| عنوان: | اسلام کا دستور طلاق: ایک تجزیاتی مطالعہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | صابر رضا رہبر مصباحی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
اللہ عزوجل نے مرد و عورت کی تخلیق فرمائی، پھر ان کے درمیان الفت و محبت قائم کرنے کے لیے فطرت سے ہم آہنگ نکاح کا ایک جامع دستور دیا، تاکہ وہ دائرۂ انسانیت میں رہ کر ایک دوسرے کو تسکین کا سامان بہم پہنچائیں، اس طرح وہ نکاح کے مقدس رشتے سے منسلک ہو کر نسلِ انسانی کی بقا کے ضامن بنے رہیں۔ اور جب وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک نکاح سے آزادی چاہے تو پھر اس کے لیے طلاق کا نظام پیش کیا گیا، تاکہ اس پر عمل کر کے معاشرتی حیات کے چین و سکون کو درہم برہم کیے بغیر ایک دوسرے سے جدا ہو جائے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی بھی سماج میں نکاح و طلاق کو بڑی اہمیت حاصل ہے، کیوں کہ جس طرح سے مرد و زن کے مابین قلبی سکون کے رشتے استوار کرنے کے لیے نظامِ نکاح پر عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ایک گھریلو اور سماجی امن و امان کو غارت ہونے سے بچانے کے لیے طلاق کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ معاشرہ سے اگر طلاق کے احکام اٹھا لیے جائیں تو بہت سے افراد کی عائلی زندگی جہنم کی صورت اختیار کر جائے گی اور بہت سے آباد گھر چشمِ زدن میں تباہی و بربادی کے عبرت انگیز نمونے پیش کرتے ہوئے نظر آنے لگیں گے۔
اسلام کا نظریہ طلاق
اسلام نے اپنے ماننے والوں کو طلاق کا راستہ دیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مرد جب چاہے غیر معمولی باتوں پر عورت کو طلاق دے کر اس کی زندگی سے کھلواڑ کرے یا پھر عورت محض چھوٹی چھوٹی باتوں پر طلاق کا مطالبہ کرے، بلکہ اس کے لیے اس نے ایک ضابطہ اور اصول متعین کیا ہے۔ کیوں کہ اسلام کے نظریہ طلاق کا مقصد کسی گھر کو اجاڑنا نہیں، بسانا ہے۔ معمولی باتوں کی وجہ سے طلاق دینے والا شخص اسلام کی نظر میں برا اور گنہگار ہے اور یونہی بلاوجہ طلاق طلب کرنے والی عورت بھی۔ حدیثِ شریف میں ہے:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: ”إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللّٰہِ رَجُلٌ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَلَمَّا قَضَیٰ حَاجَتَہُ مِنْہَا طَلَّقَہَا وَذَہَبَ بِمَہْرِہَا“ [ابن ماجہ، رقم الحديث: 2049]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ ایک آدمی کسی عورت سے نکاح کرے اور پھر جب اپنی ضرورت پوری کر لے تو اسے طلاق دے دے اور اس کا مہر بھی ادا نہ کرے۔
وَعَنْ ثَوْبَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: ”أَیُّمَا امْرَأَۃٍ سَأَلَتْ زَوْجَہَا طَلَاقاً مِنْ غَیْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَیْہَا رَائِحَۃُ الْجَنَّۃِ“ [ترمذی، رقم الحديث: 1187]
یعنی جو عورت بلاوجہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔
واضح ہو کہ طلاق حلال ہونے کے باوجود اسلام میں ناپسندیدہ عمل ہے، حدیثِ شریف میں ہے:
عَنْ مُحَارِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: ”مَا أَحَلَّ اللّٰہُ شَیْئاً أَبْغَضَ إِلَیْہِ مِنَ الطَّلَاقِ“ [ابو داؤد، رقم الحديث: 2177]
یعنی اللہ نے جن چیزوں کو حلال کیا ہے ان میں طلاق اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔
طلاق کی ضرورت و اہمیت
معاشرہ میں امن و سکون قائم رکھنے میں جس طرح سے نکاح کا اہم رول ہے، اسی طرح سماج میں چین و سکون کی فضا باقی رکھنے میں کبھی کبھی طلاق کا بھی کلیدی کردار ہوتا ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شادی کے بعد زوجین کے مابین مزاج کی عدم موافقت یا پھر دیگر وجوہات کی بنا پر گھر میں جنگ کا سا ماحول پیدا ہو جاتا ہے اور کبھی کبھی اس جنگ کو سرد کرنے میں گفت و شنید اور افہام و تفہیم کے حربے ناکام ہو جاتے ہیں، نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ بجائے اس کے کہ دونوں ایک دوسرے سے ملنے کے بعد الفت و محبت کا مظاہرہ کریں، نفرت و عداوت اور بیزاری کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ ایسی ناگوار صورتحال میں دونوں کے لیے اپنی زندگی پر لطف بنانے کی خاطر کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو انہیں خوشگوار زندگی دے سکے۔ چنانچہ اس وقت ”طلاق“ کی ضرورت و اہمیت کا احساس بڑی شدت کے ساتھ ہونے لگتا ہے، تاکہ بھلائی کے ساتھ طلاق کے ذریعہ ان دونوں کو علیحدہ کر کے نفرت و بیزاری کی جنگ کا خاتمہ کر دیا جائے۔ گویا اسلام کا نظریہ طلاق بھی انسان کو آپسی شورہ پشتی سے بچانے کی ایک انمول کوشش ہے۔
طلاق کب دی جائے اور کیوں
قرآنِ مقدس میں ہے:
وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا [سورۃ النساء: 19]
یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ بھلائی اور حسنِ سلوک کے ساتھ رہو اور اگر تم کو وہ ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ تم کو کوئی چیز ناپسند ہو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی پیدا کر دے۔
یعنی اگر مرد کو بیوی پسند نہ ہو یا اس کی کوئی ادا ناپسند ہو تو وہ پہلے اسے سدھارنے کی کوشش کرے۔ اس کے لیے وہ افہام و تفہیم کی راہ اپنائے، اگر وہ اپنی بُری عادت سے باز نہ آئے تو اس سے اپنا بستر الگ کر لے، پھر بھی وہ نہ مانے تو اسے سزا دے۔ اگر اس کے باوجود وہ نہ سنبھلے تو اس کے میکے والے اسے سمجھائیں، یعنی ان کے درمیان رشتہ زوجیت برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اگر دونوں کے مابین تلخی زیادہ بڑھ جائے تو فریقین اس کو سلجھانے کی کوشش کریں۔ قرآنِ مقدس میں ہے:
وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا [سورۃ النساء: 35]
یعنی اگر تمہیں میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے۔ یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کرا دے گا، بے شک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔
طلاق کا معنی اور تعریف
طلاق عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے عورت کا قیدِ نکاح سے آزاد ہونا۔ [المصباح المنیر، ج: 1، ص: 382]
اصطلاحِ شرع میں مخصوص الفاظ کے ذریعہ فوراً یا کچھ دیر بعد نکاح کو ختم کر دینے کا نام ”طلاق“ ہے۔ خواہ ان الفاظِ مخصوصہ کا استعمال شوہر خود کرے یا اس کا وکیل یا قاضیِ شرع، واضح رہے کہ بعض حالات میں قاضیِ شرع کو اس کا حق حاصل ہے۔ [رد المحتار، ج: 4، ص: 426]
طلاق کی اقسام
طلاق کی تین قسمیں ہیں: (۱) طلاقِ احسن (۲) طلاقِ حسن (۳) طلاقِ بدعی۔ ان میں سے اول الذکر دونوں اسلام کے نزدیک بہتر ہیں جبکہ آخرالذکر صورت ناپسند اور قبیح ہے۔
طلاقِ احسن: یہ ہے کہ عورت کو اس کے پاکی کے دنوں میں (یعنی جن ایام میں ماہواری نہ آئے) اس سے صحبت کیے بغیر ایک طلاق دے۔ اس میں مرد کو رجوع کا اختیار رہتا ہے اور عدت کے اندر بلا نکاح صرف یہ کہہ کر کہ ہم نے رجوع کیا یا بیوی کو بوسہ لے لے تو رجعت ثابت ہو جائے گی۔ اس کو طلاقِ رجعی کہتے ہیں۔
طلاقِ حسن: یہ ہے کہ عورت کو اس کے پاکی کے دنوں میں بلا مقاربت ایک طلاق دے، پھر عدت گزرنے کے بعد دوسرے طہر میں ایک اور پھر تیسرے طہر میں ایک طلاق دے۔ اگر شوہر دو طلاق دے کر رجوع کرنا چاہے تو عدت کے اندر بغیر نکاح کے اور عدت کے بعد نکاح کے ذریعہ لوٹا سکتا ہے، البتہ تیسری طلاق کے بعد اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی اور وہ اس کے لیے حلال نہ ہو گی۔ پہلی صورت کو طلاق بائن کہتے ہیں (یعنی دو طلاق والی صورت میں) اور دوسری صورت کو طلاقِ مغلظہ (تین طلاق والی صورت میں)۔
طلاقِ بدعی: یہ ہے کہ مرد عورت کو اس کے ماہواری کے دنوں میں ایک یا اس سے زائد طلاق دے، یہ طریقہ اسلام کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہے۔ اگر کسی نے اس فعل کا ارتکاب کر لیا تو اس پر رجعت واجب ہے، لیکن ان ایام میں دی گئی طلاق واقع ہو جائے گی اور دینے والا گنہگار ہو گا۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ ذَالِکَ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: ”مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْہَا، ثُمَّ لِیَتْرُکْہَا حَتَّی تَطْہُرَ، ثُمَّ تَحِیضَ، ثُمَّ تَطْہُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَکَ بَعْدُ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ یَمَسَّ، فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ الَّتِی أَمَرَ اللّٰہُ أَنْ یُطَلَّقَ لَہَا النِّسَاءُ“ [بخاری، رقم الحديث: 5332]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عہدِ رسالت میں اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو حضرت عمر بن الخطاب نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے۔ پھر اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر حیض آئے اور پھر پاک ہو جائے، اب وہ صحبت کیے بغیر چاہے تو روک رکھے، چاہے تو طلاق دے دے، کہ طلاق دینے کا یہی وقت ہے جس میں اللہ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔
