| عنوان: | اخلاصِ عمل (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ قمر الزماں خان اعظمی |
| پیش کش: | سلطانی رضویہ |
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو اسلام کے ان عظیم سپہ سالاروں میں سے ایک ہیں جن پر تاریخ ناز کرتی اور مسلمانِ عالم قیامت تک ناز کرتے رہیں گے۔ دروازہ کھول دیا۔ بسترِ مرض پر لیٹے ہوئے ہیں، ان کے صاحبزادے تصویرِ غم بنے ہوئے باپ کے اضطراب کو دیکھ رہے ہیں اور جب موت کا یقین ہو جاتا ہے تو دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں اور پھر حضرت عمرو بن العاص کی فتوحات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ اسلام پر آپ کے احسانات ہیں، خدا آپ کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے گا۔ یہ سن کر حضرت ابن العاص ارشاد فرماتے ہیں: “بیٹے! میری فتوحات کا تذکرہ نہ کرو، مجھے صرف اللہ کے فضل سے نجات کی امید ہے۔”
حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کو اسلام کی راہ میں اس قدر تکلیفیں دی گئیں کہ آپ کو دہکتے ہوئے انگاروں پر لٹایا جاتا اور آپ کی پشتِ اطہر سے اس قدر چربی پگھلتی تھی کہ آگ کبھی کبھی سرد پڑ جاتی اور ظالم دوبارہ آتش کدۂ نمرود دہکاتے اور اس پر حضرت خباب کو لٹاتے تاکہ وہ اپنے اسلام سے باز آ جائیں اور کفر کی زندگی میں لوٹ آئیں۔ معاذ اللہ۔ مگر جس نے ایمان کی لذت چکھ لی ہے وہ کفر کی دنیا کی طرف نہیں لوٹ سکتا۔ زندگی بھر حضرت خباب اپنے جسمِ سوختہ کے داغوں کو اپنی زندگی کا سرمایہ تصور کرتے رہے۔ عمر کے آخری حصے میں ان کو تھوڑا سا آرام ملا تو ایک روز بہ حسرت تمام ارشاد فرمانے لگے: “خدا نخواستہ آخرت کی تمام نعمتیں مجھے دنیا ہی میں تو نہیں مل رہی ہیں، اور اس طرح میں آخرت میں خالی ہاتھ اٹھایا جاؤں۔” یہ فرمایا اور تمام لذتوں سے دامن کش ہو گئے اور اپنے خدا سے اس صورت میں ملے کہ ان کے کفن کے نیچے وہ جسمِ سوختہ تھا جس کو اللہ کی راہ میں اذیتیں پہنچائی گئی تھیں۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کو عمرِ ثانی کہا جاتا ہے، جن کا دورِ خلافتِ راشدہ ہی کی منہاج پر تھا اور ایک بار پھر وہ امن و امان لوٹ آیا تھا جو حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں تھا۔ آپ کی وسعتِ سلطنت کا یہ عالم تھا کہ بہ یک وقت روم، فارس، شام، مصر، یمن، حجاز، عراق، جیسی عظیم حکومتیں زیرِ اقتدار تھیں۔ مگر اپنی پوری زندگی فقر و فاقہ میں گزاری، جسم پر پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنے رہے۔ بیت المال کو قوم و ملت کا سرمایہ تصور کرتے تھے۔ ایک پیسہ بھی اپنی ذات پر خرچ کرنا گناہِ عظیم خیال فرماتے۔ عید کے دن بچے اچھے کپڑوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شریکِ زندگی بیت المال سے قرض لینے کے لیے کہتی ہیں مگر حضرت عمر بن عبدالعزیز ارشاد فرماتے ہیں: “نیک بخت! کل خدا جانے میں قرض دینے کے لیے زندہ بھی رہوں گا یا نہیں، بچوں کو پرانے کپڑوں میں عید گاہ بھیج دو۔” اور جب ان کا انتقال ہوا تو لوگوں نے ان کی شریکِ حیات سے کفن کے لیے کہا۔ انہوں نے جواب دیا: “اللہ ابن عبدالعزیز پر رحم فرمائے ان کے گھر میں ان کپڑوں کے علاوہ کوئی اور کپڑا نہیں جو ان کے جسم پر ہے۔”
سید السالکین حضرت احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ چراغ کی مدھم روشنی میں قرآنِ عظیم کی تلاوت کر رہے ہیں۔ ایک جگہ جب جہنم کے عذاب اور اس کے دہکتے ہوئے شعلوں کا ذکر آتا ہے تو اپنی انگلی چراغ کی لو تک لے جاتے ہیں اور یہ سوچ کر زار و قطار رونے لگتے ہیں کہ جب چراغ کی معمولی سی لو ناقابلِ برداشت ہے تو جہنم کے شعلوں کا کیا حال ہوگا۔ اور پھر پوری شب گریہ و زاری میں گزار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ ان لوگوں میں سے تھے، جنہوں نے عرفان کی راہیں کشادہ کیں اور لوگوں کو زندگی بھر صراطِ مستقیم کی طرف بلاتے رہے اور بے شمار افراد کو انہوں نے جہنم کے دہکتے ہوئے شعلوں سے کھینچا۔ لیکن اپنے اعمال پر غرور نہیں بلکہ خدا کے فضل پر بھروسہ اور اس کے عذاب سے خوف، امید و بیم کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ایک نوجوان صحابی ایک جنگ کے موقع پر میدانِ جنگ میں جانے سے پہلے خدا کے حضور میں سر بہ سجود ہیں اور ایک عجیب طرح کی دعا مانگ رہے ہیں: “اے اللہ جب میرا مقابلہ کسی دشمن سے ہو تو مجھے شکست دے دے اور میرے ہاتھ پاؤں ناک کان کاٹ لے، میری آنکھیں نکال لے، اور جب میں اس طرح تیرے حضور میں اٹھایا جاؤں اور تو مجھ سے پوچھے کہ عبداللہ تیرا یہ حال کیوں کر ہوا تو میں جواب دوں، میرا یہ حال تیرے لیے اور حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہوا ہے۔”
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے
صحابہ کرام کے اخلاص و ایثار کے عظیم واقعات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ جو کچھ بھی کرتے تھے صرف رضائے الہی کے لیے کرتے تھے۔ ان کا جہاد، ان کی زندگی، ان کی موت، ان کے اعمالِ حسنہ سب کے پیش نظر صرف ایک مقصد تھا۔ اللہ کی رضا اور بس۔
إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ [سورۃ الانعام: 162]
میری نماز، میری قربانیاں، میری زندگی اور میری موت صرف اللہ کے لیے ہے۔ [مقالات خطیب اعظم، ص: 252 تا 254]
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
