| عنوان: | وہابیوں کے عقائد کی چند ایک جھلکیاں (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | ابو محمد انس رضا قادری |
| پیش کش: | آفرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی |
عقیدہ: وہابیوں کا امام اسماعیل دہلوی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جھوٹ ممکن ہے، اور اس کو مکان و جہت سے منزہ جاننے کو بدعت و گمراہی قرار دیتا ہے۔ [ایضاح الحق، صفحہ 7]
عقیدہ: وحید الزماں کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کرسی پر پاؤں رکھ کر عرش پر بیٹھا ہے، اور کرسی چر چر کر رہی ہے۔ [ترجمۂ قرآن در حاشیہ آیت الکرسی]
عقیدہ: زمین و آسمان کی خلقت سے قبل اللہ تعالیٰ ہوا میں رہتا تھا۔ [فتاویٰ محمدی، صفحہ 2]
عقیدہ: وہابی صدیق حسن خاں کہتا ہے کہ حضورﷺ خاتم النبیین نہیں ہیں کیونکہ الف لام خارجی کا ہے۔ [جامع الشواہد بحوالہ نصر المومنین، صفحہ 2، 12]
عقیدہ: تمام انبیاء تبلیغ احکام میں معصوم نہیں ہیں (یعنی غلطی کر سکتے ہیں)۔ [جامع الشواہد بحوالہ کتاب رد تقلید، صفحہ 12]
عقیدہ: قادری، نقشبندی اور چشتی وغیرہ گمراہ خاندان ہیں، تعویذ گنڈا اور مراقبہ کرنا شرک ہے۔
[تذکیر الاخوان، صفحہ 7]
[ماخوذ از: رد وہابیت، صفحہ 14, 36, 37، مکتبہ فکر رضا کراچی]
عقیدہ: محمد ﷺ کی قبر، ان کے دوسرے متبرک مقامات، تبرکات یا کسی نبی، ولی کی قبر یا ستون وغیرہ کی طرف سفر کرنا بڑا شرک ہے۔ [کتاب التوحید، محمد ابن عبدالوہاب، ص 124]
عقیدہ: حضور ﷺ کا مزار گرا دینے کے لائق ہے، اگر میں اس کے گرا دینے پر قادر ہوگیا تو گرادوں گا۔ [اوضح البراہین]
عقیدہ: میری لاٹھی محمد سے بہتر ہے کیونکہ اس سے سانپ مارنے کا کام لیا جاسکتا ہے اور محمد مر گئے ان سے کوئی نفع باقی نہ رہا۔ [اوضح البراہین، ص 103]
عقیدہ: اسماعیل دہلوی کہتا ہے کہ حضور ﷺ کی تعظیم بڑے بھائی جتنی کرنی چاہیے۔ [تقویۃ الایمان، ص 60]
عقیدہ: حضور ﷺ کی مثل کسی دوسرے نبی کا پیدا ہونا ممکن ہے۔ [تقویۃ الایمان، ص 60]
عقیدہ: جس نے یا رسول اللہ، یا عباس، یا عبدالقادر وغیرہ کہا اور ان سے ایسی مدد مانگی جو صرف اللہ دے سکتا ہے، جیسے: بیماروں کو شفا، دشمن پر مدد اور مصیبتوں سے حفاظت وہ سب سے بڑا مشرک ہے، اس کا قتل حلال ہے اور اس کا مال لوٹ لینا جائز ہے، یہ عقیدہ اس صورت میں بھی شرک ہوگا جب کہ ایسا کہنے والا فاعل مختار اللہ ہی کو سمجھتا ہو اور ان حضرات کو محض سفارشی اور شفاعت کرنے والا جانتا ہو۔ [کتاب العقائد، ص 111]
عقیدہ: میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ توحید کا اقرار کر کے اسلام میں داخل نہیں ہو سکتے، یہ لوگ ملائکہ اور اولیاء سے شفاعت کے خواستگار ہیں اور اس طرح اللہ کا قرب چاہتے ہیں، اسی وجہ سے ان کو قتل کرنا جائز اور ان کا مال لوٹنا حلال ہے۔ [کشف الشبہات، ص 6]
عقیدہ: شان نبوت اور حضرت رسالت صاحبھما الصلوٰۃ والسلام میں وہابیہ نہایت گستاخی کے کلمات استعمال کرتے ہیں، اور اپنے مماثل ذات سرور کائنات خیال کرتے ہیں، اور اسی وجہ سے توسل و دعا آپ کی ذات پاک سے بعد وفات نا جائز رکھتے ہیں، ان کے بڑے کا مقولہ ہے معاذاللہ نقل کفر کفر نباشد ہمارے ہاتھ کی لاٹھی ذات سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہم کو زیادہ نفع دینے والی ہے ہم اس سے کتے کو بھی دفع کر سکتے ہیں فخر موجودات تو یہ نہیں کر سکتے۔ [الشھاب الثاقب، ص 43]
عقیدہ: وہابیوں کا امام ابن تیمیہ کہتا ہے کہ حضرت علی نے تین سو سے زیادہ مسئلوں میں غلطی کی ہے۔ [فتاویٰ حدیثیہ، ص 87]
