Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مکہ معظمہ کے چند متبرک مقامات|علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی

مکہ معظمہ کے چند متبرک مقامات
عنوان: مکہ معظمہ کے چند متبرک مقامات
تحریر: علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی
پیش کش: محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال)

غار حرا

ان میں سب سے اہم غار حرا ہے جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبل نبوت مدت دراز تک اور بعد نبوت بھی عبادت فرمائی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اسی حالت میں اب بھی ہے، اس میں کوئی تغیر نہیں ہوا ہے، اس لیے اس کی زیارت ضرور حاضر ہو۔ وہاں حاضر ہو کر اس یقین کے ساتھ دو رکعت نفل ادا کرے کہ یہاں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم اقدس ضرور مس ہوا ہے بلکہ پیشانی بھی مس ہوئی ہے۔ یہ مبارک غار ہے۔ غار مکہ معظمہ سے تین میل کے فاصلے پر منٰی جاتے ہوئے بائیں ہاتھ جبل نور میں ہے۔ اس جبل نور پر وہ متبرک جگہ بھی ہے جہاں شق صدر ہوا تھا۔

غار ثور

یہ وہ مقدس غار ہے جس میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے موقع پر تین دن تین راتیں قیام فرمایا تھا اور اب بھی اسی حالت میں ہے، اس لیے یقین ہے کہ اس کی زمین، اس کے درودیوار ضرور ان حضرات کے جسم مبارک سے مس ہوئے ہیں۔ یہ غار ثور مکہ معظمہ سے قریب قریب پانچ کلومیٹر دکھن جانب ہے۔ اس کی بلندی بھی تقریباً ڈھائی کلو میٹر ہے۔

جنت المعلیٰ

یہ مکہ معظمہ کا قبرستان ہے۔ اس کی زیارت کو بھی ضرور جائے۔ اس میں ہزار ہا صحابہ کرام، تابعین اور اولیاء اللہ کے مزارات ہیں۔ اس قبرستان کے دو حصے ہیں۔ ایک سڑک کے اتر جانب ایک چھوٹے سے کمپاؤنڈ میں اسلام کی عظیم محسنہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے آبا و اجداد کے مزارات ہیں۔ یہیں حضرت عبد المطلب کا بھی مزار ہے اس کی بھی زیارت کرے اور ابو طالب کی قبر ہے اس کی زیارت نہ کرے کہ انہیں ایمان نصیب نہ ہوا تھا۔ دوسرا حصہ سڑک کے دکھن میں ہے اس میں حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر، حضرت عبداللہ بن زبیر اور ان کی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہم کے مزارات ہیں۔

دیگر مساجد و مآثر

مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی تھی۔ یہ جگہ صفا سے پورب لبِ سڑک ہے۔ دو منزلہ عمارت بنی ہے، نیچے کتب خانہ ہے، اوپر تار، ٹیلیفون کا دفتر ہے اور بورڈ لگا ہے:

“وِزَارَةُ الْحَجِّ وَالْأَوْقَافِ، مَكْتَبَةُ مَكَّةَ الْمُكَرَّمَةِ”

دار حمزہ

سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی جائے پیدائش، یہ جگہ مسفلہ میں ہے۔ باب الحجرۃ کے بالکل سامنے والی گلی میں وہاں ایک مسجد بنی ہوئی ہے۔ اس گلی کا نام ہی “شارع حمزہ” ہے۔

مسجد ذی طویٰ

تنعیم جاتے ہوئے راستے میں پڑتی ہے۔ یہاں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں قیام فرمایا تھا۔

مسجد جن

اس جگہ جنوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سنا تھا۔ یہ مسجد جنت المعلیٰ کے قریب دکھن جانب ہے۔

مسجد رایہ

اسی جگہ فتح مکہ کے دن حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا گاڑا تھا۔ یہ مسجد جن کے قریب ہی ہے۔

دار خدیجہ الکبریٰ

اس مقدس گھر میں برسہا برس تک حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا۔ یہیں تمام صاحب زادیاں اور حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے علاوہ تمام صاحب زادے پیدا ہوئے۔ یہ جگہ شارع فیصل پر ایک گلی میں ہے۔ وہاں دار الحفاظ قائم ہے۔

جبل ابو قبیس

یہ صفا کے قریب بیت اللہ کے سامنے ہے۔ اسی پہاڑ پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کو دو ٹکڑے فرمایا۔ اب وہاں ایک مسجد ہے جسے مسجد بلال کہتے ہیں۔

منیٰ میں جمرۃ العقبہ (بڑے شیطان) کے قریب ہی وہ مبارک گھاٹی ہے جہاں انصارِ کرام نے ایمان قبول فرمایا، جہاں سے ہجرت کا منصوبہ بنا۔

غار مرسلات

یہ بھی منیٰ ہی میں ہے، اس جگہ سورہ مرسلات نازل ہوئی تھی۔ اس کی بڑی فضیلت ہے۔

منیٰ ہی میں مسجد کبش بھی ہے جہاں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم حضرت اسماعیل کو قربان کرنے لے گئے تھے۔ وہاں ایک مسجد بنی ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ اور کثیر مخصوص مبارک آثار ہیں۔ فرصت کے ایام میں پوچھ پوچھ کر ہو سکے تو سب جگہ حاضری دے۔ بغیر پوچھے ہوئے کتابوں میں دیکھ کر تلاش کرنا ناممکن ہے۔ ذکر اس لیے کر دیا کہ اس سے یہ معلوم ہو جائے کہ مخصوص مآثر کیا کیا ہیں۔ اس کے علاوہ کتنے مآثر، دار ارقم، دار ام ہانی وغیرہ نجدی حکومت نے نیست و نابود کر دیے۔ [مقالات شارح بخاری، ص: 366-369]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!