| عنوان: | امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت مولانا مفتی شمشاد حسین بدایونی |
| پیش کش: | صبرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
علم اصول فقہ فن کی حیثیت سے
ارباب نظر و دانش اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ کسی بھی علم و فن کا تصور کبھی اجمالی طور پر کیا جاتا ہے اور کبھی تفصیلی طور پر کیا جاتا ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے عمومی نظر اور خصوصی نظر کے تحت علم اصول فقہ کا جو تصور پیش کیا ہے وہ تصور اجمالی ہے، لیکن ہر مقام پر صرف اجمالی تصور سے کام نہیں چلتا ہے بلکہ کہیں نہ کہیں تفصیلی تصور کی ضرورت بھی پیش آتی ہے اور اس وقت یہ ضرورت اور بھی شدید ہو جاتی ہے جب کسی سے مباحثہ کیا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کی حیثیت قانون اور اصل کی ہوا کرتی ہے وہ دونوں فریقوں کے مابین تسلیم ہوا کرتی ہے اور اسی قسم کے مسلمہ قوانین سے ہی معارضہ قائم کیا جاتا ہے۔ حضرت سیدی امام احمد رضا کے یہاں جب اس قسم کی کیفیت پائی جاتی ہے تو ایسے موقع پر آپ مسلمہ اصول و کلیات سے ہی فریق مخالف کی خبر لیتے ہیں اور انہیں لاجواب کر دیتے ہیں، ایسے موقع پر آپ نے اصول فقہ کے مشمولات کو بحیثیت علم و فن استعمال کیا ہے۔
حیات اعلیٰ حضرت میں اصول فقہ کے تحت جن کتابوں کا ذکر ملتا ہے ملاحظہ کریں:
علم اصول فقہ (۹): اس علم میں اعلیٰ حضرت کی تصنیفات نو ہیں:
-
اَلتَّاجُ الْمُكَلَّلُ فِيْ إِنَارَةِ مَدْلُوْلِ كَانَ يَفْعَلُ
-
اَلسُّيُوْفُ الْمُخِيْفَةُ عَلٰى غَائِبِ أَبِيْ حَنِيْفَةَ
-
أَعَزُّ النِّكَاتِ بِجَوَابِ سُؤَالِ أَرْكَاتَ، مُلَقَّب بِـ اَلْفَضْلُ الْمَوْہَبِيُّ فِيْ مَعْنٰى إِذَا صَحَّ الْحَدِيْثُ فَہُوَ مَذْہَبِيْ
-
أَطَائِبُ الصِّيْبِ عَلٰى أَرْضِ أَطْيَبَ
-
اَلْبَرْقُ الْمُخِيْبُ عَلٰى بِقَاعِ طَيْبَ
-
اَلْعِطْرُ الْمُطَيَّبُ لِبِنْتِ شَفَةِ الطَّيِّبِ
-
اَلْأُمَّةُ الْقَاصِفَةُ لِكُفْرِيَّاتِ الْمُلَاطَفَةِ
-
اَلْجَائِفَةُ عَلٰى تَہَافُتِ الْمُلَاطَفَةِ
-
سِيَاطُ الْمُؤَدِّبِ عَلٰى رَقَبَةِ الْمُسْتَعْرِبِ
حاشیہ فواتح الرحموت
ان مذکورہ بالا رسالوں کے علاوہ ایک اور حاشیہ بھی ہے جو خالص علم اصول فقہ میں ہے جو “حَوَاشِيْ فَوَاتِحِ الرَّحَمُوْتِ” کے نام سے موسوم ہے۔ اس کا اصل متن “مُسَلَّمُ الثُّبُوْتِ” ہے، اس کے مصنف کا نام “اَلْإِمَامُ الْقَاضِيْ مُلَّا مُحِبُّ اللہِ بْنُ عَبْدِ الشَّكُوْرِ الْمُتَوَفّٰى ۱۱۱۹ھ” ہے جو بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں اور اہل علم حضرات انہیں ملا محب اللہ بہاری کے نام سے جانتے ہیں۔ مُسَلَّمُ الثُّبُوْتِ ایک مقدمہ، چند مقالات، چند اصول اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔ انہوں نے اپنے مقدمے میں “اصول فقہ” کی حد اضافی، حد لقبی اور اس کے موضوع نیز اس کی غرض و غایت سے بحث کی ہے۔ مقالات کی تفصیل اس طرح ہے:
-
اَلْمَقَالَةُ الْأُوْلٰی فِي الْمَبَادِيَاتِ الْكَلَامِيَّةِ
-
اَلْمَقَالَةُ الثَّانِيَةُ فِيْ مَبَادِيَاتِ الْأَحْكَامِ
-
اَلْمَقَالَةُ الثَّالِثَةُ فِي الْمَبَادِيَاتِ اللُّغَوِيَّةِ
-
اَلْأَصْلُ الْأَوَّلُ فِي الْكِتَابِ
-
اَلْأَصْلُ الثَّانِيْ فِي السُّنَّةِ
-
اَلْأَصْلُ الثَّالِثُ فِي الْإِجْمَاعِ
-
اَلْأَصْلُ الرَّابِعُ فِي الْقِيَاسِ
-
اَلْخَاتِمَةُ فِي الْاِجْتِهَادِ
فَوَاتِحُ الرَّحَمُوْتِ بہت ہی نامی گرامی کتاب اسی مُسَلَّمُ الثُّبُوْتِ کی شرح ہے جو ہمارے مدارس اسلامیہ میں متعارف و متداول ہے اور علمائے کرام کے مابین مقبول و محبوب ہے، اس کے شارح کا نام عَلَّامَة عَبْدُ الْعَلِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ نِظَامِ الدِّيْنِ مُحَمَّد السِّہَالْوِي الْأَنْصَارِي اللّکھنوي الْمُتَوَفّٰى ۱۲۲۵ھ ہے۔ حضرت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی نے اس فَوَاتِحُ الرَّحَمُوْتِ پر ایک معرکۃ الآرا حاشیہ تحریر فرمایا ہے جو تحقیق و تنقید، فکر و شعور اور ندرت خیال کا پیکر جمیل ہے، اور بہترین تبصروں کا مجموعہ ہے۔
