| عنوان: | امام احمد رضا اور فقہ المعاملات (فقہ و فتویٰ) (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
یہاں تین باتیں بڑی اہم ہیں:
-
اول یہ کہ کسی بھی معاشی نظام یا عقد کی “تکییف فقہی” بیان کرنے کا رجحان اسلامک بینکنگ کے شروع ہونے کے بعد سے ہی آیا ہے اس سے پہلے فقہاء نے کسی معاشی سسٹم پر فتاویٰ یا رسائل لکھے ہوں اس کی مثال شاید خال خال ہی ہو، لیکن اگر تاریخ پر نظر کی جائے تو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ان اولین لوگوں میں ہے جنہوں نے عصری ایجادات اور جدید معاشی نظام کی “تکییف فقہی” بیان کرنے کی ابتدا کی۔
-
دوسری بات یہ ہے کہ یہ رسالہ صرف منی آرڈر کو ہی نہیں بلکہ ایسے تمام شعبہ جات کو محیط ہے جو سروسز دیتے ہیں اور ان سے متعلق بہت ہی اہم نکات اس رسالے میں بیان کیے گئے ہیں۔
-
جو بات ایک رسالے کو انقلابی تحقیق کا نام دیتی ہے اس میں دو چیزیں ہیں: اول یہ کہ جدید معاشی نظام میں جواز تلاش کرنا علماء پر عائد ذمہ داری ہے، انتہا درجے کا غور و فکر اور مسلمانوں کی آسانی کا راستہ تلاش کرنا ایک انتہائی اہم کام ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ کسی بھی نئی ایجاد سے مرعوب ہو کر کسی چیز کو جائز یا ناجائز نہیں کہا جاتا بلکہ ایک مفتی اسلام، مذہب کے اصولوں، قواعد اور اہم جزئیات و نظائر کی روشنی میں ہی اسے جائز کہہ سکتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو اس رسالے میں ثابت کرتی ہے کہ امام اہل سنت رضی اللہ عنہ نے صرف ضرورت یا حاجت کا نعرہ لگا کر اس نظام کو جائز نہیں کہا بلکہ جو اسلوب اختیار کیا وہ جدید دور کے فقہی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک ماڈل اور مثال ہے۔ اس رسالے میں اختیار کردہ اسلوب عام اسلوب نہیں، منہج تحقیق عام انداز کا نہیں بلکہ انقلابی تحقیق کا انداز ہے جس کو سامنے رکھ کر عصر حاضر کے مسائل کا حل نکالنا ممکن ہے۔
انقلابی تحقیق پر مشتمل دوسرا رسالہ جو میرے پیش نظر ہے اس کا موضوع معیشت کی ایک بنیادی اکائی ہے۔ یہ رسالہ 1324ھ یعنی تقریباً 1906ء یا 1907ء میں ایک ایسے موضوع پر لکھا گیا کہ سات یا آٹھ عشروں کے بعد دنیا بھر کی فقہی اکیڈمیز، فقہی بورڈز میں تقریباً وہی موقف طے ہوا جو اعلیٰ حضرت امام اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیسویں صدی کی ابتدا میں ہی بیان کر چکے تھے۔ اس رسالے کا نام یہ ہے:
كِفْلُ الْفَقِيهِ الْفَاهِمِ فِي أَحْكَامِ قِرْطَاسِ الدَّرَاهِمِ [1324ھ]
(کاغذی نوٹ کے احکام کے بارے میں سمجھدار فقیہ کا حصہ)
یہ رسالہ 1324ھ بمطابق تقریباً 1907ء میں تحریر کیا گیا اس کا موضوع زر یعنی کرنسی ہے۔ معاشی طور پر زر کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ فقہی طور پر لین دین کے مسائل میں معاوضہ اور بدل بننے والی شے کو ثمن (Price) کہا جاتا ہے۔ فقہ المعاملات میں ثمن (Price) پر دو طرح سے کلام کیا جاتا ہے ایک عمومی اعتبار سے، وہ یہ کہ کسی بھی سودے میں ثمن (Price) طے ہونا ضروری ہے یعنی اس کی مقدار کیا ہوگی، ادائیگی نقد ہوگی یا ادھار، کس ملک کی کرنسی ہوگی وغیرہ۔ ثمن (Price) پر دوسری گفتگو خود اس کی حیثیت اور اس پر متفرع ہونے والے مسائل کے اعتبار سے کی جاتی ہے۔ “کفل الفقیہ” کا موضوع یہی دوسری قسم ہے۔
زمانہ قدیم میں لوگ اشیاء کے بدلے اشیاء کا تبادلہ کر کے خرید و فروخت کیا کرتے تھے جسے Barter Sale کہتے ہیں اس کے بعد سونے اور چاندی کو زر کی حیثیت حاصل ہوئی اور اسے سودوں میں بدل ٹھہرایا جانے لگا انیسویں صدی تک یہ نظام برقرار رہا۔ البتہ پچھلے زمانوں میں سونے اور چاندی کے سکوں کے ساتھ ساتھ مختلف دھاتوں کے سکوں کا بہت زیادہ چلن تھا جن کو فلوس کہا جاتا ہے اور ہر ریاست اپنے اپنے فلوس جاری کرتی تھی۔ فلوس کا چلن دوسری یا تیسری صدی سے ہی ہو چکا تھا۔ ہمارے فقہاء کرام نے شروع دن سے ہی اس موضوع پر کلام کیا ہے جس کا تعلق احکام یعنی حلال و حرام سے ہو، اسی طرح زر یعنی “نقود” بھی ہمارے فقہاء کی تصانیف کا مستقل موضوع رہا۔
میرے سامنے اس وقت نقود پر لکھی گئی بہت ساری قدیم اور جدید کتب موجود ہیں جن میں سے بعض کا تذکرہ کرنا مناسب سمجھوں گا تاکہ اس مسئلے کی اہمیت واضح ہو سکے۔
قدیم کتب
-
احمد بن محمد بن عماد بن علی المعروف بابن الہائم المتوفی 815ھ نے “نُزْهَةُ النُّفُوسِ فِي بَيَانِ حُكْمِ التَّعَامُلِ بِالْفُلُوسِ” کے عنوان سے رسالہ لکھا۔
-
امام جلال الدین السیوطی المتوفی 911ھ نے “قَطْعُ الْمُجَادَلَةِ عِنْدَ تَغْيِيرِ الْمُعَامَلَةِ” کے عنوان سے ایک رسالہ لکھا جو کہ الحاوی للفتاویٰ کے رسائل میں شامل ہے۔
-
علامہ عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ علیہ (952ھ تا 1031ھ) نے نقود کی تاریخ اور مختلف جہتوں پر مستقل کتاب تصنیف کی جس کا نام ہے “النُّقُودُ وَالْمَكَايِيلُ وَالْمَوَازِينُ” ہے۔ 172 صفحات کی اس کتاب کو عراقی پبلشر دارالرشید نے شائع کیا۔
-
مشہور حنفی فقیہ علامہ محمد بن عبد اللہ غزی تمرتاشی (1004ھ) جن کی کتاب تنویر الابصار کی شرح علامہ حصکفی نے درمختار کے نام سے کی اور پھر اس پر مزید شرح لکھی گئی جو فتاویٰ شامی کے نام سے مشہور ہے۔ ان علامہ غزی تمرتاشی نے “بَذْلُ الْمَجْهُودِ فِي تَحْرِيرِ أَسْئِلَةِ تَغْيِيرِ النُّقُودِ” کے نام سے ایک رسالہ تصنیف کیا۔ یہ رسالہ ایک عرصے سے مخطوط صورت میں تھا لیکن 1422ھ بمطابق 2001ء کو جامعہ القدس نے یہ رسالہ دکتور حسام الدین کی تعلیق کے ساتھ شائع کیا۔
-
عبد القادر الحسینی (1216ھ) نے “فِي تَرَاجُعِ سِعْرِ النُّقُودِ بِالْأَمْرِ السُّلْطَانِيِّ” کے نام سے ایک رسالہ لکھا جو کہ نزہیہ حماد کی تحقیق سے شائع ہوا ہے۔
-
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ (1252ھ) نے 1230ھ میں “تَنْبِيهُ الرُّقُودِ عَلَى مَسَائِلِ النُّقُودِ” کے عنوان سے ایک رسالہ لکھا جو کہ رسائل ابن عابدین میں موجود ہے جسے سہیل اکیڈمی لاہور نے شائع کیا۔
یہ قدیم زمانے میں لکھی گئی بعض کتب اور رسائل تھے جن میں علماء نے فلوس اور درہم و دینار کو زیرِ بحث لا کر ان کے مسائلِ فقہیہ پر تفصیلی گفتگو کی، ان علماء نے اپنے زمانے ہی کے مسائل کا احاطہ کیا لیکن وقت کا پہیہ تیزی سے گھومتا رہا اور اٹھارویں صدی کے بعد ایجادات کا ایک طوفان آ چکا تھا ایسے میں اس موضوع پر اس وقت اضطراب آیا جب کاغذی کرنسی ایجاد ہوئی، پہلے چاندی کے درہم اور سونے کے دینار کے بعد جب فلوس رائج ہوئے تو ایک بات طے تھی کہ فلوس کسی نہ کسی دھات کے ہوتے ہیں یہ بذاتِ خود ایک مال ہیں لیکن نوٹ کے ایجاد ہونے پر علماء سب سے پہلے تو اس بات پر متردد ہوئے کہ یہ رسید ہے یا بذاتِ خود ایک مال بن کر فلوس کی طرح کرنسی کی صورت اختیار کرنے والی ایجاد ہے۔ اور کثیر فقہی احکام میں نوٹ کا معاملہ کیا ہوگا؟
دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے اس وقت نوٹ کو رسید قرار دے کر مال ماننے یا کرنسی ماننے سے انکار کر دیا، ان کے نزدیک یہ طے پایا کہ “نوٹ دین کی سند ہے نوٹ نہ مال ہے نہ سونے اور چاندی کا بدل اور نہ بذاتِ خود ثمن ہے بلکہ محض اس دین کی ایک سند (Certificate) ہے جو حاملِ نوٹ کے لیے جاری کنندہ کے ذمہ واجب ہے” [فتاویٰ رشیدیہ، ص: 476، امداد الفتاویٰ، ج: 2, ص: 5]
علمائے عرب سے بھی یہ مسئلہ پوچھا گیا لیکن وہ کسی نتیجے تک نہ پہنچے تھے بلکہ مکہ مکرمہ کے مفتی حنفیہ سے جب کاغذی کرنسی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا “علم علماء کی گردنوں میں امانت ہے مجھے اس مسئلے کے جزئیہ کا علم نہیں” ایسے میں بہرحال 1323ھ میں امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ جب دوسری مرتبہ حج کے لیے مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں کے علماء نے کاغذی کرنسی سے تعلق سے بارہ سوالات پیش کیے جس کے جواب میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا قلم اٹھایا اور عربی زبان میں جامع کتاب “كِفْلُ الْفَقِيهِ الْفَاهِمِ فِي أَحْكَامِ قِرْطَاسِ الدَّرَاهِمِ” لکھ کر اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل فرما دیا۔ یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ رسالہ کن سوالات کے جواب میں تحریر ہوا اور نوٹ کی فقہی حیثیت اتنی اہم کیوں ہے ان سوالات سے ہی ظاہر ہو جاتی ہے۔
وہ بارہ سوالات یہ تھے:
-
أَلْأَوَّلُ: هَلْ هُوَ مَالٌ أَمْ سَنَدٌ مِنْ قَبِيلِ الصَّكِّ؟
اول: کیا وہ مال ہے یا دستاویز کی طرح کوئی سند؟
-
أَلثَّانِي: هَلْ تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ إِذَا بَلَغَ نِصَابًا فَاضِلًا وَحَالَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ أَمْ لَا؟
دوم: جب وہ بقدرِ نصاب ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
-
أَلثَّالِثُ: هَل| يَصِحُّ مَهْرًا؟
سوم: کیا اسے مہر میں مقرر کر سکتے ہیں؟
-
أَلرَّابِعُ: هَلْ يَجِبُ الْقَطْعُ بِسَرِقَتِهِ مِنْ حِرْزٍ؟
چہارم: اگر کوئی اسے محفوظ جگہ سے چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹنا واجب ہوگا یا نہیں؟
-
أَلْخَامِسُ: هَلْ يُضْمَنُ بِالْإِتْلَافِ بِمِثْلِهِ أَوْ بِالدَّرَاهِمِ؟
پنجم: اگر اسے کوئی تلف کر دے تو عوض میں اسے نوٹ ہی دینا ٹھہرے گا یا دراہم؟
-
أَلسَّادِسُ: هَلْ يَجُوزُ بَيْعُهُ بِدَرَاهِمَ أَوْ دَنَانِيرَ أَوْ فُلُوسٍ؟
ششم: کیا روپوں یا اشرفیوں یا پیسوں کے عوض اس کی بیع جائز ہے؟
-
أَلسَّابِعُ: إِذَا اسْتُبْدِلَ بِثَوْبٍ مَثَلًا يَكُونُ مُقَايَضَةً أَوْ بَيْعًا مُطْلَقًا؟
ہفتم: اگر مثلاً نوٹ کے بدلے کپڑا خریدیں تو یہ بیعِ مطلق ہوگی یا مقایضہ (جس میں دونوں طرف متاع یعنی سامان ہوتا ہے)؟
-
أَلثَّامِنُ: هَلْ يَجُوزُ إِقْرَاضُهُ وَإِنْ جَازَ فَيُقْضَى بِالْمِثْلِ أَوْ بِالدَّرَاهِمِ؟
ہشتم: کیا اسے قرض دینا جائز ہے اور اگر جائز ہے تو ادا کرتے وقت نوٹ ہی دیا جائے یا دراہم؟
-
أَلتَّاسِعُ: هَلْ يَجُوزُ بَيْعُهُ بِدَرَاهِمَ نَسِيئَةً إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ؟
نہم: کیا دراہم کے بدلے ادھار میں نوٹ کا بیچنا جائز ہے؟
-
أَلْعَاشِرُ: هَلْ يَجُوزُ السَّلَمُ فِيهِ بِأَنْ تُعْطَى الدَّرَاهِمُ عَلَى نَوْطٍ مَعْلُومٍ نَوْعًا وَصِفَةً يُؤَدَّى بَعْدَ شَهْرٍ مَثَلًا؟
دہم: کیا اس میں بیعِ سلم جائز ہے یوں کہ روپے پیشگی دیے جائیں کہ مثلاً ایک مہینے کے بعد اس قسم کا اور ایسا نوٹ لیا جائے گا؟
-
أَلْحَادِي عَشَرَ: هَلْ يَجُوزُ بَيْعُهُ بِأَزْيَدَ مِمَّا كُتِبَ فِيهِ مِنْ عَدَدِ الرَّبَابِي كَأَنْ يُبَاعَ نَوْطُ عَشَرَةٍ بِاثْنَيْ عَشَرَ أَوْ عِشْرِينَ أَوْ بِأَنْقَصَ مِنْهُ كَذٰلِكَ؟
یازدہم: کیا یہ جائز ہے کہ جتنی رقم اس میں لکھی ہے اس سے زائد کو بیچا جائے مثلاً دس کا نوٹ بارہ یا بیس کو یا اسی طرح اس سے کم؟
-
أَلثَّانِي عَشَرَ: إِنْ جَازَ هٰذَا فَهَلْ يَجُوزُ إِذَا أَرَادَ زَيْدٌ اسْتِقْرَاضَ عَشَرَةِ رَبَابِي مِنْ عَمْرٍو أَنْ يَقُولَ عَمْرٌو لَا دَرَاهِمَ عِنْدِي وَلٰكِنْ أَبِيعُكَ نَوْطَ عَشَرَةٍ بِاثْنَتَيْ عَشْرَةَ رُبْيَةً مُنَجَّمَةً إِلَى سَنَةٍ تُؤَدَّى كُلَّ شَهْرٍ رُبْيَةً وَهَلْ يُنْهَى عَنْ ذٰلِكَ لِأَنَّهُ احْتِيَالٌ فِي الرِّبَا وَإِنْ لَمْ يُنْهَ فَمَا الْفَرْقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرِّبَا حَتَّى يَحِلَّ هٰذَا أَوْ يَحْرُمَ ذٰلِكَ مَعَ أَنَّ الْمَالَ وَهُوَ حُصُولُ الْفَضْلِ وَاحِدٌ فِيهِمَا؟
دوازدہم: اگر یہ جائز ہے تو کیا یہ جائز ہوگا کہ جب زید عمرو سے دس روپے قرض لینا چاہے تو عمرو کہے دراہم تو میرے پاس نہیں ہیں ہاں میں دس کا نوٹ بارہ کو سال بھر کی قسط بندی پر تیرے ہاتھ بیچتا ہوں کہ تو ہر مہینے ایک روپیہ دیا کرے، کیا اس کو منع کیا جائے گا کہ یہ سود کا حیلہ ہے، اور اگر نہ منع کیا جائے تو اس میں اور ربا میں کیا فرق ہے کہ یہ حلال ہوا اور وہ حرام حالانکہ مال دونوں کا ایک ہے یعنی زیادتی کا ملنا؟
أَفِيدُونَا الْجَوَابَ تُؤْجَرُوا يَوْمَ الْحِسَابِ.
ہمیں جواب سے فائدہ بخشو قیامت کے دن تمہیں اجر ملے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے سفرِ حج کے دوران مکہ مکرمہ ہی میں ان سوالات کے جوابات پر مشتمل رسالہ کِفْلُ الْفَقِيهِ تصنیف کیا۔ چنانچہ 4 صفر المظفر 1324ھ کو سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کِفْلُ الْفَقِيهِ کے مبیّضہ کی پروف ریڈنگ کے لیے کتب خانہ حرم پہنچے، دیکھا کہ ایک جید عالم مولانا سید عبد اللہ بن صدیق مفتی حنفیہ بیٹھے ”کِفْلُ الْفَقِيهِ“ کے مسودہ (First Copy) کا مطالعہ کر رہے ہیں جیسے ہی وہ اس مقام پر پہنچے جہاں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے فتح القدیر سے یہ عبارت نقل فرمائی کہ:
لَوْ بَاعَ كَاغَدَةً بِأَلْفٍ يَجُوزُ وَلَا يُكْرَهُ [فتح القدير، كتاب الكفالة، ج: 6، ص: 324]
یعنی اگر کوئی شخص اپنے کاغذ کا ٹکڑا ہزار روپے میں بیچے تو بلا کراہت جائز ہے۔ تو پھڑک اٹھے اور اپنی ران پر ہاتھ مار کر بولے “أَيْنَ جَمَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ هٰذَا النَّصِّ الصَّرِيحِ” ترجمہ: جمال بن عبد اللہ اس واضح دلیل سے کہاں غافل رہ گیا۔ [سوانح امام احمد رضا، ص: 314]
نوٹ کی حیثیت پر نیا ابال
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً 1906ء میں کرنسی کے موضوع پر جو کتاب تحریر کی اس وقت سے لے کر 1970ء تک اس مسئلے پر کوئی بڑا کام سامنے نہیں آیا اور 1970ء سے لے کر اختتامِ صدی یعنی 2000ء تک 30 سالوں میں اس مسئلے پر بہت کچھ لکھا گیا، سیمینار منعقد ہوئے جن میں دنیا بھر کے علماء، مختلف فورمز پر سر جوڑ کر بیٹھے، درجنوں کتب تصنیف کی گئیں، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے کاغذی کرنسی پر لکھے گئے اور اکثر علماء کے ہاں جو نتیجہ نکلا وہ وہی تھا جو نصف صدی سے بھی پہلے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ”کِفْلُ الْفَقِيهِ“ میں بیان کر چکے تھے۔
ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں
محترم قارئین کرام! اس سے آگے مطالعہ کے لیے قسط سوم اوپن (سرچ) کریں۔
