| عنوان: | فتاویٰ و رسائل رضویہ کی خصوصیات (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا مفتی محمد کمال الدین مصباحی اشرفی (اتر دیناج پور، بنگال) |
| پیش کش: | عائشہ صدیقہ بنت مجیب احمد |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
سوال بزبان فارسی (منظوم)
مسئلہ از: مدرسہ اہل سنت و جماعت بریلی، مسئولہ: مولوی محمد افضل صاحب کابلی طالب علم مدرسہ مذکور، 13 جمادی الاخریٰ 1336ھ
سزایم بر گناہم لازم آمد
پس آنگہ رحمتش نہ باہم آمد
بگو مفتی خطائے یا ثوابم
بس اسرار اینجاں باہم آمد
ترجمۂ سوال
میرے گناہ پر مجھے سزا ملنا لازم ہے، تو اس وقت اس (اللّٰہ تعالیٰ) کی رحمت مہیا نہ ہوئی۔ اے مفتی! بتائیے میں نے غلط کہا یا درست کہا، بہت سے راز اس جگہ حاصل ہوئے ہیں۔
الجواب (بزبانِ فارسی منظوم)
مسلمان را سزا لازم کہ کرد است؟
کہ قولِ اعتزالی ظالم آمد
وگر یابد سزا کامل نیابد
کہ عفوش بہرِ مومن لازم آمد
وگر بالفرض ازو چیزے نہ بخشد
زیں نقصہ ز نقصانِ رحمتش خود سالم آمد
کہ يرحم من يشاء لا کل فرد
يعذب من يشاؤہم قائم آمد
بدنیا رحمتش بر جملہ عام ست
بعقبٰے خاص حظِ مسلم آمد
ثوابش بہرِ مومن منتہی نیست
عذابش بہرِ کافر dائم آمد
برائے ہر صفت مظہر بکار ست
کہ او ذو انتقام و راحم آمد
ترجمۂ جواب
1۔ مسلمان کے لیے سزا کس نے لازم کی ہے کہ یہ تو ظالم معتزلی کا قول ہے۔
2۔ اور اگر اس نے سزا پائی تو بھی کامل سزا نہ پائے گا کیونکہ مومن کے لیے عفو، اللّٰہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر لازم ہے۔
3۔ اگر بالفرض اللّٰہ تعالیٰ مومن کی خطا معاف نہ فرمائے تو بھی اس کی رحمت نقصان سے مبرا ہے۔
4۔ کیونکہ وہ جس پر چاہے رحم فرماتا ہے نہ کہ ہر فرد پر، جس کو چاہیں عذاب دیتا ہے (یہ حکم) بھی قائم ہے۔
5۔ دنیا میں اس کی رحمت سب کو عام ہے، آخرت میں خاص مسلمان کا حصہ ہے۔
6۔ مومن کے لیے اس کے ثواب کی انتہا نہیں ہے، کافر کے لیے اس کا عذاب دائمی ہے۔
7۔ اس کی ہر صفت کا کوئی مظہر ہے، کیونکہ وہ انتقام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
[فتاویٰ رضویہ مترجم: ج: 29، ص: 212-213]
سوال بزبان عربی
مسئلہ: از پوسٹ کانت فقیر ہاٹ، مدرسہ اسلامیہ کالا پل چاٹگام، مسئولہ: وحید اللّٰہ صاحب، 26 ربیع الاول 1336ھ۔
1- ما قولكم رحمكم الله تعالٰى في هذه المسألة: إن رجلاً أخا الجهل قال لمعلم العلوم العربية أعني المبادي والمقاصد "ما أنت إلا بشر مثلنا"، فقال له: "إذ كان الأمر كذلك فما أصنع في المدرسة العالية مثلاً؟ Auditor"، فأجاب له: "يا راعي البقر والخنزير ترعيهما فيها"، وأيضاً يعتقد أن الله يغفر ويدخل الجنة من يشرك به لمن يشاء، فذكر العالم شيئاً من آيات القرآن والأحاديث الصحيحة، فقال: "هذا ليس بشيء". ففي الصورة المسؤولة هل تجب التوبة وتجديد النکاح عليه أم لا؟
2- من قال واعتقد تارك الصلاة كافر، فالقائل هل هو خارج عن مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالى أم لا؟ بينوا توجروا.
ترجمۂ سوال
1۔ علمائے کرام (اللّٰہ آپ پر رحم کرے) آپ کا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ ایک جاہل شخص عربی علوم کے مبادی و مقاصد کے استاذ کو کہتا ہے کہ "تو ہمارے جیسا بشر ہے"، تو عربی کے معلم نے جواب میں کہا کہ "اگر یہی معاملہ ہے تو پھر میں مدرسہ عالیہ میں کیا کر رہا ہوں" تو جاہل نے اسے جواب میں کہا: "اے گائے اور خنزیر کے چرواہے! تو وہاں ان کو چراتا ہے" اور نیز اس کا عقیدہ ہے اللّٰہ تعالیٰ جس مشرک کو چاہے بخش دیتا ہے اور اس کو جنت میں داخل فرماتا ہے، تو اس پر اس عالم نے اس کو کچھ قرآنی آیات اور صحیح احادیث سنائیں، تو جاہل نے کہا: "یہ کوئی چیز نہیں ہے"، تو کیا مسئولہ صورت میں توبہ اور تجدیدِ نکاح ضروری ہے؟
2۔ جو شخص یہ عقیدہ رکھے اور بیان کرے کہ نماز کا تارک کافر ہے، تو یہ کہنے والا کیا وہ امام ابو حنیفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے مذہب سے خارج ہے یا نہیں؟ بیان کرو اجر پاؤ۔
جواب بزبان عربی
الجواب: أما ما خاطب به العالم فهو من جهله وسوء أدبه، يستحق به التعزير الشديد اللائق بحاله الزاجر له ولأمثاله، ففي الحديث عنه صلى الله تعالٰى عليه وسلم: "لا يستخف بحقهم إلا منافق بين النفاق: ذو الشيبة في الإسلام، وذو العلم، وإمام مقسط". أما قوله "إن الله يغفر لمن يشرك به لمن يشاء" فمخالف للقرآن العظيم، قال الله عز وجل: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ}. وأما قوله لآيات القرآن العظيم والأحاديث "هذا ليس بشيء"، فهذا ليس بشيء إلا الكفر الجلي، تجري به عليه أحكام المرتدين، وعليه أن يسلم، وإذا أسلم فليجدد نكاحه برضاء المرأة، وإن لم ترضَ فلها الخيار تعتد وتنكح من تشاء، والله سبحانه وتعالٰى أعلم.
2- الحكم بالكفر على تارك الصلاة وارد في صحاح الحديث وعليه جمهور الصحابة والتابعين، وليست المسألة فقهية بل كلامية، وقد اختلف أهل السنة قديماً، فمن قال بأحد القولين لا يخرج به عن الحنيفة. والله تعالٰى أعلم.
ترجمۂ جواب
1۔ اس نے عالم کو جن الفاظ سے خطاب کیا ہے وہ اس کی جہالت اور انتہائی بے ادبی ہیں، اس کی وجہ سے وہ اور ایسے دیگر لوگ اپنے جرم کے مناسب شدید تعزیر کے مستحق ہیں۔ حدیث شریف میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد ہے: "تین حضرات کی توہین کھلے منافق کے بغیر دوسرا نہیں کر سکتا: ایک عالم، دوسرا وہ ہے جسے اسلام میں بڑھاپا آیا، اور تیسرا مسلمان عادل بادشاہ۔" تاہم اس کا یہ کہنا کہ اللّٰہ تعالیٰ جس مشرک کو چاہے بخش دیتا ہے، تو یہ قرآن عظیم کے خلاف ہے، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ شریک بنانے والے کو نہیں بخشتا، اس کے علاوہ جس کو چاہے بخشتا ہے۔ اور اس کا قرآن و حدیث کے متعلق یہ کہنا کہ "یہ کوئی چیز نہیں ہے"، یہ تو خالص ایسا کفر ہے جس پر مرتدوں والے احکام جاری ہوتے ہیں، لہذا اس پر تجدیدِ اسلام ضروری ہے اور مسلمان ہو کر عورت کی رضامندی سے دوبارہ اس سے نکاح کرے؛ اگر وہ نکاح پر راضی نہ ہو تو بیوی کو اختیار ہے کہ وہ عدت پوری کر کے کسی اور سے اپنی مرضی کے مطابق نکاح کرے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
2۔ نماز کے تارک پر احادیثِ صحیحہ میں کفر کا اطلاق آیا ہے، اور جمہور صحابہ و تابعین کا یہی مسلک ہے جبکہ یہ مسئلہ فقہی نہیں بلکہ علمِ کلام سے متعلق ہے، اس میں اہل سنت کا قدیم سے اختلاف چلا آ رہا ہے، لہذا اگر کوئی ان دو قولوں میں سے ایک قول اختیار کرے تو وہ حنفیت سے خارج نہیں ہوگا، واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
[فتاویٰ رضویہ مترجم: ج: 13، ص: 653-654]
