Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

خلیج کا بحران (قسط: اول)|محمد احمد مصباحی

خلیج کا بحران
عنوان: خلیج کا بحران
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

ایک وقت وہ تھا جب دنیا کی قوتیں اسلام کے غلبہ و دبدبہ سے ہراساں نظر آتی تھیں اور اسلام کی پرکشش خوبیاں دنیا کے گوشے گوشے میں بسنے والے انسانوں کو اپنا گرویدہ بنا کر ایمان و یقین کی دولتوں سے مالا مال کر رہی تھیں۔ ماضی قریب میں بھی ترکی سلطنت کا جاہ و حشم اور پوری دنیا میں اس کا رعب و دبدبہ معروف و مشہور تھا لیکن اسلام دشمن طاقتیں بڑی سرگرمی سے میدانِ کارزار میں اتریں اور انہوں نے ایک سے ایک حربے استعمال کیے۔ مسلمانوں میں خانہ جنگی کے سارے وسائل اپنائے۔ ان سے ایمان و یقین کی دولت چھیننے کی ہر کوشش بروئے کار لائیں۔ اور اپنی قوموں کے اندر ہر عصبیت و تنگ دلی اور اسلام دشمنی کو اس قدر پروان چڑھایا کہ آج دنیا کا نقشہ بدلا ہوا نظر آتا ہے۔ جہاں کسی مسلم ملک کو طاقتور دیکھا اعدائے اسلام اس کے پیچھے پڑ گئے۔ جب کسی قائد کو مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد کا نعرہ بلند کرتے ہوئے پایا، اس کی جان کے درپے ہو گئے۔ شاہ فیصل نے مغربی ممالک کے خلاف تیل کو اسلحے کے طور پر استعمال کیا تو اس کے بھتیجے ہی کے ہاتھوں اسے قتل کرا دیا۔ ایران نے سر اٹھایا تو عراق سے لڑا کر اس کا کس بل نکال دیا۔ اور اب عراق نے اسرائیل اور امریکہ کو آنکھیں دکھائیں تو اس کا راشن پانی بھی بند کر دیا گیا۔

دوسری طرف خود شاہ فیصل کے جانشینوں کو اس طرح شیشے میں اتارا کہ وہ اب مغرب ہی کو اپنا ملجا و ماویٰ اور اپنا آقا و فرماں روا سمجھتے ہیں۔ کویت اور سعودی عرب کے بادشاہوں کو ان ممالک پر اس قدر اعتماد ہے کہ اپنا اربوں ڈالر کا سرمایہ اپنے ملک، کسی اسلامی ملک، یا اسلامی ممالک کے کسی متحدہ بینک میں جمع کرنے کی بجائے امریکہ میں رکھ چھوڑا ہے۔ اگر وہ اپنے کسی ملک میں رکھتے تو یقیناً اس سے فروغ حاصل ہوتا، اس کی قوت میں اضافہ ہوتا، اسلامی ملکوں کے اقتصادی و تجارتی مسائل حل ہوتے۔ لیکن افسوس کہ اپنا سرمایہ ایسے بینکوں میں جمع کر رکھا ہے جو ان کی دولت کو خود ان کے خلاف پورے طور سے استعمال کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ خطرہ بھی ہے کہ نکالنا چاہیں تو نکالنا درکنار سارا سرمایہ ہی منجمد ہو جائے جیسا کہ متعدد بادشاہوں اور ملکوں کے خلاف یہ ہو چکا ہے۔ امریکہ نے یہ ایسا زبردست حربہ استعمال کیا ہے کہ سعودیہ عربیہ اور کویت وغیرہ اس کے خلاف کچھ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اور آج تو پوری طرح ان کے چنگل میں پھنس چکے ہیں۔ اپنی جنگی حکمت عملی، اپنی فوجی قوت میں اضافہ، اور اپنے اندر اتفاق و اتحاد کی راہ سے ہٹ کر دوسروں پر بھروسہ کرنے کی جو سزا ملنی چاہیے وہ ان ممالک کو برسہا برس سے مل رہی ہے۔ لیکن ایمانی غیرت و یقین، اسلامی جوش و ہمت، حوصلہ مندانہ اقدام و جرأت، اور مومنانہ دوراندیشی و فراست کے بغیر اپنی ذلت و نکبت کا احساس بھی پیدا نہیں ہوتا۔

رسولِ عربی فداہ ابی و امی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو کفر و شرک قرار دے کر امریکہ کے بندۂ بے دام ہوئے تو اس حد تک کہ یہ شعور بھی نہ رہا کہ ہم خدا اور خدا کے محبوبوں کا چارہ گر آستانہ چھوڑ کر اس کے دشمنوں کی چوکھٹ پر جبیں سائی کر رہے ہیں۔ جب یہ شعور ہی نہیں تو اس جبیں سائی اور دریوزہ گری سے نکلنے کی فکر کہاں تک پیدا ہوگی۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اس وقت خلیج کی پیدا شدہ صورتِ حال میں امریکہ جس طرح دخیل ہے اور پورے عالمِ اسلام کو عرب میں اس کی فوجوں کی موجودگی سے جو خطرہ لاحق ہے وہ ہر مسلمان کو تڑپانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن یہ عجیب بے غیرتی ہے کہ اسے جائز ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کی تاویلیں گڑھی جا رہی ہیں۔ اور ایک کا جرم دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا اس طرح کی باتوں سے وہ داغ دھل سکتا ہے جو عرب ممالک کی مسلسل عیاشیوں اور دفاعی قوتوں سے مجرمانہ غفلتوں نے پیدا کیا ہے؟ یہ کون سا اسلام ہے جو اپنا سرمایہ اپنے خلاف استعمال کرانے کی حکمتِ عملی سکھاتا ہو، دفاعی قوتیں فراہم کرنے سے روکتا ہو اور عیاشیوں میں دولت لٹانے کی تلقین کرتا ہو؟ وہ کون سی آیت ہے جو اپنوں، اپنے رسولوں اور خداداد روحانی قوت و اقتدار رکھنے والے انبیاء و اولیاء سے مدد طلبی کو کفر و شرک قرار دیتی ہو، لیکن اپنے دشمنوں، اسلام کے دشمنوں اور خدا اور رسول کے دشمنوں سے استعانت و استمداد اور اتحاد و وداد کو جائز و لازم بتاتی ہو؟ وہ کون سی حدیث ہے جو دشمنانِ اسلام کے لیے ہر نرم سے نرم اور نفع بخش سے نفع بخش پالیسی اپنانے کی تلقین کرتی ہو؟ بات بات پر اہل اسلام کی گردن زدنی کا حکم صادر کرتی ہو۔ اور سچے پکے ایمان والوں کو کافر و بے ایمان ثابت کرنے کے لیے ہر قسم کی فوجی اور دماغی توانائی استعمال کرنے کی اجازت بخشتی ہو۔

یہ بھی وقت کا المیہ ہے کہ جنہیں خود اپنے ایمان و اعتقاد اور قوت و اتحاد کی فکر ہونی چاہیے وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو کافر و مشرک قرار دے کر انہیں از سر نو مسلمان کرنے پر سارا سرمایہ صرف کر رہے ہیں۔

آج کی صحبت میں ہمیں یہ جائزہ لینا ہے کہ خلیج کا یہ بحران کیسے پیدا ہوا؟ اور اس خصوص میں عالمی پیمانے پر عراق کو سراسر مجرم ٹھہرانے اور سعودیہ عربیہ کو بالکل بے گناہ ثابت کرنے کے مضمرات کیا ہیں؟

بالخصوص ہندوستان کے مسلم طبقوں میں آنکھ بند کر کے سعودیہ کی جو پُرشور حمایت کی جا رہی ہے کیا یہ امریکہ سے متوقع خطرات کا جواب بن سکتی ہے؟ آئندہ صفحات سے آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کا جواب نفی میں ہے۔ البتہ ان حامیوں کو اس حمایت کی معقول قیمت ضرور مل جائے گی۔ بلکہ پہلے سے ملتی آئی ہے، جس کا حق ادا کرنا یہ اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔

ان میں ایک طبقہ تو وہ ہے جو سعودیہ کو اپنی ٹولی کی مخصوص مذہبی اور آئیڈیل حکومت تصور کرتا ہے۔ اور اس کے ہر ناجائز کو جائز ثابت کرنے کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کرنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جسے خود سعودی حکومت کے علماء نہ صرف یہ کہ گمراہ کہتے ہیں بلکہ کافر و مشرک قرار دینے میں بھی اپنا کوئی نقصان نہیں سمجھتے۔ اور یہ طبقہ بھی ماضی میں اس کی مذمت کے لیے اپنا سارا زورِ قلم صرف کر چکا ہے۔ ترکی حکومت کے زمانے میں اس کی ضلالت و گمراہی کے ثبوت میں پوری کتاب لکھ ڈالی۔ اور آج ہمہ وقت اس کی صداقت و حقانیت کا ڈنکا بجانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونے دیتا۔ حالات کی اس قدر تبدیلی کیوں؟ وجہ صرف یہ ہے کہ اس طبقہ نے ہمیشہ چڑھتے سورج کی پوجا کو اپنا مذہب ٹھہرایا ہے۔ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک جس سے اس کا مادی اور گروہی مفاد وابستہ ہو وہ پوری دیدہ دلیری کے ساتھ اس کا ناقوس اپنے ہاتھ میں لے کر بجانے کو تیار رہتا ہے۔

اب سیاسی حلقوں اور دنیا دار طبقوں کی نظر سے بھی یہ بات مخفی نہ رہی کہ صرف اہل سنت و جماعت ہی وہ سوادِ اعظم ہے جو ہمیشہ اپنے موقف پر سختی سے کاربند رہا ہے اور کسی قیمت پر بھی اس نے کبھی اپنے ضمیر و ایمان کا سودا نہیں کیا۔ وہ اگر بولتا ہے تو وہی بولتا ہے جو حق کا تقاضا ہو، جو اسلام کی آواز ہو، جو قرآن کا ارشاد ہو، جو رسولِ گرامی وقار صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہو۔

ٹکوں اور سکوں پر اس کے فتوے نہیں بکتے۔ منصب و عہدہ کے عوض اس کا دین و ایمان نہیں خریدا جا سکتا۔ وہ مالی اور مادی طور پر کمزور تو ہو سکتا ہے، لیکن باطل کو باطل اور غلط کو غلط کہنے کے لیے اس کے ہر فرد کا ضمیر بیدار رہتا ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ دوسروں کی غلط روی طشت از بام کرتا ہے بلکہ اپنوں کو بھی اگر جادۂ حق سے منحرف ہوتے دیکھتا ہے تو اس کے خلاف چیخ پڑتا ہے۔ اس کے یہاں گروہی عصبیت کی بنیاد پر کسی قائد کی بڑی سے بڑی غلطیوں کی تاویل نہیں کی جاتی بلکہ اسے بھی درستی اور سچائی کی طرف آنے کی پر اصرار دعوت دی جاتی ہے۔

اب قسط دوم اوپن کیجیے اور کھلی آنکھوں اور بیدار دل و دماغ سے حقائق کا جائزہ آپ خود ہی لیجیے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!