| عنوان: | مہریات کے اولین مآخذ |
|---|---|
| تحریر: | محمد نعمان چشتی |
| پیش کش: | زریں امجدی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد |
قبلۂ عالم پیر سید مہر علی شاہ گیلانی گولڑوی قدس سرہ کے احوال پر دستیاب مآخذ میں سے اولیت کس کو حاصل ہے، یہ قطعیت کے ساتھ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا، البتہ آپ کے حالات پر اولین مآخذ میں سے ایک اہم مآخذ "مولانا نواب علی جدون کی ڈائری" بھی ہے، جو 1880ء سے 1914ء کے درمیانی عرصہ کے چیدہ چیدہ احوال فراہم کرتی ہے۔
ظنِ غالب ہے کہ پہلا مآخذ یہی ہوگا؛ کیوں کہ ابھی تک میری دانست میں 1880ء سے پہلے کا کوئی مآخذ نہیں، بلکہ تمام ہی اس کے بعد کے ہیں۔ مرآۃ السالکین 1892ء میں، جب کہ تذکرۂ علماءِ ہند 1897ء میں لکھا گیا۔ تاحال 1900ء سے قبل حضرت کے احوال ان تین مآخذ میں دستیاب ہوئے۔ ان میں سے اولیت مولانا جدون کی ڈائری کو حاصل ہے۔ 1900ء میں معرکۂ لاہور وقوع پذیر ہوا، جس کے بعد کئی مآخذ میں آپ کا ذکرِ خیر ملتا ہے۔
بلکہ 1904ء میں حضرت کے احوال پر مستقل کتاب بہ نام "مجمع الکرامات" تحریر کی گئی، جو برابر تین ہفتے تک قبلۂ عالم نے ملاحظہ فرمائی، اور پھر طبع کی اجازت مرحمت کی۔ بعد ازاں حضرت کے احوال اور مدح و ثنا میں چھوٹے بڑے کئی کتب و رسائل لکھے گئے، جو سلسلہ آپ کے وصال تک جاری رہا۔
بعد از وصال بھی مہرِ منیر سے پہلے کئی کتب و رسائل تصنیف و تالیف کیے گئے، جن میں 60 صفحات پر مشتمل سوانحِ مہریہ، 60 صفحات پر مشتمل قبلۂ عالم گولڑوی شریف، حیات جاوداں وغیرہ کے اسما سرِ فہرست ہیں۔ بہر کیف، قبلۂ عالم کے احوال کا اولین مآخذ، ظنِ غالب کی بنا پر، "مولانا نواب علی جدون کی ڈائری" (غیر مطبوعہ) کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ آئیے! ذیل میں مولانا کی ڈائری کا کچھ جائزہ لیتے ہیں۔
مولانا نواب علی جدون کی ڈائری
یہ ڈائری 168 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں 1916ء تک کے احوال چیدہ چیدہ لکھے گئے ہیں، جس میں مولانا جدون نے اپنے پیر و مرشد سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی کا نہایت عقیدت سے گاہے گاہے تذکرہ کیا ہے۔ اپنے پیر و مرشد کے لیے لفظ "حضرتِ مقدس" استعمال کرتے ہیں۔ مولانا نے ڈائری نہایت ہی پُرمغز انداز میں لکھی، جس میں ایام و تواریخ کا بھی التزام کیا، جس کے باعث ڈائری ایک تاریخی دستاویز بھی بن چکی ہے۔
مولانا کی ڈائری بتاتی ہے کہ حضرت گولڑوی ایک نہایت متحرک شیخِ طریقت و جید عالمِ دین تھے، جو جا بجا مریدین و متوسلین کی خواہش پر مختلف مقامات پر تشریف لے جاتے، بسا اوقات مجالسِ مناظرہ میں شرکت کرتے، نیز اپنے اعزا کی مجالسِ عرس میں بھی شریک ہوتے۔ ڈائری کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت گولڑوی اور خواجہ محمد عبدالرحمن قادری چھوہروی رحمہ اللہ کے مابین باہمی الفت کا واسطہ تھا۔ یہی سبب ہے کہ آپ جب ہزارہ کی طرف جاتے تو خواجہ چھوہروی سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے۔
مولانا کی ڈائری بتاتی ہے کہ حضرت گولڑوی گروہِ وہابیہ کی خوب تردید فرماتے۔ اس بابت مولانا لکھتے ہیں: "19 نومبر 1908ء بعدِ عصر سے 21 نومبر 1908ء وقتِ ظہر تک بابا فرید کے دروازے کے بہشتی ہونے کے بارے میں وعظ ہوتا رہا، اور غیر مقلدین و وہابیوں کے خلاف تقریریں ہوتی رہیں۔ حضرت پیر صاحب نے فرمایا: 'مجھے کوئی گالیاں دیتا رہے تو غصہ نہیں آتا، مگر میرے پیر کو کوئی گالی دے تو غصہ آتا ہے۔' نیز فرمایا: 'غیر مقلدین کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔'"
مولانا کی ڈائری کے مطابق حضرت گولڑوی 6 مرتبہ ہزارہ تشریف لے گئے۔ اس میں حضرت کے مباحثۂ لاہور کی بابت بھی اجمالاً ذکر کیا گیا ہے کہ مولانا خود بھی اس مباحثہ میں حضرت کے ہمراہ لاہور میں رہے، اور اس مباحثہ کا حال اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ماہنامہ کاروانِ قمر میں 1999ء کو اس ڈائری کا کچھ حصہ شائع کیا جا چکا ہے، جو کہ حضرت گولڑوی کے متعلق ہے۔
مرآۃ السالکین فی احوال الکاملین
شیخ الاسلام والمسلمین پیر مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ کے احوال پر دستیاب مآخذ میں سے دوسرا اہم مآخذ 182 صفحات پر مشتمل "مرآۃ السالکین فی احوال الکاملین" ہے، جو 1892ء میں خواجہ محمد امین چکوڑوی رحمہ اللہ کے ایماء پر سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ کے مشائخ کے احوال پر مولانا امام الدین گجراتی چشتی نظامی رحمہ اللہ نے تحریر کیا۔
"مرآۃ السالکین" کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس پر اکابرِ چشتیہ کی تصدیقات ثبت کی گئی ہیں، اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ کی تصدیق اس کتاب کو حضرت کے احوال پر ایک مستند مآخذ بناتی ہے۔ کتاب کے اختتام پر اکابرِ چشت کی تقاریظ و تصدیقات، تواریخِ تحریر، اور نقشہ ہائے تواریخِ اعراسِ اکابرِ چشت بھی شامل کیے گئے ہیں۔
مصنف کا طرزِ تحریر کیا ہے؟ اس بارے میں مصنف خود لکھتے ہیں: "اس ذرۂ بے مقدار کو مدت سے خیال تھا کہ کوئی ایسی کتاب اردو زبان میں تالیف کی جائے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر خواجہ خواجگان، مرشدی و مولائی خواجہ شمس الدین سیالوی رضی اللہ عنہ تک حالات درج ہوں، اور ہر ایک کامل کے تذکرے میں اس کے مولد و مدفن اور تاریخِ ولادت و وفات کا پورا حال لکھا جائے، اور مشہور خلفا کا تذکرہ بھی مرقوم ہو۔"
مصنفِ کتاب نے اپنے پیر و مرشد قبلۂ عارفاں تاج الاولیاء خواجہ شمس الدین سیالوی رحمہ اللہ تک سلسلۂ چشتیہ نظامیہ کے مشائخ کے احوال تحریر کرنے کے بعد لکھا کہ: "حضرت خواجہ سیالوی کے چار خلیفہ ایسے ہیں کہ جن سے اس زمانہ میں ہزارہا بندگانِ خدا کو ہدایت ہو رہی ہے، اور ان کا نام ہر محفل میں بڑی تعظیم سے لیا جاتا ہے۔"
اس قدر تحریر کرنے کے بعد ان چار خلفا کا تذکرہ بالترتیب یوں تحریر کیا:
-
خواجہ سید غلام حیدر شاہ صاحب جلال پوری رحمہ اللہ
-
خواجہ معظم الدین معظم آبادی رحمہ اللہ
-
خواجہ محمد امین چکوڑوی رحمہ اللہ
-
خواجہ سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ
ایک صفحہ سے کچھ زائد حصہ پر مشتمل تذکرۂ قبلۂ عالم گولڑوی میں آپ کے روحانی مقام پر خوب روشنی ڈالی گئی، جن میں آپ کے حلقۂ ارادت، حصولِ خلافت، ارادت مندوں کی کیفیاتِ قلبی اور منازلِ سلوک پر اجمالاً روشنی ڈالی گئی ہے، جب کہ آخر میں آپ کا سلسلۂ نسب بھی تحریر کیا گیا ہے۔
قبلۂ عالم کا تعارف ان الفاظ میں کرواتے ہیں: "چوتھے خلیفہ حضرت خواجہ سیالوی کے، عالمِ علومِ دینی و یقینی، حاج الحرمین الشریفین، معارف و حقائق دست گاہ، پیر مہر شاہ گولڑوی دام ظلہ۔"
حضرت گولڑوی شریف کو چوتھے نمبر پر رکھنے کا سبب، غالب گمان کے مطابق، آپ کی عمر ہوگی۔ کیونکہ بقیہ ہر سہ اکابر کی اعمارِ قبلۂ عالم گولڑوی سے زیادہ تھیں، جب کہ اس وقت آپ کی عمرِ شریف محض 32 سال تھی اور آپ عینِ شباب کے عالم میں تھے۔
یہاں مصنف نے آپ کو "عالمِ علومِ دینی و روحانی" کے بجائے "دينی و یقینی" کہہ کر علومِ روحانیہ کو یقینی سے تعبیر کیا، جو ان کی رفعتِ منزلت پر کافی دال ہے۔ یہاں آپ کا اسمِ گرامی مہرِ شاہ تحریر کیا گیا، جو اس بات کا عکاس ہے کہ ابھی آپ کے مرشدِ گرامی نے نامِ نامی تبدیل نہ کیا تھا۔۔۔ ملفوظاتِ مہریہ میں مرقوم ہے کہ ایک روز جب قبلۂ عالم درگاہِ مقدسہ سیال شریف سے واپسی کی اجازت چاہنے کا ارادہ کیے تھے تو عارف باللہ خواجہ سیالوی نے آپ کے اس خیال پر متوجہ ہو کر فرمایا: "ایک دن مہر علی شاہ بھی چلا جائے گا۔" اور اس دن سے آپ کا نام مہر علی شاہ پڑ گیا، ورنہ اس سے قبل آپ کا نام پیدائشی طور پر مہر شاہ رکھا گیا تھا اور وہی نام عوام و خواص میں متعارف تھا۔
حاجی کی جگہ حاج استعمال کیا گیا، جو کہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس بات کا عکاس ہے کہ اگرچہ قبلۂ عالم کا حجِ بیت اللہ تحریرِ کتاب سے دو سال پہلے معروف در عوام و خواص ہوا، جو 1890ء میں کیا تھا، مگر اس سے پہلے بھی آپ حجِ بیت اللہ سے مشرف ہوتے رہتے تھے، جب ہی اسمِ فاعل کی جگہ اسمِ مبالغہ استعمال کیا گیا۔
حصولِ خلافت کے بارے میں لکھتے ہیں: "بعدِ ریاضت سال ہا سال کے آپ نے خرقۂ خلافت کا حضرت خواجہ موصوف سے حاصل کیا، اور بعدِ حصولِ خلافت کے حرمین شریفین کی زیارت کے لیے تشریف لے جا کر حجِ بیت اللہ ادا کر کے مدینہ منورہ میں زیارتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہوئے۔"
الغرض یہ مختصر تذکرہ، جو بہ ظاہر محض ایک صفحہ سے کچھ زائد سطور پر مشتمل ہے، مگر اپنے اندر سمندر کی سی گہرائیاں لیے ہوئے ہے، مفکرین کو بہت سے نکات کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور دعوتِ فکر دے رہا ہے۔
(ماخوذ: ماہنامہ اشرفیہ - تحقیقات)
