Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور ہندی زبان و ادب (قسط: سوم)|مولانا محمد زاہد علی مرکزی

امام احمد رضا اور ہندی زبان و ادب (قسط: سوم)
عنوان: امام احمد رضا اور ہندی زبان و ادب (قسط: سوم)
تحریر: مولانا محمد زاہد علی مرکزی
پیش کش: زہرہ یاسمین
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

میر تقی میر کی دس غزلیں اور ہندی الفاظ

(دور، س) (پہنچا، ہ) (پتنگ، س)، (سور) (رات) (ملے) (پاؤں) (کل) (چور) (دیکھ) (سمجھے) (ملے) (کچھ) (تن) (رکھا) (ہاتھ) (یاں) (گھبرائی) (لڑکوں) (بہو) (کم گھیر) (پھیر) (ڈھیر) (چھوڑا) (مر چلے) (کتنا) (کلی، س) (سن) (الٹی) (جی) (تھمے) (جلا) (جاگہ) (نگر، س) (لٹا) (بھلا) (ڈھب) (بن) (سوجھتا) (جھمکے) (جن نے) (سلادیا) (ملادیا) (بچھا دیا) (گھٹتے) (ٹک) (دیا، چراغ) (ہر گھڑی) (کڑھنے) (کھپا دیا) (کھینچے) (جیتا) (رہا) (سیکڑا) (بیچیے) (گھٹایا) (شگون) (پھنسا) (کھوئے) کل الفاظ (۵۸)۔

مرزا غالب کے یہاں ہندی الفاظ

(ہائے) (چاہے) (بجھا دے) (آنکھوں) (کھل گئی) (ڈھانپنا) (مر نہ سکا) (پڑا) (پایا) (تجھ کو) (کھیلنے) (چھڑکا) (پوچھیے) (ڈھونڈا) (جل گیا) (آگ) (گھر) (نکلا) (دھمکی) (کھٹکا) (اڑنے) (میرا) (ہمارا) (ٹپکتا) (ڈالی) (چھوٹوں) کل الفاظ (۲۶)۔

اقبال کے یہاں ہندی الفاظ

(چیرگی) (الجھ) (سومناتھ) (س) (بننا) (ملے) (سمجھے) (ٹھہر) (گھات) (انھیں) (بجھا دے) (کانٹا) (پھونک) (کھٹک)۔ (بال جبریل حصہ اول)

(کھولیں) (آنکھیں) (بھری) (تاڑا) (کھینچے) (چالیس) (بڑی) (سنا کرتے ہیں)۔ (بانگ درا غزلیات)

(انوکھی) (نرالے) (چھالوں) (نکالے) (پھلا پھولا) (پالے ہیں) (بوٹے) (سیکڑوں) (ڈالے) (مٹنے) (کچھ) (سیکھا) (بھولے بھالے) (سیدھے) (ٹوٹے) (بند کر) (چھپتی) (اڑ بیٹھے) (کھل جائیں) (بانگ درا) کل الفاظ (۴۲)۔

داغ کے یہاں ہندی الفاظ

نکال، ٹال، ٹھوکر، بن، کچھ، سنبھل، ڈال، اٹھائے، سانچے، لوٹنا، تھوڑا، چیر کر، ٹھہری، سمجھ اڑایا، چٹکیوں، منہ، چڑھانا، چپڑ کر، ڈھانکا، پیتی، جھانکا، بچ کر، ادھر تاکا، جگہ، پاؤں، اٹھا، اچھا، چھیڑ، چھان، سو، پھلے پھولے، پچھتائیں، گھبرائیں، لو، بیٹھے، کاٹ، چھپتی، پلٹ، لچھا، بندھا، چپ، پڑھا، بھلا، لگالائے، باتوں، کھیل، چاند، ٹکڑے، تاروں، بھری، راتوں، مٹی، دھوم، بھولے بھٹکے، تھک، پھیرے پکڑ کل الفاظ (۶۱)۔

امام احمد رضا کے یہاں ہندی الفاظ

امامِ سخن کے یہاں ہندی الفاظ کا استعمال اس کثرت کے ساتھ ہے کہ یہ شعرا آس پاس بھی نہیں دکھتے۔ اسی نہج پر جب ہم نے آپ کے کلام سے الفاظ کا انتخاب کرنا چاہا تو ہم نے شروع کی ایک نعت اور ایک منقبت یعنی: “واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا” اور منقبتِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ: “واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا” پر ہی ۶۶ ہندی کے الفاظ پائے جبکہ باقی مذکورہ شعرا کی مکمل دس دس غزلیں مذکور ہیں۔

الفاظ کی گنتی یہ ہے:

میر تقی میر دس غزلیں الفاظ (۵۸)

مرزا غالب دس غزلیں الفاظ (۲۶)

اقبال دس غزلیں الفاظ (۴۲)

داغ دہلوی دس غزلیں الفاظ (۶۱)

چالیس غزلیں، کل الفاظ ایک سو ستاسی ۱۸۷ ہوئے۔

امامِ سخن کی محض سات نعتوں، منقبتوں کے الفاظ اس سے زائد ہیں، اہلِ ذوق شمار کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اولین کلامِ رضا کئی صفحات پر مشتمل ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ چالیس غزلوں کے لیے کم از کم ۲۰/۳۰ صفحات درکار ہوتے ہیں اور کلامِ امامِ سخن محض ۲۱ صفحات پر ہی مکمل ہو گئے۔

اب ہم “حدائقِ بخشش” میں مستعمل ہندی الفاظ تحریر کرتے ہیں، مکررات، محذوف، صفحه نمبر قوسین میں ہیں۔

حدائقِ بخشش حصہ اول

دھارے، انوکھا، کڑوڑا، نیلا، پالا، دے، کتا۔ (۴/۳) کھلتا، پلاتا، بابا، چمک۔ (قطعہ زمین) نہا، دھولے، ڈورا، (۶/۵) پٹا، بلک (۸/۷) چیلا، جھولتی، بجنا، (۱۰/۹) تیکھا، کڑکتی، چھینٹ، جائی، بھپرا، اوچھا، (۱۲/۱۱) چیر، بل، بے، جڑ، ہر، پھر کے، پَلہ، (۱۴/۱۳) پیٹھ، ہلکا (۱۶/۱۵) کالے کوسوں (۱۸/۱۷) دام، کہرام، نیلام، (پرتگالی) بوروں۔ بمعنی بے عقل (۲۰/۱۹) جگ، راج، تورے، سرسوئے، منجدھار، پگڑی، موری، نیا، پار، لگا جانا، توری، جوت، بھلجھل، رچی چندن، چندر، پرو کنڈل، برسا، برسن ہارے، رم جھم، چیرا، لرجے، درک، سنا جانا، آدت، موہے، کرنے پرت، پت، اپنی بیت، کاسے، من، دھن، پھونک، جلا، پڑا جانا، (۲۲/۲۱) بچا، سائیوں، دھیان کڑی، چھٹی، (۲۴/۲۳) کام، بھلے، تیل، ڈالا، چھڑاکے، اجاڑا، بگاڑا، سمائی (بمعنی طاقت) سوجھنا، چھایا، نڈھال، چَرجایا، بڑھ، چلی، گھٹا (بمعنی کم) پڑا، بجرا، ترگیا (پار ہو گیا) تھرتھرا، پھر گیا (بمعنی دور) (۲۶/۲۵) دھومیں، مچیں، بھیڑ، کٹاتے (۲۸/۲۷) پھانس (۳۰/۲۹) کمہلائے، (۳۲/۳۱) اونچی، آئیں، پتی (۳۴/۳۳) جوڑا، ناؤ، (۳۶/۳۵) (۳۸/۳۷) برس، اڑے، پارا، چھانے، سمٹ، چال، چکی (۴۲/۴۱) ہرا، بھرا، کانٹوں (۴۴/۴۳) جڑاؤ، کرن (۴۶/۴۵) ڈھلا (۴۸/۴۷) بکے جاتا ہے، ایڑیاں، ابھر، پھوڑے (۵۰/۴۹) ٹھوکر، ٹکسال، یوں، (۵۲/۵۱) (۵۴) چھک (یعنی جی بھر کے) فیروز اللغات میں نہیں مگر ہندی ہے، ہمارے یہاں مستعمل گلی، تباہ، جگائے، گنوائے، چھڑائے، ترس، جتائے، (۵۶/۵۵) بچھائے، لجائیں، چوٹ، ٹھگوں، آبسو، دھر کے، کمائی، گونج، پھنسے، دیس، بہائی، (۵۸/۵۷) پالے، گھر کریں، تڑکے، باگوں، وردیاں، بولتے، مول، بائیں، بجار، بسادیے، (۶۰/۵۹) جمادیے، بٹھادیے، نرالی، لکیروں، جھوم (۶۲/۶۱) لوٹ جاؤں، (۶۴/۶۳) اوس (بمعنی شبنم) دھواں، ارے، کھلے، بندوں، دبے، لپکے، ڈالیاں، (۶۶/۶۵) ڈھیر، کھونا، ٹالا، کانپ، (۶۸/۶۷) ہرنی، کھلکھلا، گھل جانا، ٹپک، چھلکا، (۷۰/۶۹) چھیالیس، میلا، کھیتی، رس کس، بھڑکاؤ (۷۲/۷۱) چرچے، سوکھے، دھانوں، پنہایا، الجھ، گھنگھور، (۷۴/۷۳) تیل (۷۶/۷۵) جائیو (۷۸/۷۷) بجھائیں، پیاس، چھیننے، تڑپنا، مچلنا، (۸۰/۷۹) پر، بھڑکیں (۸۲/۸۱) بوجھ، بھاری، چھینٹ، کیاری (۸۴/۸۳) تلوؤں، دھوون، سدھارا بمعنی گیا (۸۶/۸۵) پھینکنے، اجالا (۸۸/۸۷) لوٹ، ہوس، پنکھڑی، گرے، تپائیں، دھرے، کھرے (۹۰/۸۹) چڑھا، کتنی، دانت، پیسے، جھی، کتر، کنویں، (۹۲/۹۱) لاج، ہلا (بمعنی مانوس ہونا) (۹۴/۹۳) ٹھہرانے، تھانے، جانے والے، چندرانے، (۱۰۰/۹۹) سجانے، اجڑ، چھاؤنی، جنگلات، کھانے والے (بمعنی پریشان کرنا) اگلے، بھاتے ہیں، سرہانے، سونی، جگگا، جھٹکنے، لپکنے، پلٹ کنے، بھڑکنے، بلکنے، بجھ، دبکنے، (۱۰۲/۱۰۱) کھڑکنے، پھوٹ، ٹپکنے، چمکنے، آئیے، بہے، تھوڑا، ہاکان، جھیلیں (۱۰۴/۱۰۳) کھڑھتے، جھلک، (۱۰۶/۱۰۵) جل تھل، بھر دیئے، گندھے، گورے، دب گیا، بڑے، کدھر، (۱۱۰/۱۰۹) چھیڑ چھاڑ، اٹھان، اڑان، دھان، پان، جلی، ڈاب، (۱۱۲/۱۱۱) اترتے چاند، پاکھ، بھیڑیوں، اکتاتا، کٹیلی، جھیلنے، چونکا، کھوٹی، (۱۱۴/۱۳) رکھوالی، گٹھری، تا کی، متوالی، سونا (دھات) سُونا، سونا (نیند) ملنا، جھنجھلا، بڑنا، لاکھوں، جمائی، انگڑائی، گالی، اوندھے، مینہ، پھسلن، پلکوں (۱۱۶/۱۱۵) بس کی گانٹھ، بھولی، بھالی، ڈائن، للچایا، سستا، بیچ، چکائیں، چھٹی (۱۱۸/۱۱۷) گھانی، ٹھانی (۱۲۰/۱۱۹) بن، آئی، للکار، دیر لگائی، سلگنا، دھونی، رمائی، گنوائی، پرائی، ہٹ (۱۲۲/۱۲۱) بھاگیا (۱۲۴/۱۲۳) پَتلی (۱۲۸) سور، (۱۲۹) ادھر، (۱۳۰) ہاتھی، ڈوباؤ، جھیل، (۱۳۳) جاڑوں، بھیجیے، بیٹے، (۱۳۴/۱۳۵) ندی، کھبتی، چھبتی، گجر، ہری، بالیں (۱۳۶/۱۳۷) کالک، چھڑاؤ گے، جھالے دھن، جاگ، گئی شہ، گھڑی سل سر کی (۱۳۹/۱۳۸) چاند (بمعنی عیش ومزہ) (۱۴۱/۱۴۰) دھج بسر، نگر، س، دولہا، بنیں (بمعنی دلہن) سجیلی پی کے پاس، سہاگن، کنور (۱۴۳/۱۴۲) نچھاور، نگھرے کھنڈر (۱۴۵/۱۴۴) سو، بل، گھتی دیں، ہنسی (۱۴۶) چھوٹ، پھبن، نکھر، سنورا اک تل میں، بناؤ، جھوما، جھومر، کان، ڈھلک، بھبار، موتی جھڑ کر، گود، بھرے، دھانی، چنے، پہاڑیوں، چھتریاں، دھار لپکا، تھل ٹکے، کٹورے، اترن، رت، سہانی، جوڑا (بمعنی لباس) بڑھا کے، بکے ابل، لہلہا ہے، اجالتے، کھنگا لتے، تب، ٹیلے لوٹتے تھے، تھان، چھاؤں (۱۵۰/۱۲۹) بھبھو کا، پھوٹا، تیور، دن پھرے تھے (۱۵۲/۱۰۱) جھجکتے ابھرا، دوئی، جنم، بھنور، ہار کنول، لپکیے، ارہ، (۱۵۵/۱۵۴) بائیں (۱۵۶/)۔

حدائقِ بخشش حصہ دوم

باڑا، تارا، جھکا، ننھا، پودہ، چھائی، ماتھے، بھر دے، دن دونا، دے ڈال، ڈھلکا، (۳/۲) تھراتا، گپھا ستھرا، کورا، گاتی، بینوں، لہرا، دھڑکا، بھرن، امڈ، ٹھنڈا، بٹھایا کچا، توڑا، بھیک، ہٹا، جھرمٹ اندھا، مانگتا، پہروں، جھٹ کر، منھ، ٹیکا، پہرا (بمعنی چوکیداری) اوڑھے، بوندیاں، رمنا، کھل، کنول، کوڑا (۶/۵) چوندھیا، بجلی، سورج، کھلونا، (۹/۸) چمپئی، پنکھڑی، کلی، اگال، بن، ساتوں، نہر، بری، (۱۱/۱۰) چڑیاں، دانہ، پانی (۱۳/۱۲) دوہائی، بھنور، ہوا، گھائل (۱۴ص) بھرن، جھالا (۱۶/۱۵) چاند نا، دیر، رچا دو، بھولا، جھونکوں، آندھیوں (۱۹/۱۸) تڑکا، داتا، ٹکے، مہنگے، کوڑی، تین، پاٹ، گھاٹ (۲۱/۲۰) ٹھیک (۲۳/۲۲) مرجھائی، کلیاں (۲۹) گھٹا، بھووں، جھملائے (۳۰/۳۱) پتلی، کھاری، کویں، کنجی، جو بن، چھتریں (۴۴/۴۲) بہیں، جو، روٹی، کھینچ، بناوٹ (۴۵/۴۴) بھینی، میٹھی، سادی، جھلا جھل (۴۶/۴۷) آنچل (۴۹/۴۸) دسوں (۵۰ (۵۱) باپ، بھائی، بہن، نباہو (۵۲/۵۳/۵۲) کراہو، (۷۱) براہو، کلس، جھولیاں، پھیلاؤ (۷۴) سماں، جی، آٹھوں، کچی، متیں، گتیں، جھپک، لپک (۲۶) (۸۱/۸۰) چمک، دمک، دھار، ٹکے، ادھار، کھٹک (۸۳/۸۲) چوڑھا، چمار، کھائے، تپ اندھیر، گھنگھور، بھڑکا (۸۵/۸۴) گھس، انگاروں، جپا، تجد یا (۸۷/۸۶) دیو، چھینا، کنواری، جایا۔ تھالے، تپک ڈھونڈھو، کھڑا، موا (۸۹/۸۸) بھک، سکے، جھوٹے، لڑائی، تھوپا، (۵۱/۸۹) بٹیر، کووں، دے بیٹھے، چوہے، بٹے (۹۲) چرتے، ڈھول، آدھے۔

اب ہم آخر میں امامِ سخن کا وہ کلام پیش کرتے ہیں، جس کی بانگی کسی بھی شاعر کے یہاں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ عرب وعجم میں نہ ہمیں کوئی شاعر اور نہ ہی کسی شاعر کا ایسا کلام میسر یا پھر یہ کہہ لیں کہ ہمیں دیکھنے سننے کو نہ ملا، کہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ یہ حکم آپ نے کیسے لگایا حالانکہ آپ نے نہ جملہ شعراء کو پڑھا اور نہ ہی ساری زبانوں پر قادر پھر حکم چہ معنی دارد؟ تو چلئے عقل کے ترازو پر حکم کو تولتے ہیں۔ اہلِ عرب غیرِ عربی پر قادر نہیں اور اگر تھوڑی بہت کوئی زبان بولتے بھی ہیں تو ٹوٹی پھیٹی مثلًا فی زماننا انگلش کا استعمال کرتے ہیں مگر (ٹ ڈ رپ) جیسے الفاظ ان سے آج بھی ادا نہیں ہوتے یہ میرا مشاہدہ ہے اور کوئی زبان بولنا اور ہوتا ہے اور لٹریچر یا شاعری کی زبان، محاورات کا استعمال کم از کم اہلِ عرب کے یہاں تو متصور نہیں۔ اہلِ فارس عربی وفارسی پر اچھا عبور رکھتے رہے ہیں، رکھ سکتے ہیں مگر تیسری زبان وہاں کے شعراء سے بھی مسموع نہیں۔ انگلش شعراء سے بھی دوسری زبانوں میں شاعری آج تک نہ پڑھی سنی بافی رہے اردو شعراء تو تین زبانوں کا استعمال حضرت امیر خسرو، ڈاکٹر اقبال کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے اردو فارسی عربی ہندی کے کچھ الفاظ ضرور لاتے ہیں مگر مستقل طور پر کوئی غزل جس میں عربی اردو، فارسی ہندی کا استعمال کیا ہو دیکھنے کو نہیں ملتی مگر امامِ سخن نے مستقل طور پر چار زبانیں استعمال کیں، جزوی طور پر چھ رجسٹرڈ زبانیں پانچ ہیں عربی، فارسی، اردو، ہندی، سنسکرت رجسٹرڈ ہیں بھوجپوری بولی جانے والی زبان ہے بقیہ پانچوں لکھنے پڑھنے والی زبانیں ہیں اور جس خوبصورتی سے ایک ہی مصرع میں قافیہ بندی کے تحت عربی فارسی اور مصرع ثانی میں اردو، ہندی، سنسکرت، بھوجپوری کا استعمال رعایتِ سجع کے طور پر کیا ہے دیکھتے ہی بنتا ہے ملاحظہ ہو ایک الگ انداز میں۔

پہلے حضرت امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ کی یہ ہندی و فارسی زبان کے سنگم والی غزل ملاحظہ ہو:

زِحَالِ مِسْکِیں مَکُنْ تَغَافُلْ دُوْرَائے نَینَاں بَنَائے بَتِیاں
کِہ تَابِ ہِجْرَاں نَدَارَمْ اَے جَاں نَہ لِیو کَاہِے لَگَائے چھَتِیاں

شَبَانِ ہِجْرَاں دِرَاز چُوں زُلْف وَ رُوْزِ وَصْلَتْ چُوں عُمْرِ کُوْتَاہ
سَکِھی پِیَا کُوْ جُوْ مَیں نَہ دِیکھُوں تُوْ کَیسے کَاٹُوں اَنْدھِیرِی رَتِیاں

بِحَقِّ رُوْزِ وِصَالِ دِلْبَر کِہ دَادْ مَارَا غَرِیب خُسْرُوْ
سَپِیت مَنْ کے وَرَائے رَاکھُوں جُوْ جَائے پَاؤں پِیَا کِی کھَتِیاں

کلامِ امامِ سخن:

لَمْ یَأْتِ نَظِیرُکَ فِی نَظَرٍ مِثْل تو نَہ شُدْ پَیدَا جَانَا
جَگ رَاج کُوْ تَاج تُوْرے سَر سُوْہے تُجْھ کُوْ شَہِ دُوْسَرَا جَانَا

اب سجع ملاحظہ ہو:

اَلْبَحْرُ عَلَی وَالْمَوْجُ طَغَی مَنْ بے کَس طُوْفَاں ہوشْرَبَا
مَنْجْدھَار میں ہُوں بِگْڑی ہے ہَوَامُوْرِی نَیَا پَار لَگَا جَانَا

یَا شَمْسُ نَظَرْتِ لَیْلِی چُوْ بِطَیْبَةَ رِسِی عَرْضِی بِکُنِی
تُوْرِی جُوْت کِی جُھلْ جُھل جَگ میں رَچِی مَرِی شَب نے نَہ دِن ہُوْنَا جَانَا

لَکَ بَدْرٌ فِی الْوَجْہِ الْاَجْمَل خَطْ ہَالَہ مَہ زُلْف اَبْرَا جَل
تُوْرے چَنْدَن چَنْدَر پَرْو کُنْڈَل رَحْمَت کِی بَھرَنْ بَرْسَا جَانَا

اَنَا فِی عَطَشٍ وَسَخَاکَ اَتَمْ اَے گِیسُوْئے پَاک اَے اَبْرِ کَرَمْ
بَرْسَن ہَارے رَمْ جُھم رَمْ جُھم دُوْ بُونْد اِدھَر بھی گِرَا جَانَا

یَا قَافِلَتِی زِیدِی اَجَلَکْ رَحْمے بَرْ حَسْرَتِ تَشْنَہ لَبَکْ
مُوْرَا جِیرَا لَرْجے دَرَک دَرَک طَیْبَہ سے اَبھی نَہ سُنَا جَانَا

وَاہًا لِسُوِیْعَاتٍ ذَہَبَتْ آں عَہْدِ حُضُوْرِ بَارْگَہِتْ
جَب یَادْ آوَت مُوہے کَرنے پَرَت دَرْدَادُوْ مَدِینَہ کَا جَانَا

اَلْقَلْبُ شَجٍ وَالْہَمُّ شُجُوْن دِلْ زَارْ چُنَاں جَاں زِیرِ چُنُوں
پَت اَپْنِی بِپَت میں کَاسے کَہُوں مُوْرَا کَوْن ہے تِیرے سِوَا جَانَا

اَلرُّوْحُ فِدَاکَ فَزِدْ حَرْقًا یَکْ شُعْلَہ دِگَرْ بَرْزَنْ عِشْقَا
مُوْرَا تَنْ مَنْ دَھن سَب پُھونْک دِیَا یِہ جَاں بھی پِیَارے جَلَا جَانَا

بَس خَامَۂ خَام نَوَائے رِضَا نَہ یِہ طَرْز مِیرِی نَہ یِہ ڈھَنْگ مِرَا
اِرْشَادِ اَحِبَّا نَاطِقْ تھا نَاچَار اِس رَاہ پَڑا جَانَا

ذرا غور فرمائیں! جو حرف عربی جملہ عربی کے احتشام پر آ رہا ہے وہی حرف جملہ فارسی و ہندی اور سنسکرت کے اخیر میں بھی آ رہا ہے یہ کمال کہیں اور نہ ملے گا اسی لیے تو کسی شاعر نے کہا ہے:

اعلیٰ حضرت ہے اعلیٰ مقام آپ کا
اس لیے اعلیٰ حضرت ہے نام آپ کا

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!