| عنوان: | ڈاکٹر طاہر القادری اپنی تحقیقات کے آئینے میں |
|---|---|
| تحریر: | پیر محمد افضل قادری |
| پیش کش: | مہ جبین |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
ڈاکٹر طاہر القادری اپنی تحقیقات کے آئینے میں
ڈاکٹر طاہر القادری نے 1985ء میں محض مغرب زدہ عورتوں میں مقبولیت حاصل کرنے کی غرض سے (جیسا کہ انہوں نے ایک مجلس میں اعتراف بھی کیا تھا) احادیثِ صریحہ اور اجماعِ ائمہ اربعہ کے خلاف اور عورت کی دیت (خون بہا) کو مرد کے برابر قرار دیا تو ڈاکٹر موصوف کے استاذ غزالیِ زماں علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالے اسلام میں “عورت کی دیت میں” ڈاکٹر موصوف کے اس نظریے کو صراطِ مستقیم سے انحراف اور قرآنی احکام کو مسخ کرنے کی سعیِ مذموم قرار دیا۔ جبکہ ڈاکٹر موصوف کے دوسرے استاذ، استاذ العلماء حضرت مولانا عطاء محمد بندیالوی گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دیت کے موضوع پر مطبوعہ رسالے میں ڈاکٹر موصوف کی تکفیر کی۔
پھر ڈاکٹر موصوف نے (نوائے وقت 8 جون 1989ء کے مطابق) اثنا عشری شیعہ کے مسلمہ پیشوا خمینی ایران کے ماتمی اجلاس میں سیاہ چوغہ پہن کر شرکت کی اور کہا امام خمینی تاریخِ اسلام کے شجاع اور جری مردانِ حق میں سے تھے، جن کا جینا علی رضی اللہ عنہ اور مرنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرح ہے۔ ان سے محبت کا تقاضا ہے ہر بچہ خمینی بن جائے۔ حالانکہ اہلِ علم سے مخفی نہیں کہ خمینی عقائد میں اثنا عشری ملا باقر مجلسی کا پیروکار تھا اور ملا باقر مجلسی نے اپنی کتب میں ام المومنین حضرت عائشہ اور ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی شانِ اقدس میں انتہائی غلیظ تبرے بکے ہیں، تین چار صحابہ کرام کو چھوڑ کر حضرت ابوبکر، عمر و عثمان رضی اللہ عنہم سمیت تمام صحابہ کو کافر و مرتد قرار دیا ہے۔ اسی طرح قرآن پاک کو گھڑا ہوا قرار دے کر اسلام کی بنیاد ختم کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔
پھر ڈاکٹر موصوف نے برطانیہ میں دیوبندی فرقہ کے ایک عالم کے پیچھے نماز پڑھی اور علمائے دیوبند کی اقتدا میں نماز پڑھنے کے جواز کا فتویٰ دیا جبکہ حرمین شریفین کے تین درجن اور پاک و ہند کے تین سو اکابر علماء نے حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ میں انتہائی گستاخانہ عقائد کی بنا پر اکابر علمائے دیوبند اور ان عقائد میں ان کے متبعین کو کافر و مرتد قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر موصوف نے اپنے خطابات میں یہود و نصاریٰ کو بھی مومنین قرار دیا اور منہاج القرآن کی مسجد میں انہیں عبادت کرنے کی کھلی اجازت بخشی اور اپنی کتب “اسلام اور تصورِ اعتدال و توازن” اور “فرقہ واریت کا خاتمہ کیونکر ممکن ہے” میں شیعہ، سنی اور وہابی اختلاف کو فروعی قرار دے کر سب فرقوں کو اصول میں مسلمان قرار دیا تو مرکزِ اہلِ سنت بریلی شریف کے چشم و چراغ مفتیِ اسلام حضرت مولانا علامہ محمد اختر رضا خان نے ڈاکٹر موصوف کے کافر و مرتد ہونے کا فتویٰ جاری کیا۔
ڈاکٹر موصوف یک مشت داڑھی سنتِ رسول جو کہ واجبِ شرعی کا درجہ رکھتی ہے، کے بارے میں بھی الحاد کا شکار ہو چکا ہے، اپنی یک مشت داڑھی بھی صحیح بخاری میں موجود حدیثِ نبوی کی مخالفت کرتے ہوئے منڈوا کر چھوٹی کرادی ہے۔
وَفِّرُوا اللِّحَى
یعنی تم داڑھیاں بڑھاؤ۔ اور منہاج سینٹروں کے اندر بھی داڑھی کترے امام و خطیب مقرر کیے ہوئے ہیں جو مسلمانوں کی نمازوں کو برباد کر رہے ہیں کیونکہ یک مشت داڑھی سے کم داڑھی والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے جس کا لوٹانا واجب ہے۔ [فتاویٰ رضویہ]
اور یکم اکتوبر 2011 کو اڈیالہ جیل راولپنڈی میں پرویز علی شاہ نامی جج کی طرف سے محافظِ قانونِ ناموسِ رسالت اور دورِ حاضر کے غازیِ اعظم حضرت ملک محمد ممتاز قادری کو دوہری سزائے موت کے فیصلے سے صرف 6 روز قبل 25 ستمبر 2011ء کو اے آر وائی پر ایک پرویز جاوید میر نامی قادیانی کو انٹرویو دیتے ہوئے امتِ مسلمہ اور پاکستان کے علماء و مشائخ کے نظریات کے علی الرغم درج ذیل تین شیطانی نکات پر زور دے کر کفر نوازی کی انتہا کردی اور پاکستان میں جاری تحریکِ تحفظِ ناموسِ رسالت کے خلاف کھلی جارحیت کا ارتکاب کیا۔
ڈاکٹر موصوف کے تین شیطانی نکات
-
اگر کوئی فی الواقع گستاخِ رسول ہو تو اسے قتل کرنے والا مجرم ہے اور اس کی سزا “سزائے موت” ہے۔
-
سابق گورنر سلمان تاثیر گستاخِ رسول نہیں تھا۔
-
ممتاز قادری قاتل ہے اور اس جرم کی سزا “سزائے موت” ہے۔
ڈاکٹر موصوف کا پہلا شیطانی نکتہ کہ گستاخِ رسول کو قتل کرنے والے کی سزا “سزائے موت” ہے۔
یہ تینوں نکات شیطانی ہیں لیکن پہلا نکتہ انتہائی خوفناک ہے کیونکہ اس کی رو سے حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام جنہوں نے گستاخانِ رسول کو ماورائے عدالت محض جذباتِ ایمانی کی بنیاد پر قتل کردیا تھا، مجرم اور سزائے موت کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔
اَلْعِيَاذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ
جبکہ حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام مواقع پر ان خونوں کو رائیگاں قرار دیا اور ان غازیانِ اسلام کو نہ مجرم قرار دیا اور نہ قصاص و دیت کا حکم صادر فرمایا۔ دیکھیے چند مندرجہ ذیل احادیثِ نبویہ:
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرمایا کہ ہمیں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک نابینا کی امِ ولد (ایسی لونڈی جس سے اولاد پیدا ہو جائے) تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز باتیں کرتی تھی، وہ (نابینا صحابی) اسے منع کرتے تو باز نہ آتی، اسے ڈانٹتے تو وہ ڈانٹ کو قبول نہ کرتی۔ چنانچہ ایک رات وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخیاں کرنے لگی تو انہوں نے چھرا لے کر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ بتایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ جس شخص نے بھی یہ کام کیا ہے میرا اس پر جو حق ہے کھڑا ہو جائے تو وہ نابینا صحابی کھڑے ہو گئے، لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے گرتے پڑتے (آگے آئے) حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے اور عرض کیا۔ میں اس کا قاتل ہوں۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیاں کرتی تھی۔ میں اسے منع کرتا تھا تو باز نہیں آتی تھی اور میں اسے ڈانٹتا تھا۔ یہ ڈانٹ ڈپٹ کی پرواہ نہیں کرتی تھی اور میرے اس سے دو بیٹے ہیں جو موتیوں کی مانند ہیں اور وہ میری رفیقہ حیات تھی۔ گزشتہ رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیاں اور توہین آمیز باتیں کرنے لگی تو میں نے چھرا لے کر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اور میں نے چھرے کو خوب زور سے دبایا حتیٰ کہ میں نے اسے قتل کردیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! گواہ بن جاؤ کہ اس عورت کا خون رائیگاں ہے (یعنی اس کا قتل جرم نہیں اور اس میں قصاص و دیت بھی نہیں)۔ [سنن أبی داؤد، کتاب الحدود، باب فیمن سب النبی، الرقم: 4361، المستدرک للحاکم، ج: 5، ص: 272، الرقم: 8210، سنن نسائی، باب الحکم فیمن سب النبی، الرقم: 4075]
هٰكَذَا أَقْضِي لِمَنْ لَمْ يَرْضَ بِقَضَاءِ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ
ترجمہ: جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ نہیں مانتا میں اس طرح اس کا فیصلہ کرتا ہوں۔
چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قتل کو بھی رائیگاں قرار دیا اور اس واقعہ سے روزِ روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ گستاخِ رسول کو اگر کوئی مسلمان غیرتِ اسلامی کی بنیاد پر قتل کر دے تو یہ جرم نہیں بلکہ سنتِ صحابہ عظام ہے جس کی تائید و توثیق اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ نیز ڈاکٹر موصوف نے اپنی کتاب “تحفظ ناموس رسالت” کے صفحہ 264 تا 270 پر انتہائی تائیدی انداز میں اس واقعہ کو بڑی شرح و بسط سے بیان کیا ہے جس سے بڑی آسانی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف اپنی کتاب میں بیان کردہ نظریات کو بری طرح ذبح کر کے اعداءِ اسلام کا مشن پورا کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر موصوف کا دوسرا شیطانی نکتہ
سلمان تاثیر گستاخِ رسول نہیں تھا۔ اس سلسلہ میں حقائق یہ ہیں:
-
سلمان تاثیر قادیانی تھا یا کم از کم قادیانیوں کو مسلمان قرار دیا تھا جیسا کہ جنگ 11 جنوری 2011ء کے مطابق سلمان تاثیر کی بیٹی شہر بانو نے بیان دیا کہ ان کے والد احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے سخت خلاف تھے لہٰذا اس گھر کی گواہی کی بنیاد پر سلمان تاثیر کافر و مرتد اور گستاخِ رسول تھا کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو کافر و مرتد قرار دینے کی وجوہ میں ایک یہ بھی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مدعیِ نبوت ہونے کے ساتھ ساتھ بدترین گستاخِ انبیاء بھی تھا۔
-
2 ستمبر 2009 کو اکثر قومی اخبارات میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا یہ بیان شائع ہوا کہ وہ قانونِ توہینِ رسالت 295/C کو نہیں مانتا اور یہ کہ اس قانون کو ختم کر دینا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ قانونِ توہینِ رسالت قرآن و حدیث کے صریح دلائل پر مبنی ہے لہٰذا سلمان تاثیر اس بیان کی بنا پر اور پھر اس پر اصرار کرنے کی بنا پر کافر و مرتد ٹھہرا۔
-
13 اکتوبر 2009 کو عالمی تنظیم اہلِ سنت کے نائب امیر صاحبزادہ سید مختار اشرف رضوی سرپرستِ اعلیٰ جامعہ حزب الاحناف لاہور نے میری اور لاہور کے درجنوں علماء کی معیت میں تھانہ سول لائن لاہور میں سلمان تاثیر کے اس کافرانہ بیان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست جمع کروائی اور چند دن بعد عالمی تنظیم اہلِ سنت کے زیرِ اہتمام داتا دربار اور وزیراعلیٰ ہاؤس تک احتجاجی جلوس نکالا گیا اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے کر سلمان تاثیر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا لیکن افسوس کہ مرکزی اور صوبائی حکومت نے کوئی کارروائی نہ کی۔
-
آسیہ نامی عیسائی خاتون کو گستاخِ رسول ثابت ہونے پر سیشن جج ننکانہ صاحب نے سزائے موت کا حکم دیا تو سلمان تاثیر شیخوپورہ جیل میں پہنچ گیا۔ گستاخِ رسول آسیہ سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ صدر کے نام پر معافی کی درخواست پر دستخط کرائے اور وعدہ کیا کہ وہ صدرِ پاکستان سے سزا ضرور معاف کروائے گا اور گستاخِ رسول آسیہ جس کا جرم ثابت ہو چکا تھا اور عدالت سے سزا کا حکم ہو چکا تھا، کو مظلوم قرار دیا وغیرہ وغیرہ۔
-
یکم نومبر 2009 کو ٹی وی پر کہا: قانونِ ناموسِ رسالت “کالا قانون” ہے۔ یہ ظالمانہ قانون ہے ہم اس کالے قوانین کو نہیں مانتے۔
اَلْعِيَاذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ
-
6 نومبر کو پریس کلب لاہور کے سامنے عالمی تنظیم اہلِ سنت کے زیرِ اہتمام زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تو میں نے فتویٰ دیا کہ سلمان تاثیر نے قانونِ توہینِ رسالت 295/C کو جو کہ کتاب و سنت سے ماخوذ ہے، کالا اور ظالمانہ کہا ہے، لہٰذا یہ شرعاً کافر و مرتد ہے اور واجب القتل ہے اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب سے بھی اپیل کی کہ وہ از خود نوٹس لیں لیکن افسوس کہ عدالتِ عظمیٰ نے کوئی اقدام نہ اٹھایا۔
-
چند روز بعد نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے پارلیمنٹ ہاؤس تک احتجاجی جلوس نکالا گیا اور صدرِ پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کافر مرتد سلمان تاثیر کو گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹا کر اس کے خلاف قانونی کارروائی کے احکام جاری کریں لیکن افسوس کہ ایک نہ سنی گئی۔ چنانچہ 4 جنوری 2011 کو سلمان تاثیر کو اپنے سیکیورٹی گارڈ ملک محمد ممتاز قادری نے اپنے خالص دینی جذبات کی بنیاد پر کافر مرتد و گستاخِ رسول اور امتِ مسلمہ کے دینی جذبات کو بار بار شدید مجروح کرنے والے اور شریعتِ مصطفیٰ کا کھلا مذاق اڑانے والے سلمان تاثیر کو واصلِ جہنم کر کے سنتِ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو زندہ کردیا۔
فَجَزَاهُ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْ حَبِيبِهِ وَرَسُولِهِ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ
ڈاکٹر موصوف کا تیسرا شیطانی نکتہ
ممتاز قادری قاتل ہے اور اس کے جرم کی سزا “سزائے موت” ہے۔
پاکستان کی مختلف ایجنسیوں نے محافظِ قانونِ ناموسِ رسالت غازی ملک ممتاز قادری پر بدترین تشدد کیا لیکن غازی ملک ممتاز قادری کا ایک ہی موقف رہا “میں نے ایک مرتد و گستاخِ رسول کو مار کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا حاصل کی ہے۔ اور میں نے کسی بے گناہ کو قتل نہیں کیا، بلکہ سنتِ فاروقِ اعظم کے مطابق ایک مرتد کو مارا ہے”۔ نیز نوائے وقت 2 اکتوبر 2011ء کے مطابق کورٹ نے حضرت غازی ملک محمد ممتاز قادری کے خلاف فیصلہ ان الفاظ میں سنایا “آپ نے جو کام کیا وہ اسلام کی رو سے ٹھیک ہے، مگر ملکی قانون میں آپ کو دفعہ (302 ت پ) کے تحت سزائے موت اور دو لاکھ جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے” جس سے واضح ہے کہ غازی صاحب کے اقدام کو پاکستان کی کورٹ نے بھی اسلامی قرار دیا ہے۔
لہٰذا الحمد للہ! درج بالا وضاحتوں کے بعد روزِ روشن کی طرح واضح ہو گیا ڈاکٹر طاہر القادری نے دورِ حاضر کے غازیِ اعظم، غازیِ اسلام، محافظِ قانونِ ناموسِ رسالت کو محض مردار دنیا کے حصول کے لیے قاتل کہا ہے اور غازیِ اسلام کے لیے سزائے موت تجویز کر کے قرآن و سنت کی صریح مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سابقہ مذہب کو بھی بری طرح ذبح کیا ہے۔
