Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

پیر کے تعلق سے کچھ ضروری باتیں (قسط: اول)

پیر کے تعلق سے کچھ ضروری باتیں (قسط: اول)
عنوان: پیر کے تعلق سے کچھ ضروری باتیں (قسط: اول)
تحریر: مولانا محمد نظام الدین مصباحی قادری
پیش کش: حیدر علی مدنی
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضان غریب نواز، فتحپور

قارئین! پیر کے تعلق سے کچھ ضروری باتیں پیشِ خدمت ہیں، غور سے پڑھیں۔ ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ بغیر پیر کے کامیابی، فلاح نہیں ملتی۔ کیا یہ بات درست ہے؟ اس کا جواب شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا قدس سرہ کی کتاب فتاویٰ افریقہ، ص: 138 تا 160 سے جامع خلاصہ کے ساتھ پیش ہے۔

فلاح دو قسم ہے: اول انجام کار رستگاری اگرچہ معاذ اللہ سبقتِ عذاب کے بعد ہو، یہ عقیدہ اہلِ سنت میں ہر مسلمان کے لیے لازم اور کسی بیعت و مریدی پر موقوف نہیں، اس کے واسطے صرف نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مرشد جاننا بس ہے، بلکہ ابتدائے اسلام میں کسی دور دراز پہاڑ یا گمنام ٹاپو کے رہنے والے غافل، جن کو نبوت کی خبر ہی نہ پہنچی اور دنیا سے صرف توحید پر گئے، بالآخر ان کے لیے بھی یہ فلاح و کامیابی ثابت ہے۔

دوم کامل رستگاری: کہ بے سبقتِ دخولِ جنت ہو، اس کے دو پہلو ہیں: اول وقوع: یہ مذہبِ اہلِ سنت میں محض مشیتِ الٰہی پر ہے، جسے چاہے ایسی فلاح عطا فرمائے اگرچہ لاکھوں کبائر کا مرتکب ہو، اور چاہے تو ایک گناہِ صغیرہ پر گرفت کر لے اگرچہ لاکھوں حسنات رکھتا ہو (اگرچہ وہ ایسا کرے گا نہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ

یہ عدل ہے اور وہ فضل:

يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَ يُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ

دوم امید: یعنی انسان کے اعمال، افعال، اقوال، احوال ایسے ہونا کہ اگر انہی پر خاتمہ ہو تو کرمِ الٰہی سے امیدِ واثق ہو کہ بلا عذاب داخلِ جنت کیا جائے، یہی وہ فلاح ہے جس کی تلاش کا حکم ہے۔ یہ پھر دو قسم ہے:

اول فلاحِ ظاہر: حاشا اس سے وہ مراد نہیں کہ نرے ظاہر داروں کو مطلوب، جن کی نظر صرف اعمالِ جوارح پر مقصور، ظاہر احکامِ شرع سے آراستہ اور معاصی سے منزہ کر لیا اور متقی و مصلح بن گئے، اگرچہ باطن ریا، عجب، حسد، کینہ، تکبر، حُبِ مدح، و حُبِّ جاہ، محبتِ دنیا، طلبِ شہرت، تعظیمِ امرا، تحقیرِ مساکین، اِتّباعِ شہوات، مداہنت، کفرانِ نِعم، حرص، بخل، طولِ امل، سوئے ظن، عنادِ حق، اِصرارِ باطل، مکر، غدر، خیانت، غفلت، قسوت، طمع، تملق، اعتمادِ خلق، نسیانِ خالق، نسیانِ موت، جرأت علی اللہ، نفاق، اِتباعِ شیطان، بندگیِ نفس، رغبتِ آفتائت، کراہتِ عمل، قلتِ خشیت، جزع، عدمِ خشوع، غضب لنفس، تساہل فی اللہ، وغیرہ مہلکات و آفات سے گندہ ہو رہا ہو۔

بالجملہ اس صورت کو فلاح سے علاقہ نہیں، صاف ہلاک ہے بلکہ فلاحِ ظاہر یہ کہ دل و بدن دونوں پر جتنے احکامِ الٰہیہ ہیں سب بجا لائے، نہ کسی کبیرہ کا ارتکاب کرے نہ کسی صغیرہ پر مصر رہے، نفس کے خصائلِ ذمیمہ اگر دفع نہ ہوں تو معطّل رہیں ان پر کار بند نہ ہو مثلاً دل میں بخل ہے تو نفس پر جبر کر کے ہاتھ کشادہ رکھے، حسد ہے تو محسود کی برائی نہ چاہے۔ کہ یہ جہادِ اکبر ہے اور اس کے بعد مؤاخذہ نہیں بلکہ اجرِ عظیم ہے۔ یہ فلاحِ تقویٰ ہے اس سے آدمی سچا متقی ہو جاتا ہے۔ ہم نے فلاحِ ظاہر بایں معنیٰ کہا کہ اس میں جو کچھ کرنا نہ کرنا ہے اس کے احکام ظاہر و واضح ہو چکے ہیں۔

دوم فلاحِ باطنی: کہ قلب و قالب رذائل سے متحلّٰی اور فضائل سے متخلّی کر کے لقا پائے، شرکِ خفی دل سے دور کیے جائیں یہاں تک کہ لا مقصود الا اللہ پھر لا مشهود الا اللہ پھر لا موجود الا اللہ مُتَخَیَّلْ ہو یعنی اولاً ارادہ غیر سے خالی ہو پھر غیر نظر سے معدوم، پھر حقِ حقیقت جلوہ فرمائے کہ وجود اُسی کے لیے ہے باقی سب ظلال و پرتو۔ یہ ملتقائے فلاح و فلاحِ احسان ہے فلاحِ تقویٰ میں تو عذاب سے دوری اور جنت کا یقین تھا اور فلاحِ احسان اس سے اعظم ہے کہ عذاب کا کیا ذکر، کسی قسم کا اندیشہ و غم بھی ان کے پاس نہیں آتا۔ خبردار بے شک اولیاء اللہ بے خوف و بے غم ہیں۔

بہر حال اس فلاح کے لیے جس میں نجات بے عذاب کی امیدِ واثقہ ہی سے پیدا ہو، ضرور پیر و مرشد کی حاجت ہے چاہے فلاحِ ظاہر و تقویٰ ہو یا فلاحِ باطن و فلاحِ احسان ہو۔

اب مرشد کی بھی دو قسم ہے:

اول عام: کہ کلام اللہ و کلام الرسول و کلام ائمہ شریعت و طریقت و کلامِ علمائے دین اہلِ رشد و ہدایت ہے، اسی سلسلہِ صحیحہ پر کہ عوام کا ہادی کلامِ علما، علما کا راہنما کلامِ ائمہ، ائمہ کا مرشد کلامِ رسول، رسول کا پیشوا کلام اللہ جل وعلا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔ فلاحِ ظاہر ہو خواہ فلاحِ باطن، اُسے اس مرشد سے چارہ نہیں، جو اس سے جدا ہے بلاشبہ کافر ہے یا گمراہ اور اس کی عبادت برباد و تباہ۔

دوم خاص: کہ بندہ کسی عالمِ سنی صحیح العقیدہ صحیح الاعمال جامع شرائط بیعت کے ہاتھ میں ہاتھ دے۔ یہ مرشدِ خاص جسے پیر و شیخ کہتے ہیں پھر دو قسم ہے:

اول شیخِ اتصال: اس کے لیے چار شرطیں ہیں:

  1. پہلی شرط یہ ہے کہ شیخ کا سلسلہِ اتصال صحیح حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہو، بیچ میں منقطع نہ ہو کہ ذریعہِ اتصال ناممکن ہے۔

  2. دوسری شرط یہ ہے کہ شیخ سنی صحیح العقیدہ ہو، بد مذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک۔

  3. تیسری شرط یہ ہے کہ عالم ہو یعنی علمِ فقہ اپنی ضرورت کے قابل واقف اور لازم کہ عقائدِ اہلِ سنت سے پورا واقف، کفر و اسلام و ضلالت و ہدایت کے فرق کا خوب عارف ہو۔

  4. چوتھی شرط یہ ہے کہ فاسقِ معلن نہ ہو۔

دوم شیخ ایصال (پہنچانے والا پیر): گزشتہ سطور میں شیخِ اتصال کی جو چار شرائط بیان ہوئی ہیں وہ چاروں شرطیں اور مندرجہ ذیل چیزیں اس میں ہوں۔ مفاسدِ نفس و مکائدِ شیطان و مصائدِ ہوا سے آگاہ ہو دوسرے کی تربیت جانتا ہو اور اپنے مُتَوَسِّل پر شفقتِ تامہ رکھتا ہو کہ اس کے عیوب پر اُسے مطلع کرے، ان کا علاج بتائے جو مشکلات اس راہ میں پیش آئیں حل فرمائے، نہ محض سالک ہو نہ نرا مجذوب۔ عوارف المعارف شریف میں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی قدس سرہ نے فرمایا: یہ دونوں قابلِ پیری نہیں، اس لیے کہ اول خود ہنوز راہ میں ہے اور دوسرا طریقِ تربیت سے غافل، بلکہ مجذوب سالک ہو یا سالکِ مجذوب اور اول اولیٰ ہے؛ اس لیے کہ وہ مراد ہے اور یہ مرید۔

پھر بیعت بھی دو قسم ہے: اول بیعتِ برکت کہ صرف تبرک کے لیے داخلِ سلسلہ ہو جانا، آج کل عام بیعتیں یہی ہیں وہ بھی نیک نیتوں کی، ورنہ بہتوں کی بیعت دنیاوی اغراضِ فاسدہ کے لیے ہوتی ہے وہ خارج از بحث ہیں۔ اس بیعت کے لیے شیخِ اتصال کی شرائطِ اربعہ کا جامع ہونا بس ہے۔ یہ بیعت بھی دنیا و آخرت میں بہت فائدہ مند ہے۔

دوم بیعتِ ارادت: اپنے ارادہ و اختیار سے یکسر باہر ہو کر اپنے آپ کو شیخِ مرشد، ہادیِ برحق، واصلِ بحق کے ہاتھوں میں بالکل سپرد کر دے۔ اُسے مطلقاً اپنا حاکم و مالک و متصرف جانے، اس کے چلانے پر رہِ سلوک چلے، کوئی قدم ہے اُس کی مرضی کے نہ رکھے۔ اس کے لیے اس کے بعض احکام، یا اپنی ذات میں خود اُس کے کچھ کام اگر اس کے نزدیک صحیح نہ معلوم ہوں انہیں افعالِ خضر علیہ الصلاۃ والسلام کے مثل سمجھے، اپنی عقل کا قصور جانے، اس کی کسی بات پر دل میں بھی اعتراض نہ لائے، اپنی ہر مشکل اس پر پیش کرے غرض اس کے ہاتھ میں مردہ بدستِ زندہ ہو کر رہے۔ یہ بیعتِ سالکین ہے اور یہی مقصودِ مشائخِ مرشدین ہے یہی اللہ عزوجل تک پہنچاتی ہے، یہی حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے لی ہے۔ جیسے سیدنا عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پر بیعت کی کہ ہر آسانی و دشواری، ہر خوشی و ناگواری میں حکم سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور صاحبِ حکم کے کسی حکم میں چون و چرا نہ کریں گے۔ مذکورہ بالا گفتگو کے بعد اب جواب ملاحظہ فرمائیں۔ مطلق فلاح کے لیے مرشدِ عام کی قطعاً ضرورت ہے فلاحِ تقویٰ ہو یا فلاحِ احسان اس مرشد سے جدا ہو کر ہرگز نہیں مل سکتی اگرچہ مرشدِ خاص رکھتا ہو بلکہ خود مرشدِ خاص بنتا ہو۔

فلاحِ تقویٰ: اس کے لیے مرشدِ خاص کی ضرورت بایں معنیٰ نہیں کہ بے اس کے یہ فلاح مل ہی نہ سکے جیسا کہ اوپر گزرا، یہ فلاح ظاہر ہے، اس کے احکام واضح ہیں۔ آدمی اپنے علم سے یا علما سے پوچھ پوچھ کر متقی بن سکتا ہے۔ اعمالِ قلب میں اگرچہ بعض دقائق ہیں مگر ممد و معاون کتبِ ائمہ مثلِ امام ابو طالب مکی و امام حجتہ الاسلام غزالی وغیرہما میں مشروح تو ہے بیعتِ خاص بھی اس کی راہ کشادہ، اس کا دروازہ مفتوح۔ (مذکورہ بالا سطور کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ فلاحِ تقویٰ کے لیے مرشدِ خاص کی ضرورت نہیں لہٰذا حضراتِ صوفیاء کرام کا یہ قول کہ بے پیر فلاح نہیں پاتا اس پر یعنی فلاحِ تقویٰ پر صادق نہیں آتا یعنی فلاحِ تقویٰ کا حصول بلا مرشدِ خاص کے ہو سکتا ہے۔)

فلاحِ تقویٰ بلاشبہ فلاح ہے اگر چہ فلاحِ احسان اس سے اعظم و اجل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا [سورۃ النساء: 31]

اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچے تو ہم تمہاری برائیاں مٹا دیں گے اور تمہیں عزت والے مکان میں داخل فرمائیں گے۔

یہ بلا شبہ فوزِ عظیم ہے اہلِ تقویٰ اور اہلِ احسان دونوں کے لیے اپنی معیت کا ارشاد فرمائی:

إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ [سورۃ النحل: 128]

بے شک اللہ متقیوں کے ساتھ ہے اور ان کے جو اہلِ احسان ہیں یہ کیسا فضلِ عظیم ہے اور فلاح کے لیے کیا چاہیے؟

بات یہ ہے کہ تقویٰ عموماً ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے اور اس فلاح یعنی عذاب سے رستگاری کے لیے بفضلِ الٰہی حسبِ وعدۂ صادقہ کافی و وافی۔ احسان یعنی سلوکِ راہِ ولایت۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!