| عنوان: | قیامت کی رسوائی سے حفاظت |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے اپنی کتابِ ہدایت، قرآنِ مجید میں جہاں اپنے بندوں کو دعا و مناجات کے آداب و اسالیب سے آشنا فرمایا، وہیں اپنے مقرب و برگزیدہ بندوں، انبیاءِ کرام و رُسُلِ عظام علیہم الصلوۃ والسلام کی مبارک دعاؤں کو بھی ثبتِ دوام بخشا، تاکہ اہلِ ایمان اُن پاکیزہ نفوس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے ربِّ کریم سے تعلقِ بندگی کو استوار کریں، دامنِ اُمید کو پھیلائیں اور اپنی دنیاوی و اُخروی حاجات اُس درِ بے نیاز پر پیش کریں جس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے اور جس کی رحمتوں کی کوئی انتہا نہیں۔
قرآنِ حکیم میں مذکور یہ مبارک دعا بھی انہی جامع، بابرکت اور روح پرور دعاؤں میں سے ہے جو مغفرتِ ذنوب، تکفیرِ سیئات، حسنِ خاتمہ اور روزِ قیامت رسوائی و ندامت سے نجات کی عظیم نعمتوں کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ لہٰذا ہر صاحبِ ایمان کو چاہیے کہ اس دعا کو اپنا معمولِ حیات بنائے، اسے اپنے اذکار و اوراد کا حصہ بنائے اور اخلاص و انکسار کے ساتھ بارگاہِ ایزدی میں عرض گزار ہو۔
﴿رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ١٩٣ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ١٩٤﴾ [سورۃ آل عمران: 193-194]
ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہماری لغزشوں اور برائیوں کو ہم سے دور فرما، اور ہمیں نیکوکاروں کے ساتھ دنیا سے رخصت فرما۔ اے ہمارے رب! اپنے رسولوں کے ذریعے جو وعدے تو نے ہم سے فرمائے ہیں اُنہیں ہمارے حق میں پورا فرما، اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی و ذلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یقیناً تو وعدہ خلافی نہیں کرتا اور تیرا ہر وعدہ حق، سچا اور یقینی ہے۔
یہ دعا مغفرت کی التجا، طہارتِ باطن کی تمنا، حسنِ خاتمہ کی آرزو اور یومِ حساب کی ہولناکیوں سے امان کی پُرخلوص فریاد ہے۔ جو دل اس دعا کو اپنا ورد بناتا ہے، وہ رحمتِ الٰہی کا امیدوار، مغفرتِ ربانی کا طلبگار اور سعادتِ دارین کا خواہاں بن جاتا ہے۔
حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بات کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا: “یہ اس وقت ہو گا جب کہ علم اٹھ جائے گا۔” میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم، علم کیسے اٹھ جائے گا حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنی اولاد کو پڑھاتے ہیں اور وہ اپنی اولاد کو پڑھائیں گے، اسی طرح یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “اے زیاد! تیری ماں تجھے گم پائے، میں تمہیں مدینہ کے فہیم لوگوں میں شمار کرتا تھا، کیا یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل نہیں پڑھتے لیکن ان میں سے کوئی بھی اس پر عمل نہیں کرتا۔” (اسی طرح مسلمان قرآن تو پڑھیں گے لیکن اس پر عمل نہیں کریں گے اور جو اپنے علم پر عمل نہ کرے وہ اور جاہل دونوں برابر ہیں)۔ [ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب ذہاب القرآن والعلم، ج: 4، ص: 383، رقم الحدیث: 4048]
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو قرآن مجید کی تلاوت کرنے، اسے سمجھنے اور اس کے احکام و تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جسم کے اجزا اگرچہ مرنے کے بعد متفرق ہوگئے اور مختلف جانوروں کی غذا ہوگئے ہوں، مگر اللہ تعالیٰ ان سب اجزا کو جمع فرماکر قیامت کے دن اٹھائے گا۔ قیامت کے دن لوگ اپنی اپنی قبروں سے ننگے بدن، ننگے پاؤں، ناختنہ شدہ اٹھیں گے، کوئی پیدل، کوئی سوار اور ان میں بعض تنہا سوار ہوں گے اور کسی سواری پر دو، کسی پر تین، کسی پر چار، کسی پر دس ہوں گے۔ کافر منہ کے بل چلتا ہوا میدانِ حشر کو جائے گا، کسی کو ملائکہ گھسیٹ کر لے جائیں گے، کسی کو آگ جمع کرے گی۔ یہ میدانِ حشر ملکِ شام کی زمین پر قائم ہوگا۔ زمین ایسی ہموار ہو گی کہ اس کنارہ پر رائی کا دانہ گر جائے تو دوسرے کنارے سے دکھائی دے۔ اس دن زمین تانبے کی ہوگی اور آفتاب ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا۔ راویٔ حدیث نے فرمایا: معلوم نہیں میل سے مراد سرمہ کی سلائی ہے یا میلِ مسافت، اگر میل مسافت بھی ہو تو کیا بہت فاصلہ ہے؟ کہ اب چار ہزار برس کی راہ کے فاصلہ پر ہے اور اس طرف آفتاب کی پیٹھ ہے، پھر بھی جب سر کے مقابل آجاتا ہے، گھر سے باہر نکلنا دشوار ہوجاتا ہے، اس وقت کہ ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا اور اس کا منہ اس طرف کو ہوگا، تپش اور گرمی کا کیا پوچھنا؟ اور اب مٹی کی زمین ہے، مگر گرمیوں کی دھوپ میں زمین پر پاؤں نہیں رکھا جاتا، اس وقت جب تانبے کی ہوگی اور آفتاب کا اتنا قرب ہوگا، اس کی تپش کون بیان کرسکے؟ اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے۔ بھیجے کھولتے ہوں گے اور اس کثرت سے پسینہ نکلے گا کہ ستّر گز زمین میں جذب ہوجائے گا، پھر جو پسینہ زمین نہ پی سکے گی وہ اوپر چڑھے گا، کسی کے ٹخنوں تک ہو گا، کسی کے گھٹنوں تک، کسی کے کمر، کسی کے سینہ، کسی کے گلے تک، اور کافر کے تو منہ تک چڑھ کر مثلِ لگام کے جکڑ جائے گا، جس میں وہ ڈبکیاں کھائے گا۔ اس گرمی کی حالت میں پیاس کی جو کیفیت ہوگی محتاجِ بیان نہیں، زبانیں سوکھ کر کانٹا ہوجائیں گی، بعضوں کی زبانیں منہ سے باہر نکل آئیں گی، دل ابل کر گلے کو آجائیں گے، ہر مبتلا بقدرِ گناہ تکلیف میں مبتلا کیا جائے گا۔ [بہار شریعت، ج: 1، حصہ: 1]
ابو یعلیٰ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو حج کے لیے نکلا اور مرگیا، قیامت تک اس کے لیے حج کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا، اور جو عمرہ کے لیے نکلا اور مرگیا اس کے لیے قیامت تک عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا، اور جو جہاد میں گیا اور مرگیا اس کے لیے قیامت تک غازی کا ثواب لکھا جائے گا۔”
جو شخص غصہ کو پی جاتا ہے حالانکہ کر ڈالنے پر اسے قدرت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سب کے سامنے بلائے گا اور اختیار دے دے گا کہ جن حوروں میں تو چاہے چلا جائے۔ [ترمذی، ابو داؤد]
سب سے زیادہ حسرت قیامت کے دن اس کو ہوگی جسے دنیا میں طلبِ علم کا موقع ملا، مگر اس نے طلب نہیں کی اور اس شخص کو ہوگی جس نے علم حاصل کیا اور اس سے سن کر دوسروں نے نفع اٹھایا خود اس نے نفع نہیں اٹھایا۔ [ابن عساکر]
صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “قیامت کے دن سب سے پہلے خون ناحق کے بارے میں لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔” [بہار شریعت، ج: 3، حصہ: 17]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندوں کو اٹھائے گا پھر علماء کو اٹھائے گا پھر فرمائے گا: اے علماء میں نے تمہیں اپنا علم نہیں دیا مگر اس لیے کہ میں تمہیں جانتا تھا اور میں نے تمہیں اپنا علم اس لیے نہیں دیا کہ میں تمہیں عذاب دوں۔ جاؤ میں نے تم سب کو بخش دیا۔”
اللہ رب العزت ہمیں کہنے سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
