| عنوان: | حمورابی اور اس کے قوانین (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مہتاب پیامی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
تمدنی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے کارنامے صدیوں کی گرد کے باوجود روشن رہتے ہیں۔ حمورابی کا نام ایسی ہی شخصیات میں شامل ہے، وہ قدیم بابل کا چھٹا بادشاہ تھا اور قیاساً 1792 قبل مسیح سے 1750 قبل مسیح تک بابل کا حکمران رہا۔ تاہم اس کی اہمیت صرف ایک حکمران کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے قانون ساز اور مصلح کی صورت میں ہے جس نے معاشرے کو عدل و انصاف اور ریاستی نظام کے مضبوط اصول و قوانین فراہم کیے۔
حمورابی کا تعلق اموری قبیلے سے تھا۔ اس کے والد سن مبلت بابل کے حکمران تھے، اور ان کی وفات کے بعد عین عالم شباب میں حمورابی نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی۔ اس وقت بابل کی سلطنت بہت بڑی نہ تھی، بلکہ اصل میں اس وقت بابل ارد گرد کی کئی طاقتور ریاستوں کے درمیان محض ایک چھوٹا اور کمزور شہر تھا۔ حمورابی کی سیاسی بصیرت اور جنگی حکمت عملی نے آہستہ آہستہ اس کمزور ریاست کو بین النہرین کی مرکزی قوت میں تبدیل کر دیا۔ اس نے پہلے ہمسایہ ریاستوں سے معاہدات کیے، پھر مناسب وقت پر لارسا، ماری، اشور، ایسن اور ایلام جیسی بڑی طاقتوں کو شکست دے کر پورے جنوبی اور وسطی عراق کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا، اس طرح بابل پہلی بار ایک مضبوط اور متحد سلطنت بن کر ابھرا۔
حمورابی کی اصل شہرت اس کی قانون سازی سے ہے۔ اس کا مرتب کردہ قانون جسے “قانون حمورابی” کہا جاتا ہے، انسانی تاریخ کے اولین تحریری قانونی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ قانون ایک سیاہ ڈائیورائٹ کے پتھر پر کندہ تھا، جس میں معاشی معاملات، عدالتی فیصلوں، خاندانی حقوق، تجارت، زراعت، جرائم اور ان کی سزاؤں تک ہر بات واضح تھی۔ اس قانون کا بنیادی اصول عدل اور توازن تھا۔ مشہور جملہ “آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت” اسی قانونی تصور کی تعبیر سمجھا جاتا ہے۔ حمورابی چاہتا تھا کہ کوئی شخص قانون سے ناواقفیت کا سہارا نہ لے سکے، اس لیے اس نے یہ قانون عوام کے سامنے واضح اور تحریری شکل میں پیش کیا۔
اس کے دور میں ریاستی نظم اور شہری سہولیات بھی خاصی بہتر ہوئیں۔ نہریں تعمیر ہوئیں، زراعت مستحکم ہوئی، فوجی نظام مضبوط کیا گیا، اور شہر علمی و ثقافتی رنگ میں پروان چڑھے۔ اس طرح بابل صرف سیاسی ہی نہیں، تہذیبی طور پر بھی ایک روشن مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا۔
حمورابی کی وفات 1750 قبل مسیح کے قریب ہوئی، مگر اس کی میراث اس کے بعد بھی زندہ رہی۔ آج بھی اسے عادل حکمراں کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بطور حکمراں اس نے یہ تصور دیا کہ ریاست تلوار سے زیادہ قانون اور انصاف پر قائم ہوتی ہے۔
حمورابی کے قوانین:
حمورابی کے قوانین کو بابلی قوانین کے مکمل مجموعہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ مجموعہ حمورابی کے قانونی فیصلوں پر مشتمل ہے جو اس کے دور حکومت کے اختتام پر پتھر کی تختی پر ریکارڈ کیے گئے تھے۔ یہ تختی بابل کے قومی دیوتا “مردوک” کے مندر میں رکھی گئی تھی۔ اس میں بہت سے مسائل سے متعلق 282 قوانین شامل ہیں، جیسے قیمتوں اور تجارت سے متعلق اقتصادی دفعات؛ خاندانی قوانین، جیسے شادی اور طلاق؛ حملہ اور چوری سے متعلق فوجداری قوانین؛ اور سول قوانین، جیسے غلامی اور قرض۔ ان مسائل سے متعلق سزائیں مجرموں کی حیثیت اور جرائم کے حالات کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔
ضابطہ حمورابی میں بہت سے مسائل سے متعلق قوانین کا ایک سلسلہ شامل ہے، جیسے غلامی، قرض، شادی، وراثت، اور تجارتی قوانین، اس کے علاوہ بہت سے ایسے قوانین جو جرائم کے لیے سزا کی ڈگریوں کا تعین کرتے ہیں۔ ہم اس کے بعض قوانین کو اختصار کے ساتھ ذیل میں نقل کرتے ہیں:
عدل و انصاف کے عمومی اصول:
- قانون سب کے لیے برابر ہے، چاہے حاکم ہو یا رعایا۔
- کسی فرد پر الزام بغیر ثبوت کے ثابت نہیں ہوگا۔
- جھوٹی گواہی سخت جرم ہے اور اس پر سخت سزا مقرر ہے۔
- قاضی کے فیصلے کو تبدیل کرنا جرم ہے، اور غلط فیصلہ کرنے والے قاضی کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔
خاندان اور گھرانے سے متعلق قوانین:
- نکاح ایک باقاعدہ معاہدہ ہے، زبانی نہیں۔
- شوہر بیوی کی مالی اور جسمانی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔
- بیوی شوہر کے گھر اور عزت کی محافظ سمجھی گئی۔
- اگر بیوی بے قصور ثابت ہو جائے تو اس پر الزام لگانے والا سزا پائے گا۔
- طلاق کی صورت میں بیوی کے حقوق (مہر، نان و نفقہ) کی ادائیگی لازم ہے۔
- بچوں کی پرورش اور وراثت میں انصاف ضروری ہے۔
- گود لیے گئے بچے کو حقیقی بیٹے کے برابر حقوق ملیں گے۔
املاک و جائیداد کے قوانین:
- زمین کی ملکیت دستاویزی ہونی چاہیے۔
- اگر کوئی زمین کاشت کے لیے لے مگر کاشت نہ کرے تو وہ زمین واپس لی جائے گی۔
- نہر یا آب پاشی کے نظام میں غفلت کی وجہ سے پیدا ہونے والا نقصان مجرم سے وصول ہوگا۔
- عمارت کی حفاظت کی ذمہ داری کاریگر پر ہے۔
- اگر کاریگر کی خرابی سے گھر گر جائے اور کسی کی جان جائے تو کاریگر کو موت کی سزا اور گھر دوبارہ بنانے کی ذمہ داری اسی پر۔
تجارت و کاروبار کے قوانین:
- خرید و فروخت میں دھوکا (فراڈ) سنگین جرم ہے۔
- ناپ تول میں کمی کی سزا جرمانہ یا کاروباری اجازت کی ضبطی ہے۔
- سود کی حد مقرر ہے؛ حد سے زیادہ سود لینا جرم ہے۔
- قرض لینے والا دیوالیہ ہو تو اس کے اہل خانہ کو غلام بنانے کی اجازت محدود مدت کے لیے تھی (زیادہ سے زیادہ 3 سال)۔
نوکری، اجرت اور محنت سے متعلق قوانین:
- کسان، مزدور، لوہار، بڑھئی اور چرواہے کی اجرت مقرر ہے۔
- چرواہا اگر جانوروں کا نقصان اپنی غفلت سے کرے تو بھرپائی کرے گا۔
- مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کی جائے۔
چوری اور ڈاکہ سے متعلق قوانین:
- چوری بڑا جرم ہے، اور کئی حالتوں میں سزائے موت مقرر ہے۔
- اگر چوری شدہ مال کسی کے گھر میں مل جائے تو گھر کا مالک مجرم ہوگا۔
- ناداری یا بھوک کی وجہ سے چور پر ملکی سزا مقرر تھی (یہ انصاف کی بڑی مثال ہے)۔
- مندر کی اشیا چرانا سنگین ترین جرم اور اس کی سزا سخت ترین تھی۔
قتل اور جسمانی نقصان کے قوانین:
- جان بوجھ کر قتل کی سزا قتل ہے۔
- غلطی سے قتل کی صورت میں دیت (مالی تاوان) لازم ہے۔
- ایک شخص کی وجہ سے دوسرے کے اعضا ضائع ہونے پر اسی کے برابر بدلہ یا مالی معاوضہ دیا جائے گا۔
- باپ اپنے بیٹے کے جرم میں سزا کا مستحق نہیں، اور بیٹا باپ کے جرم میں نہیں۔
غلامی اور انسانی حقوق سے متعلق قوانین:
- کسی آزاد شخص کو غلام بنانا جرم ہے۔
- غلام اگر قابلیت دکھائے تو آزادی کا حق حاصل کر سکتا ہے۔
- غلام کو بغیر وجہ سزا دینا منع ہے؛ غلام بھی انسان ہے۔
عدالت اور گواہی کے قوانین:
- گواہی حلف کے ساتھ دی جائے۔
- جھوٹی گواہی دینے والے کو اسی سزا کا سامنا کرنا ہوگا جس سزا کا خطرہ ملزم پر تھا۔
- عدالت کا فیصلہ سب کے لیے حتمی ہے۔
زراعت اور آب پاشی کے قوانین:
- اگر کوئی کسان شہر کا بند کھول دے اور پانی سے دوسروں کی فصلیں خراب ہوں تو نقصان وہ خود پورا کرے گا۔
- اگر پانی کی زیادتی سے نقصان بے احتیاطی کے بغیر ہوا ہو تو بوجھ اجتماعی ہوگا۔
- بیچ حکومت کی مقررہ شرح پر ملے گا اور قرض کی ادائیگی فصل کے حساب سے ہوگی۔
- زمین بٹائی پر دینے کی صورت میں پیداوار کا طے شدہ حصہ مالک کو دیا جائے گا۔
- اگر فصل قدرتی آفت سے برباد ہو جائے تو کسان پر قرض کا بوجھ سست رفتار میں ادا کرنے کا حق ہے۔
تجارت اور ذخیرہ اندوزی کے متعلق قوانین:
- ذخیرہ اندوزی جرم ہے، خصوصاً خوراک اور اجناس میں۔
- بازار کی قیمتیں حکومتی تحریری فیصلے کے مطابق مقرر ہوں گی۔
- اگر کوئی تاجر قرض لے کر بھاگ جائے تو اس کے شریک یا ضامن ذمہ دار نہیں ہوں گے، بلکہ تاجر خود مجرم ہوگا۔
- بیواؤں اور یتیموں کا مال تجارت میں لگانے سے پہلے عدالتی اجازت ضروری ہے۔
بحری و زمینی سفر اور قافلوں کے قوانین:
- دریائی سفر میں جہاز کو نقصان جہازران کی ذمہ داری ہے، بشرطیکہ نقصان اس کی غلطی سے ہو۔
- اگر جہاز ڈوب جائے مگر مال محفوظ ہو تو جہاز ران مال واپس کرے گا۔
- مسافر قافلوں کی حفاظت حکومتی نگرانی میں ہوگی۔
طبی اور علاج کے قوانین:
- اگر حکیم یا طبیب کا علاج مریض کی جان لے لے تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔
- اگر علاج سے مریض کی آنکھ یا عضو ضائع ہو جائے تو نقصان کا معاوضہ یا بدلہ لازم ہے۔
- اگر مریض پہلے سے لا علاج ہو تو طبیب بری الذمہ ہوگا؛ یعنی سزا نہیں۔
- دائی کی غفلت سے بچہ مر جائے تو اس پر جرمانہ اور دوبارہ کام سے روکنے کی سزا تھی۔
مویشی اور مال مویشی کے بارے میں قوانین:
- چرواہے کی لا پرواہی سے جانور گم یا مر جائیں تو چرواہا تاوان ادا کرے گا۔
- اگر چرواہا مالک کی مرضی کے خلاف جانور کو کسی اور چراگاہ میں لے جائے تو جرمانہ ہوگا۔
- بیل یا گھوڑا اگر دوسرے کی فصل خراب کرے تو مالک ذمہ دار ہوگا۔
غلامی سے متعلق مزید قوانین:
- غلام کو کسی بھی جرم کی سزا جدید قانون کی طرح یکساں نہیں تھی لیکن حمورابی نے واضح کیا کہ غلام انسان ہے، محض چیز نہیں۔
- اگر غلام پر ظلم ثابت ہو جائے تو مالک کو سزا یا جرمانہ دیا جا سکتا ہے۔
- اگر کوئی غلام ایک نئی جگہ پر اپنی قابلیت ثابت کرے، تو آزادی کا حق مل سکتا ہے۔
مذہب اور معابد کے قوانین:
- مندر کی اشیاء کی حفاظت ریاست اور پجاری کی مشترکہ ذمہ داری تھی۔
- مندر یا مذہبی اوقاف کی زمین فروخت یا گروی نہیں رکھی جا سکتی تھی۔
- مذہبی مقامات کی توہین سنگین ترین جرم تھا، جس کی سخت ترین سزائیں تھیں۔
معاشرتی اخلاق اور نظم کے قوانین:
- والدین کی بے ادبی کرنا قابل سزا جرم تھا۔
- استاد کی توہین یا سرکاری منصب دار کی حکم عدولی، عدالتی جرم شمار ہوتی تھی۔
- کوئی شخص جھگڑے میں خود انصاف نہیں کرے گا؛ عدالت ہی فیصلہ کرے گی۔ [ماہنامہ اشرفیہ، دسمبر 2025ء، ص: 29]
