Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط: سوم)|حضرت مولانا مفتی محمد شمشاد حسین بدایونی

امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط: سوم)
عنوان: امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط: سوم)
تحریر: حضرت مولانا مفتی شمشاد حسین بدایونی
پیش کش: صبرین فاطمہ رضویہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

علم اصول فقہ پر خصوصی طرز عمل

خصوصی طرز عمل، عمومی طرز عمل سے متضاد نہیں بلکہ عمومی طرز عمل میں ایک گونہ اہتمام برتے جانے سے خصوصی طرز عمل وجود میں آتا ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں جہاں عمومی طرز عمل کے جلوہائے رنگا رنگ پائے جاتے ہیں وہیں خصوصی طرز عمل بھی پایا جاتا ہے۔ جن افراد نے فتاویٰ رضویہ شریف کا مطالعہ کیا ہے یا کرتے رہتے ہیں، اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ امام احمد رضا فاضل بریلوی نے نہ صرف علم اصول فقہ کو عمومی انداز میں برتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عمومی انداز کے ساتھ ساتھ آپ نے خصوصی انداز میں بھی اس پر کام کیا ہے۔ اور یہ صورت حال نہ صرف ایک یا چند فتاویٰ میں نظر آتی ہے بلکہ مختلف فتاویٰ میں پائی جاتی ہے۔ ذیل میں کچھ اسی قسم کی تحریریں پیش کی جارہی ہیں۔

امام احمد رضا فاضل بریلوی سے “شیخ عبدالجلیل صاحب پنجابی” نے ماہ ذی القعدہ ۱۳۰۳ھ میں یہ مسئلہ پوچھا کہ:

“کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ روسر کی شکر کہ ہڈیوں سے صاف کی جاتی ہے اور صاف کرنے والوں کو کچھ احتیاط اس کی نہیں کہ وہ ہڈیاں پاک ہوں یا ناپاک... حلال جانور کی ہوں یا مردار کی اور سنا گیا کہ اس میں شراب بھی پڑتی ہے، اسی طرح کل کی برف اور کل وہ چیزیں جن میں شراب کا لگاؤ سنا جاتا ہے شرعاً کیا حکم رکھتی ہیں؟ بَيِّنُوْا تُؤْجَرُوْا۔”

یہ مسئلہ کب پوچھا گیا؟ ۱۳۰۳ھ میں! ظاہر ہے یہ مسئلہ “عصری” ہے۔ کوئی پرانا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر پرانا مسئلہ ہوتا تو اس بارے میں سوال ہی نہیں ہوتا کیونکہ اس کے پرانا ہونے کی صورت میں اس کی کوئی نہ کوئی واضح تصویر سائل کے ذہن میں ضرور پائی جاتی، اس کے لیے سائل کو پوچھنے کی ضرورت ہی درپیش نہ ہوتی۔ امام احمد رضا نے اس مسئلے کو “عصری مسئلہ” تصور کرتے ہوئے آپ نے جواب بھی دیا۔ اور جواب بھی ایسا دیا کہ دور حاضر میں بھی اگر کوئی نیا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے تو اس جواب کی روشنی میں اس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ اس جواب میں “عصری معنویت” کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اصل مسئلے کا جواب دینے سے پہلے امام احمد رضا نے دس مقدمات تحریر فرمادیے ہیں جو اپنے آپ میں “اصول و کلیات” کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم ان مقدمات کا خلاصہ پیش کرنے جارہے ہیں:

حلت و طہارت سے متعلق دس کلیات

  1. پہلا مقدمہ: ہر جانور کی ہڈی پاک ہے۔ چاہے اس کا گوشت کھایا جاتا ہو یا نہ کھایا جاتا ہو۔ اسی طرح اسے ذبح کیا گیا ہو یا ذبح نہ کیا گیا ہو مگر شرط یہ ہے کہ ان ہڈیوں پر کسی طرح کی ناپاک چکنائی نہ پائی جاتی ہو، جہاں تک خنزیر کی بات ہے تو اس کے جسم کا ہر ایک جزو نجس العین ہے اور ایسا ناپاک ہے کہ وہ طہارت کے لائق ہی نہیں۔ ناپاک چکنائی کی شرط اس لیے لگائی گئی ہے کہ ایسا جانور جو دم سائل نہیں رکھتا ہے تو اس کی چکنائی دم سائل سے عدم اختلاط کے سبب پاک ہے، ایسے جانوروں کی ہڈیوں پر اگرچہ چکنائی لگی ہو پاک ہے مگر پاک ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہڈیاں حلال ہو گئیں۔ حلال تو صرف ان جانوروں کی ہڈیاں ہوں گی جن کا گوشت کھانا جائز ہو اور جنہیں شرعی طور پر ذبح کیا گیا ہو اور جو جانور حرام ہیں تو ان کی ہڈیاں بھی حرام ہوں گی کہ پاک ہونا اور چیز ہے اور حلال ہونا دوسری بات ہے اس لیے کہ طہارت مستلزم حلت نہیں۔

  2. مقدمہ ثانیہ: شریعت میں طہارت و حلت ہی اصل ہیں اور یہ خود اپنے آپ میں دلیل و اثبات ہیں جو کسی صورت میں محتاج دلیل نہیں، حرمت و نجاست عارضی ہیں اس لیے کسی خاص دلیل کے محتاج ہوا کرتے ہیں... طہارت و نجاست پر بوجہ اصالت جو یقین حاصل ہوا کرتا ہے اس کا زوال بھی اس کے مثل یقین ہی سے ہوگا، شکوک و اوہام سے طہارت و یقین کا زوال ممکن نہیں۔ یہ شریعت مطہرہ کا ایسا ضابطہ ہے جس پر “علم فقہ” کے ہزارہا مسائل مبنی ہیں بلکہ تین چوتھائی مسائل اسی ضابطہ سے نکلتے ہیں کسی بھی چیز سے جو ظن لاحق ہو جاتا ہے اس سے اس کا “سابق یقین” رفع نہیں ہوتا۔

  3. مقدمہ ثلاثہ: احتیاط اس میں نہیں کہ کسی شے کو کسی ثبوت اور تحقیق بالغ کے بغیر حرام اور مکروہ کہہ دیا جائے بلکہ احتیاط اس بات میں ہے کہ کسی شے کو مباح ہی کہا جائے جب تک کہ اس کے حرام یا مکروہ ہونے کی کوئی خاص دلیل نہ مل جائے کہ مباح ماننا ہی اصل ہے اور اسی مباح کے ماننے میں احتیاط ہے۔

  4. مقدمہ رابعہ: بازاری افواہ نہ قابل اعتبار ہے اور نہ ہی ان پر شرعی مسائل کی بنا رکھی جاسکتی ہے۔ کیونکہ بازاری افواہیں بے سروپا ہوا کرتی ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کسی شہر میں کوئی افواہ بڑی تیزی کے ساتھ پھیل جاتی ہے اور اس کی تحقیق کی جاتی ہے تو وہ افواہ غلط ثابت ہوا کرتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ خبر کسی کافر و غیر مسلم یا کسی فاسق معلن کی اڑائی ہوا کرتی ہے۔

  5. مقدمہ خامسہ: کسی چیز کا حرام ہونا یا مکروہ ہونا احکام دینیہ میں سے ہوا کرتا ہے اور کسی بھی کافر کی خبر دینی احکام میں محض نامقبول ہوا کرتی ہے، اس بارے میں کسی مسلمان فاسق بلکہ مستور الحال مسلمان کی خبر بھی لائق التفات نہیں۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اگر کوئی فاسق یا مستور الحال کوئی خبر دیتا ہے تو اس پر تحری یعنی غور و فکر کیا جاسکتا ہے، اگر اس خبر کے سچ ہونے پر دل جمے تو اس کا لحاظ کیا جائے جب تک کہ اس خبر کے غلط ہونے پر کوئی راجح ثبوت نہ مل جائے۔

  6. مقدمہ سادسہ: کوئی بھی مقام احتیاط سے دور ہو یا کسی قوم کی بے احتیاطی، بے شعوری اور نجاست و حرمت سے بے پرواہی مشہور و معروف ہو۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ ہیں اس کے باوجود وہ شے نہ حرام ہوگی اور نہ مکروہ ہوگی۔ اسی طرح اس قوم کی استعمال کی ہوئی چیزیں یا اس کی بنائی ہوئی کوئی چیز نہ حرام ہوسکتی ہے اور نہ مکروہ ہو سکتی ہے۔ ہاں اس کی بے احتیاطی پر یقین ضرور ہوگا اور یہ بے احتیاطی بھی ہمیشہ نہیں رہتی ہے کبھی نہ کبھی ختم ہو جاتی ہے تو پھر ایسی صورت میں اس شے کو حرام یا مکروہ کسی طرح کہا جائے؟ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے بہت سی مثالیں دے کر اس بات کو ثابت کر دیا کہ بے احتیاطی کے سبب کسی چیز کو حرام یا مکروہ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ایسا کرنے کی صورت میں انسان کی زندگی بہت ساری دشواریوں کے گھیرے میں آجائے گی۔

  7. مقدمہ سابعہ: ہاں! جہاں کہیں بے احتیاطی شدت کے ساتھ پائی جائے کہ اکثر احوال میں نجاست و آلودگی کا غلبہ وقوع اور کثرت شیوع ہو ایسی صورت میں بے شک غلبہ ظن ہوگا جو شریعت میں معتبر اور فقہ میں بنائے احکام ہے۔ پھر یہ کہ ظن غالب کی دو صورتیں ہیں: اول صورت یہ کہ غلبہ کی جانب اس کے دل کو اس قدر یقین ہو کہ جانب مرجوح کی طرف اس کا دل مائل ہی نہ ہو بلکہ وہ اسے ناقابل التفات سمجھتا ہو، ایسی صورت میں ظن غالب حق بہ یقین ہوا کرتا ہے۔ دوسری صورت یہ کہ جانب راجح کی طرف دل کا جھکاؤ زیادہ نہ ہو، بلکہ جانب مرجوح کی طرف بھی اس کا دل جھکتا ہو، یہ شک و تردد کے مرتبہ میں ہوا کرتا ہے حقیقت میں یہ محض ظن ہے اگرچہ بعض مقامات پر اسے بھی ظن غالب کے درجہ میں رکھا جاتا ہے۔

  8. مقدمہ ثامنہ: کسی چیز میں شے نجس و حرام کے ملانے یا اس کی ملاقات سے اس چیز کے حرام و نجس ہونے کا یقین اس کے ہر ہر فرد سے منع و احتراز کا موجب اسی وقت ہو سکتا ہے جب یہ معلوم و تحقق ہو جائے کہ یہ ملانا اور نجاست کا اختلاط بروجہ شمول و عموم ہو مثلاً جس شے کی نسبت ثابت ہو کہ اس میں شراب یا شحم خنزیر پڑتی ہے اور بنانے والوں کو اس کا التزام ہے تو اس کا استعمال کلیۃً ناجائز و حرام ہے۔ وہاں اس احتمال کی گنجائش نہیں کہ ہم نے اس فرد خاص مثلاً خود بنتے دیکھا ہے نہ خاص اس کی نسبت معتبر خبر پائی ممکن کہ اس میں نہ ڈالی گئی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بنانے والے التزامی طور پر ناپاک اور حرام اشیاء کو عمومی اور شمولی طور پر ملایا کرتے ہیں تو پھر یہ احتمال کہ ہم نے اسے بنتے ہوئے دیکھا ہے یہ اس درجہ میں ہے کہ اس کی طرف توجہ نہ دی جائے اور اگر شے حرام کے ملانے کا التزام عمومی طور پر نہیں کیا جاتا ہے تو وہاں حرام یا نجس کا حکم نہیں دیا جا سکتا ہے۔

  9. مقدمہ تاسعہ: بازار میں حرام چیزیں بھی بکتی ہیں اور حلال چیزیں بھی، اس طرح کسی خاص چیز میں حرام و حلال بھی ملے ہوں اور دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوئی صورت نہ ہو تو اس چیز کو خریدنے کی اجازت شریعت مطہرہ دیتی ہے، کیوں کہ جہاں حرام ہے، وہیں حلال بھی ہے اور اس کے حلال ہونے کا احتمال بھی ہر ایک شے کے ساتھ شامل ہے اس لیے اس کے خریدنے میں کوئی قباحت نہیں۔

  10. مقدمہ عاشرہ: دین آسانی کا نام ہے دشواری کا نہیں... اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات کا مکلف نہیں کیا کہ ہم بازار سے وہی چیز خریدیں جس کے بارے میں اس بات کا یقین ہو جائے کہ یہ حلال اور پاک و طیب ہے یہ ایک امر دشوار ہے جو حرج عظیم کا باعث ہے۔

جو قواعد اصولیہ یا قواعد فقہیہ ہیں ان کا انطباق کس طرح کیا جائے کہ صورت واقعہ کا حکم شرع واضح ہو جائے، اس کی واضح تصویر بھی اس جواب میں مل جاتی ہے اور غور کرنے کے بعد ایسے اسرار و رموز سامنے آتے ہیں کہ طبیعت مچل مچل سی جاتی ہے۔ یہ اصول و قواعد نہ صرف فتاویٰ ہیں اور نہ صرف فقہی قواعد ہیں بلکہ غائر نظروں سے مطالعہ کیا جائے تو اس میں علم اصول فقہ کی پوری تصویر نظر آتی ہے، اور ایک ایسا خوبصورت استدلالی منظر نامہ سامنے آتا ہے کہ جب تک وہ منظر نامہ ہماری اور آپ کی نظروں کے سامنے رہے گا تو اس سے بہت سے مسائل حل ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ایسا خوبصورت منظر نامہ وہی دے سکتا ہے جو بیک وقت ایک فقیہ بھی ہو اور ایک اصولی بھی، یہ منظر نامہ اعلیٰ حضرت کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتا ہے۔ میں نے فتاویٰ کی بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا، سرسری نظر سے بھی مطالعہ کیا ہے اور غائرانہ نظر سے بھی دیکھا ہے، مگر جو سیرابی اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے فتاویٰ سے حاصل ہوتی ہے وہ کہیں اور کہاں نصیب؟

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!