| عنوان: | محبتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت کرام کا تلازم |
|---|---|
| تحریر: | افسر العلیمی (دارالعلوم علیمیہ، جمداشاہی، بستی) |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جل مجدہ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ آپ پر نبوت و رسالت کا دروازہ بند کر دیا گیا اور آپ کی شریعت نے سابقہ تمام ادیان کو منسوخ کر دیا اس لیے اب آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی تمام باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ لیکن تکمیلِ ایمان کے لیے شرط یہ ہے کہ اپنی جان و مال، آل و اولاد سے بھی بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی جائے۔ چناں چہ حدیثِ پاک میں فرمایا گیا:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.
ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اُسے اُس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔ (صحیح البخاری)
جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان ہے ایسے ہی آپ کے صحابہ و اہل بیت اطہار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی محبت بھی ایمان کا ایک حصہ ہے اس لیے کہ محبت کا تقاضا ہی یہی ہے کہ ہر اُس شے سے محبت کی جائے جس کی نسبت محبوب کی طرف ہو یا جس سے محبوب نے محبت کی ہو۔
لزوم کا معنیٰ و مطلب
’’دستور العلماء‘‘ میں لزوم کی تعریف کرتے ہوئے صاحبِ کتاب رقم طراز ہیں:
اَللُّزُومُ: كَوْنُ أَحَدِ الشَّيْئَيْنِ بِحَيْثُ لَا يُتَصَوَّرُ وُجُودُهُ بِدُونِ الْآخَرِ.
ترجمہ: دو چیزوں میں سے ایک کا اِس طور پر ہونا کہ اُس کے وجود کا تصور دوسرے کے بغیر نہ ہو۔ (دستور العلماء، باب اللام مع الزاي المعجمة)
محبتِ صحابہ و اہل بیت میں تلازم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں محبتوں میں سے کوئی ایک بھی دوسری کے بغیر نہیں پائی جائے گی۔ اگر کوئی شخص محبتِ صحابہ کا تو دعویٰ کرے لیکن اہل بیت سے بغض رکھے یا محبتِ اہل بیت کا دعویٰ کرے لیکن صحابہ سے بغض رکھے تو اُس کا دعویٰ باطل محض ہے، حقیقت سے اِس کا کوئی واسطہ نہیں۔ بندے کے دل میں دونوں محبتیں ایک ساتھ پائی جائیں تو پھر وہ سنی کہلائے گا ورنہ یا تو وہ رافضی ہوگا یا خارجی و ناصبی۔
احادیثِ مصطفیٰ ﷺ سے تلازم کا ثبوت
حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کے تعلق سے فرمایا:
أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ، وَأَحِبُّونِي لِحُبِّ اللَّهِ، وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي.
ترجمہ: اللہ سے محبت کرو اس کی نعمتوں کے سبب جو وہ تمہیں عطا کرتا ہے، اور مجھ سے اللہ کی محبت کے سبب اور میرے اہل بیت سے میری محبت کے سبب محبت کرو۔ (سنن الترمذي ۳۷۸۹)
حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے بارے میں ارشاد فرمایا:
مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي.
ترجمہ: جس نے ان دونوں (حسن و حسین) سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (تاريخ الإسلام ۹۵/۵)
حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا:
فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي.
ترجمہ: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ جس نے اُس سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (صحيح البخاري، ۳۷۶۷)
اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تعلق سے ارشاد فرمایا:
اَللهَ اللهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللهَ، وَمَنْ آذَى اللهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ.
ترجمہ: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ انہیں میرے بعد نشانہ نہ بنانا۔ پس جس نے ان سے محبت کی، اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی، اور جس نے ان سے دشمنی رکھی تو اس نے میری دشمنی کی وجہ سے ان سے دشمنی رکھی۔ جس نے انہیں تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی، اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ کو تکلیف دی۔ اور جو اللہ کو تکلیف دیتا ہے، عنقریب اللہ اسے پکڑ لے گا۔ (سنن الترمذي، ۳۸۶۲)
مزید فرمایا:
آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ.
ترجمہ: انصار کی محبت ایمان کی نشانی اور انصار کا بغض نفاق کی علامت ہے۔ (صحيح البخاري، ۳۷۸۴)
ان تمام احادیثِ مبارکہ سے محبتِ اہل بیت اطہار و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تلازم واضح طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں محبتوں کو اپنی محبت اور دونوں کے بغض کو اپنا بغض فرمایا ہے۔
اقوالِ علمائے اہل سنت سے تلازم کا ثبوت
حضرت علامہ فضل رسول قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ’’المعتقد المنتقد‘‘ میں فرماتے ہیں:
وَمِنْهَا مَحَبَّتُهُ لِمَنْ أَحَبَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِمَنْ يُنْسَبُ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَصَحَابَتِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَعَدَاوَةُ مَنْ عَادَاهُمْ وَبُغْضُ مَنْ أَبْغَضَهُمْ وَسَبَّهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ شَيْئًا أَحَبَّ مَنْ يُحِبُّهُ.
ترجمہ: اور ان (نبی ﷺ کے حقوق) میں سے ایک، اس شخص سے محبت کرنا ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کی اور جو آپ کی طرف منسوب ہیں یعنی اہل بیت اور مہاجرین و انصار صحابہ، اور ان سے دشمنی رکھی جائے جو ان حضرات (نبی کریم، اہل بیت و صحابہ) سے دشمنی رکھے اور اس سے بغض رکھا جائے جو ان حضرات سے بغض رکھے اور گالی دے، اس لیے کہ جو کسی سے محبت کرتا ہے وہ اس سے بھی محبت کرتا ہے جس سے اس کا محبوب محبت رکھتا ہے۔ (المعتقد المنتقد، ص ۱۳۶، رضا اکیڈمی ممبئی)
آخر میں فرماتے ہیں:
وَبِالْجُمْلَةِ يَجِبُ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ أَنْ يُحِبَّ أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ وَجَمِيعَ الصَّحَابَةِ وَلَا يَكُونَ مِنَ الْخَوَارِجِ فِي بُغْضِ أَهْلِ الْبَيْتِ فَإِنَّهُ لَا يَنْفَعُهُ حِينَئِذٍ حُبُّ الصَّحَابَةِ وَلَا مِنَ الرَّوَافِضِ فِي بُغْضِ الصَّحَابَةِ فَإِنَّهُ لَا يَنْفَعُهُ حِينَئِذٍ حُبُّ أَهْلِ الْبَيْتِ.
ترجمہ: خلاصہ یہ کہ ہر شخص پر واجب ہے کہ اہل بیتِ نبوت اور تمام صحابہ سے محبت رکھے اور اہل بیت کے بغض میں خوارج سے نہ ہو جائے اس لیے کہ اس وقت اس کو صحابہ کی محبت نفع نہ دے گی۔ اور صحابہ کے بغض میں روافض میں سے نہ ہو جائے کیونکہ اس وقت اُس کو اہل بیت کی محبت فائدہ نہ پہنچائے گی۔ (المعتقد المنتقد، ص ۱۳۸)
اِس سے معلوم ہوا کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے، اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں محبتوں کو ایک ساتھ اپنے دل میں رکھے، اگر صحابہ یا اہل بیت میں سے کسی ایک سے بھی بغض رکھے اور باقی حضرات سے محبت کرے تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ اس کا حضور سے محبت کرنے کا دعویٰ جھوٹا ہے اس لیے دونوں محبتیں ذاتِ رسول کی نسبت ہی کی بنیاد پر فرض ہیں، اگر حضور سے اُس کی محبت سچی ہوتی تو ضرور وہ آپ کی دونوں نسبتوں کو محبوب رکھتا۔
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ایسا کیوں نہ ہو (یعنی بغضِ اہل بیت میں صحابہ کی محبت اور بغضِ صحابہ میں اہل بیت کی محبت فائدہ نہ دے) حالانکہ صحابہ کی محبت اُن کے ذوات کی وجہ سے نہیں اور نہ اہل بیت کی محبت ان کے نفوس کی وجہ سے ہے بلکہ ان سب کی محبت صرف اِس لیے ہے کہ اُن کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ پس جس نے رسول اللہ سے محبت کی، اُس پر واجب ہے کہ وہ ان سب سے محبت کرے اور جس نے ان میں سے کسی سے بغض رکھا تو ثابت ہو گیا کہ وہ رسول اللہ سے محبت نہیں رکھتا تو ہم محبت میں ان میں سے کسی ایک کے ساتھ فرق نہیں کرتے جیسے کہ ایمان لانے میں اپنے رب کے رسولوں (صلوات اللہ وسلامہ علیہم) میں فرق نہیں کرتے۔ اور جو ابو بکر سے محبت کرے علی سے نہ کرے جیسے نواصب وخوارج تو معلوم ہوا کہ وہ تو ابو قحافہ کے بیٹے سے محبت کرتا ہے نہ کہ رسول اللہ کے خلیفہ، ان کے محبوب اور صحابی سے۔ اور جو علی سے محبت کرے، ابو بکر سے نہ کرے جیسے روافض، اُس کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ تو ابن ابی طالب سے محبت کرتا ہے نہ کہ رسول اللہ کے بھائی، ان کے ولی اور نائب سے۔ اور یہی معنیٰ مثنوی میں مولوی قدس سرہ کے قول کا ہے: اے گرفتارِ ابو بکر و علی تو چہ دانی سرِ حق کہ غافلی (المستند المعتمد، ص ۱۳۸)
ایک شبہ کا ازالہ
حدیثِ شریف میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بارے میں حضور نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ إِنَّمَا كَانُوا يُعْرَفُونَ بِبُغْضِ عَلِيٍّ (رضي الله عنه).
ترجمہ: منافق بغضِ علی سے پہچانے جاتے تھے۔
روافض اور ان کے ہم نوا حضرات اس فرمان سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بغضِ علی تو منافقت ہے لیکن حضرت علی کے علاوہ کسی صحابی (مثلاً حضرت امیر معاویہ، عمرو بن عاص اور حضرت ابو سفیان وغیرہ رضی اللہ عنہم) سے بغض رکھنا منافقت نہیں حالانکہ یہ بات تلازم کے خلاف ہے اس لیے کہ اگر تلازم کے اصول پر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ تمام صحابہ و اہل بیت کی محبت ایمان ہے اور ان تمام کا بغض منافقت ہے۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ابن رجب حنبلی اِس پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَقَدْ رُوِيَ أَنَّ الْمُنَافِقِينَ إِنَّمَا كَانُوا يُعْرَفُونَ بِبُغْضِ عَلِيٍّ، وَمَنْ هُوَ أَفْضَلُ مِنْ عَلِيٍّ كَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَهُوَ أَوْلَى بِذٰلِكَ.
ترجمہ: روایت ہے کہ منافقین بغضِ علی سے پہچانے جاتے تھے تو جو حضرت علی سے افضل ہیں جیسے ابو بکر و عمر وہ تو اِس کے زیادہ حق دار ہیں۔ (کہ منافقین ان کے بغض سے پہچانے جائیں۔) (فتح الباري ۱/۶۶)
انصار کے بارے میں حضور نے فرمایا کہ انصار کی محبت ایمان کی نشانی ہے اور اُن کا بغض نفاق کی علامت ہے۔ امام مسلم نے ترجمۃ الباب میں ہی اس شبہے کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
بَابُ حُبِّ عَلِيٍّ وَالْأَنْصَارِ آيَةُ الْإِيمَانِ، وَبُغْضُهُمْ آيَةُ النِّفَاقِ.
ترجمہ: یہ باب ہے اِس بارے میں کہ حضرت علی و انصارِ صحابہ کی محبت ایمان کی نشانی ہے اور ان کا بغض نفاق کی علامت ہے۔
امام قرطبی 'المفہم شرح مسلم' میں اس باب کے تحت فرماتے ہیں:
وَهٰذَا الْمَعْنَى جَارٍ فِي أَعْيَانِ الصَّحَابَةِ كَالْخُلَفَاءِ، وَالْعَشَرَةِ، وَالْمُهَاجِرِينَ، بَلْ وَفِي كُلِّ الصَّحَابَةِ؛ إِذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ لَهُ شَاهِدٌ وَعَنَاءٌ فِي الدِّينِ، وَأَثَرٌ حَسَنٌ فِيهِ؛ فَحُبُّهُمْ لِذٰلِكَ الْمَعْنَى مَحْضُ الْإِيمَانِ، وَبُغْضُهُمْ لَهُ مَحْضُ النِّفَاقِ.
ترجمہ: یہ معنیٰ (یعنی محبت کا ایمان ہونا اور بُغض کا نفاق ہونا) سردارانِ صحابہ جیسے خلفاء، عشرہ مبشرہ، مہاجرین بلکہ ہر ایک صحابی میں جاری ہے۔ اِس لیے کہ ہر ایک صحابی کا دین میں نمایاں کردار اور اچھا تاثر رہا ہے لہٰذا اس معنیٰ کے اعتبار سے اُن کی محبت محض ایمان ہے اور ان کا بغض محض نفاق ہے۔ (المفہم ٢٦٤/١)
ان تمام اقوال کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح حبِ علی سے مومن اور بغضِ علی سے منافق کا پتہ چلتا ہے ایسے ہی حبِ ابو بکر و عمر و عثمان، عمرو بن عاص، امیر معاویہ اور جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم سے مومن اور ان کے بغض سے منافق کی پہچان ہوتی ہے۔ اس لیے اس پہلو کو بھی بیان کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خارجیت و ناصبیت کے ساتھ ساتھ رافضیت کا بھی فتنہ دب سکے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کی توفیق بخشے اور تادمِ حیات مسلکِ اہل سنت و جماعت پر قائم و دائم رکھے۔ آمین
حوالہ: سہ ماہی القلم جمادی الاخریٰ تا شعبان المعظم ۱۴۴۶ھ
