| عنوان: | نماز میں کن سورتوں کی تلاوت کی جائے؟ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد حبیب اللہ بیگ ازہری |
| پیش کش: | حیدر علی مدنی |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ فیضانِ غریب نواز فتحپور |
نماز تکبیر و تسبیح اور تلاوتِ قرآن کا نام ہے، نماز میں کوئی بھی سورت پڑھی جائے فرض ادا ہو جائے گا، اور نماز درست ہو جائے گی، تاہم کچھ سورتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں کتبِ احادیث میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں ان سورتوں کی تلاوت فرمائی، بلکہ ان پر مداومت برتی، لہٰذا نماز میں ان سورتوں کی تلاوت کی جائے، اور ان کی قراءت کا معمول بنایا جائے، تاکہ آپ کی یہ سنتِ متروکہ پھر سے زندہ ہو سکے۔ ہم یہاں پہلے ان سورتوں کے نام ذکر کریں گے، پھر ان سے متعلقہ احادیث پیش کریں گے۔
مختلف احادیثِ مبارکہ کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ پنجگانہ اور جمعہ و عیدین وغیرہ میں درج ذیل سورتوں کی تلاوت فرمائی:
-
سورۂ فاتحہ
-
سورۂ بقرہ
-
سورۂ آلِ عمران
-
سورۂ نساء
-
سورۂ مائدہ
-
سورۂ انعام
-
سورۂ اعراف
-
سورۂ مومنون
-
سورۂ الم سجدہ
-
سورۂ دخان
-
سورۂ ق
-
سورۂ ذاریات
-
سورۂ قمر
-
سورۂ جمعہ
-
سورۂ منافقون
-
سورۂ دہر
-
سورۂ مرسلات
-
سورۂ تکویر
-
سورۂ اعلیٰ
-
سورۂ غاشیہ
-
سورۂ والشمس
-
سورۂ لیل
-
سورۂ تین
-
سورۂ فلق
-
سورۂ ناس
اب ان سورتوں کے بارے میں احادیثِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیں:
1- سورۂ مومنون
مسلم شریف میں حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا:
صَلَّى لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمَكَّةَ، فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ، حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى وَهَارُونَ، أَوْ ذِكْرُ عِيسَى، أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ.
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، نماز میں سورۂ مومنون کی تلاوت شروع کی، جب حضرت موسیٰ و ہارون یا حضرت عیسیٰ علیہم الصلاۃ والسلام کے ذکر پر پہنچے تو کھانسی آگئی، تو آپ رکوع میں تشریف لے گئے۔
2 تا 5- سورۂ الم السجدہ، سورۂ دہر، سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون
مسلم شریف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فِي الْجُمُعَةِ: ﴿الٓمّٓ تَنْزِيْلُ﴾ السَّجْدَةَ، وَ﴿هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ﴾، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ سُورَةَ الْجُمُعَةِ، وَالْمُنَافِقِينَ.
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورۂ الم السجدہ اور سورۂ دہر کی تلاوت کیا کرتے تھے، اور جمعہ کی نماز میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
6- سورۂ ق
مسلم شریف میں حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ﴿قٓ ۚ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ﴾ کی تلاوت کیا کرتے تھے (یعنی آپ فجر میں سورۂ ق کی تلاوت کیا کرتے تھے) اس کے بعد آپ کی تلاوت مختصر ہوتی تھی۔
7- سورۂ تکویر
مسلم شریف میں حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے نمازِ فجر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ﴿اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾ کی قراءت کرتے سنا۔ یعنی آپ نے فجر میں سورۂ تکویر کی تلاوت فرمائی۔
8- سورۂ اعلیٰ
مسلم شریف میں حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى﴾ کی تلاوت کرتے تھے، فجر میں اس سے طویل قراءت کرتے تھے۔
9- سورۂ والشمس
سنن ترمذی میں حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء میں ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحٰىهَا﴾ اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
10- سورۂ واللیل
مسلم شریف میں حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں ﴿وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى﴾ کی قراءت کرتے تھے، عصر میں اسی کے مثل قراءت کرتے تھے، فجر میں اس سے طویل قراءت کرتے تھے۔
11- سورۂ طور
بخاری شریف میں حضرت محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا:
سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ.
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازِ مغرب میں سورۂ طور کی تلاوت کرتے سنا۔
12- سورۂ قمر
مسلم شریف میں حضرت عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لیثی سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ اور عید الفطر کی نماز میں کیا پڑھا کرتے تھے، تو انھوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ﴿قٓ ۚ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ﴾ اور ﴿اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ﴾ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
13- سورۂ مرسلات
بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ حضرت ام الفضل نے ان کو سورۂ مرسلات کی تلاوت کرتے سنا تو فرمایا:
يَا بُنَيَّ! وَاللهِ لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ، إِنَّهَا لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ.
اے میرے بیٹے! تم نے اس سورت کی تلاوت کر کے مجھے یاد دلا دیا کہ یہی وہ آخری سورت ہے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازِ مغرب میں پڑھتے سنا۔
14- سورۂ انشقاق
بخاری شریف میں حضرت بکر بن ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نمازِ عشاء پڑھی، تو آپ نے ﴿اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ﴾ (یعنی سورۂ انشقاق) کی تلاوت کی، اور آیتِ سجدہ پر سجدہ کیا، تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔۔۔ جاری)
