| عنوان: | امین شریعت اور مسلک اعلیٰ حضرت (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی عبد المالک مصباحی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
مسلکِ اعلیٰ حضرت کا فروغ حضور امینِ شریعت کی زندگی کا مشن رہا، آپ اپنے مریدین، خلفاء اور متوسلین میں بھی یہی روح اور اسپرٹ کارفرما دیکھنا چاہتے تھے۔
مسلکِ اعلیٰ حضرت کیوں؟
یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
میرے خیال میں اس کا سب سے اہم اور پہلا جواب تو یہ ہے کہ:
ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ
اس سوال کو پیش کرنے سے پہلے تھوڑی دیر ٹھہر کر ذرا یہ غور کر لیا جائے کہ اگر کوئی کہے علم و فن اور فقہ و حدیث کے کوہِ ہمالہ تو بہت سے ہیں، پھر حضرت نعمان بن ثابت ہی کو امامِ اعظم کیوں کہا جائے؟ اگر کوئی کہے کہ عبادت و ریاضت کے شہسوار تو بہت ہیں، تقویٰ و طہارت کے تاجدار تو ایک سے بڑھ کر ایک ہیں، صفحۂ ہستی پر رشد و ہدایت کے روشن مینار کی بھی کمی نہیں، اعلائے کلمۃ الحق کی صدائے دلنواز بلند کرنے والوں کی بھی ایک لمبی قطار ہے، پھر سرکارِ بغداد شیخ عبد القادر جیلانی ہی غوثِ اعظم کیوں؟
اس قسم کے سوالوں کے جواب میں اس کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ:
ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ
ان نفوسِ قدسیہ نے اپنے اپنے زمانوں میں دینِ متین کی جو گرانمایہ خدمات انجام دی ہیں، ان کے صلے میں منجانب اللہ انہیں ان القاب و مقاماتِ علیا سے سرفراز کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس فتنہ آشوب ماحول میں جبکہ باطل کے پرستار اہلِ حق کا لبادہ اوڑھ کر شریعتِ اسلامیہ کے رخِ تاباں کو گرد آلود کرنے اور اتنا ہی نہیں بلکہ اپنی شاطرانہ چالوں سے اسے بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کی سعیِ بیجا کر رہے تھے، تو امام احمد رضا علیہ الرحمہ اپنے تن من دھن کی بازی لگا کر عظمتِ اسلام کی سرفرازی کی خاطر میدانِ عمل میں اتر پڑے اور ہزارہا آندھیاں چلیں، لاکھوں طوفان آئے مگر آپ کے پائے استقلال میں جنبش نہ آئی۔ ایسے ہوش ربا حالات میں مکمل پامردی اور ثباتِ قدمی کے ساتھ ملتِ بیضاء کی آبیاری و آبپاشی میں لگے رہے اور حیاتِ مستعار کے آخری لمحات تک ہر محاذ پر سینہ سپر رہے، یہاں تک کہ پروردگارِ عالم نے آپ کو کونین کی سرخروئی عطا فرمائی۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل اقتباس سے ظاہر ہے۔
آل انڈیا سنی کانفرنس 1946ء کے دستور میں سنی کی جو تعریف لکھی گئی تھی وہ یہ تھی: “جو “مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي” کا مصداق ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ائمہ دین، خلفائے راشدین، مسلم مشائخِ طریقت اور متاخرین علماء میں حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی، حضرت ملک العلماء بحر العلوم فرنگی محلی، حضرت مولانا فضلِ حق خیر آبادی، حضرت مولانا شاہ فضلِ رسول بدایونی، حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین رامپوری، حضرت مولانا مفتی شاہ احمد رضا خاں بریلوی رحمہم اللہ کے مسلک پر ہوں۔”
یہ تعریف اس کانفرنس کے دستور اور رکنیت فارم میں درج تھی جس میں پانچ ہزار سے زائد علمائے و مشائخِ اہلسنت شریک تھے اور اس تنظیم سے لاکھوں افراد وابستہ تھے۔
مسلک کے حوالے سے بات تو بہت سے علماء و محققین کی کی گئی ہے لیکن اس میں شہرت صرف اور صرف امام احمد رضا کے نام کو ملی تو بھلا اس میں واویلا مچانے کی کیا بات؟
یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا
مسلکِ اعلیٰ حضرت نشانے پر کیوں؟
آج غیروں کے ساتھ کچھ اپنے کہلانے والے بھی “مسلکِ اعلیٰ حضرت” کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں اور “حلقۂ مریداں” میں بھولے سے بھی کوئی ایسا موقع نہیں جانے دیتے جس سے لوگوں کے ذہن میں اس تعلق سے بدگمانی کے جراثیم پیدا نہ ہوں۔ ماضی میں تمام اکابرینِ اہلسنت نے اس کی تائید، توثیق اور ترویج و اشاعت کا حق ادا کیا۔ ہندوستان تو ہندوستان، عالمِ عرب کے جید علماء کا حال یہ تھا کہ وہ امام اہلسنت کی ذات کو معیارِ حق سمجھتے تھے، جیسا کہ مشہور عالمِ عرب حضرت علامہ سید محمد علوی مالکی علیہ الرحمہ، علمائے ہند کے نزدیک امامِ اہلسنت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
نَحْنُ نَعْرِفُهُ بِتَصَانِيفِهِ وَتَآلِيفِهِ، حُبُّهُ عَلَامَةُ السُّنَّةِ وَبُغْضُهُ عَلَامَةُ الْبِدْعَةِ.
ہم انہیں ان کی تصنیفات و تالیفات سے جانتے ہیں، ان کی محبت سنت کی علامت اور ان سے بغض بدعت کی نشانی ہے۔
اکابرین و اساطین کے حاشیۂ خیال میں بھی جو باتیں نہیں تھیں، آج کچھ “دنیا دار” قسم کے مولوی نما لوگ ان باتوں کو عوام و خواص میں پھیلا رہے ہیں۔ آخر کیوں یہ لوگ ایسے جسارت آمیز قدم اٹھا رہے ہیں اور کیوں اپنے اسلاف سے بغاوت کر کے انہیں اپنی قبروں میں اذیت پہنچا رہے ہیں؟
اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے قرآن و سنت کی روشنی اور اقوالِ سلفِ صالحین کے تناظر میں اپنے منصب “مجددیت” کا حق ادا کرتے ہوئے شریعتِ اسلامیہ کے روئے زیبا پر پڑنے والی گرد و غبار کی معمولی سی معمولی پرت کو بھی صاف کر دیا اور اس میں کسی طرح کوئی رورعایت نہ کی، شریعت کا حکم ببانگِ دہل عام کر دیا۔ مثلاً:
-
الف۔ کچھ لوگ “کاشتِ مریداں” کی افزائش و ہریالی کے لیے “پیروں” کو سجدہ کی وکالت کر رہے تھے اور کچھ عاقبت نااندیش اور خوفِ خدا سے خالی پیر اسے عملی جامہ پہنانے میں لگے ہوئے تھے۔ ایسے لوگوں کا تعاقب کرتے ہوئے آپ نے چالیس احادیثِ صحیحہ سے استدلال کرتے ہوئے “الزُّبْدَةُ الزَّكِيَّةُ لِتَحْرِيمِ سُجُودِ التَّحِيَّةِ” نامی رسالہ لکھ کر “سجدۂ تعظیمی” کی حرمت کو آشکارا کیا۔ نفس پرست یاروں نے دیکھا کہ امام احمد رضا نے پیر پرستوں کی آنکھیں کھول دیں، اس لیے کمر بستہ ہو گئے امام احمد رضا کی مخالفت پر!
-
ب۔ کچھ لوگوں نے “سماع” کی عظمت کو پامال کرتے ہوئے ڈھول تاشے پر تھرکنے اور فاسق و فاجر قوال کی راگ پر جھومنے بلکہ ناچنے کو “سماع” کہہ کر گانے بجانے کے رسیا لوگوں کی بھیڑ اکٹھی کرنی شروع کر دی۔ امام احمد رضا نے “مزامیر والی قوالی” کو اکابرین کے اقوال کی روشنی میں حرام بتا کر حظِ نفس میں سرمست لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا، تو شوکتِ اسلام کو پامال کرتے ہوئے حلقۂ مریداں پر نظریں جمانے والے اصحابِ جبہ و دستار نے سب کو چھوڑ کر امام احمد رضا ہی کو نشانہ بنا لیا۔ بس پھر کیا تھا امام احمد رضا کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے لگے۔
-
ج۔ اسی “کمپنی کے لوگ” اپنے بزرگوں کی ‘زیارت گاہ’ کو ‘تجارت گاہ’ میں تبدیل کرتے ہوئے عورتوں کو بھی آستانوں اور مزارات پر بلا جھجک جانے کی اجازت دینے لگے، حتیٰ کہ ‘عرسِ مقدس’ کو ‘میلے’ میں تبدیل کر دیا۔ امام احمد رضا نے احادیث کی روشنی میں اس کی مخالفت کی اور اس سلسلے میں ایک مستقل رسالہ “جَمَلُ النُّورِ فِي نَهْيِ النِّسَاءِ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ (1339ھ)” لکھ کر قوم کے حوالے کر دیا۔ بس اب کیا تھا، امام احمد رضا نے عاقبت سدھارنے کی کوشش کی اور اربابِ عیش و نشاط نے اسے اپنی آمدنی پر قدغن تصور کر لیا، بس کود گئے میدان میں مخالفت کے لیے۔
-
د۔ کچھ ‘فلڈ مارشل’ حضرات ‘پیروں’ کا لبادہ اوڑھ کر ‘مریدنیوں’ کے جسم و سر پر ‘دستِ مقدس’ پھیرنے کو کمالِ تبلیغِ اسلام سمجھتے تھے، حالانکہ یہ طریقہ روحِ اسلام کے سراسر منافی ہے۔ امامِ اہلسنت نے اسی بات کو شریعت کی روشنی میں اجاگر کرتے ہوئے فرمایا: “پردہ کے باب میں پیر و غیر پیر ہر اجنبی کا حکم یکساں ہے، جوان عورت کو چہرہ کھول کر بھی سامنے آنا منع ہے۔” یہ بات ان مجاہدینِ فرحت و نشاط کے دل میں چبھ گئی اس لیے اٹھ کھڑے ہوئے اہانت و تنقیص کا علم لے کر۔
-
ہ۔ فوٹو کی حرمت: کچھ خانقاہوں کے ذمہ داروں نے اپنے مریدوں کو اپنا فوٹو کھینچوا کر دینا شروع کر دیا اور اسے تبرک بنا کر رکھنے کا ذہن دینے لگے۔ امامِ اہلسنت نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا ردِ بلیغ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: “اللہ عزوجل ابلیس کے مکر سے پناہ دے، دنیا میں بت پرستی کی ابتداء یونہی ہوئی کہ صالحین کی محبت میں ان کی تصویریں بنا کر رکھیں۔” اس تعلق سے آپ نے باقاعدہ ایک رسالہ “عَطَايَا الْقَدِيرِ فِي حُكْمِ التَّصْوِيرِ (1331ھ)” تحریر فرما کر اس ابلیسی فکر کی تردید فرمائی۔ بس کیا تھا، تازیانۂ حق کی ضرب برداشت نہ کر سکے اور اتر پڑے مخالفت کا پٹارہ لے کر۔
اس طرح “مسلکِ اعلیٰ حضرت” کی مخالفت و معاندت کی وجوہات کی ایک لمبی فہرست ہے، بطورِ نمونہ یہاں چند پیش کی گئی ہیں۔
ان مثالوں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امام احمد رضا سے مخالفت یا “مسلکِ اعلیٰ حضرت” کی معاندانہ تشہیر صرف اور صرف عیش و عشرت اور حصولِ زر میں مداخلت کی وجہ سے ہے۔ امام احمد رضا نے اصحابِ جبہ و دستار کو دنیا کے گڑھے سے نکال کر جنت کی دائمی اور بہجت آمیز وادی میں پہنچانے کی سعی بلیغ کی تو یہ باتیں انہیں اپنے مفاد کے خلاف نظر آئیں، اس لیے گھریلو اور نجی محفلوں سے لے کر اسٹیجوں تک اور زبان سے لے کر قلم تک کے ذریعے “مسلکِ اعلیٰ حضرت” کا بہانہ بنا کر افکار و تعلیماتِ امام احمد رضا کو نشانہ بنانے لگے، فَيَا لَلْعَجَبِ!
کسی زمانے میں مسعودِ ملت ڈاکٹر مسعود احمد علیہ الرحمہ نے زیرِ نظر تبصرہ غیروں کے مکائد کا تجزیہ کرتے ہوئے سپردِ قرطاس کیا تھا مگر ہائے افسوس اب کچھ اپنے کہلانے والے بھی اسی روش پر چل پڑے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے:
“امام احمد رضا سے مخالفت کی سب سے بڑی وجہ مسلکِ سلفِ صالحین پر ان کی بے پناہ استقامت اور اس کی اشاعت کے لیے ان کی سرگرمی اور اس مسلک کے مخالفین پر ان کی سخت تنقیدات معلوم ہوتی ہیں۔”
تاریخی شواہد کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حالات کچھ آج ہی کے پیدا شدہ نہیں، بلکہ خود امامِ اہلسنت کے زمانے ہی میں ایسے عناصر سر ابھارنے لگے تھے۔ جبھی تو آپ کو کہنا پڑا:
اک طرف اعدائے دیں اک طرف حاسدین
بندہ ہے تنہا شہا تم پہ کروڑوں درود
آج جبکہ علمی گہرائی کمیاب، خشیتِ الٰہی مفقود اور نفس پرستی بڑھتی جا رہی ہے، ایسے ماحول میں محبینِ اسلام اور ناشرینِ “مسلکِ اعلیٰ حضرت” کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے جسے شدت سے محسوس کرنے اور مضبوط لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
احساس بڑھا دیتا ہے ہر درد کی شدت
محسوس کرو گے تو کسک اور بڑھے گی
موجودہ حالات کے تناظر میں “مسلکِ اعلیٰ حضرت” کی عصری معنویت کو اجاگر کرنے، افکارِ امام احمد رضا کی خوب خوب تشہیر، سنجیدہ لب و لہجہ اور علمی انداز میں مخالفین کی تردید، سائنٹفک انداز میں لوگوں کی ذہن سازی اور عوام کو شخصیت پرستی سے زیادہ حقیقت پسندی کا خوگر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں دو چار ادارے اس کے لیے کافی نہیں، ہر شہر اور قصبے میں باصلاحیت اور متحرک افراد پر مشتمل ٹیم کی مشترکہ جدوجہد، عصری اسباب و وسائل اور آلات سے مسلح ہو کر مختلف انداز اور زبان میں کام کرنے، وقت و حالات کے مدِ نظر کشادہ ظرفی اور دور اندیشی سے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کو عصرِ حاضر کی ضرورت سمجھ کر ہر سنی مسلمان خواہ وہ کسی شعبۂ حیات سے تعلق رکھے، اسے اس کی نشر و اشاعت میں حصہ لینے کی اہمیت سمجھانے کی ضرورت ہے۔ [ماہنامہ سنی آواز ناگپور، مارچ، اپریل 2022ء]
یہ ہے دامن یہ ہے گریباں آؤ کوئی کام کریں
موسم کا منہ تکتے رہنا کام نہیں دیوانوں کا
