی خوبی۔ اور درود و سلام ان پر جو تمام معزز رسولوں کے امام ہیں۔ میرے مالک اور میرے شافع ہیں احمد کمالِ کرم والے، حسن بے توقف کہتا ہے کہ حسن والے محمد ﷺ یوسف علیہ السلام کے والد (اصل) ہیں کیونکہ وہی اصل ہیں جو ہر فضیلتِ کبیرہ و صغیرہ کو محیط ہیں۔ نہایت چھلکتے دریا ہیں اور چنے ہوئے موتی اور رازوں کے خزانے، اور آنکھیں روشن کرنے والے، اور حیران کو اللہ غفار کی عطاؤں کی طرف پلٹانے والے۔ قادرِ مطلق کی کشائش ہیں، اور محتاج کے توشے، تمام کمالات کے سمندر انہی میں جا کر ملتے ہیں، اور سب خوبیوں کی نہریں انہی میں جمع ہیں، تاریکیوں کے خزانے ہیں، اور تمام حقائق کے روشن بیان، اور کُھلے صاحبِ شفاف سمندر کہ ہر فوقیت والی نہر انہی سے مدد لیتی ہے۔ انہی میں آرزو ہے، اور انہی کے سبب باقی سب سے بے نیازی، اور مراد پانے کے زینے، اور تمام ابوابِ خیر کھولنے والے کی مدد، اور آراستگی کی روشنی، اور اس روشنی کے لیے نور، اور غیبوں کا کُھلنا اور مشکلوں کا حل ہونا، اور چنا ہوا موتی، اور مراد کے چشمے، اور بصیرتوں کی روشنیاں اور نہایت چمکتے جواہرِ عجب و نادر، وہ مثل و نظیر سے ایسے پاک ہیں کہ ان کا مثل ممکن نہیں۔ سائلوں کو غنی فرمانے والے ہیں، اور مسکینوں کی تونگری، ہر کمالِ ملکوتی و انسانی کے پاک جامع ہیں، تمام مہمات میں کافی ہیں، بھرپور بخشنے والے، سب بیماریوں سے شفا دینے والے، مصیبتِ نازل شدہ کے وقت ساز و سامان ہیں، سائل کو نہایت عمدہ منہ مانگی مرادیں ملنے کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش وسیلے ہیں، پچھلوں کی تکیہ گاہ اور اگلوں کے خلاصے، اور ان کی آل و اصحاب اور گروہ پر درود و سلام کہ ظلمتوں کے چراغ اور ہدایت کی کنجیاں ہیں، خصوصاً اس نام کے دونوں بزرگ (ابوبکر و عمر) مصطفیٰ ﷺ کے دونوں یار جو شریعت و حقیقت دونوں کناروں کو حاوی ہیں، اور دونوں کرم والے داماد (عثمان و علی) ان میں ہر ایک آنکھ کی روشنی اور دونوں سمندروں کا مجمع ہے۔ اور ان کے دین کے مجتہدوں اور امت کے اماموں پر خصوصاً شریعت کے چاروں رکن چمکتے نور، اور ان کے نہایت کریم بیٹے غوثِ اعظم پر جو اولیاء کے لیے ذخیرہ ہیں، اور فقہاء کے لیے تحفہ، اور حقیقت اور شریعتِ آراستہ دونوں کی فصول کے جامع۔ اور ہم سب پر ان کے ساتھ، ان کے صدقے میں، ان کے طفیل اے سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان! سن لے، قبول کر۔
تشریح خطبہ
فقہ حنفی میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مشہور تصنیف کا نام الفقہ الاکبر ہے، اسی طرح جامع کبیر، زیادات، مبسوط، درر، غرر بھی بلند پایہ فقہی تصانیف ہیں۔ امام احمد رضا قدس سرہٗ نے ان ناموں میں کہیں ضمیر کا اور کہیں حرفِ جر وغیرہ کا اضافہ کر کے ان کو اس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ کتابوں کے یہ نام ہی اللہ تعالیٰ کی بہترین حمد بن گئے۔ چنانچہ فرمایا: ”الحمد لله هو الفقه الاكبر، والجامع الكبير، لزيادات فيضه المبسوط والدرر والغرر“ (سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔ اللہ کی تعریف ہی سب سے بڑی دانائی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پھیلے ہوئے فیض کی شفاعت اور تابناک اضافوں کی بڑی جامع ہے۔ یعنی فیضانِ الٰہی کے اضافے اور زیادات موتیوں کی طرح شفاف اور روشن پیشانیوں کی طرح تابناک ہیں)۔ حالانکہ حمد کا یہ پہلو ضمنی ہے، جبکہ امام احمد رضا قدس سرہٗ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیضِ مبسوط کا ذکر کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیض و کرم کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اور غیر متناہی فیض کی زیادات غیر متناہی در غیر متناہی ہوں گی اور جو حمد ان زیادات کی جامع ہوگی وہ بھی غیر متناہی در غیر متناہی ہوگی، اور امام احمد رضا قدس سرہٗ اللہ تعالیٰ کی ایسی ہی حمد کرنا چاہتے ہیں۔ کیا کمال درجے کا مبالغہ ہے! 'حمدِ بے حد' یا 'بے انتہا تعریف' میں اس مبالغے کا عشر عشیر بھی نہیں پایا جاتا۔
بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں صلوٰۃ و سلام پیش کرتے ہوئے امام احمد رضا قدس سرہٗ نے پہلے ائمہ کرام و فقہاءِ اسلام کے ناموں اور معروف القاب کو اس طرح ترتیب دیا کہ کچھ ان میں سے سرکارِ دو عالم ﷺ کے نام بن گئے اور کچھ ان کی صفات۔ اس کے بعد اسمائے کتب سے حضور ﷺ کے فضائل بیان کیے اور صلوٰۃ و سلام پیش کرنے کے دوران امام احمد رضا قدس سرہٗ نے مندرجہ بالا تمام محاسن و لطائف کے علاوہ ایک اور خوبی کا اضافہ کیا ہے، یعنی سرورِ کونین ﷺ کے بارے میں اپنے عقیدے کی بھی وضاحت کر دی ہے اور اہلِ سنت و جماعت کی ترجمانی کا فریضہ بھی انجام دیا ہے۔ امام احمد رضا قدس سرہٗ اور تمام اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور ﷺ ہم سب کے بلکہ سارے عالم کے مالک ہیں، لیکن بالذات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تملیک سے مالک ہیں۔ اور یہ بھی عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ بروز محشر عاصیوں کی شفاعت فرمائیں گے اور حق تعالیٰ سے ان کو بخشوائیں گے۔ اس عقیدے کو ائمہ کرام کے اسماء و القاب سے اس طرح واضح کرتے ہیں:
والصلوة والسلام على الامام الاعظم للرسل الكرام، مالكي، وشافعي، واحمد الكرام
اور صلوٰۃ و سلام ہو رسولوں کے سب سے بڑے امام پر جو میرے مالک ہیں، میری شفاعت کرنے والے ہیں، ان کا نام احمد ہے بہت ہی عزت والے ہیں۔ ان میں (امام اعظم، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل) ائمہ اربعہ کے معروف القاب و اسماء کے ساتھ حضور ﷺ کی تعریف بھی کی ہے اور ساتھ ہی اپنے عقیدے کا اظہار بھی کیا۔ آگے چل کر ایک عقیدے کا اظہار یوں فرماتے ہیں کہ اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور ﷺ تمام کائنات کی اصل اور مبداء ہیں۔ اس کے اظہار کے لیے امام احمد رضا قدس سرہٗ نے امام اعظم ابو حنیفہ کے تینوں مشہور شاگردوں (امام محمد، امام حسن بن زیاد، امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) کے ناموں کا انتخاب فرمایا اور انہیں اس طرح یکجا کیا کہ سرکارِ دو عالم ﷺ کے اسمِ گرامی اور حسن و جمال کا بھی بیان ہو گیا اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ حسنِ یوسف پر بھی حسنِ مصطفیٰ ﷺ غالب ہے، بلکہ خود حضرت یوسف علیہ السلام فرعِ مصطفیٰ ہیں۔ چنانچہ فرمایا:
يقول الحسن بلا توقف، محمد ن الحسن ابو يوسف
آپ کے جمالِ بے مثال کو دیکھ کر خود حسن بغیر کسی توقف کے پکار اٹھتا ہے کہ حسن والے محمد ﷺ درحقیقت یوسف علیہ السلام کے ”اب“ اور اصل ہیں۔ تمام انبیاء، رسول اللہ ﷺ کے بحرِ کرم سے ایک چلو یا آپ کی بارانِ رحمت کے طلب گار ہیں۔ اس عقیدے کو فتاویٰ رضویہ کے خطبے میں امام احمد رضا قدس سرہٗ تلمیح کے انداز میں اس طرح بیان کرتے ہیں: ”البحر الرائق منه يستمد كل نهر فائق“۔ البحر الرائق اور النہر الفائق، کنز الدقائق کی دو شرحیں ہیں۔ امام احمد رضا قدس سرہٗ نے ”منه یستمد کل“ کا اضافہ کر کے کیا ایمان افروز معنی پیدا کیے! آپ فرماتے ہیں کہ رسولِ اقدس ﷺ وہ حیران کن سمندر ہیں کہ ہر فوقیت رکھنے والا دریا اور نہر انہی سے مدد لیتی ہے۔
اگر کسی مسئلے میں امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف متفق ہوں تو فقہاء ان کو ”شیخین“ کہتے ہیں، اگر امام ابو یوسف اور امام محمد کا اتفاق ہو تو ان کو ”صاحبین“ کہتے ہیں، اور اگر امام ابو حنیفہ اور امام محمد کی ایک ہی رائے ہو تو ان کو ”طرفین“ کہا جاتا ہے۔ اب امام احمد رضا قدس سرہٗ نے ان تینوں فقہی اصطلاحات کو صدیقِ اکبر اور فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر منطبق کر دیا اور فرمایا: لاسيما الشيخين الصاحبين الآخذين من الشريعة والحقيقة بكلا الطرفين۔
خصوصاً رسول اللہ ﷺ کے دو بزرگ ساتھی جو شریعت و حقیقت کے دونوں کناروں کو تھامنے والے ہیں۔ امام احمد رضا قدس سرہٗ کا جیسا اوصاف و محاسن سے بھرپور خطبہ آج تک نگاہوں نے نہیں دیکھا۔ فصاحت و بلاغت کی یہ رعنائیاں صرف خطبے تک محدود نہیں ہیں بلکہ پورا فتاویٰ تخیل کی نزاکتوں اور ادبی لطافتوں سے مالا مال ہے۔
