| عنوان: | حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی عارفانہ زندگی |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد عبد المبین نعمانی قادری |
| پیش کش: | ارشد رضا مدنی |
حضور حافظ ملت علامہ شاہ حافظ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ والرضوان، صاحب معرفت عالم دین تھے، علم پر عمل کرنا آپ کا شیوہ تھا، دنیا میں رہے مگر دنیا سے دل نہیں لگایا۔
زاہدانہ زندگی کی جھلکیاں:
زاہدانہ زندگی کو اپنا شعار بنایا، دینی جلسوں میں جاتے تو آپ کا مقصد فروغ دین ہوتا، نہ نذرانے کا مطالبہ کرتے، نہ ملنے پر کبھی کبیدگی کا اظہار نہیں کرتے، اشارہ تک نہیں کرتے، یہ آپ کی زاہدانہ زندگی کا ایک بڑا ثبوت ہے حتی کہ جاتے وقت یہ بھی نہیں فرماتے کہ منتظمین کہاں ہیں، جلسے والوں کو خبر کرو مل لیں اور کوئی سامنے آتا تو یہ بھی نہیں فرماتے کہ میں جا رہا ہوں کہ کہیں اس کو بھی نذرانہ مانگنے پر نہ محمول کیا جائے، یہ سنی سنائی نہیں آنکھوں دیکھی بات ہے۔ زر پرستی اور دنیا طلبی کے اس دور میں یہ معمولی بات نہیں، بہت بڑی بات ہے، ہمیں اس سے سبق لینا چاہیے۔
نذرانوں کا مطالبہ کبھی نہیں کیا:
اعظم گڑھ میں ایک جگہ کئی سال تشریف لے گئے، نہ کرایہ ملا، نہ نذرانہ مگر آپ نے کبھی مطالبہ تو کیا اشارہ بھی نہیں کیا۔
قریب پاس کے جلسے اور محافل میلاد میں جو سواری آتی اسی پر بیٹھ جاتے، شان و شوکت والی سواریوں کا مطالبہ نہیں کرتے، کئی کئی میل پیدل بھی چل کر تشریف لے جاتے، کوئی معمولی سائیکل پر بیٹھا کر لے جاتا تو اس پر بھی جانے میں کوئی تکلف نہیں کرتے بلکہ کئی کئی میل سائیکل پر بیٹھ کر محفل میں حاضری دیتے، کچھ یہی حال جنازوں میں شرکت کا بھی تھا اور مریضوں کی عیادت کا بھی۔
درس کے نقصان پر کبیدہ خاطر ہوتے:
کبھی کسی دشواری سے واپسی ہوتی تو اس پر صرف یہ اظہار فرماتے کہ درس کا نقصان ہو گیا یا درس کا نقصان ہو گیا محض سفر کی صعوبت کا تذکرہ نہیں کرتے۔
ایک مرتبہ فرمایا: “دین کی راہ میں جب نکلتا ہوں تو مجھے راحت ملتی ہے”، یہ اس وقت فرمایا جب عقیدت مندوں نے کہا حضرت اب سفر بند کر دیجیے یا کم سفر کیجیے کہ کمزوری بڑھ گئی ہے، تو آپ نے مذکورہ بالا ارشاد اپنی زبان پاک سے فرمایا اور جواب دیا۔ زمانہ تدریس میں جو تنخواہ ملتی لے لیتے کبھی اضافہ تنخواہ کی درخواست نہ دی، نہ کسی طرح تنخواہ کی کمی کا اظہار کیا، اشارہ بھی نہیں کیا۔
کم خوراکی اور آداب دسترخوان:
توکل، قناعت اور صبر کا یہ عالم تھا کہ کھانے میں جو مل جاتا کھالیتے، نہ گھر پر فرمائش کرتے کہ یہ کھاؤں گا وہ کھاؤں گا، نہ کہیں مہمان ہوتے تو کسی قسم کے کھانے کا مطالبہ کرتے۔ کم خوراکی میں بھی حافظ ملت علیہ الرحمہ بے مثل تھے، دسترخوان پر آپ کے برابر شاید ہی کوئی کھاتا لیکن آہستہ آہستہ کھاتے کہ زیادہ کھانے والوں کا ساتھ دے دیں یہ نہیں کہ تھوڑا کھا کر اٹھ جائیں اور لوگ کھاتے رہیں تاکہ دوسرے مزید کھانے والوں کو شرمندگی نہ ہو، یہ حافظ ملت کی اخلاقی بلندی کا بھی ثبوت ہے۔
اضافہ تنخواہ کا مطالبہ نہیں کیا:
آخر عمر میں تنخواہ لینا بالکل بند کر دیا تھا، کسی دوسرے حیلے بہانے سے بھی لوگوں نے دینا چاہا پھر بھی قبول نہیں کیا، یوں ہی چندے کا کمیشن یا محنتانہ بھی کبھی نہیں لیا، حافظ ملت کی پاکیزہ اور زاہدانہ زندگی کی یہ ادائیں ہمارے لیے درس عبرت ہیں۔
بغیر سالن کے کھانا:
قناعت اور صبر کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ کھانا سامنے آیا، صرف روٹی تھی، آپ نے پورا کھانا کھا لیا صاحب زادی نے بعد میں سالن لا کر دیا اور عرض کیا کہ روٹی رکھ کر میں سالن لانا بھول گئی تھی، حافظ ملت نے نہ تو ڈانٹا، نہ غصے کا اظہار کیا بلکہ فرمایا میں نے سمجھا کہ آج صرف روٹی ہی کھانی ہے سالن کا انتظام نہیں ہے، نہ ہی روٹی آنے پر سالن کا مطالبہ کیا، یہ اللہ کے نیک مقبول اور متوکل بندوں کی عادت ہے، اس میں حسن اخلاق کا بھی بہت بڑا سبق ہے۔
جو کہتے اس پر عمل کرتے:
جو کہتے اس پر سختی سے عمل کرتے، ایسا نہیں تھا کہ کہا کچھ اور کیا کچھ، گویا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ [سورۃ الصف: 2]
اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے۔ (کنز الایمان) کے سچے مصداق تھے حافظ ملت علیہ الرحمہ۔
اس آیت کے شان نزول میں کئی اقوال ہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو کسی دینی کام مثلاً: جہاد وغیرہ کا وعدہ کرتے مگر اسے پورا نہ کرتے، اس طرح جو بغیر عذر شرعی کے اپنے قول پر عمل نہ کرے تو اس کا یہ عمل بھی منافقین کا عمل ہے۔
حافظ ملت علیہ الرحمہ کسی جلسے وغیرہ میں جانے کا وعدہ کر لیتے تو حتی الامکان ضرور جاتے اور اگر کوئی عذر ہوتا پہلے ہی خبر کر دیتے۔ یا اپنی جگہ کسی مناسب آدمی کو بھیجتے، چنانچہ حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ کا جس دن رات میں وصال ہوا اس دن خلیل آباد جلسے میں جانے کا وعدہ تھا لیکن جب طبیعت زیادہ خراب ہو گئی، حاضری میں دشواری محسوس کی تو صاحب زادہ گرامی وقار حضرت مولانا عبدالحفیظ (عزیز ملت دامت برکاتہم) کو اپنی جگہ بھیج دیا، حضرت عزیز ملت راستے ہی میں تھے کہ حضرت حافظ ملت کا انتقال ہو گیا، اس وقت انتقال سے پہلے فرمایا: “اب میں عبدالحفیظ کا انتظار نہ کروں” واقعہ یہ ہے کہ لوگوں سے پوچھا: عبدالحفیظ کہاں ہیں؟ بتایا گیا کہ حضرت! وہ تو خلیل آباد گئے ہیں، تب فرمایا کہ تو اب میں عبدالحفیظ کا انتظار نہ کروں، گویا آپ کو دنیا کے خیر باد کہنے کا پورا پورا احساس ہو گیا تھا۔
وعدہ وفائی کا اس درجہ پاس تھا، موت کا وقت قریب ہے پھر بھی خود جانے لائق نہیں تو صاحب زادے کو بھیج دیا کہ کہیں کوئی یہ نہ کہے کہ خود بھی نہیں آئے کسی کو اپنی جگہ بھیجا بھی نہیں۔
ایک مرتبہ بنارس محلہ محمد شہید کی مسجد میں ایک جلسے کا پروگرام رکھا گیا، اس میں حافظ ملت کو مدعو کیا گیا، حضرت نے منظوری بھی دے دی تھی مگر کسی عذر کی وجہ سے جانا مشکل تھا تو مولانا ابو محمود صاحب کو خط لکھا کہ “میں فلاں مجبوری کی وجہ سے جلسے میں نہ آسکوں گا، آپ مجھے معذور رکھیں اور فلاں مولانا صاحب کو بلالیں ان شاء اللہ آپ کا جلسہ کامیاب ہو جائے گا” قبل از وقت خبر ہو گئی تھی اس لیے ذمہ داروں نے جلسہ ہی کینسل کر دیا اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ جلسہ خاص حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی تشریف آوری کی غرض سے منعقد کیا گیا تھا لہٰذا جب پتہ چل گیا کہ حضرت علیہ الرحمہ تشریف نہیں لائیں گے تو جلسہ ملتوی کر دیا گیا۔
غرض کہ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ وعدے کے بڑے پکے تھے، وہ جانتے تھے کہ وعدہ کر کے پورا کرنا ایک مومن کی ذمہ داری ہے۔ دوسرے وعدے کے مطابق نہ پہنچنے سے جلسے والوں کی سبکی ہوتی ہے اور سامعین پر بھی اس کا برا اثر پڑتا ہے، حدیثوں میں بھی وعدہ وفائی کی بڑی تاکید آئی ہے اور وعدہ خلافی منافق کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
بغیر معاوضہ تعویذ لکھنا:
خدمت خلق اور لوگوں کی حاجت برآری کے لیے حافظ ملت علیہ الرحمہ خود بھی تعویذات لکھتے اور مولانا نصیر الدین مصباحی پلاموی (سابق استاد جامعہ اشرفیہ مبارک پور) سے لکھواتے اور خود بھی لکھ کر انھیں دے دیتے کہ حاجت مندوں میں تقسیم کر دیں لیکن کبھی بھی پیسے کا مطالبہ نہ کیا، نہ ہی اس کا اشارہ کیا، نہ کسی حیلے بہانے سے کچھ حاصل کیا۔ جمعہ کے دن خاص طور سے حضرت کی قیام گاہ پر حاجت مندوں کی بھیڑ لگتی تھی، حتی الامکان سب کی حاجت روائی بھی کی جاتی تھی۔
بہت اہم ضرورت سے کوئی آتا جمعہ کے علاوہ دنوں میں بھی، تو اسے تعویذات عنایت فرماتے اور میں نے دیکھا کبھی ایسے موقع پر کبیدگی اور دل برداشتگی کا اظہار نہیں فرمایا۔ حاجت مندوں کو جھڑکتے ڈانٹتے نہیں البتہ کوئی بے وقت آجاتا تو اسے سنجیدگی کے ساتھ تنبیہ فرماتے اس طرح کہ یہ تعویذ کا وقت نہیں۔ اُس وقت فوٹو کاپی بھی نہیں ہوتی تھی اس لیے اندازہ لگائیں کہ کس قدر تعویذ لکھنی پڑتی تھی۔ صحیح ہے اللہ والے، اللہ کے بندوں کو محروم نہیں کرتے، ان کا سایہ کرم سب پر دراز ہوتا ہے۔
حافظ ملت نے خانقاہوں کو جوڑنے کا کام کیا ہے:
حافظ ملت علیہ الرحمہ خانقاہوں کو درسگاہوں سے جوڑنے کا بھی فن جانتے تھے، وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر خانقاہوں کے بچے دین کا علم نہیں حاصل کریں گے تو جاہل رہ جائیں گے اور وابستگان سلسلہ کی تعلیم و تربیت نہیں کر سکیں گے، نہ خود کو سدھار سکیں گے، نہ مریدین کو۔ اس لیے ان کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کی ترکیب ضروری ہے، اسی لیے حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ نے خانقاہی طلبہ پر خصوصی توجہ دی۔ بارہ بنکی دیوہ شریف کی ایک خانقاہ ہے چشتیہ سلطانیہ، وہاں کے سجادہ نشین تھے مولانا سید سلطان ضمیر الحق چشتی علیہ الرحمہ۔ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ نے ان سے گزارش کی کہ آپ اپنے بچوں میں کسی کو میرے حوالے کر دیں تاکہ میں انھیں دینی علوم سے آراستہ کر کے آپ کے حوالے کر دوں، چنانچہ انھوں نے اپنے صاحبزادے جناب مولانا سید محمد فاروق چشتی کو حافظ ملت کے حوالے کر دیا چنانچہ وہ یہاں آئے اور پرانے مدرسے میں ان کا قیام تھا، دوران طالب علمی میری ان سے بارہا کی ملاقات رہی، پھر کوئی رابطہ نہ رہا، اتفاق ایسا ہوا کہ مالیگاؤں ناسک (مہاراشٹر) میرا آنا جانا ہوا تو معلوم ہوا کہ سید فاروق چشتی صاحب کے کئی مریدین نے مجھے بتایا کہ میں مولانا سید فاروق چشتی بارہ بنکی والے کا مرید ہوں، میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ وہی سید فاروق چشتی ہیں جو اشرفیہ میں پڑھتے تھے، حسن اتفاق کہ ایک دن میری ان کی ملاقات مالیگاؤں ہی میں ہو گئی، دیکھ کر میں فوراً پہچان گیا اور مجھے بڑی خوشی حاصل ہوئی کیوں کہ عرصہ دراز کے بعد میں ان سے ملا تھا، الحمد للہ مالیگاؤں میں ان کی باضابطہ خانقاہ بھی ہے اور قرب و جوار میں بھی ان کے مریدین کی بڑی تعداد ہے اور ان کے قائم کیے ہوئے مدارس بھی ہیں۔ حضور حافظ ملت نے اگر یہ توجہ نہ کی ہوتی تو معلوم نہیں سید صاحب کا کیا حال ہوتا، کیوں کہ وہ اس وقت اسکول میں زیر تعلیم تھے، حافظ ملت نے انھیں اسکول سے مدرسے کی راہ دکھائی، بعد میں ان کے والد صاحب نے حافظ ملت کی گزارش پر کان دھرا اور اپنے فرزند کو حافظ ملت کے حوالے کر دیا اور اس کا نہایت خوشگوار نتیجہ سامنے آیا، تلاش کیا جائے تو اس کی اور بھی بہت سی مثالیں مل سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا سید محمد فاروق چشتی دامت برکاتہم کی حیات میں برکتیں دے اور ان کے روحانی فیوض و برکات کو عام فرمائے، آمین۔
حافظ ملت اور امامت کا پیشہ:
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ والرضوان نے امامت کو پیشہ نہیں بنایا، پنج وقتہ نماز ہو یا جمعہ وغیرہ کی ہمیشہ بلا تنخواہ امامت کا فریضہ انجام دیتے رہے، ایک مرتبہ فرمایا:
“میاں امامت کوئی کام یا پیشہ ہے، نماز تو پڑھنی ہی ہے کہ فرض ہے بس پیچھے نہیں آگے پڑھ لیا”۔
جو لوگ پیشہ وارانہ امامت کرتے ہیں ان کے لیے حافظ ملت کا یہ ارشاد بڑا معنی رکھتا ہے اور بہت بڑا درس عبرت بھی ہے۔
حافظ ملت عفو و درگزر کے بھی پیکر تھے:
کوئی کیسا بھی دشمن ہوتا، راستہ چلتے برا بھلا کہتا لیکن حافظ ملت نہ جواب دیتے، نہ نظر اٹھا کر اس کی طرف تاکتے، نتیجے کے طور پر وہ خاموش ہو جاتا، یا عتاب الٰہی کا شکار ہو جاتا۔
ایک مرتبہ کسی عقیدت مند نے عرض کیا لوگ آپ کو کیا کیا کہتے ہیں آپ انھیں جواب نہیں دیتے، فرماتے میں اگر جواب کے چکر میں پڑوں گا تو اپنے کام میں پیچھے ہو جاؤں گا، مجھے کام کرنا ہے، لوگوں کو جو کہنا ہے کہیں، اس سے میرا کچھ نہیں بگڑتا۔ یہ بھی قرآن پاک کی ایک آیت پر عمل ہے، وہ یہ ہے:
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ [سورۃ الاعراف: 199]
اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منھ پھیر لو۔ (کنزالایمان)
اس آیت میں درگزر کرنے اور بھلائی کا حکم دینے یعنی جو غلطی کرے اس کو درگزر کرو اور نیکی کا حکم دو یعنی جو برائی کرے اس کے ساتھ بھلائی کرو اور جو جہالت پر آمادہ ہو اس سے منھ پھیر لو، جواب دینے کی کوشش نہ کرو، جاہل وہی نہیں جو بے علم ہو بلکہ علم کے باوجود جو بد خلقی پر آمادہ ہو وہ بھی جاہل ہے کہ اخلاقی قدریں نہیں جانتا۔
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کا اس آیت پر بھی سختی سے عمل تھا، جس کی وجہ سے حافظ ملت کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکا اور حافظ ملت اپنے مشن میں کامیاب ہوئے، بہت سے دشمن دوست بھی بن گئے۔ الجامعۃ الاشرفیہ کی تعمیر کے وقت اس کے بہت سے مناظر سامنے آئے، دیکھنے والے ابھی بھی مبارک پور اور دیگر مقامات پر موجود ہیں، ناچیز راقم الحروف نے بھی اس کے بہت سے مناظر اپنی نگاہوں سے ملاحظہ کیے، ایسے ہی ایک موقع پر حافظ ملت نے فرمایا: ہر مخالفت کا جواب کام ہے، ہمیں کام کرنا ہے جو مخالفت کرتے ہیں، انھیں کچھ نہیں کرنا ہے (یعنی انھیں کوئی تعمیری کام نہیں کرنا ہے)۔
یہ آیت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی، اس کے مخاطب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں لیکن سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں پوری امت محمدیہ کے لیے اس میں درس و تعلیم ہے۔ یہ آیت اسلامی اخلاق کا آئینہ ہے، اس کو مشعل راہ بنانے سے آدمی کی شخصیت نکھرتی اور بلند ہوتی ہے۔
نماز تہجد کی پابندی:
سفر و حضر میں ہر جگہ حافظ ملت نماز تو نماز، تہجد کی بھی پابندی کرتے تھے۔ دنیا میٹھی نیند کے مزے لے رہی ہے، آرام کے بستر پر محو خواب ہے اس وقت بیدار ہو کر رب کو یاد کرنا اور اس کی بارگاہِ بے نیاز میں سر بسجود ہونا گھر والوں اور دنیا والوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینا اور معبود حقیقی کی بارگاہ میں لذت عبادت کے مزے لوٹنا کسی زہد سے کم نہیں، جو زاہد ہو گا وہی تہجد کی عظمت کو دل میں جگہ دے گا اور شب کے سناٹے میں رب العالمین کی رضا چاہنے کو اٹھ کھڑا ہو گا، یہ حافظ ملت کی زاہدانہ و عارفانہ زندگی کا بہت بڑا ثبوت ہے۔
حتی کہ جلسوں میں شرکت کے باوجود حافظ ملت تہجد ترک نہیں کرتے تھے، کب کیسے اور کس حکمت سے تہجد کے لیے وقت نکال لیتے تھے، یہ حافظ ملت ہی کے بس کی بات تھی۔
رات میں جس قدر بھی شب بیداری ہو جائے، صبح واپسی کے لیے تیار ہو جاتے تاکہ سواری نہ چھوٹنے پائے اور درسگاہ کا بھی نقصان نہ ہو۔ جلسوں سے واپسی کے وقت صبح کو ناشتے کی فکر نہیں کرتے، زیادہ تر بغیر ناشتے ہی کے نکل پڑتے، ہاں! پیٹی میں ابلا انڈا رکھتے بعد فجر اس کو استعمال کر لیا کرتے۔ اس کی بھی میزبان سے فرمائش نہیں کرتے۔ یہ گھر ہی سے ساتھ لے لیتے تھے اور مدرسہ پہنچنے پر بھی سیدھے درسگاہ جاتے، ناشتے وغیرہ کے لیے کہیں رکتے نہیں، درس کی گھنٹی کے درمیان موقع نکال کر صرف چائے نوش کر لیا کرتے، دوپہر کو قیام گاہ پر جا کر جو کھاتے بس وہی کھاتے.
قلت طعام، قلت منام اور قلت کلام پر بھی حافظ ملت سختی سے عامل تھے۔ فضول گفتگو، بلند آواز سے باتیں کرنا ایسا لگتا ہے کہ جانتے ہی نہیں۔ ہر وقت ذکر الٰہی آپ کی عادت کریمہ تھی، زیادہ تر قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہتے، اسی کو ایک حدیث میں افضل اعمال بتایا گیا ہے۔ حافظ ملت اسی کے عادی اور عامل تھے۔ یہ تھی حضور حافظ ملت کی زاہدانہ اور عارفانہ زندگی جس کی ایک ایک ادا ہمارے لیے درس عبرت و نمونہ عمل ہے۔ لہٰذا حافظ ملت صرف درس گاہ کے بادشاہ نہ تھے، فکر و عمل، زہد و تقویٰ اور عارفانہ زندگی کے بھی عامل تھے۔ رب کائنات ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ [حوالہ: ماہنامہ اشرفیہ، نومبر 2025، ص: 23]
