| عنوان: | سچا پیر کون؟ |
|---|---|
| تحریر: | مبلغ اسلام حضرت مولانا محمد عبدالمبین نعمانی قادری |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
زیارتِ قبور کے آداب کیا کیا ہیں، اس عہد میں یہ مسئلہ بڑا نازک بن گیا ہے۔ سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے اس موضوع پر کئی فتاوے قلم بند فرمائے ہیں، ایک مستقل رسالہ بھی تحریر فرمایا ہے جس کا نام ہے: جُمَلُ النَّوْرِ فِي نَهْيِ النِّسَاءِ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ (نور کے جملے، عورتوں کو زیارتِ قبور سے روکنے کے بارے میں)۔ جس میں جوازِ زیارت پر جتنے دلائل عام طور سے پیش کیے جاتے ہیں ان کا جائزہ لیا اور بالآخر حکمِ ممانعت ہی کی صراحت فرمائی۔ آج بھی کچھ لوگ ان سابقہ دلائل کو لے کر جواز کا قول کرتے اور مزارات پر عورتوں کی بھیڑ لگوانے میں دل چسپی لیتے ہیں، ذرا بھی دینی شعور ہو تو اس زمانہ شر و فساد میں کوئی باشعور عورتوں کو مزارات پر جانے کی اجازت ہرگز نہ دے، نماز جو اہم العبادات اور افضل الفرائض ہے جب اس کے لیے صحابہ و تابعین اور ائمہ دین نے عورتوں کو مساجد میں آنے سے منع فرما دیا تو مزاراتِ اولیا پر ان کو جانے دینے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، مگر افسوس کہ مزاراتِ اولیا کو کھانے کمانے کا ذریعہ بنانے والے اور کچھ دینی مزاج سے دور افراد بضد اور زور اس پر لگا رہے ہیں کہ عورتوں کو مزارات پر جانے کی کھلی اجازت دے دی جائے۔ ان کی ان حرکتوں پر بڑا افسوس ہوتا ہے اور زیادہ افسوس تو ان حضرات پر ہوتا ہے جو آج مسلکِ اعلیٰ حضرت کا نعرہ بھی لگاتے ہیں اور مسلکِ رضا سے انحراف کو اپنا شیوہ بنائے ہوئے ہیں۔ جس سے ان لوگوں کو شہ مل رہی ہے جو سرکارِ اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت قدس سرہ سے محض اس لیے بغض و عناد رکھتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت نے مزارات و قبور پر ہونے والی خرافات و بدعات کا قلع قمع کرنے کی بھرپور جدوجہد فرمائی ہے، ہر دو فریق کے لیے مختصرًا یہ کتاب تازیانۂ عبرت ہے۔
اب ذیل میں حرفِ آخر کے طور پر ایک حدیث پیش کی جاتی ہے جو جامع ترمذی میں موجود ہے اور امام ترمذی خود اس کے راوی ہیں۔ ملاحظہ ہو:
حَدَّثَنَا قُتَیْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِیهِ، عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ. وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ. وَقَدْ رَأَیٰ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ هَذَا كَانَ قَبْلَ أَنْ یُرَخِّصَ النَّبِیُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زِیَارَةِ الْقُبُورِ، فَلَمَّا رَخَّصَ دَخَلَ فِي رُخْصَتِهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا كُرِهَ زِیَارَةُ الْقُبُورِ لِلنِّسَاءِ؛ لِقِلَّةِ صَبْرِهِنَّ، وَكَثْرَةِ جَزَعِهِنَّ. [جامع الترمذي، كِتَابُ الْجَنَائِزِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي زِیَارَةِ الْقُبُورِ، ص: 125، ج: 1، رقم الحديث: 1056]
امام ترمذی جو اصحابِ صحاحِ ستہ سے ہیں فرماتے ہیں کہ مجھ سے حدیث بیان کی حضرت قتیبہ نے انھوں نے کہا ہم سے حدیث کی روایت کی ابو عوانہ نے انھوں نے عمر بن ابی سلمہ سے وہ اپنے والد ابوسلمہ سے اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔ امام ترمذی اس حدیث کو بیان کر کے فرماتے ہیں: اس باب میں حضرت ابن عباس اور حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی حدیثیں آئی ہیں۔ پھر اس حدیث کا حکم بیان کرتے ہوئے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور بعض اہل علم کی رائے ہے کہ یہ قول رخصت سے پہلے کا ہے پھر جب سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے زیارتِ قبور کی رخصت دی تو اس میں مرد عورت دونوں شامل ہو گئے۔ اور بعض اہل علم نے فرمایا کہ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو زیارتِ قبور سے اس لیے منع فرمایا کہ ان کے اندر صبر کا مادہ کم ہوتا ہے اور ان کے اندر جزع فزع (چیخ پکار اور گھبراہٹ کا اظہار) بہت ہوتا ہے۔ [جامع ترمذی، ج: 1، ص: 125]
یہ اس سلسلے میں ایک جامع اور معتدل قول ہے جس سے عورتوں کے لیے زیارتِ قبور کی کراہت ہی ثابت ہوتی ہے، لعنت والی حدیث کو جن لوگوں نے قبل رخصت پر محمول کیا ہے وہ بلا دلیل ہے کیوں کہ جب قبل رخصت زیارتِ قبور کی ممانعت فرمائی تو اس میں مرد و عورت دونوں کی شمولیت تھی پھر صرف عورتوں کے لعنت کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا اور قرینِ قیاس یہی ہے کہ جب ممانعت دونوں کو تھی تو رخصت بھی دونوں کو ہوئی، اب عورتوں کو اس رخصت سے خارج کرنے کے لیے سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر لعنت فرمائی پھر علما نے ممانعت کی علت بھی بیان فرمادی کہ ان کے اندر صبر کم ہے اور جزع فزع رونا دھونا، شور شرابے کا مادہ بہت ہے اس لیے انھیں زیارتِ قبور سے منع کرنا ہی ان کے حق میں بہتر ہے۔
اور جن بعض واقعات سے کچھ لوگ استدلال کرتے ہیں وہ صریح نہیں ہیں کہ بعدِ لعنت کے ہیں یا قبلِ لعنت، رخصت کے بعد کے۔ اس لیے قابلِ التفات نہیں۔
پھر بعد رخصت جب عورتوں کو صحابہ و تابعین اور ائمہ دین نے مساجد میں فرض عبادت کے لیے آنے سے روک دیا تو زیارتِ قبور کی رخصت کا کہاں سوال پیدا ہوتا ہے۔ جب کہ مساجد میں اہم فرائض کی ادائیگی مقصود تھی اور وہاں جزع فزع کا بھی اندیشہ نہ تھا اس لیے عورتوں کے لیے زیارتِ قبور کی ممانعت ہی قرین مصلحت ہے اور حدیثِ لعنت کا تقاضا بھی۔
پھر عرض ہے کہ جو لوگ بہت کھینچ تان کر عورتوں کے لیے جوازِ زیارتِ قبور کا قول کرتے ہیں اور انھیں قبور و مزاراتِ اولیا پر جانے کی اجازت دیتے ہیں وہ بتائیں کہ یہ رخصت کیا پردے کے ساتھ ہے یا بے پردگی کے ساتھ، عام رواج بے پردگی کا ہے اور اجازت کے بعد انھیں با پردہ رہنے، یا پردہ لانے کا پابند کون بنائے گا، مرخصین (رخصت دینے والے) یا مجاورین و گدی نشیں۔ آج کل جو عورتیں عرس یا بغیر عرس میں مزاراتِ اولیاء پر حاضری دیتی ہیں وہاں کی بھیڑ بھاڑ میں اختلاط کے ساتھ شرکت کرتی ہیں ان کا کیا حال ہے ذرا غور تو کریں، ذیل میں اس کا ایک نقشہ پیش کیا جاتا ہے:
-
اکثر عورتیں بے پردہ جاتی ہیں چہرے کا پردہ تو جانے دیجیے، آدھا سر ڈھکا آدھا کھلا بلکہ بعضوں کا پورا سر بھی کھلا ہوتا ہے جو حرام ہے۔
-
کان مع زیورات کے کھلے ہوتے ہیں یہ بھی حرام و گناہ ہے۔
-
کہنی سے کلائی تک تو نوے فیصد بلکہ اکثر عورتوں کا ہاتھ کھلا ہوتا ہے، کون اس کو جائز کہے گا۔
-
گردن کا حصہ بھی بالعموم کھلا ہوتا ہے کہ گردن کا پردہ بھی فرض ہے۔
-
سر کے پیچھے بالوں کی لٹیں یا منتشر بال کھلے ہوتے ہیں، اس کا حرام ہونا بھی ظاہر و واضح ہے۔
-
عورتیں بالعموم چست لباس پہنے ہوتی ہیں اور جو دوپٹہ اوڑھتی بھی ہیں وہ اس قدر باریک ہوتا ہے کہ سر کے بال اور اعضا چمکتے ہوتے ہیں جو بالکل حرام و ناجائز ہے۔
-
کتنی عورتیں بغیر محرم کے ہی عرس و مزارات تک جاتی ہیں یہ علیحدہ گناہ ہے۔
-
بڑی بچیاں جو بلوغ کے قریب ہوتی ہیں وہ تو بہت زیادہ بے پردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ جب کہ ان کا بھی پردہ واجب ہے اور گارجین گنہ گار۔
یہ وہ بے پردگیاں اور بے حیائیاں ہیں جن سے زائر ات کا بچنا شاذ و نادر ہی ہے، ایسے حالات میں جو حضرات عورتوں کو قبروں اور مزارات پر جانے کی وکالت کرتے ہیں وہ کیا اولیاء اللہ کے کردار کی ترجمانی کرتے ہیں یا فحاشی و بے حیائی کو فروغ دینے میں حصہ بناتے ہیں۔ عورتوں مردوں کا خلط ملط، مجاوروں کا ان بے پردہ عورتوں سے کھلے عام ملنا جلنا، نام نہاد پیر صاحبان کا بھی بسا اوقات ان بے پردہ عورتوں سے ملنا، مصافحہ کرنا، ہاتھ پاؤں چوموانا ان سب پر مستزاد ہے۔
جوازِ زیارتِ نسواں پر زور دینے والے حضرات ذرا اسلام اور شریعتِ مطہرہ کو آواز دیں اور اپنی غیرتِ دینی کو واسطہ بنائیں تو شاید اپنی اس غلط فکر اور غیر شرعی سوچ سے ضرور توبہ کو کام میں لائیں۔ بازاروں میں عورتوں کو کھلے عام جانے سے ہم روک نہیں پاتے، کالج اور اسکول نے جو آفت ڈھائی ہے اور تعلیم کے نام پر بے پردگی کو جو فروغ مل رہا ہے اسے ہم بند نہیں کر پاتے، کم از کم اولیاء اللہ، عارفانِ حق جیسی پاکیزہ ہستیوں کے مقدس آستانوں کو تو محفوظ رکھیں ان کے یہاں کی ایمانی و روحانی فضا کو تو مکدر نہ کریں تاکہ عقیدت مند حضرات ان کے فیوض و برکات سے محروم نہ رہیں کہ اعراس کے انعقاد اور مزاراتِ بزرگانِ دین پر حاضری کا اصل مقصد یہی ہے۔ افسوس کہ آج مزاراتِ اولیاء پر بھیڑ بھاڑ، میلا ٹھیلا اور اختلاطِ مرد و زن دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اصل مقصد ہی کو ٹھکرا دیا گیا ہے بلکہ اسی کو بنیاد بنا کر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ عرس بہت کامیاب رہا۔
غیر شرعی اور جاہل پیروں فقیروں کی خیر نہیں
جاہل، دین و مذہب سے آزاد فقیروں اور جھوٹے پیروں کا آج کل بہت دور دورہ ہے کچھ تو وہ ہیں کہ کفریات نہیں بکتے بس شریعت کا اتنا ہی لحاظ کرتے ہیں، باقی عملی دنیا میں ایسا لگتا ہے کہ ان کے یہاں سب کچھ جائز ہے ان میں بعض نام کے عالم بھی ہوتے ہیں اور بعض عالم نما ہر نمازوں کی پابندی نہیں اور اگر نماز پڑھ لی تو جماعت کا کچھ بھی خیال نہیں جب کہ مسجد انہیں کی، امام و مؤذن انہیں کے، دوری بھی نہیں اور بظاہر شرعی عذر بھی نہیں، بھلا یہ لوگ مریدین پر کیا اثر ڈالیں گے۔ عورتوں سے بے پردگی ان کے یہاں بھی عام ہے حتی کہ بعض مقامات پر قوالی کی محفلوں میں بے پردہ عورتیں نذرانے لٹاتی اور پیر صاحب کے پیر بھی چھوتی چومتی نظر آتی ہیں اور پیر صاحب ہیں کہ منع کیا کریں مزے لے کر انھیں موقع عنایت فرماتے ہیں، پردے کی تلقین، نماز کی تاکید تو بہت دور کی بات ہے۔ نیز دینی تعلیم اور احکامِ شرع کی پابندی کی طرف توجہ دلانا تو خواب و خیال کی بات ہے۔
انھی میں اپنی تصویریں بنوا کر مریدین کے گھروں میں آویزاں کرانا بھی ہے جب کہ جاندار کی تصویریں لگوانا بالکل حرام ہے، بعض پیر مریدین سے اپنے آگے سجدہ کراتے ہیں پھر تو مرنے کے بعد ضرور مریدین ان کی قبروں کو سجدہ کریں گے۔ سجدہ خدا کے علاوہ کسی کو زندگی میں بھی حرام ہے اور مرنے کے بعد بھی۔ بعض پیروں کے دفتر میں چاروں طرف بزرگوں کی تصاویر دیکھی جاتی ہیں، یہ بھی صریح حرام ہے اور بت پرستی کا پیش خیمہ، اور فروغِ وہابیت کا ذریعہ بھی کہ وہابی لوگ انھیں باتوں کو پیش کر کے اپنی طرف بلاتے ہیں اور پھر عقیدہ خراب کرتے ہیں۔
دوسری طرف وہ جھوٹے اجڈ اور مادر پدر آزاد پیر فقیر ہیں جو کھلے عام شریعت کا مذاق اڑاتے ہیں ان کی تعداد بھی کچھ کم نہیں بہت ہے، یوں کہ یہ شریعت کی کسی بات کا مریدین کو حکم ہی نہیں دیتے، نہ خود عمل کرتے ہیں اس لیے جاہل عوام خاص طور سے جاہل عورتیں بہت جلد ان کی مرید بن جاتی ہیں کہ بغیر نماز روزے کے مفت میں جنت مل جائے گی چلو یہی پیر اچھا ہے کون روزے نماز کے چکر میں پڑنے جائے۔ ایسے پیر مرید دونوں ہی قیامت میں بری مار مارے جائیں گے ان میں ہر ایک کا ٹھکانا جہنم ہوگا، ایسے پیروں فقیروں کی حالت کیا ہے، ان کے عقائد و نظریات کیا ہیں جو مجھ تک پہنچے ہیں ان کی ایک جھلک ملاحظہ ہو:
-
شریعت اور ہے طریقت اور، ہم طریقت والے ہیں، پانچ وقت کی نماز تو شریعت والے پڑھتے ہیں یہ ظاہر بین مولوی کیا جانیں کہ طریقت کیا ہے، ہم تو ہر وقت نماز میں رہتے ہیں یہ صرف پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں ہمارا ان کا کیا مقابلہ؟ اس طرح کی گمراہی بہت عام ہوتی جا رہی ہے۔
-
روزہ وہ رکھے جس کے پاس کھانے پینے کو نہ ہو، ہمیں اللہ نے کھانے کی نعمت دی ہے ہمیں روزہ رکھنے کی کیا ضرورت؟ جو بھوکا ہو وہ روزہ رکھے، اگر ان کے کسی مرید نے روزہ رکھ لیا تو یہ توڑوا بھی دیتے ہیں۔
-
ظاہر بین مولوی لوگ تیس ہی پارے کا قرآن مانتے ہیں دس پارے تو ہمارے سینوں میں ہیں ان کو اس کی کیا خبر؟ جب کہ ایسا کرنا صریح کفر ہے کہ یہ فرضِ الٰہی کی توہین ہے۔
-
قربانی کیا ہے؟ بلا وجہ جانوروں کی جان لینا ہے، یہ کون سا اسلام ہے؟
-
اس کے بر خلاف ان میں بعض تو وہ ہیں جو مرغے مرغی تک کی قربانی کے قائل ہیں العیاذ باللہ تعالیٰ۔
-
کچھ کہتے ہیں پیر بھی وہی خدا بھی وہی یا کہتے ہیں پیر بھی تو خدا ہی ہے معاذ اللہ۔
-
ایک نئے ڈھنگ کے پیر کا آج کل اور پتہ چلا ہے جو ایک رکعت میں تین سجدہ کراتا ہے اور کہتا ہے دو خدا، ایک پیر کا۔
یہ اور اس طرح کے اور بھی نظریات یہ جھوٹے پیر رکھتے ہیں اور ان کے مرید بھی ان سے سن کر اسی روش پر چلتے ہیں ان کے کفر میں کیا شک؟ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے پیروں کا مکمل بائیکاٹ کریں، ان کے یہاں بیاہ شادی میں ہرگز شرکت نہ کریں، ان سے میل جول نہ رکھیں، وہ مر جائیں تو ان کی جنازہ نہ پڑھیں، نہ مسلمانوں کے قبرستان میں انھیں دفن کریں، اس کے لیے پوری جرات کا مظاہرہ کریں اس سلسلے میں ذرا بھی تکلف نہ کریں۔
چند سال پیشتر ہمارے یہاں چہر یا کوٹ میں ایک پیر آیا چند آدمیوں کو مرید کر ڈالا، رشتہ داری بھی قائم کرلی، اس پیر اور مرید پر الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور سے شارحِ بخاری فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ (سابق صدر مفتی) کا فتویٰ آیا جو مضمون کے آخر میں نقل کر دیا گیا ہے اس فتوے میں ہے کہ یہ لوگ توبہ و تجدید ایمان اور تجدیدِ نکاح کریں، اگر ایسا نہیں کرتے تو ان سے قطع تعلق رکھا جائے، مریں تو انہیں بطریقِ مسنون دفن نہ کیا جائے، ایک گڑھے میں کہیں داب دیا جائے، چنانچہ ایک مرید کی موت واقع ہوئی خاندان والوں نے یوں ہی چھوڑ دیا۔ جب لاش سڑنے لگی تو اس کے بیٹے بہو نے گھر کے دیگر افراد سے بہت منت سماجت کی کہ اس کی جنازہ پڑھ کر قبرستان میں دفن کر دیا جائے مگر ان کی ایک نہ سنی گئی، بیٹے بہو کو توبہ کرائی گئی، دوبارہ نکاح کرایا گیا تب ایک گاڑی میں اس لاش کو لے جا کر ایک ندی کے کنارے گڑھا کھود کر داب دیا گیا۔ الحمد للہ اس کے بہتر اثرات ظاہر ہوئے، نہ وہ گمراہ گر پیر آج تک آیا نہ اس سے کوئی مرید ہوا بلکہ اس پیر کا یہاں سے صفایا ہی ہو گیا۔ دیگر مقامات کے اہلِ ایمان بھی اس پر عمل کریں ورنہ ان کے کفریات کو جان کر جو انہیں مسلمان سمجھے گا اور نمازِ جنازہ پڑھے گا اس کا حکم بھی وہی ہو گا جو اس مرتد اور دشمنِ اسلام کا بتایا گیا ہے۔ اسلام کا مذاق اڑانے والے اور شریعت کی مخالفت کرنے والے جھوٹی طریقت کا دم بھرنے والے پیر آج کل خوب پھیل رہے ہیں، ان کی خبر لینا، ان کو معاشرے سے دور رکھنا ہر مسلمان پر لازمی اور ضروری ہے۔
مسئولہ: انیس احمد، ولی نگر چڑیا کوٹ، مئو، یوپی۔ ۴؍صفر ۱۴۲۱ھ
زید اپنے آپ کو پیر کہتا ہے اور کچھ لوگ اس کے مرید بھی ہیں، لیکن پیر کا حال یہ ہے کہ نماز کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ نماز کا اصل معنی ہے: “نہ مانج” یعنی اپنی پیشانی نہ مانجو، اور فرض تو اللہ کے لیے ادا کر لیے اور سنت رسول اللہ کے لیے، تو اپنے لیے کیا کیا، اس لیے اپنی نماز پڑھو، اس کا طریقہ یہ بتایا کہ نیت کی میں نے نماز کی حضرت محمد طاہر کے اللہ اکبر، واضح ہو کہ محمد طاہر پیر کے ایک مرید کا نام ہے۔ پیر صاحب نے اپنی نماز پڑھنے کا طریقہ اپنے مرید کو بتایا ہے اور اپنے آپ کو غوث و خواجہ سے بڑا بتاتا ہے کہ میں ان لوگوں سے بڑا ہوں۔ اس پیر سے جب پوچھا گیا کہ اللہ موجود ہے یا نہیں؟ تو اس نے کہا کہ اللہ لا موجود ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں روزہ بھی نہیں رکھتا، خود بھی دن کے اوقات میں کھانا بنا کر کھاتا ہے، اور مرید کو بھی اس کی تعلیم دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ بھوکا رہنے سے کیا فائدہ جب کہ کھانے کا انتظام ہے۔ بھوکا تو وہ شخص رہے جس کے پاس کھانے کے لیے نہ ہو۔ قربانی کے متعلق لوگوں کو تعلیم دیتا ہے کہ لوگ قربانیاں کرتے ہیں، اور جانور کو ذبح کرتے ہیں تو کوئی اپنے ہاتھ کاٹے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے تو جانور کو تکلیف دینے سے کیا فائدہ؟ اس پیر کے ایک مرید مقبول احمد ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بتاؤ کہ قرآن کو مانتے ہو؟ حدیث کو مانتے ہو؟ تو پہلے جو پیر کہے گا اس کو مانو گے یا قرآن و حدیث کے حکم کو مانو گے۔ تو مرید برجستہ جواب دیتا ہے کہ پہلے اپنے پیر کے حکم کو مانیں گے، بعد میں قرآن و حدیث کو، تو ایسے پیر و مرید کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب: یہ پیر جس کا ذکر سوال میں ہے، مسلمان نہیں بدترین کافر و مرتد ہے اس پیر نے نماز کی اور روزے کی فرضیت سے انکار نہ صرف انکار بلکہ دونوں کا مذاق اڑایا اس کی جرأت یہاں تک بڑھی کہ اللہ کے وجود کا انکار کیا اور نماز کی نیت میں جہاں اللہ کے واسطے کہا جاتا ہے وہاں طاہر کا نام بڑھایا۔ اس پیر سے مرید ہونا حرام بلکہ اس کے کفریہ عقائد پر مطلع ہو کر مرید ہونا کفر۔ جو مرید ہو چکے ہیں ان پر فرض ہے کہ اس کی بیعت فسخ کریں۔ مرید ہونا تو دور کی بات ہے، اس سے میل جول، سلام کلام حرام اور اگر یہ مر جائے تو اس کے کفن دفن میں شریک ہونا حرام۔ مسلمانوں کے قبرستان میں اس کو کفن دفن کرنا حرام۔ یہ مکار پیر غوث و خواجہ سے افضل کیا ہوگا، ان حضرات کے غلام ادنیٰ مسلمان کی جوتیوں کی خاک کے برابر نہیں، ایسوں کے بارے میں فرمایا گیا:
أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ [سورۃ الاعراف: 179]
یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ۔ جس نے یہ کہا پہلے اپنے پیر کے حکم کو مانیں گے، بعد میں قرآن و حدیث کو، یہ بھی اسلام سے خارج ہو کر کافر و مرتد ہو گیا۔ اس بد تمیز نے ایک جاہل کافر کافرگر، مرتد، مرتدگر پیر کے حکم کو قرآن و حدیث کے حکم پر مقدم رکھا، یہ کفرِ صریح ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [یہ فتویٰ حضور شارح بخاری نے وصال سے ایک روز قبل تحریر فرمایا ہے، محمد نسیم مصباحی] [فتاویٰ شارح بخاری کتاب العقائد، عقائد متعلقہ ذات و صفات الٰہی، جلد اول ص: 252، 253]
مذکورہ فتوے سے واضح ہو جاتا ہے کہ جس پیر کا ایسا یا اس سے ملتا جلتا عقیدہ ہو اس کا بھی وہی حکم ہے جو اس فتوے میں مذکور ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ کسی کو پیر بنانے سے پہلے اس کے عقائد و اعمال کا اچھی طرح جائزہ لے لیں۔ ورنہ آنکھ بند کر کے کسی جاہل اور کفریات بکنے والے نام نہاد پیر کو جان بوجھ کر اپنا پیر بنانا بھی اپنے کو کفر کے گڑھے میں ڈالنا اور اپنی عاقبت برباد کرنا ہے۔
