Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلام کا دستور طلاق: ایک تجزیاتی مطالعہ (قسط: دوم)|صابر رضا رہبر مصباحی

اسلام کا دستور طلاق: ایک تجزیاتی مطالعہ (قسط: دوم)
عنوان: اسلام کا دستور طلاق: ایک تجزیاتی مطالعہ (قسط: دوم)
تحریر: صابر رضا رہبر مصباحی
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

حلالہ اور اس کی صورت: اگر کسی نے اپنی بیوی کو ایک بار میں یا چند بار میں تین طلاق دے دیے، پھر دونوں غور و فکر اور سوچ وبچار کر کے مصالحت کرنا اور ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کی صورت یہ ہے کہ وہ عورت پہلے کسی دوسرے سے نکاح کرے، پھر وہ مرد اس کو طلاق دے، اب وہ عورت اپنی عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔ اسلام میں اس طریقے کو ”حلالہ“ کہا جاتا ہے۔ قرآنِ پاک میں ہے:

فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ [سورۃ البقرۃ: 230]

ترجمہ: پھر اگر تیسری مرتبہ طلاق دی تو وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک نکاح کر کے دوسرے کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا شوہر اگر طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ دوبارہ نکاح کریں اگر دونوں سمجھتے ہیں کہ اللہ کی حدیں نباہ سکیں گے۔

واضح ہو کہ شوہر ثانی کا محض نکاح کر کے طلاق دینا کافی نہیں بلکہ عورت کے ساتھ جماع کرنا بھی شرط ہے۔ اگر کسی نے بلا جماع طلاق دے دی تو وہ عورت شوہرِ اول کے لیے حلال نہ ہوگی۔ کچھ نا عاقبت اندیش لوگ اسلام کے اس قانون پر بھی انگلی اٹھاتے ہیں جبکہ اسلام کا اس سے مقصد طلاق کی بڑھتی شرح کو روکنا ہے اور یہ سزا کے طور پر مرد کی غیرت کو چیلنج ہے تاکہ وہ تین طلاق دینے سے پہلے خوب غور و فکر کر لے۔ حدیثِ پاک میں ہے:

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَتْ، فَطَلَّقَ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ: أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ: ”لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ“ [بخاری، رقم الحديث: 5260]

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی، پھر اس عورت نے دوسرے سے نکاح کیا اور اس نے بھی طلاق دے دی، تو کیا وہ شوہرِ اول کے لیے حلال ہوگی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“ جب تک اس کا مزہ دوسرا نہ چکھ لے، جیسا کہ پہلے شوہر نے چکھا ہے (یعنی جماع نہ کرے)۔

اسلام نے جو عورت کو فرداً فرداً ہر طہر میں طلاق دینے اور دورانِ عدت بیوی کو اپنے پاس رکھنے اور اس کو نان و نفقہ دینے کا حکم دیا ہے اس میں بہت بڑی حکمت مضمر ہے اور وہ رازِ سربستہ یہ ہے کہ ان کے درمیان کسی بھی طرح پھر سے میل و محبت ہو جائے اور وہ دونوں رشتہ ٹوٹنے کے آخری مرحلے میں بھی ایک ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے پر آمادہ ہو جائیں۔ کیونکہ اس طویل وقفے میں ان دونوں کو ماضی کی باتوں پر سوچنے اور غور و فکر کرنے کے کافی مواقع میسر آتے ہیں، ہو سکتا ہے مرد نے جس وجہ سے طلاق دی ہو وہ ختم ہو جائے یا عورت کی ناپسند عادت پسند آ جائے، یا لوگوں کے سمجھانے سے دونوں راضی ہو جائیں، یا عورت کی کوئی بات یا عادت اس کو اپنی جانب مائل کر لے اور یہ سب چیزیں اسی وقت وجود پذیر ہوں گی جب دونوں ایک ساتھ رہیں گے۔ یوں ہی کہا گیا ہے کہ اگر عورت حاملہ ہو تو وضعِ حمل تک اس کو اپنے ساتھ رکھو، کیونکہ کبھی کبھی بچے کی محبت بہت سے بگڑتے رشتے کو سنوار دیتی ہے۔ ممکن ہے کہ مرد بچے کی وجہ سے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کر لے۔ واضح رہے کہ طلاق کے بعد بچہ، جب تک عورت دوسری شادی نہ کر لے، اس کے پاس رہے گا مگر مرد کو اس سے ملنے جلنے کا اختیار رہے گا، اگر دونوں بچہ کو اپنے ساتھ رکھنے پر بضد ہوں تو اس کا فیصلہ قرعہ اندازی سے کیا جائے گا، اور ہاں! اگر بچہ عاقل و بالغ ہے یا ذی شعور ہے تو فیصلہ وہ خود کرے گا کہ ہمیں والدین میں سے کس کے پاس رہنا ہے اور اسی کا فیصلہ حرفِ آخر تصور کیا جائے گا۔

وقوعِ طلاق کی شرائط

طلاق واقع ہونے کی چند شرطیں ہیں:

  1. طلاق دینے والا عاقل و بالغ ہو۔ جیسا کہ فرمایا گیا: ”وَيَقَعُ طَلَاقُ كُلِّ زَوْجٍ بَالِغٍ عَاقِلٍ“۔

  2. طلاق دینے والا ہوش و حواس میں ہو اور بیداری کی حالت میں طلاق دے رہا ہو۔ اسلام میں بچہ، مجنوں، معتوہ، سرسامی کیفیت میں مبتلا، بے ہوش اور نیند کی حالت میں دی گئی طلاق معتبر نہیں ہے۔

  3. نشے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جائے گی۔

  4. اگر کسی نے بھول کر یا جان بوجھ کر کوئی ایسی چیز استعمال کر لی جو نشے والی نہیں تھی، مگر مزاج کی عدم موافقت کی وجہ سے استعمال کے بعد اس پر نشہ طاری ہو گیا اور اسی حالت میں اس نے طلاق دے دی تو طلاق واقع نہ ہوگی۔

  5. ہنسی، مذاق، اور سنجیدگی میں دی گئی طلاق واقع ہو جائے گی۔ حدیثِ پاک میں ہے: ”ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالرَّجْعَةُ“۔ [ترمذی، رقم الحديث: 1184]

  6. غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جائے گی۔ ہاں اگر غصہ اس قدر ہو کہ ہوش و حواس باقی نہ رہیں اور بوقتِ طلاق اسے اتنا بھی شعور نہ ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، اس حال میں دی گئی طلاق واقع نہ ہوگی۔

  7. طلاق کے لیے استعمال کیے گئے جملے کی نسبت صراحۃً یا کنایۃً بیوی کی طرف ہو۔

  8. طلاق لکھ کر دینے یا طلاق نامہ پر مضمون سننے کے بعد دستخط کر دینے سے طلاق واقع ہو جائے گی۔

  9. گونگا اگر لکھ کر طلاق دے یا طلاق نامہ پر مضمون سننے کے بعد دستخط کر دے یا اپنے ان مخصوص اشاروں میں طلاق دے جن کو اس کے پاس رہنے والے لوگ سمجھتے ہوں تو طلاق واقع ہو جائے گی۔

  10. زبردستی دلائی گئی طلاق واقع نہ ہوگی۔

  11. دل میں دی گئی طلاق واقع نہ ہوگی جب تک اسے وہ زبان پر نہ لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”إِنَّ اللّٰهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ“۔ [بخاری، رقم الحديث: 5269]

  12. طلاق دیتے وقت وہ شادی شدہ ہو، غیر بیوی کو طلاق دینا درست نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لَا طَلَاقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ“۔

  13. طلاق کے واقع ہونے کے لیے گواہ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔

  14. ایک ساتھ دی گئی تین طلاقیں تین ہی ہوں گی۔ خواہ وہ ایک ہی جملے میں ہوں یا متعدد جملے میں۔

  15. طلاق کا اختیار صرف مرد کو ہے عورت کو نہیں۔ اگر عورت خود اپنے آپ کو طلاق دے یا اپنے شوہر کو طلاق دے تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ ہاں! اگر شوہر بیوی کو اس کا اختیار دے دیا ہو اور بیوی اس کے دیے ہوئے اختیار کے تحت اپنے آپ کو طلاق دے دے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!