Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اعلیٰ حضرت اور رد بدعات (قسط: دوم)|محمد فیض العارفین رضوی

اعلیٰ حضرت اور رد بدعات (قسط: دوم)
عنوان: اعلیٰ حضرت اور رد بدعات (قسط: دوم)
تحریر: محمد فیض العارفین رضوی
پیش کش: عائشہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

فرضی مزارات بنوانا

بعض جاہل لوگوں نے پیری مریدی کو اپنا دھندا بنا رکھا ہے اور ان کو نماز روزہ سے کوئی مطلب نہیں، احکامِ شریعت سے کوئی سروکار نہیں، ان کا اصل مقصد صرف و صرف لوگوں سے مال لوٹنا ہوتا ہے اور یہ لوگ کسی ولی اللہ کا فرضی مزار بنا کر اس پر چادر وغیرہ چڑھاتے ہیں، اس پر فاتحہ پڑھتے ہیں اور اس کے ساتھ اصل مزار جیسا سلوک کرتے ہیں، پھر حقیقتِ حال سے ناواقف لوگوں کی آمد و رفت اس جعلی مزار پر شروع ہو جاتی ہے۔ عوامِ اہلِ سنت کو ایسے لوگوں کا سختی سے بائیکاٹ کرنا ہوگا۔

امام اہلِ سنت نے فرضی مزارات کا حکمِ شرعی بیان کرتے ہوئے فرمایا: فرضی مزار بنانا اور اس کے ساتھ اصل جیسا معاملہ کرنا ناجائز و بدعت ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، کتاب الجنائز، باب احوال قربِ موت، ج: 7، ص: 252]

پردے کے بارے میں پیر اور غیر پیر کا شرعی حکم

پیروں کے پاس بے پردہ جانے والی عورتوں پر امام اہلِ سنت نے سخت برہمی کا اظہار اور پردے کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: پردہ کے باب میں پیر و غیر پیر ہر اجنبی کا حکم یکساں ہے، جوان عورت کو چہرہ کھول کر بھی سامنے آنا منع ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، کتاب الحظر والاباحۃ، ج: 15، ص: 303]

اسی طرح ایک مقام پر مزید ارشاد فرماتے ہیں: جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے اگر ان میں سے کچھ کھلا ہو جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز تو اس طور پر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے چاہے وہ پیر ہو یا عالم۔

بارگاہِ رسالت میں حاضری کے آداب

امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی بارگاہِ رسالت میں حاضری کے آداب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: خبر دار! روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جالی شریف کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچو بلکہ جالی شریف سے چار ہاتھ فاصلے سے زیادہ قریب نہ جاؤ، یہ ان کی رحمت کیا کم ہے کہ تم کو اپنے حضور بلایا، اپنے مواجہہِ اقدس میں جگہ بخشی۔ [فتاویٰ رضویہ، کتاب الحج، ج: 8، ص: 602، رسالہ: انوار البشارہ فی مسائل الحج والزیارہ]

ایک اور مقام پر مزید ارشاد فرمایا: روضۂ انور کا طواف نہ کرو نہ سجدہ، نہ اتنا جھکنا کہ رکوع کے برابر ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، کتاب الحج، ج: 7، ص: 604، رسالہ: انوار البشارہ فی مسائل الحج والزیارہ]

مروجہ تعزیہ داری

امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی نے مروجہ تعزیہ داری کے بارے میں ارشاد فرمایا: تعزیہ جس طرح رائج ہے یہ ضرور بدعتِ شیعہ ہے، شیعوں سے تشبیہ کے سبب بھی اس کی اجازت نہیں، یہ جو باجے، تاشے، مرثیہ، ماتم، براق پری کی تصویریں، تعزیے سے مرادیں مانگنا، اس کی منتیں ماننا، اسے جھک جھک کر سلام کرنا، سجدہ کرنا وغیرہ وغیرہ اس میں بدعاتِ کثیرہ ہو گئی ہیں اور اب اس کا نام تعزیہ داری ہے اور یہ ضرور حرام ہے۔

نیاز و لنگر وغیرہ لٹانا

چھتوں وغیرہ سے روٹیاں، کھانے کی تھیلیاں اور بسکٹ نمکین پھینکنے والوں اور لوٹنے والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا: یہ خیرات نہیں شرور و سیئات ہے اور نہ ارادہ وجہ اللہ کی یہ صورت ہے بلکہ ناموری اور دکھاوے کی اور وہ حرام ہے، رزق کی بے ادبی اور ضائع کرنا گناہ ہے۔ [احکامِ شریعت، حصہ اول، خیرات کا ناجائز طریقہ، ص: 132]

ان تمام مذکورہ باتوں سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی نے کس طرح مروجہ امور و بدعات اور خرافات کا ردِ بلیغ کیا اور عوام کو متنبہ فرمایا۔ امام اہلِ سنت نے نہ صرف امتِ مسلمہ کے عقائد و نظریات کی حفاظت کی بلکہ انہیں ایک بڑے دلدل میں پھنسنے سے بھی بچایا۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے شریعتِ مطہرہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، صحابہ کرام سے سچی محبت اور اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور بالخصوص ہمیں ان مروجہ امور و بدعات اور خرافات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔ [ماہنامہ افکار، حصہ: 3، ص: 48/51]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!