| عنوان: | حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت اور افکار کا مختصر تحقیقی مطالعہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد احکام چشتی مصباحی |
| پیش کش: | اختری |
قصاص عثمان سے متعلق آپ کا نظریہ: قصاص عثمان کے سلسلے میں حضرت امیر معاویہ، حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہم کا مشترکہ موقف یہ تھا کہ قتلِ عثمان ایک زبردست جنایت ہے جس کی پاداش میں مجرموں کو فوراً کیفر کردار تک پہنچانا ناگزیر ہے، اس میں کسی طرح کی دیر شرعی نقطۂ نظر سے غلط ہے۔ اسی لیے یہ حضرات قصاص کا پر زور مطالبہ کر رہے تھے۔ اب یہاں ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان حضرات کو قصاص عثمان کا مطالبہ کرنے کا حق کیا تھا؟
تو اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ خلیفۂ اجل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ان کے گھر کے اندر چند مصریوں کا بے دردی کے ساتھ حرمت و تقدس والے شہر میں شہید کرنا یہ اس قدر الم ناک اور تڑپا دینے والا سانحہ تھا کہ معمولی سے معمولی انسان کا قصاص کے لیے آواز بلند کرنا فطری تھا، پھر دلِ درد مند رکھنے والے بلند شان صحابہ اس مطالبہ سے کیوں کر پیچھے رہ سکتے تھے۔ یہ ان کا شرعی اور ایمانی حق بھی تھا، کیوں کہ بادشاہ اسلام تمام رعایا کا ولی ہوتا ہے، رعایا میں سے کسی کا قتل ہوتا ہے تو خلیفہ اس کے قصاص کا ذمہ دار ہوتا ہے، اسی طرح خلیفہ کا قتل ہو جائے تو پوری رعایا کو مطالبہ قصاص کا حق ہوتا ہے، یہ علما کا مسلمہ ہے۔
اس کے علاوہ حضرت امیر معاویہ حضرت عثمان کے ولی العہد بھی تھے کیوں کہ تیسرے درجہ میں آپ کا نسب حضرت عثمان سے مل جاتا ہے، اس ولایت کی بنیاد پر بھی وہ قصاص عثمان کا مطالبہ کرنے میں پوری طرح حق بجانب تھے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مولائے کائنات سے عرض کیا: اے امیر المومنین! امیر معاویہ کو قصاص عثمان کے مطالبہ کا حق ہے کیوں کہ وہ ان کے ولی ہیں، پھر آپ نے سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۳۳ تلاوت کی اور عرض کیا کہ آپ نے قصاص نہ لیا تو حضرت امیر معاویہ پورے ملک کے مالک ہوں گے۔ [تطہیر الجنان]
اس روایت سے یہ بات بے نقاب ہوجاتی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس حضرت معاویہ کو ولی مان کر مطالبہ قصاص میں حق بجانب قرار دیتے تھے اور مولائے کائنات نے ان کے استدلال پر کوئی تنبیہ نہ فرمائی۔ غرض کہ حضرت امیر معاویہ کو قصاص کا مطالبہ کرنے کا دو طرح سے حق حاصل تھا، ایک یہ کہ آپ حضرت عثمان کے رعایا میں تھے، دوسرے یہ کہ آپ ان کے ولی ابعد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علی یا کسی اور صحابی نے کبھی اس زاویے سے کلام نہ کیا کہ حضرت امیر معاویہ یا حضرت عائشہ و طلحہ و زبیر کا مطالبہ قصاص ناحق ہے، بلکہ سرکار غوث پاک شیخ عبد القادر جیلانی، امام غزالی، امام طحاوی، امام ابن ہمام، امام تفتازانی، امام نووی، امام شعرانی، ملا علی قاری، امام جمال الدین صاحب روضۃ الاحباب، شیخ عبد الحق محدث دہلوی، وغیرہ عظیم الشان اور جلیل القدر متکلمین و محدثین اس نکتے پر متحد نظر آتے ہیں کہ دونوں فریق کی کارروائی تاویل صحیح پر مبنی تھی۔
اس اختلاف کے اسباب و محرکات بیان کرتے ہوئے حضرت مفتی احمد یار خاں نعیمی تحریر فرماتے ہیں: حضرت عثمان کی شہادت کے بعد امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مہاجرین و انصار کے اتفاق رائے سے خلیفہ برحق مقرر ہوئے، لیکن چند وجوہات کی بنا پر قاتلین عثمان غنی سے قصاص نہ لیا جاسکا۔ یہ خبریں شام میں امیر معاویہ تک پہنچیں، انہوں نے پیغام بھیجا کہ خلیفہ مسلمین کا خاص مدینے شریف میں شہید کر دیا جانا بہت ہی اہم معاملہ ہے، از راہ کرم سب سے پہلے قاتلین پر قصاص جاری کیا جائے لیکن کچھ مجبوریوں کی بنا پر قصاص نہ لیا جاسکا۔ ادھر امیر معاویہ کے دل میں یہ بات ذہن نشین کرا دی گئی کہ حضرت علی معاذ اللہ دیدہ و دانستہ قصاص لینے میں کوتاہی فرما رہے ہیں اور اس قتل میں نعوذ باللہ ان کا ہاتھ ہے بلکہ خود ان کے قاتلین کو پولیس یا فوج میں بھرتی کر لیا گیا ہے۔
غرض کہ بیچ کے بعض مفسدوں نے امیر معاویہ کے دل میں یہ بات جانشین کردی کہ علی مرتضیٰ دیدہ و دانستہ قصاص جاری کرنے میں چشم پوشی کر رہے ہیں۔ امیر معاویہ کی طرف سے برابر قصاص کا مطالبہ رہا ابھی تک نہ آپ کی خلافت کا انکار تھا نہ اپنی حکومت علیحدہ کرنے کا خیال، صرف خون عثمان کا قصاص کا مطالبہ تھا۔ آخر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ امیر معاویہ کے دل میں بات گھر کر گئی کہ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ خلافت کے لائق نہیں۔ اور وہ خلافت کی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا نہیں کر سکتے کیوں کہ اتنے بڑے اہم خون کا قصاص نہ لیا جاسکا تو دیگر انتظامی امور کیا ادا ہو سکیں گے۔ اختلاف کی اصل بنیاد یہی تھی باقی سارے اختلافات اسی جڑ کی شاخیں تھیں۔ دیگر تمام حضرات کی وجہ مخالفت بھی یہی قتل عثمان تھا۔ [امیر معاویہ پر ایک نظر۔ ص: ٦٣]
اس اقتباس سے یہ حقیقت طشت از بام ہوتی ہے کہ حضرت امیر معاویہ مطالبہ قصاص کی حد تک کافی مخلص اور بے لوث تھے، لیکن مطالبہ قصاص اس قدر طول پکڑ گیا کہ شر پسند عناصر کو درمیان میں شر انگیزی کا موقع فراہم ہو گیا اور انہوں نے مقصد برآری کے لیے حضرت امیر معاویہ کے ذہن میں طرح طرح کی باتیں جاگزیں کردیں۔ اور ظاہر ہے کہ حضرت امیر معاویہ ایک دانش مند، صاحب فہم و فراست، ذکی، مدبر صحابی رسول تھے اس لیے ان سے یہ بعید ہے کہ کسی کی معمولی سی بات پر اس قدر راسخ خیال جما لیا کہ آمادہ جنگ ہو گئے، ضرور مفسدوں نے اپنی بات بہت پرزور اور مدلل انداز میں کہی ہوگی اور قرآن و حدیث سے آپ کا اقدام ناگزیر قرار دیا ہو گا جس کے باعث آپ کو اپنے موقف کے حق ہونے پر شرح صدر ہو گیا ہو گا پھر پیش رفت کی ہوگی۔
اور ظاہر ہے کہ کسی چیز کی حقانیت واضح ہونے کے بعد اس کے خلاف عمل جائز نہیں ہوتا اگرچہ واقع میں وہ چیز باطل ہی ہو۔ مثلاً مذہب حنفی کی رو سے حق یہ ہے کہ مقتدی سورہ فاتحہ کی تلاوت نہ کرے، اب کوئی حنفی اپنے مذہب کی خلاف ورزی کرتا ہے تو گنہ گار ہے کیوں کہ جو چیز اس کے نزدیک حق ہے اس کے خلاف عمل کیا اور کوئی شافعی اپنے مذہب کے مطابق امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتا ہے تو کار ثواب اور درستی نماز کا باعث ہے کیوں کہ اس نے بزعم خویش حق پر عمل کیا۔ یوں ہی صحرا میں سمت قبلہ معلوم نہ ہو تو حکم یہ ہے کہ خود غور و خوض کر کے اپنی رائے پر عمل کر کے نماز ادا کرے اس کی نماز صحیح ہوگی اگرچہ واقع میں غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہو۔ اور اپنی رائے کی خلاف عمل کیا تو اس کی نماز فاسد ہے اگرچہ واقع میں قبلہ رخ ہو کر ہی نماز ادا کی ہو۔
حضرت عثمان کے قصاص کے سلسلے میں اسی طرح کی حالت حضرت امیر معاویہ کے سامنے تھی جس میں انہوں نے اجتہاد فرمایا اور اپنے اجتہاد و پیش نظر دلائل و قرائن کی بنیاد پر جو حق سمجھ میں آیا اس کی طرف پیش رفت فرمائی اگرچہ جمہور علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت امیر معاویہ سے اس مسئلے میں خطاء اجتہادی ہوئی۔ تاہم اس طرح کی لغزشوں پر خداوند قدوس کی طرف سے کوئی گرفت نہیں ہوتی بلکہ اس کی بارگاہ میں اپنے مخلصانہ کاوش اور تگودو پر مستحق اجر ہوتے ہیں۔ لہذا دونوں فریقوں میں سے کسی پر تفسیق و تضلیل کے تیر و نشتر برسانا اور ان کے دامن کو داغ دار کرنا دین سے نا آشنائی اور صحابہ کرام کے مقام و مرتبے سے ناواقف ہونے کی روشن دلیل ہے۔
خلافت سے متعلق آپ کا نظریہ
خلافت سے متعلق بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذہن پوری طرح صاف تھا اور کھلے دل سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا اقرار و اعتراف فرماتے تھے بلکہ اس وقت روئے زمین پر موجود تمام انسانوں سے زیادہ آپ کو خلافت و امامت کا حق دار سمجھتے تھے۔ اور آپ کے بعد آپ کی اولاد کو اس نعمت عظیم اور منصب جلیل کا اولین مستحق قرار دیتے تھے۔ یزید کو خلیفہ بنانے اور اپنی نسل میں خلافت برقرار رکھنے کی طمع آپ کو بالکل نہ تھی، اس کے چند شواہد موجود ہیں۔
-
جب حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کی صلح ہوئی تو آپ نے حضرت امام کے پاس سادہ کاغذ بھیجا اور عرض کیا کہ آپ جو شرطیں چاہیں تحریر فرمادیں مجھے منظور ہے، آپ نے اس کاغذ پر جو دفعات تحریر کروائیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ آپ (معاویہ) کے بعد خلافت میرے پاس لوٹ آئے گی۔ حضرت معاویہ کے نمائندے عبد الرحمن بن سمرہ اور عبد الرحمن قرشی نے ان شرطوں کو قبول فرمایا، اور حضرت امیر معاویہ نے بھی تسلیم کیا۔ ظاہر ہے کہ حضرت امیر معاویہ کے دل میں اگر اس طرح کی کوئی بات ہوتی کہ میرے بعد میرا بیٹا خلیفہ بنے گا تو یہ شرط آپ ہرگز قبول نہ فرماتے۔ [الناہیہ۔ ص:۳۲]
-
امام ابو اسحاق نے اپنی کتاب نور العین فی مشہد الحسین میں حضرت معاویہ کے وصایا کافی تفصیل سے تحریر فرمائے ہیں اس کا تھوڑا سا خلاصہ یہ ہے کہ وصیت کے وقت حضرت امیر معاویہ نے فرمایا: اے بیٹے خلافت میں ہمارا حق نہیں ہے وہ امام حسین ان کے والد اور ان کے اہل بیت کا حق ہے تو چند روز خلیفہ رہنا پھر جب امام حسین پورے کمال کو پہنچ جائیں تو پھر خلیفہ وہی ہوں گے یا وہ جسے چاہیں۔ تاکہ خلافت اپنی جگہ پہنچ جائے ہم سب امام حسین اور ان کے نانا کے غلام ہیں انہیں ناراض نہ کرنا ورنہ تجھ پر اللہ و رسول ناراض ہوں گے پھر تیری شفاعت کون کرے گا۔ [بحوالہ: امیر معاویہ پر ایک نظر، ص:٦٩]
-
علامہ خیالی حاشیہ شرح عقائد میں تحریر فرماتے ہیں: حضرت امیر معاویہ اور ان کے گروہ نے حضرت علی سے اس اعتراف کے باوجود کہ وہ اہل زمانہ سے افضل اور امامت کے زیادہ حق دار ہیں۔ قاتلین عثمان سے قصاص نہ لینے کی پاداش میں بغاوت کردی۔ [شرح عقائد مع الحواشی۔ ص:۱٤٢، مطبع تجار الکتب جامنی محلہ بمبئی]
ان شواہد سے آفتاب نیم روز کی طرح یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ حضرت معاویہ حضرت علی اور ان کے خاندان والوں ہی کو مستحق خلافت سمجھتے تھے۔ بس قصاص عثمان کے بارے میں ایک شبہ اور اجتہادی غلطی کی بنیاد پر آپ نے خروج و بغاوت کی۔ غرض کہ خلافت کے سلسلے میں بھی آپ کا نظریہ صاف اور واضح ہے۔ لہذا اس معرکہ کو حکومت وسلطنت اور خلافت و امامت کی لڑائی قرار دینا سرتاسر باطل ہے۔ اس اجتہادی لغزش کے باعث ایک جلیل القدر صحابی کو داغ دار کرنا اور ان کی شان میں دشنام طرازی، اور زبان درازی کرنا حد درجہ کی گستاخی و بے ادبی ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ حضرت امیر معاویہ کو تکلیف پہنچتی ہے بلکہ خود سرکار ﷺ اور مولائے کائنات کو اذیت پہنچتی ہے۔
کیوں کہ حضرت علی اور معاویہ کے درمیان جو معرکہ آرائی ہوئی اس پر اللہ تعالیٰ دونوں حضرات میں سے کسی کی گرفت نہیں فرمائے گا، بلکہ دونوں حضرات اجر و ثواب پائیں گے، مولائے کائنات شرعی اعذار کے باعث اپنے موقف کے بارے میں حق بجانب تھے اس لیے آپ کو دو اجر ملیں گے اور حضرت معاویہ اپنے اجتہاد میں خطاء کا شکار ہوئے اس لیے صرف ایک اجر کے مستحق ہوئے۔ اس خطاء و لغزش کی معافی اور درگزر کی طرف خود سرکار ﷺ نے حدیث پاک میں صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے:
ابن عساکر نے بسند ضعیف حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھا آپ کے پاس حضرت ابو بکر و عمر و عثمان و معاویہ بھی تشریف فرما تھے۔ کہ اتنے میں حضرت علی تشریف لے آئے تو سرکار نے حضرت معاویہ سے فرمایا آپ علی سے محبت کرتے ہیں؟ آپ نے عرض کیا ہاں تو سرکار نے ارشاد فرمایا عنقریب تم دونوں کے درمیان کچھ شک رنجی ہوگی، حضرت معاویہ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ اس کے بعد کیا ہو گا تو سرکار نے فرمایا: عفو اللہ و رضوانہ۔ اللہ کی رضا اور معافی۔ تو حضرت معاویہ نے فرمایا ہم اللہ کی قضا و قدر پر راضی ہیں۔ [الناہیہ، ص:۳۰]
امام غزالی کیمیائے سعادت میں احوال مرداں میں تحریر فرماتے ہیں: حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا: جس نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں دیکھا کہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں اس محفل میں حاضر ہی ہوا تھا کہ حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں آئے اور ایک مکان میں چلے گئے تھوڑی دیر کے بعد حضرت علی باہر آئے اور فرمایا:
قُضِيَ لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ.
خدا کی قسم میرا حق پر ہونا ثابت ہو گیا۔
پھر حضرت معاویہ باہر تشریف لائے اور فرمایا:
غُفِرَ لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ. [تصحیح العقیدہ فی امیر معاویہ، ص:۳۱]
خدا کی قسم مجھے معاف کر دیا گیا۔
ان آثار و روایات سے حضرت معاویہ کی لغزش کا معاف ہو جانا اظہر من الشمس ہے۔ حدیث پاک میں خود سرکار ﷺ نے اس معرکہ کے بعد دونوں حضرات کو اللہ کی رضا و خوشنودی اور عفو و درگزر کی بشارت سنادی، جب اللہ و رسول نے ان حضرات کی معافی کا اعلان فرمایا تو پھر کسی بندے کے لیے اس معاملے میں زبان طعن دراز کرنے کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔
اس باب میں وارد روایات کے بارے میں علما کا حق موقف
حضرت امیر معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی باہمی معرکہ آرائی کے سلسلے میں طرح طرح کی رطب و یابس روایات آئیں ہیں جن کو ارباب سیر نے اپنا حق منصبی ادا کرتے ہوئے سیرت کی کتابوں میں درج فرمایا ہے تاہم حق پسند، انصاف ور، علم و فضل کے غواص علماء ان روایات کو یکسر مسترد کر دیا۔ اور زبردست طعن کیا ہے۔ سردست چند علما کے نصوص پیش خدمت کرتا ہوں۔
-
امام ابن دقیق السعید فرماتے ہیں: مشاجرات صحابہ میں دو قسم کی روایات منقول ہیں ایک باطل اور جھوٹ۔ یہ تو قابل اعتماد نہیں اور دوسری صحیح روایتیں، ان کی اچھی اور مناسب تاویل کرنی چاہئے کیوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی تعریف و توصیف فرماچکا ہے اور بعد میں جو باتیں ان سے منسوب یا منقول ہیں وہ قابل تاویل ہیں اس لیے کہ محقق و معلوم کو مشکوک و موہوم چیز باطل نہیں کر سکتی۔ [تصحیح العقیدہ، ص: ۲۷]
-
علامہ جمال الدین تحریر فرماتے ہیں: اسی سلسلے کی تمام روایتیں تاویلات محامل صحیحہ کے قابل ہیں، اگر ان میں بعض روایات ایسی بھی ہیں جن کی کوئی مناسب تاویل نہیں کی جاسکتی لیکن میں کہتا ہوں اول تو یہ باتیں بطریق اختیار منقول ہیں۔ دوم یہ کہ ان کے راوی اکثر ضعیف اور کذاب ہیں دونوں صورتوں میں آیات قرآنی اور احادیث مشہورہ کے مقابل نہیں آسکتی۔
-
بحر المذاہب میں ہے: ارباب سیر نے حضرت معاویہ، حضرت عمرو بن عاص اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کے متعلق جو کچھ لکھا ہے اس سے صرف نظر کرنا چاہئے اور ان کی باتوں پر توجہ نہیں دینی چاہئے اس لیے کہ ان کی صحبت مع النبی ﷺ قطعی ہے اور ارباب سیر کے اقوال ظنی ہیں اور جو چیز ظن سے منقول ہو وہ قطعی سے مزاحم نہیں ہو سکتی۔ [تصحیح العقیدہ۔ ص: ۲۳]
-
شیخ عبد الحق محدث دہلوی تکمیل الایمان میں فرماتے ہیں: بعض کو آپس میں مشاجرات و محاربات اور اہل بیت رسول اللہ ﷺ کے حقوق میں کوتاہی منقول ہے اس میں اول تحقیق و تفتیش کی جائے اگر ایسی کوئی چیز ثابت ہو بھی ہو تو اسے گفتہ و ناگفتہ و شنیدہ و ناشنیدہ کر دیا جائے کیوں کہ ان حضرات کی صحبت مع النبی یقینی ہے اور روایات ظنی چنانچہ ظنی یقین کا معارض نہیں اس لیے ظن سے یقین متروک نہیں ہوتا ہے۔ [تصحیح العقیدہ۔ ص:۲۸]
-
تاج الفحول عبد القادر بدایونی فرماتے ہیں: اس باب میں مؤرخین کی حکایتیں اور قصے بے سرو پا ہیں اگر ان چیزوں کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو بھی حضور ﷺ کی شرف محفل اور وعدہ کے مطابق صحابہ کرام خطاؤں سے پاک اور مغفور ہیں۔ [تصحیح العقیدہ۔ ص: ۳۲]
علمائے اہل سنت کے ان نصوص سے پوری طرح ثابت ہوتا ہے کہ جو روایات سیرت نگاروں میں اس طرح کی درج کی ہیں جن سے صحابی رسول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص شان ہوتی ہو یا اس طرح کی باتیں آتی ہوں جو ایک صحابی کے شایان شان نہیں ہیں مثلا حضرت معاویہ یزید کا فسق و فجور جانتے ہوئے اس کو خلیفہ بنایا یا خلیفہ بنانے کی کوشش کی اور اس کام کے لیے مکہ اور مدینہ کا سفر کیا وغیرہ روایات کے بارے میں پہلے غور و خوض اور تحقیق کی جائے گی اگر باطل و موضوع ثابت ہوتی ہیں تو وہ سرے سے بے اعتبار اور ساقط ہیں۔ اور از روئے سند صحیح ثابت ہوتی ہیں اور مضامین غیر مناسب ہیں تو ان کو صحیح محمل پر محمول کیا جائے گا اور یہ ممکن نہ ہو تو قطعی دلائل سے متصادم ہونے کے باعث وہ خود ضعیف اور ناقابل استدلال قرار پائیں گی جیسا کہ وصول میں یہ بات دلائل سے آراستہ ہو چکی ہے۔
ایسا کیوں نہ ہو جب کہ ان کی نیکیاں کثیر ہیں، دین متین کے فروغ و استحکام میں ان کی زبردست خدمات ہیں۔ سرکار ﷺ کی مقدس صحبت کا شرف حاصل ہے آپ کے ساتھ متعدد معرکوں میں شریک رہے۔ خلفائے راشدین حضرت ابو بکر، عمر، و عثمان، کے دور میں اسلام کی سرحدوں کی حفاظت کرتے رہے اور شام کے علاقے میں اشاعت دین میں زبردست کارنامہ انجام دیا۔ کثیر بلاد و امصار کو فتح کیا۔ ان کے اہم کارناموں کے باعث ان کی اس لغزش کو اللہ تعالیٰ ضرور معاف فرمادے گا۔
إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ
بیشک نیکیاں برائیوں کو کھا جاتی ہیں۔
اور جب اللہ و رسول نے حضرت معاویہ کی معافی اور اللہ کی رضا و خوشنودی کی بشارت سنادی تو پھر کسی بندے کو ان پر طعن و تشنیع کرنے اور ان کے بارے میں نازیبا کلمات بولنے کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ ایسا کرنا نہ حضرت علی سے محبت نہ اہل بیت رسول سے محبت بلکہ اللہ کے رسول کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کے مترادف ہے ہر سنی صحیح العقیدہ مسلمان پر لازم و واجب ہے کہ اس مسئلہ میں زبان درازی کرنے سے اپنے آپ کو روکے اور صحابہ کا ذکر کرے تو ذکر حسن کرے۔
