Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مفتی اعظم راجستھان (قسط: اول) محمد احمد مصباحی

مفتی اعظم راجستھان (قسط: اول)
عنوان: مفتی اعظم راجستھان (قسط: اول)
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: عالمہ نازیہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

حضرت علامہ مفتی محمد اشفاق حسین نعیمی سنبھلی، سرپرست و شیخ الحدیث دار العلوم اسحاقیہ جودھ پور، راجستھان کی ذات میں کئی ایسی خصوصیات اور نمایاں صفات ہیں جن سے میں بہت متاثر ہوں بلکہ ان کے عقیدت مندوں کی صف میں شامل ہو گیا ہوں، ان صفات کو یہاں چند سطور میں بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

  1. تقریباً پچاس سال یا زیادہ عرصے سے دار العلوم اسحاقیہ کی آبیاری اور اسے ملک کے باوقار اداروں کی صف میں لانا وہ بھی اپنے صوبے سے بہت دور ایک ایسے صوبے میں جہاں ہمیشہ غیر مسلموں کی اکثریت رہی اور مسلمانوں میں جہالت و ناخواندگی یا کم خواندگی کا دور دورہ رہا۔ لیکن موصوف کی مساعی جمیلہ سے کثیر علما اس ادارے سے فارغ ہوئے، صوبے کے بے شمار مقامات پر ان کے ذریعہ مدارس و مکاتب اور دینی و علمی تنظیموں کا قیام عمل میں آیا۔ دار العلوم کے فارغین نے راجستھان کی سرزمین پر سنی تبلیغی جماعت کے تحت جو علمی و عملی بیداری پیدا کی ہے وہ ایک مستقل باب کی حیثیت رکھتی ہے اور تمام خطوں کے لیے نمونۂ عمل اور نمونہ عبرت ہے۔

  2. دیگر صوبوں کے مدارس کے درمیان باہمی ربط و تعاون بہت کم نظر آتا ہے مگر راجستھان میں حضرت مفتی صاحب کی قیادت میں تمام علما اور مدارس دار العلوم اسحاقیہ سے مربوط نظر آتے ہیں اور مرکز سے برابر ان کی رہنمائی، ہمت افزائی اور مناسب تعاون کا کام بھی جاری رہتا ہے۔ دار العلوم کے جلسہ سالانہ ۱۴۲۲ھ میں اتفاقیہ حاضری کے موقع پر نمائندگان مدارس کے اجتماع اور مشاورتی نشست میں اس امر کو خصوصی طور پر دیکھنے کا شرف حاصل ہوا اور ایک صالح قیادت کے دور رس اثرات کے چشم سر سے مشاہدے کا موقع ملا۔

  3. صوبے کے علما اور عوام پر حضرت مفتی صاحب کا ایک دوسرا اثر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ وہاں اشرفی، رضوی کشمکش نہیں۔ جب کہ دوسرے سبھی صوبے کم و بیش اس اختلاف کی لپیٹ میں گزشتہ پندرہ برسوں سے نمایاں طور پر آ چکے ہیں۔ حضرت نے ابتدا ہی میں رفع نزاع کی کوشش کی جس میں ان کو کامیابی حاصل نہ ہوئی لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم راجستھان کی حد تک وہ اپنی چھاپ ڈالنے میں پوری طرح کامیاب ہیں، وہاں کے مدارس اور انجمنوں میں اشرفی، رضوی دونوں مشرب کے افراد سرگرمی کے ساتھ مل جل کر کام کرتے ہیں۔ مولیٰ تعالیٰ ان کے اتفاق و اتحاد کو ہر نظر بد سے بچائے اور ہر طرح کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

  4. معاصرانہ چشمک سے دوری کے ایک مشاہدے نے ان کی اعلیٰ ظرفی کا ایک گہرا نقش میرے دل پہ ڈالا جس کا قصہ یہ ہے کہ نزہۃ القاری شرح بخاری کی تکمیل پر رضا اکیڈمی ممبئی نے شوال ۱۴۲۰ھ میں ایک جشن تہنیت کا اہتمام کیا جس میں شارح بخاری حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کے حالات و سوانح پر مشتمل ایک ضخیم دستاویز “معارف شارح بخاری” کا اجرا عمل میں آیا۔ ایک خصوصی اجلاس حج ہاؤس میں منعقد ہوا، ایک عام اجلاس کھلے میدان میں ہوا۔ خانوادہ برکاتیہ مارہرہ شریف سے امین ملت ڈاکٹر سید محمد امین میاں، ان کے برادر صغیر حضرت سید محمد اشرف میاں اور ان حضرات کے برادر اکبر حضرت سید حسنین میاں نظمی شہزادہ سید العلماء نے بہت جوش و خروش اور محبت و مسرت کے ساتھ جشن میں شرکت کی، دوسرے بہت سے عالی مرتبت خطیب بھی پوری فرحت و بہجت کے ساتھ شریک ہوئے مگر معاصرین یا معاصر شمار ہونے والوں میں سے صرف حضرت مفتی محمد اشفاق حسین صاحب دام ظلہ کی ذات تھی جب کہ ان کے پاس بس دعوت نامہ ارسال ہوا تھا، کوئی اصرار نامہ یا بار بار شرکت کی پیش کش نہ تھی مگر وہ تشریف لائے، مبارکبادی دی اور اپنے خطاب میں شارح بخاری کی عظمت اور نمایاں خدمات کا بڑی مسرت کے ساتھ اعلان و اعتراف کیا، ان کی اس شرکت اور خطاب کے باعث حضرت مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کی جو اہمیت میرے دل میں تھی اس میں تو کوئی اضافہ نہ ہوا لیکن حضرت مفتی اعظم راجستھان کی قدر و منزلت اور ان کی اعلیٰ ظرفی کا نقش ضرور گہرا ہو گیا۔ اس موقع پر شارح بخاری کو چاندی سے تولا گیا، دینی و علمی خدمت کی پذیرائی اور ہمت افزائی کا یہ منظر قابل دید تھا مگر موصوف نے اس چاندی سے ایک حبہ بھی اپنے لیے نہ رکھا، دو تہائی گہوارہ علمی و مادر علمی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے لیے، ایک تہائی بمد اشاعت رضویات رضا اکیڈمی ممبئی کے لیے وقف کر دیا۔ اس ایثار نے ان کی عظمت و اہمیت کو اور زیادہ نمایاں کر دیا اور ہر شخص نے محسوس کر لیا کہ یہ جشن کسی معمولی شخصیت کا نہ تھا، نہ ہی مفتی اعظم راجستھان اور دیگر علماء و مشائخ کی شرکت بے معنی تھی۔

  5. بعض ملاقاتوں میں حضرت مفتی اعظم راجستھان سے جو گفتگو ہوئی اس سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ جو لوگ بھی دینی و علمی خدمت کر رہے ہیں موصوف انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان سے محبت رکھتے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں خواہ وہ ان کے تلامذہ اور محبین و متعلقین سے ہوں یا نہ ہوں۔ سادگی، تواضع، اصاغر نوازی وغیرہ صفات میں بھی وہ نمایاں اور ممتاز ہیں۔ رب تعالیٰ موصوف کا سایہ عاطفت دراز فرمائے اور ان کے بہتر اخلاف و امثال پیدا کرے۔

    وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ. [مقالات مصباحی، ص: 429]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!