Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مکہ مکرمہ کے فضائل|مغل توقیر عطاری مدنی

مکہ مکرمہ کے فضائل
عنوان: مکہ مکرمہ کے فضائل
تحریر: مغل توقیر عطاری مدنی
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضان اولیاء احمدآباد گجرات

مکہ مکرمہ حجاز کا مشہور شہر ہے، جو مشرق میں جبل ابوقبیس اور مغرب میں جبل قعیقعان کے درمیان واقع ہے۔ اس کے چاروں طرف چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں اور ریتلے میدانوں کا سلسلہ دور دور تک چلا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کو مکہ مکرمہ کی وادی میں ٹھہرا دیا، آپ دونوں کے یہاں آنے کے بعد رفتہ رفتہ شہر آباد ہوگیا۔ شہر مکہ میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلی وحی بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ ان فضائل کے علاوہ بھی مکہ مکرمہ کے بے شمار فضائل و برکات قرآن و حدیث میں وارد ہوئے ہیں۔ مکہ مکرمہ کو کئی ایک ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں: (1) بلد الامین (2) قاد‌سیہ (3) بیت العتیق (4) معاد (5) بکہ (6) ام القریٰ (7) الراس (8) القریۃ۔ [سیرت مصطفیٰ، ص: 162]

ایک دفعہ ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ ظاہری میں غیر مسلموں نے مسلمانوں پر اعتراض کیا کہ تمہارا قبلہ کعبہ شریف ہے اور ہمارا قبلہ بیت المقدس (یعنی مسجد اقصیٰ) ہے اور بیت المقدس چونکہ کعبہ شریف سے افضل ہے، لہٰذا ہمارا دین تمہارے دین سے افضل ہے۔ اس دعویٰ پر ان غیر مسلموں نے چند دلائل دیے، ایک دلیل انہوں نے یہ دی کہ بیت المقدس پہلے تعمیر ہوا اور کعبہ شریف کی تعمیر بعد میں ہوئی، لہٰذا بیت المقدس کو شانِ اولیت حاصل ہے، اس سے ثابت ہوا کہ بیت المقدس افضل ہے۔ اور غیر مسلموں نے دوسری دلیل یہ دی تھی کہ بیت المقدس ملکِ شام میں ہے اور ملکِ شام برکت والی سرزمین ہے، روزِ قیامت میدانِ محشر بھی یہیں ہوگا۔ (خیال رہے اس وقت ملکِ شام بہت وسیع تھا، فلسطین بھی ملکِ شام ہی میں شامل تھا اس لیے غیر مسلموں نے یوں کہا)۔ اسی طرح بیت المقدس انبیائے کرام علیہم السلام کا قبلہ ہے لہٰذا بیت المقدس کعبہ شریف سے افضل ہے۔ غیر مسلموں کے اس اعتراض کے جواب میں اللہ پاک نے پارہ 4 سورۃ آل عمران کی آیت 96 اور 97 نازل فرمائی، ارشاد ہوتا ہے:

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ ۝٩٦ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ ۝٩٧ [سورۃ آل عمران: 96-97]

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا وہ ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لیے ہدایت ہے۔ اس میں کھلی نشانیاں ہیں، ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے اور جو اس میں داخل ہوا امن والا ہوگیا اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہے، اور جو انکار کرے تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے۔

اللہ پاک نے ان آیات میں کعبہ شریف کی بہت سی خصوصیات بیان فرمائی ہیں:

  1. سب سے پہلی عبادت گاہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اس کی طرف نماز پڑھی۔

  2. تمام لوگوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا، جبکہ بیت المقدس مخصوص وقت میں خاص لوگوں کا قبلہ رہا۔

  3. مکہ معظمہ میں واقع ہے جہاں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ ہے۔

  4. اس کا حج فرض کیا گیا۔

  5. حج ہمیشہ صرف اسی کا ہوا، بیت المقدس قبلہ ضرور رہا ہے لیکن کبھی اس کا حج نہ ہوا۔

  6. اسے امن کا مقام قرار دیا۔

  7. اس میں بہت سی نشانیاں رکھی گئیں جن میں ایک مقامِ ابراہیم ہے۔ [صراط الجنان فی تفسیر القرآن، ج: 1]

کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر!
دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر اللہ اکبر اللہ اکبر

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ایک اور مقام میں کعبہ شریف کی فضیلت پر فرماتا ہے:

وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ [سورۃ البقرۃ: 144]

ترجمۂ کنزُ العِرفان: اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرلو۔

اللہ پاک نے اس مسجد کو پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے قبلہ بنایا۔

پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے بے حد محبت تھی۔ جب پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما رہے تھے، تب پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دولت خانہ سے نکل کر مقام “حزورہ” کے پاس کھڑے ہوگئے اور بڑی حسرت کے ساتھ کعبہ کو دیکھا اور فرمایا کہ اے شہرِ مکہ! تو مجھ کو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے۔ اگر میری قوم مجھ کو تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی اور جگہ سکونت پذیر نہ ہوتا۔ [سیرت مصطفیٰ، ص: 162]

جس طرح قرآن مجید میں کعبہ معظمہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے، اسی طرح احادیث میں بھی اس مقدس جگہ کی فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہے۔ چند ایک آپ کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں:

  1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جس کی حج یا عمرہ کرنے کی نیت تھی اور اسی حالت میں اسے حرمین یعنی مکہ یا مدینہ میں موت آگئی تو اللہ پاک اسے بروزِ قیامت اس طرح اٹھائے گا کہ اس پر نہ حساب ہوگا نہ عذاب۔” ایک دوسری روایت میں ہے وہ بروزِ قیامت امن والے لوگوں میں اٹھایا جائے گا۔ [عاشقانِ رسول کی 130 حکایات مع مکے مدینے کی زیارتیں، ص: 194]

  2. نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: “اے لوگو! اس شہر کو اسی دن سے اللہ پاک نے حرم بنا دیا ہے، جس دن آسمان و زمین پیدا کیے، لہٰذا یہ قیامت تک اللہ پاک کے حرام فرمانے سے حرمت والا ہے۔” [سُنَنِ ابْنِ مَاجَه، ج: 3، ص: 159، رقم الحدیث: 3109]

  3. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مخاطب ہوکر فرمایا: “اے سرزمینِ مکہ! تو کس قدر پیارا شہر ہے، مجھے کس قدر محبوب ہے۔” [مِشْكٰوة شَرِيْف، كِتَابُ الشِّفَاء، ج: 1، ص: 85]

  4. مالکِ بحروبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “مکہ اور مدینہ میں دجال داخل نہ ہوگا۔” [مُسْنَدِ أَحْمَد بْن حَنْبَل، رقم الحدیث: 2610]

  5. حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “مکہ میں رمضان گزارنا غیرِ مکہ میں ہزار رمضان گزارنے سے افضل ہے۔” اللہ پاک ہم کو بھی نصیب کرے کہ رمضان المبارک کا مہینہ ہم مکہ و مدینہ میں گزاریں، آمین۔ [عاشقانِ رسول کی 130 حکایات مع مکے مدینے کی زیارتیں]

  6. جس نے مکہ مکرمہ میں ماہِ رمضان پایا اور روزہ رکھا اور رات میں جتنا میسر آیا، قیام کیا تو اللہ پاک اس کے لیے اور جگہ کے ایک لاکھ رمضان کا ثواب لکھے گا، اور ہر دن ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب اور ہر رات ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب اور ہر روز جہاد میں گھوڑے پر سوار کر دینے کا ثواب اور ہر دن میں نیکی اور ہر رات میں نیکی لکھے گا۔ [سُنَنِ ابْنِ مَاجَه، ج: 3، ص: 523، رقم الحدیث: 3117]

واہ! کیا شان ہے مکہ مکرمہ کی! اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اس مقدس شہر، مقدس جگہوں میں حاضری کے شرف سے نوازے، اس کا ادب اور احترام کرنے کی توفیق سے نوازے اور ڈھیروں نیکیاں اکٹھی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!