Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

شیعہ امامیہ اور اصولِ روایت: عرض و نقد (قسط: اول)|مفتی ازہار احمد امجدی ازہری

شیعہ امامیہ اور اصولِ روایت: عرض و نقد (قسط: اول)
عنوان: شیعہ امامیہ اور اصولِ روایت: عرض و نقد (قسط: اول)
تحریر: مفتی ازہار احمد امجدی ازہری
پیش کش: مفتیہ ام ہانی امجدی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

مسلمانوں کے بہتر فرقوں میں سے ایک بہت بڑا فرقہ شیعہ کا ہے۔ شیعہ کے بھی بہت فرقے ہیں، ان میں سے ایک اہم فرقہ شیعہ امامیہ ہے جسے اثنا عشریہ بھی کہا جاتا ہے، اس فرقہ نے کس حد تک اصولِ روایت کے متعلق تصنیف و تالیف میں حصہ لیا ہے۔ احادیث کی تعریفات وغیرہ میں اہل سنت و جماعت سے کسی قدر ہم آہنگی ہے، مگر عموماً اہل سنت و جماعت سے ہٹ کر ان کے اصول و ضوابط کا ایک خاص رنگ ڈھنگ ہے، اسی کے مطابق وہ حدیث کو قبول اور رد کرتے ہیں، شاید اسی وجہ سے وہ اپنے آپ کو اس فن کا موجد سمجھتے ہوئے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اس فن میں وہ لوگ سابقین اولین میں سے ہیں، اس پر دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ امام ابو عبداللہ بن محمد بن حمد حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے ’معرفۃ علوم الحدیث‘ تصنیف فرمائی وہ یہ شیعہ تھے، ان کی وفات چار سو پانچ ہجری (405ھ) میں ہوئی۔

اگر امام حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ کے بارے میں ان کا یہ دعویٰ قبول کر بھی لیا جائے تو بھی ان کی یہ بات زمینی حقیقت کے بالکل خلاف ہے، کیوں کہ اہل سنت و جماعت کے محدثین و فقہا اس فن کے متعلق 360ھ سے پہلے ہی علم فقہ، علم اصولِ فقہ وغیرہ میں مختلف طریقے سے گفتگو کر چکے ہیں اور اہل سنت و جماعت کی جانب سے مستقل طور پر اس فن میں پہلی کتاب بنام ’المحدث الفاصل بین الراوی والواعی‘ تصنیف کی جا چکی ہے۔ اس کتاب کے مصنف کا اسم گرامی ابو محمد حسن بن عبد الرحمن رامہرمزی رحمہ اللہ ہے۔ آپ کی وفات تین سو ساٹھ ہجری (360ھ) میں ہوئی۔ شیعہ امامیہ کا اس فن میں سبقت پر امام حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ سے استدلال کرنا چند وجوہ سے درست نہیں:

  1. جس امام حاکم رحمہ اللہ کو شیعہ اپنے فرقے کا سمجھتے ہیں، یہ صاحب ’معرفۃ علوم الحدیث‘ نہیں ہیں، بلکہ وہ صاحب ’مناقب الرضا علیہ السلام‘ ہیں، جن کا نام ابو عبد الرحمن بن احمد خزاعی نیشاپوری ہے۔

  2. شیعہ امامیہ کے شیخ عبد اللہ مامتانی نے اپنی کتاب ’مقباس الہدایہ فی علم الروایہ‘ میں صراحت کی ہے کہ امام حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ علمائے عامہ یعنی علمائے اہل سنت و جماعت سے ہیں۔

  3. امام حاکم رحمہ اللہ صاحب ’معرفۃ علوم الحدیث‘ کا شیعیت کی طرف میلان تھا، مگر وہ رافضی نہیں تھے۔ وہ بہرحال شیخین کریمین یعنی خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق و خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی تعظیم کرتے تھے۔

بہرکیف اس فن کے موجد اور اس کو فروغ دینے والے اہل سنت و جماعت ہی ہیں۔ ہاں، شیعہ امامیہ کے علماء نے رجالِ حدیث اور متونِ احادیث پر کتابیں لکھی ہیں اور ان کے کچھ خاص اصول و ضوابط بھی ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ میں اپنے اس مضمون میں پہلے نقد و جرح کے ساتھ حدیث و سنت کی تعریف، پھر عدد راوی اور قبول و رد کے اعتبار سے احادیث کی تقسیم وغیرہ پیش کروں گا، اس کے بعد رجال حدیث اور متون حدیث پر تصنیف کی ہوئی کتابوں کے متعلق گفتگو ہوگی۔ وما توفیقی الا باللہ، علیہ توکلت والیہ انیب۔

شیعہ امامیہ کے شیخ عبد اللہ مامتانی نے لکھا ہے:

حدیث کی لغوی تعریف: حدیث کلام کا مرادف ہے۔ حدیث کی اصطلاحی تعریف: عرفِ شرع میں حدیث اس کو کہتے ہیں جس کی اضافت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی گئی ہو۔ شیعہ امامیہ کے بعض علماء نے حدیث کی اصطلاحی تعریف یوں کی ہے: حدیث۔۔۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!