Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ حیات و خدمات (قسط: اول)|توحید احمد خان رضوی

حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ حیات و خدمات (قسط: اول)
عنوان: حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ حیات و خدمات (قسط: اول)
تحریر: توحید احمد خان رضوی
پیش کش: جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف
منجانب: تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف

ماضی قریب کی عبقری شخصیات میں ایک اہم نام صدر العلماء مظہر مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد تحسین رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ کا ہے۔ آپ نے نصف صدی سے زائد عرصہ تک دین متین کی وہ بیش بہا خدمات انجام دی ہیں جن کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔

ولادت با سعادت اور نام و نسب:

حضرت صدر العلماء مظہر مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی ولادت با سعادت ۱۴ شعبان المعظم ۱۳۴۸ ہجری مطابق ۱۹۳۰ عیسوی کو بریلی شریف کے محلہ سوداگران میں ہوئی۔ آپ کا نام محمد رکھا گیا اور عرفی نام تحسین رضا ہوا۔ آپ شاعری میں تحسین تخلص استعمال فرماتے تھے۔ علماء کرام و مشایخ عظام نے آپ کو بقیۃ السلف، عمدۃ الخلف، خیر الاذکیا، زبدۃ الاتقيا، مظہر مفتی اعظم ہند، صدر العلماء، پیکر علم و عمل، محدث بریلوی جیسے عظیم القابات سے نوازا۔ آپ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے بھائی استاد زمن حضرت علامہ حسن رضا خان حسن بریلوی علیہ الرحمہ کے صاحبزادے حضرت علامہ حسنین رضا خان علیہ الرحمہ کے صاحبزادہ اوسط ہیں۔ آپ کا نسب اس طرح ہے:

صدر العلماء حضرت علامہ مفتی محمد تحسین رضا خان بن حضرت علامہ حسنین رضا خان بن حضرت علامہ حسن رضا خان بن حضرت علامہ نقی علی خان بن حضرت علامہ رضا علی خان علیہم الرحمہ۔

تعلیم و تربیت:

آپ کا خاندان علمی اور روحانی اعتبار سے منفرد شناخت رکھتا ہے۔ آپ کی تربیت خاندان کی بزرگ شخصیات کے زیرِ سایہ ہوئی۔ آپ نے قاعدہ گھر پر ہی پڑھا اور عربی فارسی کی ابتدائی تعلیم پرانا شہر واقع اکبر مسجد المعروف مرزائی مسجد میں ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے والد ماجد علامہ حسنین رضا خان علیہ الرحمہ نے دار العلوم مظہر اسلام مسجد بی بی جی میں داخل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ذہانت و فطانت اور فہم و فراست سے نوازا تھا۔ آپ نے مظہر اسلام میں حضور محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد صاحب اور دیگر اساتذہ کے زیرِ نگرانی بہت ہی محنت و جانفشانی کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد منتہی کتابوں کی تعلیم کے لیے جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف میں داخل ہوئے اور یہاں کے متبحر اور ماہر اساتذہ کرام سے کمال ذوق و شوق سے پڑھا اور امتحانات میں اپنے ساتھیوں سے سبقت لے کر فائق و فائز ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد جب آپ کے استاد محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی سردار احمد صاحب پاکستان چلے گئے تو حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ اپنے والد گرامی کی اجازت سے دورہ حدیث شریف کی تکمیل کے لیے حضرت علامہ سردار احمد صاحب کی بارگاہ میں تشریف لے گئے اور ان کی قائم کردہ عظیم دینی درسگاہ جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں زیر تعلیم رہ کر بہت کم مدت میں دورہ حدیث شریف کی تکمیل فرمائی۔

آپ کے اساتذہ کرام:

حضرت صدر العلماء محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنے وقت کی جن جلیل القدر شخصیات سے اکتسابِ فیض کیا ان میں سے کچھ کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

  1. صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی امجد علی صاحب علیہ الرحمہ
  2. حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مصطفی رضا خان علیہ الرحمہ
  3. محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد صاحب
  4. علامہ غلام جیلانی رضوی علیہ الرحمہ
  5. علامہ قاضی شمس الدین رضوی علیہ الرحمہ
  6. مولانا غلام یاسین صاحب علیہ الرحمہ
  7. مولانا سردار علی خان علیہ الرحمہ
  8. مفتی وقار الدین صاحب علیہ الرحمہ

تدریسی خدمات:

حضرت صدر العلماء محدث بریلوی علیہ الرحمہ زندگی بھر نہایت ہی خلوص کے ساتھ درس قرآن و حدیث اور تدریس و افتا کے ذریعہ دین متین کی خدمت انجام دیتے رہے۔ ویسے تو صدر العلماء علیہ الرحمہ نے فراغت سے قبل ہی حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے حکم پر دار العلوم مظہر اسلام بی بی جی مسجد بریلی شریف میں تدریس کا آغاز فرما دیا تھا۔ اس کے بعد آپ محدث اعظم پاکستان کی بارگاہ میں فیصل آباد پاکستان تشریف لے گئے تھے۔ وہاں سے واپس تشریف لا کر پھر دار العلوم مظہر اسلام میں تدریسی خدمات انجام دینے لگے۔ یہاں پر آپ نے ۱۸ سال تک تدریس کے فرائض انجام دیے۔ اس کے بعد آپ ۱۹۷۵ عیسوی میں حضور ریحان ملت علیہ الرحمہ کی گزارش پر جامعہ رضویہ منظر اسلام تشریف لے آئے، یہاں پر آپ نے ۷ سال تک بحیثیت صدر المدرسین تدریسی خدمات انجام دیں۔ ۱۹۸۲ میں جب جامعہ نوریہ رضویہ قائم ہوا تو اس کی تعلیمی ذمہ داری حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ کے سپرد کر دی گئی۔ یہاں آپ نے تقریباً ۲۳ سال تک بحیثیت صدر المدرسین و شیخ الحدیث تعلیمی خدمات انجام دیں۔ حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے جب مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا قائم فرمایا تو اس کی تعلیمی ذمہ داری بھی حضور صدر العلماء علیہ الرحمہ کے حصہ میں آئی۔ آپ حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی دعوت پر ۲۰۰۵ سے جامعۃ الرضا میں بحیثیت صدر المدرسین و شیخ الحدیث درس دینے لگے اور تا دم وصال آپ جامعۃ الرضا میں تشنگان علوم نبویہ کو سیراب کرتے رہے۔ اس طرح حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ نے نصف صدی سے زائد تدریسی خدمات انجام دے کر ہزاروں طالبان علوم نبویہ کو دینی علم سے آراستہ فرمایا۔

آپ کے تلامذہ:

حضرت صدر العلماء محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے نصف صدی سے زائد اور بریلی شریف کے چاروں مرکزی مدارس میں تدریسی خدمات انجام دی ہیں۔ اس سے ہر با شعور اندازہ لگا سکتا ہے کہ حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ نے کتنے آفتاب و ماہتاب پیدا کیے ہوں گے۔ اس طویل عرصے میں آپ نے بہت سے علم و فضل کے ماہر تلامذہ پیدا فرمائے جنہوں نے دین متین کی بیش بہا خدمات انجام دیں۔ آپ کے کچھ مشہور و معروف تلامذہ کے نام یہ ہیں:

  1. حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری علیہ الرحمہ
  2. نواسہ مفتی اعظم ہند مولانا خالد علی خان صاحب علیہ الرحمہ
  3. عالم با عمل حضرت مفتی محمد صالح صاحب قبلہ
  4. حضرت علامہ مفتی محمد حنیف خان صاحب قبلہ
  5. علامہ محمد ہاشم نعیمی صاحب قبلہ
  6. مناظر اہل سنت مفتی مطیع الرحمن صاحب قبلہ
  7. مناظر اہل سنت مولانا محمد حسین صاحب قبلہ
  8. مصلح قوم و ملت حضرت علامہ تطہیر احمد صاحب قبلہ
  9. مناظر اہل سنت حضرت علامہ صغیر احمد صاحب قبلہ
  10. حضرت علامہ محمد انور علی صاحب قبلہ
  11. حضرت مولانا محمد یامین صاحب قبلہ
  12. حضرت مولانا عبد السلام صاحب قبلہ
  13. حضرت مفتی مجیب اشرف صاحب قبلہ
  14. حضرت مولانا صغیر اختر صاحب قبلہ

حضرت علامہ مفتی سردار احمد صاحب کا حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ پر وثوق و اعتماد:

محدث اعظم حضرت علامہ مفتی سردار احمد صاحب قبلہ کو اپنے عزیز شاگرد پر کس قدر اعتماد تھا اس کا اندازہ اس خط سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو حضرت محدث اعظم پاکستان نے اپنے مرشد برحق، سیدی سرکار مفتی اعظم حضور مصطفی رضا بریلوی قدس سرہ کی بارگاہ میں بھیجا۔ آپ نے فرمایا:

“عزیزم مولانا تحسین رضا خاں صاحب سلمہ کی دستار بندی حضور والا کو مبارک ہو۔ دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف میں اسباق جو ان کے سپرد کیے جائیں ان میں مِشْكَاة شَرِيف ان کے پاس ضرور رکھی جائے اور آئندہ سال ‘نَسَائِي شَرِيف’ اس کے بعد ‘ابْنِ مَاجَه شَرِيف’، پھر ‘مُسْلِم شَرِيف’، پھر ‘تِرْمِذِي شَرِيف’۔ جب ہر سال حدیث کی ایک کتاب پڑھا لیں تو بعد میں ‘بُخَارِي شَرِيف’۔ خدا چاہے تو اس طرح تدریجاً یہ دورہ حدیث کے اسباق پڑھا لیں گے۔ حدیث کے سبق کے علاوہ جو اسباق ان کے مناسب ہوں دیے جائیں۔ کل چھ ماہ اس جگہ انہوں نے قیام کیا ہے۔ اگر دو سال یہاں قیام ہو جاتا تو خدا چاہے مزید استعداد اور قابلیت ہو جاتی۔ مَا شَاءَ اللَّهُ سمجھ دار ہیں، ہوشیار ہیں۔”

انداز تدریس:

حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ کا انداز تدریس و تفہیم بہت عمدہ تھا۔ کم وقت میں درسی کتابوں کی الجھی ہوئی گتھیوں کو سلجھانے کا ملکہ حاصل تھا۔ آپ کے انداز تدریس کو دیکھ کر اکثر طلباء آپ سے پڑھنے کے خواہشمند رہتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو زیادہ کتابیں پڑھانے کو دی جاتیں۔

جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم کا قیام:

حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ نے پرانا شہر میں مدرسہ کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے علاقے کے با شعور دیندار لوگوں کو ساتھ لے کر ایک مدرسہ قائم فرمایا جس کا نام مدرسہ اہل سنت ضیاء العلوم رکھا۔ حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ اس مدرسہ کی ترقی کے لیے کوشاں رہتے۔ آپ ہر سال اس کے تعلیمی افتتاح میں شریک ہوتے اور کتابوں کا افتتاح فرماتے اور طلباء کو خوب نصیحت فرماتے۔ اس طور پر حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ سے اس حقیر راقم السطور (توحید احمد خان رضوی) کو بھی شرف تلمذ حاصل ہے۔ ابتدا میں یہ مدرسہ نورانی مسجد میں چلتا تھا پھر حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ اور اراکین کمیٹی کی کوشش سے اس مدرسہ کے لیے ایک جگہ حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ کی حیات میں ہی خرید لی گئی تھی۔ حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد اراکین کمیٹی نے مدرسہ کا نام جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم رکھ دیا۔ آج یہ جامعہ حضرت صدر العلماء علیہ الرحمہ کے روحانی فیضان سے تعلیمی میدان میں اپنی ایک شناخت رکھتا ہے۔ یہاں درجہ اعدادیہ سے فضیلت تک کی عمدہ تعلیم ہوتی ہے۔

بیعت و خلافت:

حضرت صدر العلماء محدث بریلوی علیہ الرحمہ کو آپ کے والد ماجد حضرت علامہ حسنین رضا خان صاحب علیہ الرحمہ نے ۱۹۴۳ عیسوی میں عرس رضوی کے پر بہار موقع پر حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت کروایا، اس وقت آپ کی عمر شریف محض ۱۳ سال تھی۔ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے اسی وقت آپ کو خرقہ اجازت و خلافت بھی عطا فرمایا اور آپ کے سر پر اپنا عمامہ باندھا۔ اس موقع پر سید العلماء سید آل مصطفی مارہروی علیہ الرحمہ، مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن صاحب علیہ الرحمہ، برہان ملت حضرت علامہ برہان الحق صاحب علیہ الرحمہ اور حافظ ملت حضرت علامہ عبد العزیز صاحب علیہ الرحمہ جیسے عظیم علماء و مشائخ نے بھی آپ کی خرقہ پوشی فرمائی۔ اس موقع پر حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے کمال محبت کا اظہار فرماتے ہوئے اپنے قلم سے سند اجازت پر تحریر فرمایا:

عَمَّمْتُهُ عِمَامَتِي وَأَلْبَسْتُهُ جُبَّتِي

یعنی میں نے انہیں اپنا عمامہ باندھا اور انہیں اپنا جبہ پہنایا۔ نیز جب حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے حضرت صدر العلماء کو اوراد و وظائف کی اجازت سے نوازا تو اس پر تحریر فرمایا:

قُرَّةُ عَيْنِي وَدُرَّةُ زَيْنِي مُحَمَّدُ تَحْسِين رِضَا خَان

یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میری زینت کے موتی محمد تحسین رضا خان۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!