| عنوان: | غیر مقلدین کی فہمِ حدیث کا منصفانہ جائزہ (قسط: دوم، آخری) |
|---|---|
| تحریر: | محمد تمیز الدین مصباحی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
غیر مقلدین اور فہمِ حدیث (درايت و روائت)
میاں نذیر حسین دہلوی کی کتاب "معیار الحق" اس طرح کی مغالطہ آفرینیوں اور فریب کاریوں سے بھری پڑی ہے جو حقیقت میں ایک سراب ہے۔ امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے رسالہ "حاجز البحرین" کے مطالعے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ غیر مقلدین کے پیشوا اسماء الرجال اور درایتِ حدیث کے بنیادی قواعد سے بھی واقف نہیں تھے۔ یہی حال دیگر غیر مقلد محدثین (جیسے البانی اور شوکانی) کا بھی ہے۔
درايتِ حدیث کے بعد اگر "فقہ الحدیث" (روایت و فہمِ حدیث) کے اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو غیر مقلدین کی علمِ حدیث پر نظر اور ان کی فہم کا سارا بھرم کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔
تقویۃ الایمان اور عقیدہ ختمِ نبوت
فرقہ وہابیہ و غیر مقلدین کے امام مولوی اسماعیل دہلوی اپنی کتاب "تقویۃ الایمان" میں لکھتے ہیں: "اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں حکم کن سے چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن و فرشتے جبرائیل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پیدا کر ڈالے۔" [تقویۃ الایمان، ص: 26]
یہ عقیدہ نہ صرف قرآنِ کریم کے صریح احکام کے خلاف ہے بلکہ بیسیوں متواتر احادیثِ مبارکہ کی بھی کھلی نفی کرتا ہے، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کا واضح اور حتمی اعلان کیا گیا ہے۔
ختمِ نبوت کے اثبات میں احادیثِ مبارکہ
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» [جامع ترمذی، ج: 2، ص: 45]
ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب میری امت میں تیس کذاب ظاہر ہوں گے، ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ وَدَجَّالُونَ سَبْعَةٌ وَعِشْرُونَ مِنْهُمْ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ، وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» [مسند الإمام أحمد، رقم: 23750]
ترجمہ: حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی نے فرمایا: میری امت میں ستائیس کذاب و دجال ہوں گے جن میں چار عورتیں ہوں گی، اور میں تمام نبیوں کا خاتم ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ، فَاسْتَخْلَفَ عَلِيًّا، فَقَالَ: «أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي» [صحیح البخاری، ج: 1، ص: 633]
ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو حضرت علی کو مدینہ میں جانشین بنایا۔ آپ نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم میرے پاس ایسے ہو جیسے موسیٰ کے پاس ہارون تھے، بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى عَقِبِي وَأَنَا الْعَاقِبُ» وَالْعَاقِبُ: الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ [صحیح مسلم، ج: 2، ص: 261]
ترجمہ: حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں محمد ہوں، احمد ہوں، ماحی ہوں کہ میرے سبب کفر مٹایا جاتا ہے، حاشر ہوں کہ لوگ میرے قدموں میں اٹھائے جائیں گے، اور عاقب ہوں، اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشَّرَاتُ» قَالُوا: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ» [صحیح مسلم، ج: 2، ص: 1035]
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نبوت میں سے اب کچھ باقی نہیں رہا سوائے مبشرات کے۔ صحابہ نے عرض کی: مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا: سچے اور اچھے خواب۔
احادیث کا تواتر اور فہمِ مجتہدین کی ضرورت
محققِ مسائلِ جدیدہ حضرت مولانا مفتی نظام الدین رضوی مدظلہ نے اپنی کتاب "احادیثِ صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف" میں ختمِ نبوت کے موضوع پر 37 احادیثِ مبارکہ اور 71 صحابہ و تابعین کی مرویات جمع کی ہیں۔ یہ تمام احادیث متواتر المعنی ہیں جو اس بات پر قطعی دلالت کرتی ہیں کہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔
ان صریح اور متواتر احادیث کے ہوتے ہوئے بھی اسماعیل دہلوی کا ایسا گمراہ کن عقیدہ رکھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ائمہ اربعہ اور محدثین کی رہنمائی کے بغیر حدیث کو سمجھنے کا دعویٰ کتنا ناقص اور خطرناک ہے۔ ائمہِ مجتہدین کی تقلید کے بغیر انسان صحیح فہم سے محروم ہو کر گمراہی کے گھاٹوں میں جا گرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ امامِ اعظم ابو حنیفہ اور تمام محدثین و فقہائے کرام کے مراتب عالیہ فرمائے اور ان کے صدقے ہماری مغفرت فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
