Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

بیٹی کا ایمان، نسلوں کی پہچان|سلمیٰ شاہین امجدی

بیٹی کا ایمان، نسلوں کی پہچان
عنوان: بیٹی کا ایمان، نسلوں کی پہچان
تحریر: سلمی شاھین امجدی کردار فاطمی
پیش کش: سعدیہ نوری قادری
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

الحمد للہ! اللہ رب العزت کا بے پایاں شکر اور کرم ہے کہ اس نے ہمیں ایسے دین میں پیدا فرمایا جس میں عورت کو بہترین مقام دیا گیا ہے، عورت کو پاکیزگی کے لیے عزت سے نوازا گیا ہے، اور اس کے بدلے عورت پر کچھ ذمہ داریاں بھی عطا فرمائی گئی ہیں۔ مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج بالکل الٹا ہو رہا ہے۔ خواتینِ اسلام نہایت خطرناک مرحلوں سے گزر رہی ہیں، جنہیں ایک عظیم فتنہ کہا جا سکتا ہے اور اس فتنے کے گہرے جال میں ہماری بہنیں اور بیٹیاں پھنس چکی ہیں۔ وہ جال جس میں پھنس کر انھوں نے خود کو برباد کر لیا ہے اور جس کے نتیجے میں اسلام کی مضبوط لکیر کو کمزور کر رہی ہیں۔

بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ لوگ اس فتنے کو فیشن کا نام دینے لگے ہیں۔ لیکن اگر ایمان کی آنکھ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت کے ایمان، حیاء اور عفت سے جڑا ہوا معاملہ ہے، جس کی وجہ سے ایک وسیع بحران جنم لے رہا ہے۔ اس لیے آج ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ صرف جان لینا کافی نہیں، بلکہ مستقل طور پر خود کو بدلنا ہو گا تاکہ آنے والی نسلوں تک بھی ایمان کی روشنی پہنچ سکے۔

قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ [سورۃ الجمعہ: 10]

پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔

ذرا سوچو! وہ بیٹیاں جو ہمارے اسلاف کے دور میں عید کا چاند دیکھ کر دوپہر کو ماں باپ کے ساتھ سجدے میں گر کر اللہ رب العزت سے اپنے روزے کی قبولیت کی دعائیں مانگا کرتی تھیں، آج وہی بیٹیاں چاند رات غیر مردوں سے چوڑیاں پہننے میں مصروف ہیں۔ کیا آج کی عورتیں ہنسی مذاق یا فیشن کے بھنور میں الجھی ہوئی نہیں ہیں؟ آج والدین کو سمجھنا ہو گا کہ اپنی بیٹیوں کو ظاہری چمک دمک کے پیچھے لگا کر زندگی برباد نہ کریں، بلکہ انہیں دینِ اسلام کے لیے سنواریں۔ یہ دنیا محض لالچی ہے، اور اس کے لالچ میں پڑ کر ایمان چھین جائے تو پہچان بھی مٹ جاتی ہے۔

اپنی عزت کی قیمت ہرگز نہ لگائیں، کیوں کہ یہ دنیا جس آزادی کا نام لے رہی ہے دراصل وہ آزادی نہیں بلکہ نفس کی غلامی ہے، اور شیطان کے جال میں پھنسانے کا ایک فریب ہے۔

یاد رکھو! تربیت کے نام پر جب والدین غفلت برتتے ہیں تو گویا شیطان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتے ہیں۔ اپنی بیٹیوں کو بتائیں کہ یہ سارے منصوبے دشمنانِ اسلام کے ہیں جو ہماری نسلوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ بیٹی کو جب آپ ہاتھ میں فون دیں، تو ساتھ یہ بھی بتائیں کہ میڈیا ایک تیز دھار ہتھیار ہے جسے احتیاط سے استعمال کرنا ہوگا، ورنہ یہ تباہی پھیلا دے گا اور گھر سے ایمان کی روشنی چھین لے گا۔

والدین کو چاہیے کہ اپنی تمام تر توجہ دنیاوی منزلوں کی بجائے دینی میدانوں پر مرکوز کریں۔ مساجد سے رشتہ مضبوط کریں تاکہ ان کے بچے گمراہیوں سے بچ سکیں۔ گھر میں ماں کا کردار سب سے زیادہ عظیم ہے، ماں کو روایات و احادیث میں جنت کہا گیا ہے، اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ماں اپنے بچوں کے لیے پہلی درس گاہ ہے۔ اگر ماں دین دار اور نمازی ہے تو بیٹا بھی حکمِ خدا پر عمل کرنے والا ہوگا۔ لیکن اگر ماں محض ڈگری اور دنیاوی چمک دمک پر نظر رکھے گی تو پھر نتیجہ افسوس ناک ہی نکلے گا۔

(بنت نعیم اللہ، سابق ناظم اعلیٰ مدرسہ نشر العلوم، ابراہیم پور، اعظم گڑھ)

وہی ماں اگر اپنی بیٹی کو حیاء، پردہ اور نماز کی اہمیت سکھائے تو وہ بیٹی گھر کی عزت کی محافظ بن کر رہنا سیکھے گی۔ اور اگر وہی ماں اپنے بیٹے کو محنت، غیرت اور حلال روزی کی قدر بتائے تو وہ بیٹا گھر کی عورتوں کی عزت کا نگہبان بنے گا۔ یوں عورت کی عزت و آبرو محفوظ رہے گی۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج بیشتر خواتینِ اسلام نے دوسرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ وہ راستہ جس پر چل کر کہنا پڑتا ہے کہ آخر یہ کون سا راستہ ہے؟ آج کی عورتیں کس روشنی کے پیچھے جا رہی ہیں؟ وہ روشنی جو دراصل ایمان و حیاء کو جلا رہی ہے۔ اس روشنی کا جرم اتنا گہرا ہے کہ ایمان چھین کر کفر کے اندھیروں میں دھکیل رہی ہے۔

سوچو! وہ بیٹیاں جو ماں باپ کی دعاؤں کی چھاؤں میں پلتی تھیں، آج فتنوں کے قدموں تلے کچلی جا رہی ہیں۔ وہ بیٹیاں جو کبھی عید کا چاند دیکھ کر سجدہ شکر ادا کرتی تھیں، آج آزادی کے نام پر دوپٹے کو بوجھ سمجھتی ہیں۔ کیا قوم کے جاگنے کا وقت ابھی نہیں آیا؟ آج جب لڑکیاں ایمان ترک کر کے غیر مسلم لڑکوں سے شادیاں کرتی ہیں تو والدین کا کیا حشر ہوتا ہے!! غور کرنے کا مقام ہے۔

آج علم کے نام پر لبرلزم کو اپنایا جا رہا ہے۔ داڑھی والے استاد کو طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میری بہنوں! یہ سب کچھ اتفاق نہیں ہے، بلکہ ایک گہری سازش ہے۔ یہ سازش ہمارے ذہنوں، زبانوں اور کرداروں کو غلام بنا رہی ہے۔ یہ دراصل نفس کی غلامی ہے جس کے ذریعے دشمنِ اسلام ہماری روح کو کمزور کر رہے ہیں۔

کاش! آج ایمان کا سودا کرنے والی بیٹیاں سمجھ جائیں کہ ایمان کی حقیقت کیا ہے۔ محرم کے دن کربلا کا منظر یاد کرو۔ ذرا علی اصغر کی لاش یاد کرو، عباس کے کٹے بازوؤں کو یاد کرو۔ زینب کی غیرت کو یاد کرو کہ عورت کو غیرت بچانے کا ہنر اسلافِ کرام سے ملا ہے۔ اپنے دامن میں لکھ لو کہ دینِ اسلام ہی حقیقی دین ہے اور اسی دین پر عمل کرنے والوں کے لیے دارین میں حقیقی فلاح و ظفر ہے۔

افسوس آج کی عورتیں ایمان پر فخر کرنے کی بجائے ارتداد کو فخر سمجھنے لگی ہیں۔ یاد رکھو! یہ خوش نصیبی نہیں بلکہ بد نصیبی ہے، کیوں کہ جب ایک بیٹی ایمان جیسی نعمت کو چھوڑ دیتی ہے تو اس کا ہر بچہ اسلام سے دور ہو جاتا ہے۔ اور جب یہ بیٹیاں مرتد ہوتی ہیں تو ان کی آئندہ نسلیں کفر تک میں پرورش پاتی ہیں۔

میری قوم کی بیٹیو! آج ہی سے عہد کریں کہ ایمان کو ہر چیز پر ترجیح دیں گی۔ چاہے تعلیم ہو یا رشتہ، سب سے پہلی ترجیح دینِ اسلام ہوگا۔ اپنی سوچ کو بدلیں گی، اپنی عظمت کو قائم کریں گی، اپنے بچوں کو فطرت کی اصل اہمیت بتائیں گی۔ سوشل میڈیا کا استعمال اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے صرف خیر کے کاموں کے لیے کریں گی۔ اگر ایسا نہیں کیا تو جان لو کہ یہی آلہ ایمان کو نگل جائے گا۔ نکاح کے اندر لین دین کے غلط رسم و رواج کو ختم کرنے کی کوشش کریں گی تاکہ بڑے نقصانات سے محفوظ رہ سکیں۔

اپنے گھروں میں صحابیات اور صحابہ کرام کے واقعات کو زندہ کریں۔ اپنی بیٹیوں کو زینب کا کردار سنائیں، اپنے بیٹے کو علی کی غیرت سکھائیں۔ کیوں کہ یہی وہ راستہ ہے جہاں سے عورت کی عزت بھی بچتی ہے اور ایمان بھی محفوظ رہتا ہے۔

دعا ہے کہ مولا تعالیٰ ہماری بیٹیوں کو ایمان پر ثابت قدمی عطا فرمائے، ہمارے گھروں میں تقویٰ کی روشنی پھیلا دے، اور ہمیں دین کی راہ پر استقامت بخشے۔ آمین یا رب العالمین! [حوالہ: ماہنامہ اشرفیہ، ص: 36، 2025]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!