Loading...

غیر مقلدین کی فہمِ حدیث کا منصفانہ جائزہ

غیر مقلدین کی فہمِ حدیث کا منصفانہ جائزہ (قسط: اول)
عنوان: غیر مقلدین کی فہمِ حدیث کا منصفانہ جائزہ (قسط: اول)
تحریر: محمد تمیز الدین مصباحی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ہر شے کی بنیاد ضرور ہوتی ہے، اسی بنیاد سے شے کی مضبوطی کا اندازہ ہوتا ہے۔ تمام ادیان کی اپنی اپنے بنیادیں ہیں جن پر مفکرین غور و خوض کر کے حق و باطل کو سمجھتے ہیں۔ یقیناً اسلام ایک حقانی و ربانی دین ہے جس کی بنیادیں مستحکم اور غیر متزلزل ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی مفکرین اور محققین اسلام میں تحقیق و ریسرچ کے ذریعہ جوق در جوق داخلِ اسلام ہو رہے ہیں۔

اسلام کی بنیاد و اصول قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جو ہر آن اپنی روشنی سے اطرافِ عالم کو منور و مجلی کیے ہوئے ہیں اور قیامت تک لوگوں کے رشد و ہدایت کے لیے کافی و وافی ہیں۔ قرآن مجید کے بعد دینِ اسلام کا سب سے بڑا ماخذ احادیثِ کریمہ ہیں، کیونکہ احادیث کے بغیر قرآن فہمی کا دعویٰ باطل ہے اور احادیثِ نبوی دراصل قرآن مجید کی تفسیر و تشریح ہیں۔

فہمِ حدیث اور امامِ اعظم کا مقام

فہمِ حدیث اور فہمِ قرآن کے لیے ہر ایک کو نہ صلاحیت حاصل ہے نہ استطاعت۔ ہم پر رب العالمین کا احسانِ عظیم ہوا کہ صحابہ کرام اور تابعین عظام نے اپنے قول و عمل سے اس کی تشریح فرمائی، ورنہ ہلاکت ہمارا مقدر ہوتی۔ نیز رب قدیر کا کرم بالائے کرم ہوا کہ امام الامۃ کاشف الغمہ امامِ اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ جیسی لازوال نعمت سے امت کو سرفراز فرمایا۔

امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت سیدنا عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ نے امامِ اعظم کے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: "امام المسلمین ابو حنیفہ نے شہروں کو زینت بخشی اور شہروں میں بسنے والوں پر احسان کیا۔" [تقلید، ص: 59]

امامِ اعظم نے قرآن و حدیث سے مسائل مستنبط کر کے امتِ محمدیہ پر احسانِ عظیم فرمایا۔ اسی لیے امام اجل ابو جعفر احمد طحاوی فرماتے ہیں: "ابا حنیفۃ النعمان من اعظم المعجزات بعد القرآن" (ابو حنیفہ نعمان قرآن کے بعد عظیم ترین معجزات میں سے ہیں)۔ [درمختار، ص: 25]

غیر مقلدیت کی ابتداء اور درایتِ حدیث

اب سے کچھ ڈیڑھ سو سال قبل "اہلِ حدیث" کے نام سے ایک فرقہ وجود میں آیا جو آج غیر مقلدین کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس فرقہ کا دعویٰ ہے کہ ہم کسی امام کی پیروی کے بغیر حدیث پر عمل کریں گے اور حنفیوں نے احادیث کے بجائے اپنے امام کے قول پر عمل کیا ہے۔ ہندوستان میں سب سے پہلے جس نے تقلید کا قلادہ اتارا اس کے متعلق امامِ اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ترکِ تقلید کا بیج ہندوستان میں سب سے پہلے اسماعیل دہلوی نے بویا ہے۔" [فتاویٰ رضویہ جدید، ج: 15، ص: 552]

علمِ حدیث کی دو قسمیں ہیں: درایتِ حدیث اور روایتِ حدیث۔ ہم غیر مقلدین کی حدیث دانی کا جائزہ درایتِ حدیث (یعنی اسماء الرجال کے قواعد) کی رو سے پیش کرتے ہیں تاکہ تقابلی مطالعہ سے حق و باطل روشن ہو جائے۔

1۔ راوی "محمد بن فضیل" پر میاں نذیر حسین دہلوی کی جرح اور رد

میاں نذیر حسین دہلوی نے اپنی کتاب "معیار الحق" میں سنن ابی داؤد کی ایک صحیح حدیث کو صرف اس لیے ضعیف قرار دے کر ناقابلِ استدلال ٹھہرایا کہ اس کے ایک راوی محمد بن فضیل ہیں۔ اس پر امامِ اہل سنت شاہ احمد رضا قدس سرہ نے اپنے رسالہ "حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلاتین" میں دلائل سے ان کا تعاقب فرمایا:

  • اولاً: یہ محمد بن فضیل صحیح بخاری و صحیح مسلم کے رجال میں سے ہیں۔
  • ثانیاً: امام ابن معین نے ابن فضیل کو ثقہ، امام احمد نے حسن الحدیث اور امام نسائی نے لا بأس بہ کہا ہے۔ میزان الاعتدال میں ان پر کوئی مفسر جرح مذکور نہیں۔
  • ثالثاً: میاں نذیر حسین نے تقریب التہذیب کی عبارت "رمی بالتشیع" سے ابن فضیل کو رافضی ثابت کرنے کی کوشش کی، حالانکہ اصطلاحِ محدثین میں متقدمین کے ہاں تشیع اور رفض میں بڑا فرق ہے۔ متقدمین کے نزدیک محض اہل بیت کی محبت یا حضرت علی کو حضرت عثمان پر تفضیل دینے کو بھی تشیع کہہ دیا جاتا تھا، جسے رافضیت قرار دینا جہالت و فریب ہے۔
  • رابعاً: صحیحین کے ۳۰ سے زائد رواۃ کو اصطلاحِ قدماء پر بلفظِ تشیع ذکر کیا گیا ہے۔ اگر اس بنا پر تضعیف کی جائے تو صحیحین کی احادیث سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔
  • خامساً: اس حدیث کی متابعت دیگر ثقہ راویوں (ابن جابر و عبداللہ بن العلاء) سے بھی موجود ہے، لہٰذا مدار صرف ابن فضیل پر نہ تھا۔

2۔ راوی "بشر بن بکر" کے متعلق مغالطے کا رد

میاں نذیر حسین دہلوی نے امام طحاوی کی حدیث کے راوی بشر بن بکر پر طعن کیا کہ وہ "غریب الحدیث" ہے اور ایسی روایتیں لاتا ہے جو سب کے خلاف ہوتی ہیں، اور اس کی نسبت تقریب التہذیب کا حوالہ دیا۔ امام احمد رضا قدس سرہ نے اس کے جواب میں درج ذیل تعقبات رقم فرمائے:

  • اولاً: بشر بن بکر صحیح بخاری کے رجال سے ہیں۔
  • ثانیاً: تقریب میں صاف صاف بشر کو "ثقہ" فرمایا گیا تھا، جسے میاں نذیر حسین ہضم کر گئے۔
  • ثالثاً: تقریب کی اصل عبارت "ثقۃ یغرب" ہے، اور "یغرب" اور "غریب الحدیث" میں محدثانہ اصطلاح کے تحت نمایاں فرق ہوتا ہے۔
  • رابعاً: باوصف ثقہ ہونے کے مجرد اغراب (تفرد) باعثِ رد نہیں ہوتا، ورنہ صحیحین کی کئی احادیث کو رد کرنا پڑے گا۔
  • خامساً: میزان الاعتدال میں صراحت ہے: "أما بشر بن بكر التنيسي فصدوق ثقة لا طعن فيه" (بشر بن بکر تنیسی سچے اور ثقہ ہیں جن میں اصلاً کسی وجہ سے طعن نہیں)۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 1، ص: 220]
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!