| عنوان: | امام احمد رضا اور ترجمہ قرآن (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ ڈاکٹر غلام زرقانی قادری |
| پیش کش: | مصباح صدف |
| منجانب: | مدرسۃ الفاطمہ قادریہ للبنات گلبرگہ شریف |
ابتدائیہ
امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا ترجمہ قرآن بنام “کنز الایمان” دنیائے اسلام میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ گو کہ یہ اردو زبان میں ہے مگر افادیت کے لحاظ سے بڑی بڑی ضخیم عربی تفاسیر پر بھاری ہے۔ عام طور پر “کنز الایمان” کے الفاظ و بیان کو ہی وقیع سمجھا جاتا ہے مگر میری نگاہ میں الفاظ کی نشست و برخاست، حسنِ بیان کی دلکشی اور مفہوم کی جامعیت سے بھی کہیں زیادہ جو چیز قیمتی ہے وہ ہے ظاہری الفاظ کے پردے میں یکتائے روزگار فکر، جسے بارگاہِ ایزدی میں سجدہ ریز ہونے کا سلیقہ بھی آتا ہے اور شانِ رسالت کی تقدس مآب وادی میں پلکوں کے سہارے ہولے ہولے قدم بڑھانے کا ڈھنگ بھی، آیاتِ قرآنیہ کو اس جیسی دیگر آیتوں کے ساتھ ارتباط کے ذریعہ مفاہیم کے بیان پر قدرت بھی، اور حالات کے تقاضوں کے مطابق سرمایۂ احادیث سے گلہائے سخن چننے کا کمالِ ہنر بھی۔ جسے قرآنی تراکیب کی تشریح کے لیے اجلہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی چوکھٹ پر سر جھکائے دست بستہ کھڑے رہنے کا شرف بھی حاصل ہے اور اسلاف کی متوارث کوششوں کے ذریعہ ہزاروں صفحات میں پھیلی ہوئی تفاسیر سے کمال واقفیت کا موقع بھی۔ جسے لغات، ادب، بیان، معانی، بلاغت، فقہ واصولِ فقہ، تاریخ و سیرت، ناسخ و منسوخ اور سینکڑوں علوم و معارف پر دسترس بھی رہا، افکار کو نپے تلے الفاظ میں صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنے کا وحی اسلوب تو وہ اس پر مستزاد ہے۔
میری اس تمہید کا حاصل یہ ہے کہ آنے والے دور میں جب بھی کوئی ادب و احترام، فہم و فراست اور گہرائی و گیرائی کے ساتھ قرآن کریم کا ترجمہ کرے گا تو بہت ممکن ہے کہ پیراہنِ الفاظ بظاہر بدلے ہوئے ہوں لیکن افکارِ رضا کے روزن سے آتی ہوئی خوشبوؤں کی لپٹ ہر ہر سطر سے اٹھتی ہوئی محسوس ہوگی۔ اس مقام پر پہنچ کر ایک انصاف پسند قاری خود کو یہ کہتے ہوئے نہیں روک سکتا کہ قرآن کریم کا ترجمہ خواہ دنیا کی کسی زبان میں ہو، اگر وہ قرآن کریم کے واقعی مدلولات کا آئینہ دار ہے تو وہ بہرحال “کنز الایمان” ہے۔
قرآن کی ترجمہ نگاری کی تاریخ
میرے خیال میں کسی دوسری زبان میں ترجمہ قرآن کی منتقلی کے حوالے سے تاریخی حقائق و معلومات تلاش کرنے والے کچھ بھی کر لیں اور جہاں کہیں سے بھی جائیں ابتدائی تاریخ متعین کر لیں۔ لیکن یہ حقیقت تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ قرآن کریم کی تشریح و تفسیر کی شروعات اسی وقت ہوگئی تھی، جب کہ پہلی وحی سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ اور یہ بات کہنے کی نہیں کہ تشریح و تفسیر بھی ایک پہلو سے ترجمہ ہی کے زمرے کی چیز ہے۔ اس لیے عقلی رہنمائی کے سہارے یہ کہنا عین حقیقت ہے کہ ترجمہ قرآن کی ابتدا بھی قرآن کریم کے ساتھ ہوتی ہے۔
تاہم، امام سرخسی علیہ الرحمہ کی رائے کے مطابق حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے سورہ فاتحہ کا ترجمہ فارسی میں کیا۔ اس طرح آپ کہہ سکتے ہیں کہ ترجمہ قرآن کی ابتدا ایک جلیل القدر صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ [مناهل العرفان في علوم القرآن، شیخ عبد العظیم زرقانی، ص: 5، دار الاحیاء الكتب العربية، مصر]
حقیقت قرینِ قیاس ہے کہ جب تک دینِ اسلام خطۂ عرب میں رہا، اس وقت تک حلقۂ اسلام میں داخل ہونے والوں کی مادری زبان عربی تھی، اس لیے قرآن کریم تشریح و تفسیر تک محدود رہا، تاہم جوں ہی غیر عرب دامنِ اسلام سے وابستہ ہوئے فطری طور پر قرآن فہمی کے لیے ان کی مادری زبان میں ترجمہ و تشریح کی ضرورت لازمی محسوس کی گئی ہوگی۔ اور تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ غیر عرب ملکوں میں ایران نے سب سے پہلے تو اسلام سے مستفیض ہونے کی سعادت حاصل کی۔ یوں سلطان ابو صالح منصور بن نصر احمد بن اسماعیل نے اپنے عہدِ حکومت میں امام ابن جریر طبری کی تفسیر “جامع البیان فی تفسیر القرآن” کے فارسی ترجمہ کے ذیل میں قرآن کریم کا بھی ترجمہ فارسی میں کروا لیا۔ یہ ترجمہ خالص لفظی تھا اور عربی الفاظ کے تحت مفہوم لکھ دیا گیا تھا۔ یہی ترجمہ آنے والے دور میں قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم کے لیے سنگ میل کی حیثیت اختیار کر گیا۔ [تاریخ ادبیات در ایران، ڈاکٹر ذبیح اللہ صفا، ج: 1، ص: 423، تهران]
برصغیر پاک و ہند میں قرآن کریم کا سب سے پہلا ترجمہ عراقی النسل عالمِ دین شیخ عبد اللہ بن عمر نے سندھی زبان میں کیا۔ اس ترجمہ کا کوئی نسخہ اب موجود نہیں ہے لیکن بہر کیف برصغیر پاک و ہند میں ترجمہ قرآن کرنے والوں کی صف میں انہیں اولیت کا درجہ حاصل ہے اور رہے گا۔ [فتوح الہند والسند، ابوالحسن مدائنی، ص: 98، حیدر آباد سندھ]
قرآن کریم کے فارسی ترجمہ کے آغاز کی تاریخ ساتویں صدی ہجری سے جوڑی جاتی ہے اور شیخ سعدی کے ترجمہ قرآن کو فارسی زبان میں پہلا ترجمہ قرآن قرار دیا جاتا ہے، تاہم مؤرخین نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ علاوہ ازیں شیر شاہ سوری کے استاد ملک العلماء شہاب الدین بن شمس الدین کے ترجمہ قرآن کا سراغ بھی ملتا ہے، جو انہوں نے اپنی تفسیر “بحر مواج” کے ذیل میں کی ہے۔ اسی طرح فارسی زبان میں قرآن کریم کے بعض اجزاء کے ترجمہ و تفسیر کے تذکرے بھی کیے جاتے ہیں۔ [دیکھیے: کنز الایمان اور معروف تراجم قرآن، ڈاکٹر مجید اللہ قادری، ادارہ تحقیقات امام احمد رضا، پاکستان، ص: 70]
فارسی زبان میں متذکرہ بالا تراجمِ قرآن حقیقت میں تفسیر و تشریح کے ساتھ ساتھ تھے، یہی وجہ ہے کہ بابائے اردو مولوی عبد الحق نے برصغیر پاک و ہند میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے ترجمہ قرآن “فتح الرحمن” کو فارسی زبان میں قرآن کریم کا سب سے پہلا ترجمہ قرار دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام فارسی تراجم قرآن کے درمیان “فتح الرحمن” کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ [دیکھیے: تذکرہ علمائے ہند، مولوی رحمن علی و ترجمہ ڈاکٹر ایوب قادری، ص: 542، پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کراچی]
یہ اور بات ہے کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے ترجمہ قرآن کی شروع میں بہت زبردست مخالفت ہوئی۔ علمائے اسلام کی رائے یہ تھی کہ قرآن کریم کے ساتھ ساتھ اس کے ترجمہ کی اشاعت بے ادبی کے مترادف ہے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ یہ مخالفت اس قدر شدید ہوگئی کہ شاہ صاحب کو اپنی جان بچانے کے لیے دہلی چھوڑ دینا پڑا۔ تاہم بعد میں علمائے کرام نے جب یہ محسوس کیا کہ اب ہندوستان سے عربی زبان رخصت ہورہی ہے اور لوگ عربی کی جگہ فارسی زبان پڑھنے پر توجہ دے رہے ہیں، تو انہیں احساس ہوا کہ عام لوگوں کو پیغامِ قرآن سے آشنا کرنے کے لیے فارسی زبان میں ترجمہ قرآن نہایت ہی اہم پیش رفت ہے۔ اس کے بعد برصغیر میں ترجمہ قرآن کی پذیرائی کا دروازہ پوری طرح کھل گیا اور ایک کے بعد ایک ترجمے سامنے آتے گئے۔ [رود کوثر، شیخ محمد اکرام، ص: 520، فیروز سنز کراچی]
ایک عرصہ تک قدیم ہندوستان میں فارسی کا دور دورہ رہا حتیٰ کہ عام بول چال کے ساتھ ساتھ دفتر کی زبان بھی فارسی رہی، تاہم ایک وقت وہ بھی آیا، جب اردو نے فارسی کی جگہ لے لی اور بہت بڑے خطے میں اردو زبان کو پذیرائی حاصل ہونے لگی۔ رفتہ رفتہ لوگوں کی عام بول چال کی زبان اردو ہو گئی۔ اس طرح ایک بار پھر علمائے کرام نے محسوس کیا کہ اب قرآن کریم کا ترجمہ بھی اردو زبان میں ہونا چاہیے، تاکہ عربی اور فارسی سے ناواقف لوگ بھی مفہومِ قرآنی سے قریب ہوں۔
یہ عجیب اتفاق ہے کہ برصغیر میں قرآن کریم کے اولین قاری ترجمہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا شرف جس خانوادے کو حاصل ہوا اس کے ایک فرد جلیل شاہ محمد رفیع الدین دہلوی کو قرآن کریم کا اردو ترجمہ کرنے کی سعادت ملی۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ باپ نے برصغیر میں قرآن کریم کا پہلا فارسی ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کی اور بیٹے نے سب سے پہلے اردو ترجمہ قرآن سے اہلِ علم کو شادکام کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ [دیکھیے: دائرۃ المعارف اسلامی، ج: 10، ص: 318، 1973ء، دانش گاہ پنجاب لاہور]
شاہ محمد رفیع الدین دہلوی کا ترجمہ قرآن لفظی تھا، جس سے عام لوگوں کو فہمِ قرآن سے کما حقہ آشنائی نہیں ہو پاتی تھی۔ غالباً یہی وجہ رہی ہوگی کہ جلد ہی ان کے چھوٹے بھائی شاہ عبد القادر دہلوی نے “موضح القرآن” کے نام سے ایک بامحاورہ اردو ترجمہ اہلِ علم کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس ترجمہ میں پیغامِ قرآن کی تفہیم کے لیے روز مرہ استعمال میں آنے والے الفاظ اور تراکیب کا استعمال کیا گیا۔ جس سے عام لوگ بہت محظوظ ہوئے۔ [دیکھیے: تاریخ ادب، ڈاکٹر جمیل جالبی، ج: 2، ص: 1054]
تعارفِ کنز الایمان
عینی شاہدین تواتر سے بیان کرتے ہیں کہ امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ استعفتا کے جوابات نہایت ہی دلائل و براہین اور تدبر و تفکر کے آئینے میں دیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شرعی مسائل کے حل کے لیے ساری دنیا سے لوگ آپ سے رابطہ کرتے تھے۔ اس طرح مصروفیات حد سے زیادہ رہتی تھیں۔ تاہم ایک شب حضرت صدر الشریعہ علامہ امجد علی رحمۃ اللہ علیہ نے امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ سے مودبانہ عرض کیا کہ عصرِ حاضر میں قرآن کریم کے بہت سارے اردو تراجم طبع ہو چکے ہیں اور ان میں کثرت سے عقیدہ و عمل اور ادب و احترام سے متصادم عبارتیں در آئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے والے لوگ قرآن فہمی کے لیے بازار میں اردو ترجمے پر ہی انحصار کریں گے۔ اس طرح انہیں جگہ جگہ قرآن کریم سے بجائے ہدایت یافتہ ہونے کے بعض مقامات پر غیر مناسب عبارتوں میں ترجمہ کرنے کی وجہ سے ضلالت و گمراہی میں پڑ سکتے ہیں۔
فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ نے بھی اس ضرورت کا احساس تو کیا، لیکن وقت میں عدم گنجائش کا شکوہ کرتے ہوئے فرمایا: “چونکہ ترجمہ کے لیے میرے پاس مستقل وقت نہیں ہے۔ اس لیے آپ رات میں سونے کے وقت یا دن میں قیلولہ کے وقت آجایا کریں۔” [سوانح امام احمد رضا، علامہ بدر الدین قادری رضوی، ص: 374، مکتبہ نوریہ 1987ء]
اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ بازار میں موجود دوسرے تراجم قرآن بھی منگوا لیے جائیں تاکہ اس ضمن میں ان کی اغلاط پر تنبیہات بھی کر دی جائیں۔ [دیکھیے: تذکرہ اعلیٰ حضرت بزبان صدر الشریعہ، مولانا محمد عطاء الرحمن قادری، ص: 42]
صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے حکم کے مطابق چند تراجم حاصل کر لیے اور وہ ساعتِ محمود بھی آئی کہ جب ترجمہ قرآن کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔ اس کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر الشریعہ علیہ الرحمہ بیان کرتے ہیں:
“چند روز تک یہ طریقہ رہا کہ آیت پڑھی جاتی اور اعلیٰ حضرت اس کا ترجمہ لکھواتے۔ اس کے بعد حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ، شاہ ولی اللہ صاحب، شاہ عبد القادر صاحب، شاہ رفیع الدین صاحب، ڈپٹی نظیر احمد، مرزا حیرت دہلوی اور مولوی اشرف علی تھانوی وغیرہم کے ترجمے سنائے جاتے۔ ان تراجم میں جہاں کہیں غلطیاں ہوتیں، ان پر تنبیہ فرماتے۔ چند روز کے بعد محسوس ہوا کہ اس طرح کرنے میں وقت زیادہ صرف ہوتا ہے اور کام کم ہوتا ہے اور مترجمین کے اغلاط پر تنبیہات تو ایک جدا گانہ کام ہے۔ اس ترجمہ کے بعد اگر موقع ملا تو اس طرف توجہ کی جائے گی، لہٰذا ان تراجم کا سنانا موقوف کر دیا گیا۔ حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ کا ترجمہ فارسی میں اور شاہ عبد القادر صاحب کا اردو میں، یہ دو ترجمے سنائے جاتے رہے اور اس کا سلسلہ اخیر تک جاری رہا۔” [نفس مصدر، ص: 43]
یہ قیمتی ترجمہ قرآن کس طرح ظہور پذیر ہوا، اس کی قدرے تفصیلات بتاتے ہوئے صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
“ترجمہ کا املا کرنے اور اس کے تحریر کرنے کی نوعیت یہ ہوتی کہ پہلے میں پوری آیت پڑھتا گرچہ وہ کتنی ہی بڑی ہوتی۔ اس کے بعد اعلیٰ حضرت ترجمے کا املا فرماتے۔ بعض مرتبہ مسلسل دو تین سطر کی عبارت ایک ساتھ بلا توقف بول دیا کرتے مگر بفضلہ تعالیٰ اس کے قلمبند کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی تھی، نہ کوئی لفظ کم و بیش ہونے پاتا تھا۔” [معارف رضا، شمارہ: 2009ء، ص: 180]
خیال رہے کہ بعض علمائے کرام نے یہ لکھا ہے کہ ترجمہ قرآن کے وقت امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے سامنے کوئی دوسرا ترجمہ قرآن نہ تھا اور وہ آیات کریمہ سن کر فی البدیہہ ترجمہ کرواتے جاتے تھے۔ پروفیسر مجید اللہ قادری اپنے مقالے میں رقمطراز ہیں:
“امام احمد رضا نے قرآن مجید کا ترجمہ املا کروانا شروع کیا۔ اس دوران کوئی تیسرا آدمی نہ ہوتا۔ مولانا امجد علی آیت تلاوت کرتے جاتے اور امام احمد رضا فی البدیہہ ترجمہ لکھواتے جاتے اور دورانِ ترجمہ کسی آیت کے لیے بھی نہ لغت کی ضرورت پیش آئی نہ کسی تفسیر کو دیکھا، نہ کسی اور ترجمہ قرآن کو سامنے رکھا۔” [معارف رضا سالنامہ: 2009ء، ص: 116]
آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ متذکرہ بالا دونوں اطلاعات بظاہر متصادم دکھائی دے رہی ہیں۔ میرے خیال میں یہ غلط فہمی اس لیے ہوئی ہے کہ بعض لوگوں کی نگاہوں سے صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے بیان کا ابتدائی حصہ اوجھل رہا، یا انہوں نے صرف آخری حصہ پر توجہ دی، جس میں صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ وہ آیت پڑھتے جاتے تھے اور اعلیٰ حضرت ترجمے املا کراتے جاتے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ عبارت صاف ظاہر کر رہی ہے کہ دورانِ ترجمہ کوئی دوسرا ترجمہ نہ تھا، جب کہ بیان کے ابتدائی حصہ سے وضاحت ہورہی ہے کہ شروع میں کئی تراجمِ قرآن سامنے رہے، لیکن بعد میں صرف شیخ سعدی اور شاہ عبد القادر کے تراجم سنائے جاتے رہے۔
بہر کیف، “کنز الایمان” کے املا کرانے کے دوران دوسرے تراجم رہے ہوں یا نہ رہے ہوں، امام احمد رضا فاضل بریلوی کی علمی عبقریت و عظمت اور پچاسوں اردو تراجمِ قرآن کے درمیان “کنز الایمان” کی امتیازی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ اس طرح کہ اردو تراجمِ قرآن سامنے رہے بھی تو اس لیے کہ ان کے اندر خامیاں نگاہوں کے سامنے رہیں، نہ یہ کہ ان کی مدد سے ترجمہ کیا جائے۔ ویسے بھی ایک مرتبہ کسی آیت کا ترجمہ پڑھنے کے بعد نہیں، بلکہ صرف سن لینے سے وہ بھی قرآن کریم جیسی کتابِ عظیم کے ترجمہ کرتے وقت کوئی خاص مدد ملنے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ نیز یہ بھی خیال رہے کہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی صراحت خود اعلان کررہی ہے کہ جسے عربی زبان اور قرآن کریم کے مفاہیم و مطالب بیان کرنے پر اس قدر قدرت ہو، اسے معاصرین کے تراجم سے مدد لینے کی حاجت ہی کیا ہے؟
تکمیل و طباعت
“کنز الایمان” کی تکمیل کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے علامہ عبد المبین نعمانی مد ظلہ العالی لکھتے ہیں: ترجمہ کنز الایمان کی تحریر کا آغاز جمادی الاخر 1330ھ میں ہوا اور اختتام ۲۸ جمادی الآخر 1331ھ میں لیکن کام مسلسل نہیں ہوا ہے۔ بعض صفحات مسودے کے درمیان غائب بھی ہیں، جن کی تاریخیں معلوم کرنی مشکل ہیں۔ البتہ اس بات کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ یہ نادر و نایاب اور مہتم بالشان ترجمہ قرآن موسوم بہ “کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن” سال کے چند مہینوں میں مکمل ہوا، پورے ایک سال بھی صرف نہ ہوئے۔ [صدر الشریعہ نمبر، اکتوبر، نومبر 1995ء، ص: 212]
“کنز الایمان” کی طباعت کے حوالے سے علامہ مفتی محمد عمر نعیمی صاحب لکھتے ہیں کہ صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین صاحب مرادآبادی 1367ھ / 1948ء کنز الایمان کا مسودہ بغرضِ طباعت مراد آباد لے گئے۔ تاہم کتابت منشی ارشاد علی نے کی اور پہلی طباعت مفتی محمد عمر صاحب نعیمی نے کرائی۔ دوسری اشاعت صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی کے تفسیری حواشی “خزائن العرفان” کے ساتھ اہلِ سنت برقی پریس مرادآباد میں ہوئی۔ [دیکھیے: جہان رضا، لاہور، شمارہ: ستمبر، اکتوبر 1999ء]
میں نے عرض کیا تھا کہ ابتداء میں دوسرے تراجمِ قرآن پر تنبیہات بھی لکھی جاتی تھیں، تاہم جب یہ محسوس ہوا کہ اس طرح وقت بہت لگ جائے گا، تو اسے ملتوی کر دیا گیا۔ جب ترجمہ قرآن کی تکمیل ہوگئی تو صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے ایک بار پھر اصرار کیا۔ آپ خود فرماتے ہیں:
“ترجمہ کے بعد میں نے چاہا تھا کہ اعلیٰ حضرت قبلہ اس پر نظرِ ثانی فرمائیں اور جابجا فوائد تحریر کر دیں، چنانچہ بہت اصرار کے بعد یہ کام شروع کیا گیا۔ دو تین روز تک کچھ لکھا، مگر جس انداز سے لکھوانا شروع کیا، اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ قرآن پاک کی بہت بڑی تفسیر ہوگئی، کم از کم دس بارہ جلدوں میں پوری ہوگی۔ اس وقت خیال پیدا ہوا کہ اتنی مبسوط تحریر کی کیا حاجت، ہر صفحہ پر کچھ تھوڑی تھوڑی باتیں ہونی چاہئیں، جو حاشیہ پر درج کر دی جائیں لہٰذا یہ تحریر جو ہورہی تھی، بند کر دی گئی اور دوسری کی نوبت نہ آئی۔” [حیات صدر الشریعہ، بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی، ص: 44]
بہر کیف، “کنز الایمان” سے پہلے اور اس کے بعد یکے بعد دیگرے اردو زبان میں کئی تراجمِ قرآن نگاہوں کے سامنے آئے، تاہم جو مقبولیت اور شہرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے ترجمہ قرآن بنام “کنز الایمان” کو حاصل ہوئی، وہ کسی کے حصے میں نہ آئی۔ خیال رہے کہ یہ شہرت و مقبولیت کسی جاہ و منصب، دولت و ثروت اور خاندانی حسب و نسب کی بنیاد پر نہیں ملی، بلکہ پیغامِ قرآن سے قریب تر مفہوم و مطالب کی وضاحت کے لیے یکتائے روزگار اسلوب کو اپنانے کی وجہ سے ہر طبقے کے افراد نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ یہ اطلاع مقامِ حیرت و استعجاب نہیں کہ ہند و پاک میں پچاسوں طباعت و نشر کے ادارے برسوں سے بڑی تعداد میں کنز الایمان چھاپ رہے ہیں تاہم اب بھی ایسا نہیں ہے کہ ایک ایڈیشن کسی ادارے کے پاس بہت دنوں تک ٹھہر جائے۔
ذہن میں یہ خیال نہ آجائے کہ میں عقیدت و محبت کے زیرِ اثر کنز الایمان کی بے جا تعریف و توصیف کر رہا ہوں، بلکہ سچی بات یہ ہے کہ وہی عرض کر رہا ہوں، جو عین حقیقت ہے اور آئینۂ صداقت ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی بھی جھجک نہیں کہ اگر آپ نے بھی غیر جانبداری کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا، تو الفاظ و تعبیرات تو بہت ممکن ہیں مختلف ہو جائیں، تاہم دوپہر کی دھوپ کی طرح یقینِ کامل ہے کہ مرکزی خیالات، میری متذکرہ رائے سے بالکل مختلف نہ ہوں گے۔
اب آئیے میری رفاقت میں کنز الایمان اٹھائیے اور چند ذیلی عنوانات کے تحت بعض معروضات سماعت کر لیجیے، تاکہ مطالعۂ کنز الایمان کرتے ہوئے ایک گونہ سہولت ہو جائے۔
عقیدہ و ایمان
اس میں دو رائے نہیں کہ نزولِ قرآن کریم کا اولین مقصد اصلاحِ عقیدہ و ایمان ہے۔ اس کے سہارے تمام تر اعمالِ صالحہ کی پرکشش اور پائیدار عمارت تعمیر کی جاتی ہے۔ لہٰذا جس طرح ایک عمارت کی تعمیر کے لیے مضبوط اور پائیدار بنیاد نہایت ہی ضروری ہے، ٹھیک اسی طرح جب تک عقیدہ و ایمان بغیر کسی حک و اضافہ کے مصطفےٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کے آئینہ میں نہ ہوں، اس وقت تک اعمالِ حسنہ اور معمولاتِ جمیلہ کی مضبوط عمارت کھڑی نہیں کی جا سکتی۔
یہاں خیال رہے کہ قرآن کریم کی زبان نہایت ہی معیاری ہے اور اعلیٰ فصاحت و بلاغت پر مشتمل ہے۔ اس لیے زید آیا اور عمر گیا جیسے عام لب و لہجے میں قرآن کریم کی عبارت نہیں ہے، بلکہ یہاں استعارات، کنایات، تلمیحات اور خوبصورت تراکیب و پرکشش تعبیرات جا بجا دکھائی دیتی ہیں۔ ایسی صورت میں مزاجِ قرآن سے پوری واقفیت ضروری ہے، تاکہ مفہومِ قرآن بھی واضح ہو جائے اور پیغامِ قرآن کا ادراک بھی آفتابِ نیم روز کی طرح روشن و تابناک ہو جائے۔ اس پس منظر میں دو چار مثالیں نگاہوں کے سامنے رکھیے، تاکہ یہ آشکار ہو جائے کہ فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ نے ترجمہ قرآن کرتے ہوئے عقیدہ و ایمان کے حوالے سے شرعی معیارات کی پاسداری کس طرح کی ہے۔
اس پس منظر میں یہ آیت کریمہ دیکھیے:
﴿وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ﴾ [سورۃ البقرة: 143]
مولوی اشرف علی تھانوی نے ترجمہ کرتے ہوئے لکھا: “اور جس سمت قبلہ پر آپ رہ چکے ہیں، وہ تو محض اس کے لیے تھا کہ ہم کو معلوم ہو جاوے” [تفسیر بیان القرآن، مولوی اشرف علی تھانوی، ص: 42، ادارہ تالیفات اشرفیہ لاہور]
مولوی شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: “اور وہ قبلہ جو ہم نے ٹھہرایا جس پر تو تھا نہیں مگر اس واسطے کہ معلوم کریں” [قرآن مع ترجمہ، شاہ عبد القادر دہلوی، ص: 17، تاج کمپنی لاہور]
مولوی محمود الحسن لکھتے ہیں: “نہیں مقرر کیا تھا ہم نے وہ قبلہ جس پر تو پہلے تھا مگر اس واسطے کہ معلوم کریں” [تفسیر عثمانی، مولوی محمود الحسن دیوبندی، ص: 27، مجمع الملک فہد سعودی عرب]
ہجرتِ مدینہ منورہ کے بعد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ بعد میں متذکرہ آیت اتری اور قبلۂ نماز بیت المقدس سے تبدیل کر کے خانۂ کعبہ کو بنادیا گیا۔ اس کے پیچھے کیا حکمت تھی، اسی حوالے سے متذکرہ بالا آیت میں گفتگو ہورہی ہے کہ یہ تبدیلیِ قبلہ اس لیے تھا کہ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کے درمیان امتیاز ہو جائے۔
اب ذرا مرقوم شدہ تراجم پر نگاہ ڈالیے۔ یہاں سب نے خدائے علیم و خبیر کے لیے ایسے کلمات استعمال کیے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کے عدم علم کی بو آتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ ان سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرنے والے اور نہ کرنے والے اللہ رب العزت کے علم میں نہ تھے اسی لیے تبدیلیِ قبلہ کا حکم دیا۔ ظاہر ہے کہ اللہ رب العزت کے حوالے سے یہ عقیدہ صریح کفر ہے اور خلافِ واقعہ بھی ہے۔
فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ متذکرہ آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “اور اے محبوب تم پہلے جس قبلہ پر تھے۔ ہم نے وہ اسی لیے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں” [کنز الایمان، امام احمد رضا فاضل بریلوی، ص: 33، فرید بک ڈپو، دہلی]
ملاحظہ فرما رہے ہیں آپ، کس خوبصورتی سے مفہوم کی وضاحت کی جارہی ہے۔ یہاں علمِ الٰہی کی نفی نہیں کی جارہی ہے، بلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ اطاعت کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کو ہم دیکھ لیں۔ ظاہر ہے کہ دیکھنے کی نوبت اسی وقت آئے گی، جب کوئی چیز وقوع پذیر ہو جائے، جب کہ علم و اطلاع کسی چیز کے وقوع ہونے سے پہلے بھی ہو سکتا ہے، اور وہ بلا شبہ اللہ رب العزت کو حاصل ہے۔
سورہ نساء کی یہ آیت کریمہ دیکھیے:
﴿إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللهِ﴾ [سورۃ النساء: 17]
شاہ رفیع الدین ترجمہ کرتے ہیں: “توبہ جس کا قبول کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے” [بیان القرآن، ج: 2، ص: 603]
مولوی ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں: “اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق ہے” [تفہیم القرآن، ابوالاعلیٰ مودودی، ج: 2، ص: 102، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور]
مولوی محمود الحسن لکھتے ہیں: “توبہ قبول کرنے اللہ کو ضرور” [تفسیر عثمانی، ص: 103]
متذکرہ بالا ترجمے میں اللہ رب العزت کے حوالے سے ایسی تعبیرات استعمال کی جارہی ہیں، جن سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت پر کسی کی توبہ قبول کرنی لازم ہے، جب کہ عقیدۂ اسلامی کی رو سے اللہ تعالیٰ سارے جہانوں کا خالق بھی ہے اور مالکِ مطلق بھی، لہٰذا اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے، وہ جو چاہے کرے۔ جسے چاہے نوازے اور جسے چاہے عذاب چکھائے۔
اب ذرا فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے پاکیزہ قلم کے جلوے ملاحظہ فرمائیے: “وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا” [کنز الایمان، ص: 117]
یہ آیت کریمہ اور دیکھ لیجیے:
﴿نَسُوا اللهَ فَنَسِيَهُمْ﴾ [سورۃ التوبة: 67]
شاہ رفیع الدین ترجمہ کرتے ہیں: “بھول گئے خدا کو پس بھول گیا ان کو اللہ” [قرآن کریم، شاہ رفیع الدین دہلوی، ص: 235]
مولوی محمود الحسن لکھتے ہیں: “بھول گئے اللہ کو سو وہ بھی بھول گیا ان کو” [تفسیر عثمانی، ص: 261]
توجہ فرمائیے کہ نسیان کی نسبت اللہ رب العزت کی طرف کی جارہی ہے۔ یہ بات کہنے کی نہیں کہ ثابت شدہ عقیدۂ اسلام کے مطابق اللہ رب العزت ساری کمزوریوں سے پاک ہے۔ اس کے حوالے سے بھول چوک کا تصور ہی محال ہے۔ یہاں پہنچ کر یہ کہنے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا کہ بہت سارے اردو مترجمین نے ایسے کلمات استعمال کر ڈالے ہیں، جن سے عقیدۂ اسلامی کی بنیاد متزلزل ہو جاتی ہے۔ اور جب عقیدہ ہی سلامت نہ رہے، تو دینِ اسلام کیونکر سلامت رہ سکتا ہے۔ ہوش کے ناخن لیجیے کہ یہ لوگ اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے ترجمہ قرآن کی طرف متوجہ ہوئے، تاہم ان کی ناعاقبت اندیش فکر و نظر اور احمقانہ تصور و خیال نے بجائے نشر و اشاعت کے، اسے تباہ و بربادی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔
اب ذرا فاضل بریلوی کے زر نگار قلم سے نکلے ہوئے کلمات پر توجہ ڈالیے: “وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ نے بھی انہیں چھوڑ دیا” [کنز الایمان، ص: 285]
(جاری......)
