| عنوان: | تواضع اور عاجزی کی نبوی تعلیمات |
|---|---|
| تحریر: | عبدالصمد قادری |
عاجزی و انکساری انسان کے لیے ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو محبوب اور مقرب بنا دیتا ہے۔ جبکہ تکبر اور بڑائی قبیح اور ناپسندیدہ وصف ہے۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ حکم خداوندی اور تعلیمات نبوی کے بھی برخلاف ہے۔
چنانچہ! اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو عاجزی و انکساری کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا
ترجمہ کنزالعرفان: اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں۔
گویا کہ آیت مذکورہ میں خداوند متعال نے ارشاد فرمایا: عباد الرحمن زمین پر غرور و تکبر اور اکڑ کر چلنے کے بجائے عاجزی و انکساری اور خاکساری کے ساتھ چلتے ہیں۔
اسی طرح تعلیمات نبوی بھی اس بات پر شاہد ہے کہ بندے کی ترقی و بلندی کا راز اس کے تواضع میں پنہاں ہے۔ اور خود انبیاء کرام علیہ الصلاۃ والسلام اس کی تعلیم دینے میں پیش پیش رہے تھے۔ جیسا کہ مصطفی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ظاہر و باہر ہے۔
تعلیم مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
تواضع وعاجزی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا بنیادی ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنی بلند ہستیاں ہونے کے باوجود عاجزی و انکساری اور خاکساری کے ساتھ زندگی بسر کرنے کو پسند فرمایا۔ بالخصوص مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم امام الانبیاء، سید المرسلین، ہونے کے باوجود اپنے تمام پروٹوکول کو چھوڑ کر سادگی کو پسند فرمایا۔
بلکہ عاجزی کی انتہا تو یہ ہے کہ امام الانبیاء، سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہونے کے باوجود ایک عام انسان کی طرح اپنے گھر کے کام کاج کرتے تھے، اور اپنے غلاموں کو بھی یہی تلقین فرماتے کہ تواضع وعاجزی اللہ پاک کے نزدیک محبوب صفت ہے اور تقرب الی اللہ کا بہترین ذریعہ بھی ہے جبکہ یہ تواضع خالص رب العزت کی رضا کے لیے ہو ورنہ یہ تواضع بھی بے فائدہ ہے۔
چنانچہ! نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے غلاموں کو تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! اللہ پاک کی رضا کے لیے تواضع اختیار کرو کیونکہ جو اللہ پاک کی رضا کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے بلند فرماتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے مگر لوگوں کی نظر میں بڑا سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔ الحدیث
اسی طرح ایک اور حدیث پاک میں ارشاد فرمایا:
وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰهِ اِلَّا رَفَعَهُ اللّٰهُ
ترجمہ: جو الله رب العزت کے لیے تواضع اختیار کرے اللہ پاک اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔ (فیضان ریاض الصالحین، ج 5، ص 222)
رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا طرز عمل
حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان تواضع بھی سارے عالم سے نرالی تھی جو کہ ہمارے لیے نمونہ عمل ہے کہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ اختیار عطا فرمایا کہ اگر آپ چاہیں تو بادشاہت والی زندگی گزاریں مگر محض تعلیم امت کے لیے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عام بندہ بن کر زندگی گزارنے کو پسند فرمایا۔
یہی تواضع و عاجزی دیکھ کر حضرت اسرافیل علی نبینا علیہ الصلاۃ والسلام نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم! اسی تواضع کے سبب اللہ پاک نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ جلیل القدر مرتبہ عطا فرمایا ہے۔ (سیرہ مصطفی، ص 606)
حضرت ابی امامہ رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں: کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ایک دفعہ عصائے مبارک پر ٹیک لگائے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم تعظيما کھڑے ہو گئے۔ تو آقائے کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عجمیوں کی طرح کھڑے مت ہوا کرو جو آپس میں ایک دوسرے کی حد سے بڑھ کر تعظیم کیا کرتے ہیں۔ بلکہ تواضع اور عاجزی کرتے اور امت کو تعلیم دیتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا: کہ میں بھی اللہ پاک کا ایک بندہ ہوں، جس طرح دوسرے بندے کھاتے ہیں اسی طرح میں بھی کھاتا ہوں، جس طرح دوسرے بیٹھتے ہیں میں بھی بیٹھتا ہوں۔ (شفاء شریف، ص 199)
اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بیان ہے کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کبھی کبھی اپنے پیچھے سواری پر اپنے کسی خادم کو بھی بٹھا لیا کرتے تھے۔ بلکہ بعض مرویات کے مطابق یہ بھی ہے کہ آپ خود اپنے گھر کے کام کاج کرتے، اپنے کپڑے صاف کرتے، بکریوں کو دوہتے اور کپڑوں کو پیوند لگاتے تھے۔
معزز قارئین! نبی پاک کا یہ عمل محض تعلیم امت کے لیے تھا کہ انسان کی بڑائی اس کے تواضع اور عاجزی کرنے میں ہی ہے اور اسی کے ذریعے بندہ اللہ پاک کے قریب ہوتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں بھی عاجزی و انکساری کرنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین۔
