| عنوان: | پیکر عدل و وفا حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
| منجانب: | تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف |
حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ، عظیم ترین صحابی اور اسلام کی تاریخ کی ممتاز ترین شخصیت ہیں۔ آپ اپنی بے مثال عدل و انصاف، جرات، بہادری اور حکومتی بصیرت کی وجہ سے تاریخِ عالم میں ایک امتیازی شان رکھتے ہیں۔ آپ قریش میں اپنی ذاتی و خاندانی وجاہت کے لحاظ سے بہت ہی ممتاز تھے۔
ولادت، نام و نسب اور لقب 'فاروق'
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت عام الفیل کے تیرہ سال بعد 583 عیسوی میں ہوئی۔ آپ کا نام عمر بن خطاب، کنیت ابو حفص اور لقب فاروق ہے۔ آپ کا لقب 'فاروق' حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا عطا فرمودہ ہے۔ اس لقب کی بنیادی وجہ آپ کے قبولِ اسلام کا وہ تاریخی واقعہ ہے جس کے بعد مسلمانوں نے کھلے عام کعبے میں نماز ادا کرنا شروع کی اور کفار پر حق واضح ہو گیا۔
مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کس وجہ سے آپ کا لقب فاروق پڑا؟ تو انہوں نے کہا، مجھ سے تین دن پہلے حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تھے پھر جب میں مسلمان ہوا تو میں نے عرض کیا! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں۔ اُس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ حق پر ہو خواہ زندہ رہو خواہ موت سے دوچار ہو۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تب میں نے کہا کہ پھر چھپنا کیسا؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ہم ضرور باہر نکلیں گے چنانچہ ہم دو صفوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمراہ لے کر باہر آئے ایک صف میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور ایک میں، میں تھا۔ ہمارے چلنے سے چکی کے آٹے کی طرح ہلکا ہلکا غبار اڑ رہا تھا، یہاں تک کہ ہم مسجد حرام میں داخل ہوگئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قریش نے مجھے اور حمزہ رضی اللہ عنھما کو دیکھا تو اُن کے دلوں پر ایسی چوٹ لگی کہ اب تک نہ لگی تھی۔ اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا لقب فاروق رکھ دیا۔ (تاریخ عمر بن الخطاب لابن جوزی صفحہ ٦،٧)
حلیہ مبارکہ اور قبولِ اسلام
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ دراز قد، بھاری جسم اور سفید رنگت والے جبکہ داڑھی مبارَکہ گھنی اور گھنگریالی تھی۔
آپ نے 39 مردوں کے بعد رسالتِ مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا سے اعلانِ نبوت کے چھٹے سال میں اسلام قبول کیا۔ آپ کے ایمان لاتے ہی سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر حرمین شریفین میں اعلانیہ نماز ادا فرمائی۔
زہد و تقویٰ اور عاجزی
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ زُہد و تقویٰ، عدل و انصاف اور خوف خدا کے جس مقام پر فائز تھے وہ آپ ہی کا حصّہ ہے۔ سفر ہو یا حَضَر، گھر میں ہوں یا باہر آپ نے اپنی زندگی نہایت سادَگی سے گزاری۔ اپنے وقت کے خلیفہ ایک مرتبہ جب خطبہ دے رہے تھے تو اس وقت جو چادر آپ کے جسم پر تھی اس چادر میں 12 پیوند لگے ہوئے تھے۔ (الزھد لاحمد، ص152)
آپ کی سادگی اور تکبر سے نفرت کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک عظیم سلطنت کے عظیم امیر ہونے کے باوجود ایک بار کندھے پر پانی سے بھرا ہوا مَشْکِیزہ اٹھائے ہوئے تھے، کسی نے عرض کی: اے مسلمانوں کے امیر! یہ کام آپ کے لئے مناسب نہیں ہے۔ فرمایا: میرے پاس لوگوں کے وفد دَر وفد آتے ہیں جس کی وجہ سے مجھے اپنے دل میں فخر و بڑائی کی لہر محسوس ہوئی لہٰذا مشکیزہ اٹھا کر اس لہر کو پاش پاش کردینا چاہتا ہوں۔ پھر انصاری صحابیہ رضی اللہ تعالٰی عنہَا کے گھر کے قریب تشریف لائے اور ان کے برتنوں کو پانی سے بھر دیا۔ (رسالہ قشیریہ، ص 185)
آپ کی سادگی کا عالم یہ تھا کہ آپ کو جہاں آرام کرنا ہوتا تو زمین پر چادر بچھاتے اور اس پر لیٹ جاتے، کبھی درخت پر چادر ڈال کر اس کے سائے میں آرام کرلیتے تھے۔
دورِ خلافت اور فتوحات
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعد سن ۱۳ ہجری میں آپ مسند خلافت پر جلوہ فرما ہوئے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیکر عدل و انصاف ہونا آپ کو بڑے بڑے حکمرانوں سے ممتاز و مبین کرتا ہے۔ اسی عدل و انصاف کی وجہ سے ساڑھے 22 لاکھ مربع میل سے زائد علاقہ پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت اپنے تمام تر تقاضوں کے ساتھ موجود رہی اور رعایا نے آپ کے تمام احکامات کو دل و جان سے قبول کیا۔ آپ عدل و انصاف کا اطلاق بلا امتیاز اور بلا جھجھک یکساں طور پر ہر ایک پر کرتے خواہ آپ کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہوں۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ایک ہزار چھپن شہر مع قصبات و دیہات فتح ہوئے۔ روم و ایران کا جاہ و جلال سرنگوں ہوا۔ چار ہزار مساجد تعمیر ہوئیں۔ 10 سال 6 ماہ 4 دن کے دور خلافت میں 22 لاکھ 51 ہزار 30 مربع میل پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ جس میں شام، مصر، عراق، جزیرہ خوزستان، ایران، آرمینیہ، آذربائیجان، فارس، کرمان، خراسان اور مکران شامل تھے۔ (تاريخ ابن خلدون، 1: 384)
احادیثِ مبارکہ میں مناقبِ عمر
اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ.
ترجمہ: عمر سے بہتر کسی انسان پر آج تک سورج طلوع نہیں ہوا۔ (ترمذی ، ج۵، ص۳۸۴، حدیث:۳۷۰۴)
دوسری حدیث پاک میں ہے : "فاروقِ اعظم کی محبت ایمان کی ضمانت ہے۔" (کنزالعمال، حدیث: ۳۶۱۱)
رَسُولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو جنت کی خوشخبری عطا فرمائی۔ (بخاری، حدیث: ۳۶۹۳)
رَسُولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ شیطان بھی ان سے خوف کھاتا ہے۔ (ترمذی، ص۳۸۷، حدیث: ۳۷۱۱)
موافقاتِ عمر
قرآنِ کریم کی کئی آیات حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی رائے کے موافق نازل ہوئیں۔ آپ نے بارگاہِ رسالت میں کوئی رائے پیش کی، اس پر قرآنِ کریم کی آیت نازِل ہو گئی، آپ کی زبان مبارک سے کوئی جملہ نکلا، اس پر آیتِ کریمہ نازِل ہو گئی، آپ نے کوئی کام کیا، اس کے درست ہونے پر قرآنِ کریم کی آیت نازِل ہو گئی۔ یہ کُل 20 یا اس سے بھی زیادہ آیات ہیں جو آپ کی رائے کے مُوَافِق نازِل ہوئیں، انہیں “مُوَافقاتِ عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ“ کہا جاتا ہے۔
ایک بار آپ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا ہم مقامِ ابراہیم کو مُصَلّا نہ بنا لیں، اس پر آیتِ کریمہ نازِل ہوئی:
وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ
اور اے (مسلمانو!) تم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔ (پارہ 1، سورۃ البقرۃ : 125)
اسی طرح آیتِ حجاب اور ازواجِ مطہرات کے متعلق آپ کے قول کے موافق آیات کا نزول ہوا۔
نماز کی اہمیت اور شہادت
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نماز کے معاملہ میں کسی دوسری چیز کو اَہمیت نہ دیتے تھے، آپ نے اپنے تمام صوبوں کے گورنروں کے پاس یہ فرمان بھیجا کہ میرے نزدیک نماز تمہارے سب کاموں میں اہم ہے، جس نے نماز کی حفاظت کی اور اس پر ہمیشگی اختیار کی اس نے اپنا دین محفوظ کرلیا اور جس نے اسے ضائع کیا وہ دیگر معاملات کو بھی ضائع کردے گا۔ (موطا امام مالک، ج1،ص35،حدیث:6)
26 ذو الحجۃ الحرام کی صبح ایک مجوسی غلام ابو لؤلؤ فیروز نے آپ پر فجر کی نماز کے دوران قاتلانہ حملہ کیا اور شدید زخمی کردیا۔ آپ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ جب لوگ آپ کو اٹھا کر آپ کے گھر میں لائے تو مسلسل خون بہنے کی وجہ سے آپ پر غشی طاری ہوچکی تھی، ہوش میں آتے ہی آپ نے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا اور وضو کرکے نمازِ فجر ادا کی۔ پھر چند دن شدید زخمی حالت میں گزار کر 63 سال کی عمر میں اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔ حضرت صُہَیْب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ کو یکم محرَّم الحرام 24 ہجری روضۂ رسول میں خلیفۂ اوّل حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ (طبقات ابن سعد، ج3، ص266، 280، 281 - تاریخ ابن عساکر، ج 44، ص422، 464)
محبوبِ ربِّ عَرش ہے اس سبْز قبے میں
پہلو میں جلوہ گاہ عتیق وعُمَر کی ہے
سَعدَین کا قِران ہے پہلوئے ماہ میں
جھرمٹ کئے ہیں تارے تجلِّی قمر کی ہے
