| عنوان: | پیر کے تعلق سے کچھ ضروری باتیں (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد نظام الدین مصباحی قادری |
| پیش کش: | حیدر علی مدنی |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ فیضان غریب نواز، فتحپور |
اعلیٰ درجے کا مطلوب و محبوب ہے مگر اس کی طرح فرض نہیں ورنہ اولیاء کے سوا کہ ہر دور میں صرف ایک لاکھ چوبیس ہزار ہوتے ہیں باقی کروڑ ہا کروڑ مسلمان، ہزار ہا علما و صلحا سب معاذ اللہ تارکِ فرض و فُسّاق ہوں، اولیا نے بھی کبھی اس راہ کی عام دعوت نہ دی۔ کروڑوں میں سے معدودے چند کو اس پر چلایا اور اس کے طالبوں میں سے بھی جسے اس بار کے قابل نہ پایا واپس فرمایا، فرض سے واپس کرنا کیوں کر ممکن تھا۔
عوارف المعارف شریف میں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں: خرقۂ تبرک ہر ایک کو دیا جا سکتا ہے اور خرقۂ ارادت اسی کو دیا جائے گا جو اس کا اہل ہو۔ نااہل سے اس راہ کے شرائط کا مطالبہ نہ کریں گے، صرف اتنا کہیں گے کہ شریعت کا پابند رہ اور اولیا کی صحبت اختیار کر کہ شاید اس کی برکت اسے خرقۂ ارادت کا اہل کر دے تو ظاہر ہوا کہ اس کا ترک نافیِ فلاح نہیں، اکابر علما و ائمہ میں ہزار ہا وہ گزرے جن سے بیعتِ خاصہ ثابت نہیں، یا کی تو آخر عمر میں بعد حصولِ مرتبہِ امامت اور وہ بھی بیعتِ برکت، جیسے امام ابنِ حجر عسقلانی نے سیدی مدین قدس سرہ کے دستِ مبارک پر۔
سیدی امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں: ہاں جو اُس کا ترک بتوجہِ انکار کرے اسے باطل و لغو جانے وہ ضرور گمراہ و بے فلاح۔ جب کہ انکار مطلق ہو۔ اور اگر اپنے عصر (زمانہ) و مصر (شہر) میں کسی کو بیعت کے لیے کافی نہ جانے تو اس کا حکم اختلافِ منشا سے مختلف ہو گا۔ اگر یہ اپنے تکبر کے باعث ہے تو
أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِينَ [سورۃ الزمر: 60]
کیا جہنم میں متکبروں کا ٹھکانا نہیں؟ اور اگر بلاوجہ شرعی اپنی بدگمانی کے باعث سب کو نااہل جانے تو یہ بھی کبیرہ ہے اور کبیرہ کا مرتکب مفلح نہیں۔ اور اگر ان میں وہ باتیں ہیں کہ اشتباہ میں ڈالتی ہیں اور یہ بہ نظرِ احتیاط بچتا ہے تو الزام نہیں۔
فلاحِ احسان کے لیے بے شک مرشدِ خاص کی حاجت ہے اور وہ بھی شیخِ ایصال کی، شیخِ اتصال اس کے لیے کافی نہیں اور اس کے ہاتھ پر بھی بیعتِ ارادت ہو بیعتِ برکت یہاں بس نہیں، اس راہ میں وہ شدید باریکیاں، وہ سخت تاریکیاں ہیں کہ جب تک کامل مکمل اس راہ کے جملہ نشیب و فراز سے آگاہ و ماہر حل نہ کرے حل نہ ہوں گی، نہ کتبِ سلوک کا مطالعہ کام دے گا نہ کہ یہ دقائقِ تقویٰ کی طرح محدود و معدود ہیں جن کا ضبط کتاب کر سکے۔ اور وہ پرانا دشمن مکار ابلیس لعین ہر وقت ساتھ ہے اگر بتانے والا، آنکھیں کھولنے والا، ہاتھ پکڑنے والا، مدد فرمانے والا ساتھ نہ ہو تو خدا جانے کس کھوہ میں گرائے، کس گھاٹی میں ہلاک کرے ممکن کہ سلوک درکنار معاذ اللہ ایمان تک ہاتھ سے جائے۔
قارئین! مذکورہ بالا تفصیلات سے یہ امر واضح ہو گیا کہ صوفیاء کرام کا فرمانِ عالیشان کہ بے پیر فلاح نہیں پاتا۔ وہ کون سی فلاح کے متعلق ہے، وہ فلاحِ احسان ہے اور فلاحِ احسان میں مرشدِ ایصال اور بیعتِ ارادت ہوتی ہے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ آج کل عموماً جو بیعت ہوتی ہے وہ بیعتِ تبرک اور مرشد وہ مرشدِ اتصال۔
اور یہ امر بھی سمجھا گیا کہ ہمارے پیشوا و اولیاء کرام قدست اسرارہم مثلاً حضرت خواجہ حسن بصری قدس سرہ، حضرت خواجہ جنید بغدادی، حضرت سری سقطی، حضرت قطبِ ربانی غوثِ صمدانی سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی، اور حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی، اور حضرت داتا علی ہجویری، اور حضرت سلطان الہند قدوۃ الاولیاء خواجہ سید معین الدین اجمیری، و حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، و حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء، و حضرت مجدد الف ثانی، و حضرت آلِ رسول مارہروی، و حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی، و حضرت علی حسین اشرفی میاں قدست اسرارہم و غیرہم شیخِ ایصال تھے اور ان کے مشائخ بھی شیخِ ایصال تھے اور ان کی بیعت اپنے مشائخ سے بیعتِ ارادت تھی اور یہ حضرات فلاحِ احسان کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے اور ہیں یہ اور اس آیتِ پاک:
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ [سورۃ یونس: 62]
خبردار بے شک اللہ کے ولیوں کو نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ کوئی غم، کے سچے مصداق ہیں اور یہ امر بھی واضح ہوا کہ جو یہ کہا جاتا ہے کہ مرید شیخ کے کسی فعل پر اعتراض نہ کرے اگرچہ بظاہر اس کی نگاہ میں خلافِ شرع ہو اور مثال دی جاتی ہے افعالِ خضر علیہ الصلاۃ والسلام کی کہ آپ نے کشتی میں سوراخ کر دیا، ایک لڑکے کو مار ڈالا، گرتی دیوار کو تھام لی جب کہ اہلِ قریہ نے آپ کے ساتھ حسنِ سلوک نہیں کیا۔ تو یہ چیزیں ظاہراً خلافِ شرع نظر آتی ہیں مگر حقیقتاً یہ چیزیں شرع کے دائرہ میں تھیں، اس سے شیخِ ایصال کہ جس کے ہاتھ پر بیعتِ ارادت ہوتی ہے وہ مراد ہے کہ اس کے کام شریعت کے خلاف ہرگز نہیں ہوتے مگر وہ چوں کہ اپنے مرید کو کامل کرنے کے لیے امتحان لیتا ہے اس لیے وہ ایسا کام کرتا ہے جو حقیقت میں دائرۂ شرع میں ہوتا ہے مگر ظاہراً مرید کم علمی کی وجہ سے اسے خلاف سمجھتا ہے تو اس کو بتایا گیا کہ اعتراض نہ کرنا تجھ پر اس کام کی حقیقت کھول دی جائے گی کہ تیرے شیخ کا کام دائرۂ شرع کے اندر ہے لہٰذا آج کل کے مریدین جو شیخِ اتصال کے مرید ہوتے ہیں اس قولِ صوفیاء کرام سے دھوکا نہ کھائیں اور داڑھی منڈانے والے، نماز نہ پڑھنے والے، شرع کا مذاق اڑانے والے جو پیرِ اتصال بھی نہیں ہو سکتے ان کے بہکاوے میں نہ آئیں اور جو بات شریعت کی ہے اسے قبول کریں، تاکہ اہلِ سنت و جماعت غیروں کی تنقید کا نشانہ بننے سے محفوظ رہیں۔
فائدہ
بہت سے احباب یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم کو اپنے جامع شرائط پیر و مرشد کا حقہ فیض نہیں ملتا ہے اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے اس سوال کا بہت ہی واضح جواب غوثِ زماں سیدی عبدالعزیز دباغ رحمتہ اللہ علیہ نے ابریز شریف میں دیا ہے ان سے سوال ہوا کہ پیر کی موجودگی میں تو اس کا فیض ملتا ہے لیکن اس کی عدم موجودگی میں، یا اس کے انتقال کے بعد کما حقہ فیض کیوں نہیں ملتا ہے؟ اس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں کہ پیر سے محبت کی دو جہتیں ہیں۔ ایک جہت یہ ہے کہ مرید اپنے شیخ سے دنیاوی یا اخروی کے لیے محبت کرے یعنی دنیا یا آخرت میں اس کو فائدہ مل جائے اور دوسری جہت یہ ہے کہ مرید اپنے شیخ سے خالص اللہ کے لیے محبت کرے یعنی یہ اللہ والے ہیں اور اللہ والوں سے محبت کا حکم ہے اس لیے وہ شیخ سے محبت کرے، پہلی محبت اسی وقت فائدہ دیتی ہے جب شیخ سامنے ہو اور دوسری محبت شیخ کی حیات میں بھی فائدہ مند ہوتی ہے اور شیخ کے دنیا سے جانے کے بعد بھی اس کا فیض مرید کو حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے آپ اپنے جامع شرائط شیخ سے خالص اللہ کے لیے محبت کریں ان شاء اللہ تعالیٰ اس کی برکتیں خود محسوس کریں گے۔
سوال
کیا کوئی عالم یا مفتی جامع شرائط آپ کے پیر سے فروعی مسائل میں اختلاف کرے تو اس عالم یا مفتی کا بائیکاٹ یا اس سے دشمنی جائز ہے؟
جواب
شیخ محقق عبدالحق دہلوی قدس سرہ تحریر کرتے ہیں: بعض مشائخ ایک مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے مرید دوسرے مذہب سے تعلق رکھتے تھے، مرشد انہیں اس بات کا حکم نہیں دیتے تھے کہ اپنے مذہب (شافعی، حنفی، مالکی، حنبلی) کو چھوڑ دیں۔ علامہ جلال الدین رومی قدس سرہ حنفی تھے جب کہ ان کے مرید شیخ حسام الدین قدس سرہ نے ان کی موافقت کرنا چاہی تو آپ نے فرمایا: ارادت، پیری مریدی کا تعلق باطن اور محبت اور دلی عقیدت سے ہے، مذہب فقہی کا معاملہ ظاہر سے متعلق ہے۔ [فقه و تصوف، ص: 299]
اس سے معلوم ہوا کہ فروعی اختلاف کرنے والے عالم یا مفتی سے دشمنی یا بائیکاٹ یہ شرع و طریقت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ کاش آج سنی اس بات کو سمجھ جائیں تو دوریاں ختم ہو کر محبت کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب علیہ الصلاۃ والسلام کے صدقہ و طفیل ہم کو ہدایت عطا کرے اور ایمان پر خاتمہ فرمائے، آمین۔ بجاہ النبی الکریم علیہ الصلاۃ والتسلیم۔
