Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور ہندی زبان و ادب (قسط: دوم)|مولانا محمد زاہد علی مرکزی

امام احمد رضا اور ہندی زبان و ادب (قسط: دوم)
عنوان: امام احمد رضا اور ہندی زبان و ادب (قسط: دوم)
تحریر: مولانا محمد زاہد علی مرکزی
پیش کش: زہرہ یاسمین
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

غالب کی ایک اور مشہور غزل کا مطلع دیکھیں اور پھر اسی ردیف و قافیہ پر امامِ عشق و محبت کا کلام بھی ملاحظہ فرمائیں:

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے

جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکے تو وہ لہو کیا ہے

ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

امام احمد رضا علیہ الرحمہ:

کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
ہر طرف دیدۂ حیرت زدہ تکتا کیا ہے

مانگ من مانتی منہ مانگی مرادیں لے گا
نہ یہاں ’نا‘ ہے نہ منگتا سے یہ کہنا کیا ہے

صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب
نجد بے پوچھنے لجائے کو لجانا کیا ہے

اعلیٰ حضرت نے اس ردیف و قافیہ پر 26 اشعار کہے ہیں۔

غالب کی ایک غزل کا مطلع اور ملاحظہ فرمائیں۔ اور ملکِ سخن کے بادشاہ کا اس پر ردیف و بحر کا بہترین امتزاج ملاحظہ فرمائیں:

غالبؔ پے نذرِ کرم تحفہ ہے شرمِ نا رسائی کا
بہ خوں غلطیدہ صد رنگ دعوائے پارسائی کا

وہی ایک بات ہے جو یاں نفس واں نکہتِ گل ہے
چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا

دہانِ ہر بت پغارہ جو زنجیرِ رسوائی
عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا

نہ دے نامے کو اتنا طول غالبؔ مختصر لکھ دے
کہ حسرت سنج ہوں عرضِ ستم ہائے جدائی کا

رضا بریلوی:

محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزت کا
نظر آتا ہے اس کثرت میں کچھ اندازِ وحدت کا

گنہ مغفور دل روشن خنک آنکھیں جگر ٹھنڈا
تعالیٰ اللہ ماہِ طیبہ عالم تیری طلعت کا

نہ رکھی گل کے جوش حسن نے گلشن میں جاں باقی
چٹکتا پھر کہاں غنچہ کوئی باغِ رسالت کا

صفِ ماتم اٹھے خالی ہو زنداں ٹوٹیں زنجیریں
گنہگارو! چلو مولیٰ نے در کھولا ہے جنت کا

رضاؔئے خستہ جوشِ بحرِ عصیاں سے نہ گھبرانا
کبھی تو ہاتھ آ جائے گا دامن ان کی رحمت کا

اس نعت میں بائیس اشعار ہیں جب کہ غالب کی غزل میں محض سات شعر ہیں۔

غالب کی غزل کا ایک مطلع اور ملاحظہ فرمائیں:

غنچہ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
بوسے کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں

میں نے کہا کہ بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں

اس غزل میں آٹھ شعر ہیں، اسی بحر میں امامِ سخن نے بھی آٹھ شعر کہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

رضا بریلوی:

پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
کیف کے پر جہاں جلیں کوئی بتائے کیا کہ یوں

قصرِ دنی کے راز میں عقلیں تو گم ہیں جیسی ہیں
روحِ قدس سے پوچھیے تم نے بھی کچھ سنا کہ یوں

دل کو ہے فکر کس طرح مردے جلاتے ہیں حضور
اے میں فدا لگا کر ایک ٹھوکر اسے بتا کہ یوں

مزید مطلع غزل غالب ملاحظہ ہو اس غزل میں 11 اشعار ہیں:

آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
دودِ شمعِ کشتہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست

یہ غزل اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے آپ
ہے ردیفِ شعر میں غالبؔ زبس تکرارِ دوست

امامِ سخن اسی ردیف پر 14 اشعار کہتے ہیں، پیشِ خدمت ہیں:

جو بنوں پر سے بہارِ چمن آرائی دوست
خلد کا نام نہ لے بلبلِ شیدائی دوست

شوق روکے نہ رکے پاؤں اٹھائے نہ اٹھے
کیسی مشکل میں ہیں للہ تماشائی دوست

تاج والوں کا یہاں خاک پہ ماتھا دیکھا
سارے داراؤں کی دارا ہوئی دارائی دوست

اس طرح کی مناسبتیں اور ہیں مگر ہم انہیں پر اکتفا کرتے ہیں، نیز ہم نے انہیں اشعار یا غزلوں کو طرفین سے لیا ہے جن میں ہندی کے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ مقصد فوت نہ ہو۔

داغ دہلوی اور امام احمد رضا

اصل نام “نواب مرزا خان”، اور تخلص “داغ” تھا، 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، دبیر الدولہ فصیح الملک وغیرہ خطاب ملے۔ 1905ء حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ کے شاگردوں میں اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور حسن مارہروی جیسے معروف شعرا شامل ہیں۔

کلیجہ میرے منہ کو آئے گا اک دن
یوں ہی لب پہ آہ و فغاں آتے آتے

نہیں کھیل اے داغؔ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زبان آتے آتے

(داغ)

تلاشِ یار میں چھوڑی نہ سرزمیں کوئی
ہمارے پاؤں میں چکر ہے آسمان کی طرح

(داغ)

رسمِ الفت سکھا گیا کوئی
دل کی دنیا پہ چھا گیا کوئی

تا قیامت کسی طرح نہ بجھے
آگ ایسی لگا گیا کوئی

(داغ)

داغ صاحب کے یہاں جو آگ ہے وہ بجھنے والی نہیں لیکن رضا بریلوی کے یہاں ایسی آگ ہے جو آگ کو بجھانے کا کام کرتی ہے اور وہ عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

اے عشق تیرے صدقے جلنے سے چُھٹے سستے
جو آگ بجھا دے گی وہ آگ لگائی ہے

(رضا بریلوی)

کثرتِ رنج و الم سن کے یہ الزام ملا
اتنے سے دل میں ہے اتنوں کی سمائی کیوں کر

داغ کل تک تو دعا آپ کی مقبول نہ تھی
آج منہ مانگی مراد آپ نے پائی کیوں کر

(داغ)

رضا:

بے مانگے دینے والے کی نعمت میں غرق ہیں
مانگے سے جو ملے کسے فہم اس قدر کی ہے

مانگیں گے مانگے جائیں گے منہ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ ’لا‘ ہے نہ حاجت ’اگر‘ کی ہے

جو چاہے ان سے مانگ کہ دونوں جہاں کی خیر
زر ناخریدہ ایک کنیز ان گھر کی ہے

منگتا کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی
دوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے

داغ صاحب کے یہاں دعا کی مقبولیت پر تعجب ہے اور حضرت رضا بریلوی کے یہاں بن مانگے ہی دعا کی مقبولیت کا یقین ہے کیونکہ یہاں محبوب کی بارگاہ کا عالم یہ ہے کہ “نہیں” سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا۔

نہ رفت ’لا‘ بزبانِ مبارکش ہرگز
مگر در اشھد ان لا الہ الا اللہ

ما قال لا قط الا فی التشھد
لو لا التشھد کانت لاءہ نعم

(فرزدق)

زیست سے تنگ ہو اے داغ تو جیتے کیوں ہو
جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں

(داغ)

پارۂ دل بھی نہ نکلا دل سے تحفے میں رضا
ان سگانِ کو سے اتنی جان پیاری واہ واہ

(رضا)

ڈرتا ہوں دیکھ کر دلِ بے آرزو کو میں
سنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا

ہوش و حواس تاب و تواں سب تو جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

(داغ)

جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا

(رضا)

معشوق جائے حور ملے مئے بجائے آب
محشر میں دو سوال کریں گے خدا سے ہم

دیکھیں تو پہلے کون مٹے اس کی راہ میں
بیٹھے ہیں شرط باندھ کے ہر نقشِ پا سے ہم

(داغ)

اس ردیف پر حضرت بریلوی نے 31 اشعار پر مشتمل نعت کہی ہے، کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں:

پاٹ وہ کچھ دھار یہ کچھ زار ہم
یا الہی کیوں کر اتریں پار ہم

لغزشِ پا کا سہارا ایک تم
کرنے والے لاکھوں ناہنجار ہم

میکدہ چھوٹا ہے للہ ساقیا
اب کے ساغر سے نہ ہوں ہشیار ہم

کسی بلا کی مئے سے ہیں سرشار ہم
دن ڈھلا ہوتے نہیں ہشیار ہم

اقبال اور امام احمد رضا

ڈاکٹر اقبال 9 نومبر 1877ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔ ڈاکٹر اقبال کے یہاں جو بلندئ فکر پائی جاتی ہے وہ کسی اور شاعر کے یہاں نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ آپ کی مقبولیت آج بھی قائم ہے۔

اے ہمالہ اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو بڑھ کر آسماں

برف نے باندھی ہے دستارِ فضیلت تیرے سر
خندہ زن ہے جو کلاہِ مہرِ عالم تاب پر

(اقبال)

غالب کی غزل: پئے نذرِ کرم تحفہ ہے شرم تارسائی کا اور رضا بریلوی کی نعت: محمد مظہرِ کامل ہیں حق کی شانِ عزت کا پر اقبال کا انداز بھی ملاحظہ ہو:

اجالا جب ہوا رخصت جبینِ شب کی افشاں کا
نسیمِ زندگی پیغام لائی صبحِ خنداں کا

طلسمِ ظلمتِ شب سورۂ النور سے توڑا
اندھیرے میں اڑایا تاجِ زر شمعِ شبستاں کا

پکاری اس طرح دیوارِ گلشن پر کھڑے ہو کر
چٹک او غنچۂ گل تو مؤذن ہے گلستاں کا

(اقبال)

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

پربت وہ سب سے اونچا ہمسایہ آسماں کا
وہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہمارا

گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں
گلشن ہے جس کے دم سے رشکِ جناں ہمارا

(اقبال)

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں

نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی
نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں

(اقبال)

کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبینِ نیاز میں

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

(اقبال)

مسجد تو بنا لی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی تھا برسوں میں نمازی بن نہ سکا

اقبالؔ بڑا پدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا غازی بن تو گیا کردار کا غازی بن نہ سکا

(اقبال)

غالب کی غزل: ہر اک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے اور حضرت رضا کی نعت: کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے پر اقبال کا اندازِ تکلم بھی دیکھیں:

خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

یہاں تک ہم نے مشہور شعراء کے کلام پیش کیے مقصد یہ تھا کہ آپ بھی امامِ سخن کے علاوہ باقی شعراء کے یہاں ہندی الفاظ کا استعمال دیکھیں ہم نے طرفین کے وہی اشعار پیش کیے ہیں جن میں ہندی زبان کا استعمال ہوا ہے، ہم نے ابھی تک امامِ سخن کی عام نعتیہ شاعری سے اشعار کا انتخاب کیا ہے ابھی وہ کلام جن میں ہندی الفاظ کی جگل بندی ایسے انداز میں کی گئی ہے کہ عام آدمی جسے زبان و کلام کا شعور نہ ہو وہ بھی مست و بے خود ہو کر جھومنے لگے باقی ہیں نمونہ ملاحظہ ہو:

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے

سونا پاس ہے سونا بن ہے سونا زہر ہے اٹھ پیارے
تو کہتا ہے میٹھی نیند ہے تیری مت ہی نرالی ہے

جگنو چمکے پتّہ کھڑکے مجھ تنہا کا دل دھڑکے
ڈر سمجھائے کوئی پون ہے یا اگیا بیتالی ہے

بادل گرجے بجلی تڑپے دھک سے کلیجہ ہو جائے
بن میں گھٹا کی بھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے

پاؤں اٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اوندھے منہ
مینھ نے پھسلن کر دی ہے اور دھر تک کھائی نالی ہے

(رضا بریلوی)

یہ چھوٹ پڑتی تھی ان کے رخ کی کہ عرش تک چاندنی تھی چمکی
وہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئینے تھے

nئی دلہن کی پھبن میں کعبہ نکھر کے سنورا سنور کے نکھرا
حجر کے صدقے کمر کے اک تل میں رنگ لاکھوں بناؤ کے تھے

یہ جھوما میرابِ زر کا جھومر کہ آ رہا کان پر ڈھلک کر
پھہار برسی تو موتی جھڑ کر حطیم کی گود میں بھرے تھے

روش کی گرمی کو جس نے سوچا دماغ سے اک بھبھوکا پھوٹا
خرد کے جنگل میں پھول چمکا دھر دھر پیڑ جل رہے تھے

قوی تھے مرغانِ وہم کے پر اڑے تو اڑنے کو اور دم بھر
اٹھائی سینے کی ایسی ٹھوکر کہ خونِ اندیشہ تھوکتے تھے

کسے ملے گھاٹ کا کنارہ کدھر سے گزرے کہاں اتارا
بھرا جو مثلِ نظر طرارا وہ اپنی آنکھوں سے خود چھپے تھے

وہی تو اب تک چھلک رہا ہے وہی تو جو بن ٹپک رہا ہے
نہانے میں جو گرا تھا پانی کٹورے تاروں نے بھر لیے تھے

(قصیدہ معراجیہ، رضا بریلوی)

قسمت میں لاکھ پیچ ہوں سو بل ہزار کج
یہ ساری گھتی اک تیری سیدھی نظر کی ہے

طیبہ میں مر کے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند
سیدھی سڑک یہ شہرِ شفاعت نگر کی ہے

دونوں بنیں سجیلی انیلی بنی مگر
جو پی کے پاس ہے وہ سہاگن کنور کی ہے

(رضا بریلوی)

تابِ سم سے چوندھیاں کر چاند انہیں قدموں پھرا
ہنس کے بجلی نے کہا دیکھا چھلاوا نور کا

چاند جھک جاتا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں
کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا

(قصیدۂ نور)

تمہاری چمک تمہاری دمک تمہاری مہک تمہاری جھلک
زمین و فلک سماک و سمک میں سکہ نشان تمہارے لیے

جناں میں چمن، چمن میں سمن، سمن میں پھبن، پھبن میں دلہن
سزاے محن پہ ایسے منن یہ امن و اماں تمہارے لیے

مرحمتیں کہ سچی متیں نہ چھوڑیں لتیں نہ اپنی گتیں
قصور کریں اور ان سے بھریں قصورِ جناں تمہارے لیے

صبا وہ چلے کہ باغ پھلے وہ پھول کھلے کہ دن ہوں بھلے
لوا کے تلے ثنا میں کھلے رضاؔ کی زباں تمہارے لیے

(رضا بریلوی)

یہی بولے سدرہ والے چمنِ جہاں کے تھالے
سبھی میں نے چھان ڈالے تیرے پائے کا نا پایا

تجھے یک نے یک بنایا

(رضا بریلوی)

یہ تو مشتے از خروارے سمجھیے ورنہ حدائقِ بخشش اس قسم کے کلاموں سے بھری پڑی ہے۔ اب ہم مذکورہ شعراء کی شروعاتی دس دس غزلوں سے ہندی کے الفاظ اکٹھا کریں گے اور بعدہ امامِ سخن کی دس نعتوں کے ہندی الفاظ جمع کریں گے دیکھتے ہیں کون سا شاعر غالب رہتا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!