Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

افتخار العلماء، الفلکی الکبیر علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی (قسط: دوم)|مفکر اسلام علامہ قمر الزماں مصباحی اعظمی

افتخار العلماء، الفلکی الکبیر علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی (قسط: دوم)
عنوان: افتخار العلماء، الفلکی الکبیر علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی (قسط: دوم)
تحریر: علامہ قمر الزماں مصباحی اعظمی
پیش کش: مفتیہ ام ہانی امجدی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اس سے بحث نہیں ہوتی کہ ہو سکتا ہے قائل نے اسلام ہی والا پہلو مراد لیا ہو، بلکہ وہ ظاہری معنی پر حکم کفر لگا دیتے ہیں، یوں ہی بعید تاویل کو بھی قبول نہیں کرتے، اور اس قائل سے توبہ و رجوع کی خبر جو پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی تسلیم نہیں کرتے۔ اور دوسرا گروہ متکلمین و محققین فقہا کا ہے، ان کے نزدیک اگر قول کفر کی معافی ہو اور ان میں کوئی معنی ایسا بھی ہو جو حکم اسلام کا پہلو رکھتا ہو، اور قائل نے یہ بیان نہیں کیا ہے کہ اس نے کون سا معنی مراد لیا ہے، تو نیت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے یہ اس کو کافر کہنے سے احتیاطاً زبان روک لیتے ہیں، کہ ہو سکتا ہے کہ قائل نے وہی معنی مراد لیا ہو جو حکم اسلام کا پہلو رکھتا ہے۔ اور اگر قائل اپنے قول کی بعید سے بعید تاویل کرے تو یہ اس کو قبول کر لیتے ہیں، یوں ہی توبہ و رجوع کی خبر جو پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی اس کی وجہ سے بھی کف لسان کرتے ہیں۔ ہاں اگر متکلم نے کفری معنی ہی کو اپنی مراد بتایا تو دونوں گروہ اس کی تکفیر میں متحد ہوتے ہیں، اسی طرح وہ کلمہ کفر جو بالکل صریح ہوتا ہے جس میں تاویل کی قطعاً گنجائش نہیں ہوتی دونوں گروہ اس کے قائل کو کافر کہتے ہیں۔ [مقالات شارح بخاری، ج: 3، ص: 52، 53]

اس سے معلوم ہوا جس طرح یزید، امام احمد بن حنبل کے نزدیک کافر ہے اور امام اعظم نے احتیاطاً تکفیر سے کف لسان فرمایا ہے اسی طرح اسماعیل دہلوی علامہ فضل حق خیر آبادی کے نزدیک کافر ہے اور مجدد اعظم نے احتیاطاً اس کی تکفیر سے کف لسان فرمایا ہے۔ یزید اور اسماعیل دہلوی کو “جمہور فقہا” کے مذہب پر کافر قرار دیا گیا۔ اور “مذہب متکلمین” پر ان دونوں کی تکفیر سے “کف لسان” کیا گیا ہے۔

لہٰذا اس سلسلہ میں جس طرح کسی شخص کو امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے بالکل اسی طرح کسی بد مذہب کو مجدد اعظم امام احمد رضا قدس سرہ پر انگشت نمائی کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے۔

خادم الحدیث دار العلوم مجاہد ملت، دھام نگر شریف، اڑیسہ۔

کے نام سے کتابی شکل میں شائع کر دیے ہیں۔ یہ ان کا ملت پر بڑا احسان ہے، ورنہ یہ مقالات ہماری بے حسی کی نذر ہو جاتے۔ ان مقالات میں علامہ موصوف عصر حاضر کے مختلف فیہ مسائل پر اپنی گراں قدر تحقیقات پیش فرمائی ہیں اور جس عنوان پر بھی قلم اٹھایا ہے، حق ادا کر دیا ہے۔

رویت ہلال، قطب شمالی کے شب و روز علم ہند؛ سرکار امام احمد رضا، ما سیکیڈون، اصطرلاب کی دریافت، امام احمد رضا اور علم جعفر، ویڈیو کی تصویر، اصلی یا فرضی، مختلف ملکوں میں لاؤڈ اسپیکر پر اقتداء کا حکم، نزول افق کا گمشدہ فارمولا، علم اور علماء اور امام احمد رضا کا مقام، اعضا کی پیوند کاری، اور اس طرح کے کم و بیش ۵۵ مقالات ہیں جن میں ہر مضمون اہل علم کو دعوت مطالعہ دے رہا ہے کہ:

کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست

امام علم و فن نے اپنے مقالات میں فلسفہ، منطق، فلکیات، ریاضی، علم جعفر اور لغت کی دقیق عربی اصطلاحات کو اردو زبان میں جس خوبصورتی سے پیش کیا ہے، یہ انہیں کا حق تھا۔ خواجہ صاحب نے کئی مقالات میں اپنے معاصر علما سے اختلاف کیا ہے، مگر ان کا سلوک تنقید انتہائی شائستہ، باوقار اور متوازن ہے۔ انھوں সেলিম بھی اپنے قلم کے وقار کو مجروح نہیں ہونے دیا ہے۔ خواجہ صاحب کی تحقیق سے اختلاف کا حق ہر صاحب علم کو ہے، مگر اس کا اعتراف سب کو ہے کہ انھوں نے ہر مقالے کو انتہائی تحقیق سے مرتب فرمایا ہے۔

خواجہ گرامی وقار فکر و فن کے بلند ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود انتہائی منکسر المزاج اور خورد نواز تھے۔ حزم و احتیاط، تقویٰ اور پرہیزگاری کے اعتبار سے بہت ممتاز تھے۔ مسائل میں اپنے مرشد کریم کے مسلک عزیمت پر گامزن تھے اور رخصتوں سے فائدہ اٹھانے کا مزاج نہیں رکھتے تھے۔ وہ خیر الاذکیا تھے۔ امید ہے کہ ان کے حالات کا تفصیلی حیات نامہ لکھیں گے۔

سیکرٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن مانچسٹر انگلینڈ

۵ نومبر ۲۰۱۳ء

ماہنامہ پیغام شریعت دہلی | 29 | اکتوبر ۲۰۱۶ء

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!