| عنوان: | سلطانِ کونین مصطفیٰ کا ورود مسعود (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | محمد احسان مصطفیٰ |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار، ناگپور |
دنیا میں نبوت و رسالت کے روشن ستارے بارہا اپنی تابشوں سے عالم کو منور کر چکے تھے۔ بحر و بر، دشت و جبل اپنی روشنیوں سے پیہم عالمِ نور بنتے رہے تھے۔ مسجد اقصیٰ کا مبارک خطہ نبوت کے انوار سے مدتوں چمکا کیا تھا۔ اس کے در و دیوار ربانی تجلیوں سے مشرقستانِ انوار ہوتے رہے تھے۔ شب و روز ملائکہ مقربین کا نزول، رحمت کی بارشیں، خداوندی احکام کا پہنچانا، معجزاتِ انبیاء کا صدور، مرسلین کی محافلِ متبرکہ اور ان میں حق و ہدایت کی تعلیم، کتبِ الٰہیہ کی تبلیغ اس بقعۂ پاک کو عجب طرح کی زیب و زینت سے سرفراز فرما چکے تھے۔
مصر و کنعان کے کوچہ و بازار، صحرا و کہسار یوسفی جمال اور آسمانی انوار سے خوب جگمگا چکے تھے۔ وادیِ ایمن حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی عاشقانہ صداؤں سے گونج رہا تھا، “رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ” کے پر نمان غلغلہ نے پہاڑ اور جنگل تک کو مست بنا دیا تھا۔ خبر نہیں اس وقت عالمِ بالا والوں کے وجد کا کیا حال ہوگا۔ کوہِ طور کا مقدر اوج پر تھا۔ چرخِ بریں کو بھی یہ دن میسر نہ ہوا۔ فلک بایں رفعت و بلندی اس سے پستی ہی میں رہا۔ طور پر حضرت کلیم اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کو معراج ہوئی۔ جلوۂ محبوب کی ایک جھلک دکھائی گئی۔ حضرت موسیٰ تو محوِ دیدار ہو گئے، عاشقِ سیدِ احسن دلربا کو دیکھ کر ایسا بے خود و وارفتہ ہوا کہ اپنی خبر نہ رہی اور پہاڑ تابشِ جمال کی تاب نہ لایا، ریزہ ریزہ ہو گیا۔ پہاڑ کے سخت پتھروں نے عاشقانِ صادق کی طرح یار کا جلوہ دیکھ کر جیب و گریبان تار تار کر ڈالنے کی بجائے اپنے دل و جگر کو پاش پاش کر ڈالا۔
جسم خاک از عشق بر افلاک شد
عشق جاں طور آمد عاشقا
کوہ در رقص آمد و چالاک شد
طور مست و خَرَّ موسیٰ صاعقا
طور سینا کے ریزے ریزے کو وصالِ محبوب کی لذتیں آج تک یاد ہوں گی۔ دریائے نیل بھی ابھی موسوی سطوت و جبروت کو نہ بھولا ہوگا جو پیکرِ تکبر خدائی کے جھوٹے مدعی فرعون کو غرق کر کے ظاہر فرمائی گئی تھی اور اس کا سپاہ و لشکر خدم و حشم کام نہ آ سکا تھا۔ وہی منہ جو “أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى” کی ڈینگیں مارتا تھا، ذلت و عجز کی حالت میں “آمَنْتُ بِرَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ” کے نعروں سے فریاد کر رہا تھا۔ اعجازِ موسوی نے چشم زدن میں فرعونی شوکت کو خاک میں ملا دیا تھا۔ حضرت موسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے احکام دریائے نیل پر نافذ تھے، بہتے دریا میں ان کے نیاز مندوں کے لیے خشک سڑکیں بن جاتی تھیں اور ان کا دشمن ڈوب جاتا تھا۔ دولت کے مغرور قارون کو اس کی دولت کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا جاتا تھا۔ بنی اسرائیل کی درخواست پر آسمان سے غذائیں نازل کر کے ان کو تلاشِ معاش سے بے فکر کر دیا جاتا تھا۔
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام نے بت پرستوں کے انبوہ میں صدائے حق بلند کی، نمرودی آتشکدہ آپ کی استقامت کی امتحان گاہ بنا، آپ کے صبر و ثبات نے دنیا کو متحیر کر دیا۔ کوسوں میں جلنے والی آگ فضلِ الٰہی سے گلزار ہو گئی۔ عشقِ الٰہی میں فرزند کی قربانی کے لیے آپ اور وہ فرزندِ ارجمند بہ تمنا آمادہ ہو گئے۔ مکہ مکرمہ کا مقام ایک بیابان تھا جہاں نہ سبزہ تھا نہ پانی۔ اسبابِ زندگانی وہاں اکثر مفقود تھے، آپ نے یہاں اپنی ذریت کو آباد کیا۔ اور خلقِ خدا کے قبلۂ عبادت (کعبہ معظمہ) کی از سرِ نو اپنے دستِ مبارک سے تعمیر فرمائی۔ مکہ مکرمہ کے پہاڑوں کو حضرت ہاجرہ کا دوڑنا اور وہاں کی زمین کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شدتِ تشنگی میں زمین پر پاؤں مارنا فراموش نہ ہوا ہوگا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات نے اندھوں کو بینا، کوڑھیوں کو تندرست، مردوں کو زندہ کر کے فلاسفہ کی عقلیں حیران کر دیں۔
غرض دنیا میں لگاتار انبیاء علیہم السلام کا ورود ہوتا رہا اور ان کی فیضانِ صحبت و برکاتِ تعلیم و اعلانِ حق کا فیضِ عام جاری رہا۔ ان مقدس ہادیوں کی صدا سے دشت و جبل گونج اٹھے اور کائنات میں خدا پرستی کے علم بلند رہے۔ یہاں تک کہ یہ مبارک زمانے ختم ہوئے، ارشادِ ہدایت کی تمام مشعلیں دنیا کی مجلس گاہ سے یکے بعد دیگرے چلی گئیں، آسمانِ نبوت کے عالم افروز انجم رو پوش ہوئے، ظلمت نے غلبہ کیا، بھیانک تاریکی عالم پر مسلط ہوئی۔ ایک کالی ڈراؤنی رات میں خلقِ خدا ٹکریں مارتی پھرتی تھی، اس جہانگیر اندھیرے میں معبود کے طلبگار شیطان کے دامِ تزویر میں پھنس کر بتوں کے پرستار ہو گئے۔ کعبہ معظمہ جیسے مقدس عبادت خانہ میں صدہا بت رکھے گئے اور دھڑلے سے بت پرستی ہونے لگی۔ حرام و حلال کا فرق و امتیاز اٹھ گیا، جور و ستم کی گرم بازاری ہوئی۔ قتل و غارت بے شرمی و بے حیائی کا دور دورہ ہوا۔ انسان درندہ صفت بلکہ درندوں سے بھی بدتر ہو گئے۔ دلوں پر وہ اندھیرا چھایا کہ سفیدی کا ایک نقطہ بھی باقی نہ رہا۔ زمین کفر و شرک کی نجاست سے گندی ہو گئی۔ اہل عرب نے بتوں کو معبود بنایا۔ اپنی لخت جگر بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا دین ٹھہرایا۔ زمین میں فساد انگیزی ان کی عادت اور خون ریزی طبیعت بن گئی۔ تجارت کی بجائے لوٹ مار رائج ہوئی۔ اہل فارس آتش پرستی میں گرفتار ہوئے، ماؤں تک کے ساتھ انہوں نے بد کاری روا رکھی۔ ترک شہر ویران کرتے، خلق خدا کو سخت ترین ایذائیں پہنچاتے اور بت پرستی کرتے تھے۔ اہل ہند مخلوق پرستی کے شیدا تھے، بیوہ کو شوہر کے ساتھ جلا دیتے تھے۔ یہود کتب الٰہی کی تحریف اور حضرت مسیح علیہ السلام کی تکذیب میں مشغول تھے۔ نصاریٰ حلول و تثلیث کے باطل عقیدوں کے پابند، غرض دنیا کا ہر طبقہ، روئے زمین کا ہر خطہ کفر میں طاری ہو رہا تھا، ہر طرف کفر و ضلالت کی گھنگھور گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ کعبہ معظمہ اور بیت المقدس کے در و دیوار اس غم میں خون در دل تھے، حرم شریف فریاد کر رہا تھا، بیت اللہ ہمہ تن آنکھ بند کیے اس مقدس آنے والے کی راہ تک رہا تھا جس کے قدم پاک کے ساتھ اس کی عزت و عظمت، حق کا ظہور، خلق کی صلاح و درستگی وابستہ تھی۔ صفا و مروہ گردنیں اٹھائے ہوئے اس ہادی اعظم رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ دیکھ رہے تھے۔ جس کی تشریف آوری کا مژدہ حضرت مسیح و خلیل ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والتسلیم دیتے چلے آئے تھے۔ سرزمین حجاز کا ذرہ ذرہ محبوبِ حق کے قدموں سے پامال ہونے کی تمنا میں دل پر ارمان بنا ہوا تھا۔ زمزم کا دل ایک بحرِ جود و کرم کی یاد میں پانی پانی ہو رہا تھا۔ بیت المقدس کی آنکھیں اس مقتدائے عالم کا انتظار کر رہی تھیں، جس کے ورود سے اس کی دوبارہ آبادی متوقع تھی اور جو اس میں گروہِ پاکِ انبیاء کی امامت فرمانے والا تھا، بطحا کا ہر سنگریزہ اس عالم نواز ربانی نور کے قدم بوسی کا تمنائی تھا۔ جس کی جلوہ افروزی کا غلغلہ ابتدائے عالم سے تمام دنیا میں مچا ہوا تھا اور جس کے انتظار نے لاکھوں امیدوارانِ جمال کو مضطر و بے تاب بنا دیا تھا۔ ہاں موجودہ زمانہ کی شبِ تاریک کی سیاہ کملی جس کی آفتابِ صدق و صفا کی نور افشانی سے پارہ پارہ ہونے والی تھی۔ آسمان و زمین اس کے منتظر تھے۔
وہ نور الٰہی جس کے صدقے میں کونین کو ہستی عطا ہوئی اور جس کا نامِ پاک عرش و جنت میں ہر جگہ مکتوب ہے، ہر غرفہ ہر قصر پر حوروں کے سینوں پر طوبیٰ و سدرہ کے پتے پتے پر، ملائکہ کی آنکھوں پر۔ وہ محبوبِ حق جس کے صدقے میں تمام عالم کرمِ الٰہی سے بہرہ اندوز ہوا اور اس کی شفاعت اہلِ سماوات و ارض کی کامیابی کا ذریعہ ہو، وہ خلیفہ مطلق جس پر ایمان لانا انبیاء سابقین اور ان کی امتوں پر لازم کیا گیا ہو۔
وہ راحت القلوب جس کا نامِ نامی عرشِ الٰہی کے اضطراب کے لیے تسکین کا تعویذ ہو۔ وہ عزت و جاہ کا سلطان جس کے اظہارِ شان کے لیے دنیا بنائی گئی ہو۔ وہ حق کا نورِ تاباں حضرت آدم علیہ السلام کی پیشانی میں آفتاب کی طرح چمکا ہو اور اسی کی وجہ سے ملائکہ سے حضرت آدم کو سجدہ کرایا گیا ہو، وہ نورِ پاک جو حضرت شیث کی پیشانی میں نمایاں ہوا، وہ سید الطاہرین جس کے لیے حضرت آدم علیہ السلام نے وصیت فرمائی کہ یہ نور نسلاً بعد نسل مطہرات کو تفویض کیا جائے۔ [رواہ ابن عباس]
وہ آفتابِ جہانتاب جس نے طوفان کے وقت حضرت نوح علیہ السلام کی پیشانی میں جگمگا کر کشتی والوں کو تسکین فرمائی اور جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے ان کی جبین سے ظہور فرما کر آتشِ نمرود کو ٹھنڈا کیا، وہ خدا پرستی کے آئین جاری فرمانے والا جس کے لبیک پکارنے کی آواز اس کے جدِ الیاس کی پشت سے سنی جاتی تھی۔
وہ آسمانِ نبوت کا نیر اعظم جس کے نور کی روشنی اس کے آباؤ اجداد خزیمہ، مدرکہ، معد، عدنان، عبد مناف، ہاشم، عبدالمطلب وغیرہ کے ناصیوں اور جبینوں میں جگمگاتی تھی اور امم سابقہ کے علماء و احبار اس کو دیکھ کر آدابِ تعظیم بجا لاتے، دست بوسی کرتے اور اس تاجدار کے تشریف آوری کے مژدہ سناتے۔ حوائج و ضروریات میں اس نورِ پاک کی وساطت سے دعائیں کرتے اور کامیاب ہوتے تھے، شجر و حجر اس کو پہچانتے اور اس کو سلام عرض کرتے تھے۔
عالم میں اس کی تشریف آوری اور جلوہ افروزی کی دھوم مچ رہی تھی، انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی بشارتوں نے دنیا کو محوِ انتظار بنا دیا تھا، آثار و خوارق کے ظہور نے شوق کے ولولے تیز کر دیے تھے، احبار و رہبان پیہم خبریں دے رہے تھے۔ جہان میں ایک غلغلہ بلند تھا ہر زبان پر یہی ذکر یہی تذکرہ تھا اور جس طرح آفتاب کے طلوع سے پہلے صبح صادق نمودار ہو کر خورشید کی عالم آرائی کی خبر دیتی ہے، اسی طرح غیبی انوار نمودار ہو ہو کر آفتابِ جمال کے طلوع کا مژدہ دے رہے تھے، در و دیوار چمک اٹھے تھے، ہوائیں بدل گئی تھیں، زمین میں نئی زندگی کے آثار پیدا ہو چلے تھے، خشک سالی کی جگہ مرفہ الحالی نے لے لی تھی، خشک صحرا سر سبز و شاداب ہو گئے تھے۔ دنیا کی کایا پلٹ رہی تھی جہاں کا نقشہ بدل رہا تھا۔ جب وہ ماہِ چرخِ نبوت اپنی منازل طے فرما کر منزلِ آخر میں پہنچا اور آباء و اجداد کی پیشانیوں کو مطلع الانوار بنا کر والدہ ماجدہ کی تفویض ہوا۔ یہ شب تھی کہ آسمانی انوار نے زمین کو عالمِ نور بنا دیا تھا، امنگوں کے سمندروں میں سرور کی موجیں اٹھ رہی تھیں، ملائکہ رحمت کا نزول تھا روحانیت ایک دوسرے کو مژدہ دے رہے تھے ددوش و طیور شادمانی کر رہے تھے بے زبان جانوروں کی زبانیں فصاحت کے ساتھ کھل گئی تھیں اور وہ سلطانِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد آمد میں عجیب سرور انگیز ترانہ سنجی کر رہے تھے اس شب میں کشور کشائے نبوت و رسالت کی شہنشاہِ سطوت کا یہ ظہور ہوا کہ تمام روئے زمین کے سلاطین کے تخت اوندھے ہو گئے تمام جہان میں کوئی ایسا بت کدہ نہ تھا جس کے بت آج کی شب منہ کے بل الٹے نہ گر گئے ہوں۔
حضرت آمنہ خاتون نے اس نورِ پاک کی روشنی میں بصرہ و شام تک عمارتیں ملاحظہ فرمائیں، اس سے معلوم ہوتا تھا کہ مبارک آنے والا اس عظمت و شان کا آنے والا ہے کہ اس کی تشریف آوری سے باطل کا تختہ الٹ جائے گا اور علوم کے سمندر دنیا میں موجزن ہو جائیں گے جس کے نور کی دمک سے ممالکِ بعیدہ صاف نظر آنے لگیں گے جب وہ بے حجاب ظہور فرمائے گا، یقیناً تمام عالم کو علوم و حکم سے معمور فرما دے گا اس کی تجلی جس دل کو نصیب ہوگی وہ آئینۂ سکندر و جامِ جم کے قصور کو شرما دے گا سلاطین کے تخت کا الٹ جانا اور تمام بت خانوں میں بتوں کا اوندھے منہ گر پڑنا ایسی بات نہ تھی جس سے دنیا کی آنکھیں نہ کھلتیں عالم میں تہلکہ مچ گیا ایک طرف تو تاج و تخت کے والی حیرت میں مبتلا ہوئے اور انہیں فکر ہوئی کہ یہ کیا معاملہ ہے دوسری طرف بت پرستی کے معلموں اور سرداروں کی آنکھیں کھلیں، ان کے سامنے ایک عجیب انداز کا درسِ عبرت آیا کہ عمر بھر جن کو پوجتے اور معبود اعتماد کر رہے تھے ان کی اس ذلت و بے چارگی کا کیا سبب ہوا۔ اربابِ حکومت و سلطنت نجومیوں و کاہنوں کی طرف دوڑے اور علمائے اہلِ کتاب کو تلاش کر کر کے ان کے دروازے کھٹکھٹائے پجاریوں نے بتوں کے واقعات کو قوم میں بصیرت پیدا ہونے کے خوف سے جہاں تک ممکن ہو سکا چھپانے کی کوشش کی مگر خود اس راز کی جستجو میں بے قرار ہو کر جا بجا ٹکریں مارتے پھرتے، نجومیوں اور کاہنوں نے کہا کہ یہ آخری پیغمبر کے ظہور کی نشانیاں ہیں جس کی تشریف آوری کا وقت بہت نزدیک آگیا ہے اس کا دین بت خانوں کو ویران اور بت پرستی کو باطل کرے گا۔ حکومتیں اور سلطنتیں اس کے سامنے پست ہو جائیں گی کوئی قوت کوئی طاقت اس کے دین کو روک نہ سکے گی علمائے اہلِ کتاب یہ خبر سنتے ہی اچھل پڑے انہوں نے کہا کہ یہ اسی نورِ الٰہی کے ظہور کے آثار ہیں جس کا کتبِ سابقہ میں ذکر ہے اور جس کے انتظار میں آرزومندانِ جمال نے گھڑیاں گن گن کر کاٹی ہیں جس کے عالم افروز جلوے جہان سے کفر و ضلالت کی تاریکیوں کو دور کریں گے وہ عدل و داد کے قوانین جاری کرے گا ظلم و ستم اور ہر قسم کی بدکاری کو دور کرے گا۔ زمین کو طاعتِ الٰہی سے بھرے گا ہر بلندی پر اس کا نام پکارا جائے گا روئے زمین کے چپہ چپہ پر اس کا دین پہنچ کر رہے گا کوئی قوت اس کو روکنے میں کامیاب نہ ہوگی بڑی بڑی سلطنتیں اس کی سطوت سے ہٹ جائیں گی جاہل قوم عالم بنے گی، وحشی اقوام تہذیب و اخلاق اور معرفت و پرہیزگاری کے درس دیں گی۔ تری و خشکی میں، میدان و کہسار میں، شہر و قریہ میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی آمد کی خبر مشہور ہوئی ہر مجلس میں یہی تذکرہ تھا ہر محفل میں یہی چرچہ تھا۔ انتظار کے ساتھ کاٹنا دشوار ہو گیا۔ حمل کے ایام خیر و خوبی سے گزرے آپ کی والدہ ماجدہ کو کسی قسم کی تکلیف، کسی طرح کا بار احساس نہ ہوا، ابھی آپ اپنی والدہ ماجدہ کے پاس ودیعت و امانت تھے کہ والد ماجد نے وفات پائی۔ ملائکہ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی یا رب تیرا نبی یتیم ہو گیا۔ اس کے پدرِ مہربان کا سایہ اٹھ گیا ارشادِ الٰہی ہوا ہم خود اس کے حافظ و ناصر، ولی و نگہبان، حامی و کافی، معین و رزاق ہیں۔ تم اس پر درود پڑھو اور اس کے نامِ مبارک سے برکت حاصل کرو اس ارشادِ الٰہی میں ملائکہ کو بتایا گیا کہ تمہارا خیال ہے کہ یتیم بے کس ہوتا ہے مگر یہ حبیب یتیم ہو کر بے کس نہیں، بے کسوں کا فریاد رس ہے عالم کی حاجت روائی کا سہرا اس کے سر ہے ملائکہ مقربین تک کو اس کے نام پاک سے برکت حاصل کرنا چاہیے۔ [مقالات نعیمی، ص: 36]
