| عنوان: | کھانا کھانے کا طریقہ سنت نبویﷺ اور سائنس کی روشنی میں (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | عائشہ فاطمہ عالمی |
| پیش کش: | صبرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
کھانا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ کھانا انسان کے جسم کی ضرورت ہے، بھوک لگتی ہے تو آدمی کھانا کھاتا ہے تاکہ اس کے بدن میں توانائی پیدا ہو۔ کھانا جسمِ انسانی کی ایک ضرورت ہے، جس طرح اور مشینوں کو سروسنگ (servicing) اور اوور ہالنگ (overhauling) کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح انسانی جسم کی روحِ رواں اس کی غذا ہے۔ مثلاً ہر جاندار کھاتا ہے، کافر بھی کھاتا ہے، یہودی بھی کھاتا ہے، عیسائی بھی کھاتا ہے، جانور بھی کھاتے ہیں اور انسان بھی کھاتے ہیں، مگر جب مسلمان کھانا کھائے تو اس کا کھانا سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہونا چاہیے، تاکہ وہ دنیوی فوائد کے ساتھ ساتھ اخروی بھلائیاں بھی حاصل کر سکے کیونکہ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ تمام فوائد پنہاں ہیں جو آج کی جدید سائنس ہمیں بتا رہی ہے۔ چاہے وہ کھانے کے تعلق سے ہوں یا پینے کے تعلق سے، بے شک رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ہر سنت میں وہ وہ حکمتیں پوشیدہ ہیں جن تک رسائی آج کی جدید سائنس کے لیے بھی ممکن نہیں ہوسکی۔ آج میں کھانا کھانے کا سنت طریقہ اور کچھ سائنسی نکات بھی پیش کرنے کی کوشش کروں گی۔
غذا ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ اللہ عزوجل نے بھی اس کی اہمیت سے آگاہ فرمایا اور قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا﴾ [سورۃ المؤمنون: 51]
ترجمہ: پاکیزہ چیزوں میں سے کھایا کرو اور نیک عمل کرتے رہو۔
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ نے قرآن مجید میں حلال رزق کھانے کا حکم فرمایا ہے تو اس کو کھانے کا کیا طریقہ و سلیقہ ہونا چاہیے؟ اس کا جواب بڑا آسان اور سمپل (simple) ہے کہ جو طریقہ کھانا کھانے اور پینے کے تعلق سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیثِ مبارکہ میں مروی ہے اسی طریقے اور نہج پر ہم سب کو کھانا کھانا چاہیے تاکہ ہمیں ثواب کے ساتھ ساتھ اچھی صحت بھی حاصل ہو سکے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ہر سنت میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہے۔ اب یہاں سے کھانا کھانے کی چند سنتیں بیان کی جاتی ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
-
ہاتھ دھو کر کھانا کھائیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو یہ پسند کرے کہ اس کے گھر میں اللہ تعالیٰ خیر زیادہ کرے تو جب کھانا حاضر کیا جائے تو وضو کرے۔ اور جب اٹھایا جائے تو اس وقت بھی وضو کرے، یعنی ہاتھ منہ دھوئے۔ [سنن ابن ماجہ]
اس کی حکمت یہ ہے کہ عام طور پر کام کاج کرنے سے ہاتھ آلودہ ہو جاتے ہیں، بغیر ہاتھ دھوئے کھانے سے بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ "کھانے کا وضو محتاجی دور کرتا ہے، گھر میں بھلائی بڑھاتا ہے، شیطان کو دور کرتا ہے اور رزق میں کشادگی ہوتی ہے۔" [فیضانِ سنت، ج 1، ص 185، 186 ملخصاً]
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”اَلْوُضُوْءُ قَبْلَ الطَّعَامِ يَنْفِي الْفَقْرَ، وَبَعْدَهُ يَنْفِي اللَّمَمَ“ (کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا غربت دور کرتا ہے، اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونا رنج دور کرتا ہے)۔ [مسند الشہاب]
اور عموماً ایک انسان کی عادت میں یہ ہے کہ وہ بے شمار چیزوں کو ہاتھ لگاتا ہے، ان میں کئی گندی چیزیں اور صاف چیزیں بھی ہوتی ہیں، جو گندی چیزیں ہوتی ہیں ان میں سے جراثیم ہمارے ہاتھوں میں لگ جاتے ہیں، اگر کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ نہ دھوئے جائیں تو وہ جراثیم کھانے کے ساتھ پیٹ میں چلے جاتے ہیں جو کہ مختلف بیماریاں پیدا کرتے ہیں، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھویا کرو۔ [جدید تحقیق]
-
بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھائیں: حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جس کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے وہ کھانا شیطان کے لیے حلال ہو جاتا ہے۔ یعنی کہ بسم اللہ نہ پڑھنے کی صورت میں شیطان اس کھانے میں شریک ہو جاتا ہے۔ [اسلامی اخلاق وآداب]
اگر کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائیں تو یاد آنے پر ”بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ“ پڑھ لیجیے۔ کھانا سیدھے ہاتھ سے کھائیے کہ الٹے ہاتھ سے کھانا پینا شیطان کا طریقہ ہے۔ [صحیح مسلم ، ص 860، حدیث: 5265]
حکمت یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ سے غیر مرئی (نظر نہ آنے والی) شعاعیں نکلتی ہیں اور الٹے ہاتھ سے بھی، لیکن سیدھے ہاتھ کی شعاعیں فائدہ مند اور الٹے ہاتھ والی نقصان دہ ہوتی ہیں۔ [سنت مصطفےٰ اور جدید سائنس، ص 28]
-
تین انگلیوں سے کھائیے: موڈرن زمانہ آگیا ہے، جس طرح ہر چیز میں بدلاؤ ہوا ہے اسی طرح کھانا انگلیوں کے بجائے نئی نئی ڈیزائن کی چمچوں سے کھانے کا رواج چل پڑا ہے، اسپون (spoons) سے کھانا کوئی حرام یا ناجائز نہیں ہے، جائز تو ہے، لیکن وہ حکمتیں اور فوائد جو انگلی سے کھانے میں حاصل ہوں گے، اس سے ضرور محرومی ہو جائے گی، تو ہمیں حتیٰ المقدور کوشش کرنی چاہیے کہ سنت کے مطابق انگلیوں ہی سے کھانے کی کوشش کریں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کھانے کے چار طریقے ہیں: ایک انگلی سے کھانا کھائے، یہ طریقہ باری تعالیٰ کی خفگی کا باعث ہے۔ دو انگلیوں سے کھانا، یہ تکبر کی علامت ہے۔ تین انگلیوں سے کھانا یہ مسنون طریقہ ہے، چار انگلیوں سے کھانا یہ طریقہ شدتِ حرص پر دلالت کرتا ہے۔ [کھانے کے آداب، امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ]
-
خوب پیٹ بھر کر کھانا نہ کھائیے: اس کے جسمانی اور روحانی نقصانات ہیں۔ اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جب بیگم صاحبہ یا کسی دعوت میں اچھا اور لذیذ کھانا مل جائے تو، یہ ارادہ کیا جاتا ہے کہ سب میں ہی کھالوں، تو ہمیشہ یاد رکھیے کہ خوب پیٹ بھر کر کھانا نہ کھائیے کہ اس کے جسمانی اور روحانی نقصانات ہیں۔ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "آدمی اپنے پیٹ سے زیادہ بڑا برتن نہیں بھرتا، انسان کیلیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اگر ایسا نہ کر سکے تو تہائی کھانے کیلئے، تہائی پانی کیلئے اور ایک تہائی سانس کیلیے ہو"۔ [سنن ابنِ ماجہ، ج 4، ص 48، حدیث: 3349]
-
کھانا زمین پر بیٹھ کر کھائیے: اس کی حکمت یہ ہے کہ زمین پر بیٹھ کر کھانے سے کھانا بہتر طور پر ہضم ہوتا ہے، کمر اور ٹانگوں کے عضلات میں لچک پیدا ہوتی ہے اور دردوں سے نجات ملتی ہے، دورانِ خون بھی بہتر ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں دل کی صحت بہتر جبکہ بیماریوں، خصوصاً ہارٹ اٹیک کا خدشہ بہت کم ہو جاتا ہے۔
-
کھانے سے پہلے جوتے اتار لیجیے۔
-
بیٹھنے کا طریقہ: جب بھی کھانا کھائیں تو الٹا پاؤں بچھا دیجئے اور سیدھا کھڑا رکھئے یا سرین پر بیٹھ جائیے اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھئے یا دوزانو بیٹھ جائیے۔
-
ٹیک لگا کر کھانا کھانے سے بچیے: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم ٹیک لگا کر کھانا مت کھاؤ"۔ [مجمع الزوائد، ج 5، ص 22، حدیث: 7918]
-
اکٹھے ہو کر کھانا کھائیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے کہ اکٹھے ہو کر کھاؤ، الگ الگ نہ کھاؤ کہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔ [سنن ابن ماجہ]
جب مل کر کھانا کھایا جاتا ہے تو تمام کھانے والوں کے جراثیم کھانے میں مل جاتے ہیں، جو دوسری بیماریوں کے جراثیموں کو ختم کر دیتے ہیں، اور اس طرح وہ کھانا نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ بعض دفعہ شفا کے جراثیم مل کر تمام کھانے کو شفا بنا دیتے ہیں جو بعد میں معدے کی بیماریوں کے لیے مفید ہے۔ [جدید تحقیق]
-
بیٹھ کر کھانا کھائیں: کھانے کے لیے بیٹھنے میں تواضع کا طریقہ اختیار کریں تکبر اور غرور کے طریقے سے بچیں۔ کھانے کے دوران کبر و غرور کا ایک طریقہ ٹیک لگانا بھی ہے۔ ابو حذيفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔ [صحیح البخاری]
کھڑے ہو کر غذا نہ کھاؤ ایسا کرنے سے تم دل اور تلی کے مرض میں پھنس جاؤ گے بیٹھ کر کھانا کھاؤ کیوں کہ کھڑے ہو کر کھانا امراض پیدا کرتا ہے۔ [ڈاکٹر اغذیہ، جدید تحقیق]
-
دائیں ہاتھ سے کھانا کھائیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ جب کوئی کھانا کھائے تو سیدھے ہاتھ سے کھائے اور پانی پیے تو سیدھے ہاتھ سے پیے۔ [صحیح مسلم]
سیدھے ہاتھ سے غیر مرئی شعاعیں نکلتی ہیں اور الٹے ہاتھ سے بھی نکلتی ہیں، لیکن سیدھے ہاتھ کی شعاعیں فائدے مند اور الٹے ہاتھ کی شعائیں نقصان دہ ہوتی ہیں، کیوں کہ سیدھے ہاتھ سے شفا اور الٹے ہاتھ سے کھانے میں بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، لہذا سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانا شفا کو اپنے اندر ڈالنا ہے۔ [جدید تحقیق]
-
کھانا اپنے سامنے سے کھائیں: حضرت سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں بچپن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھا (کھاتے وقت) میرا ہاتھ پیالہ میں گھومتا تھا (یعنی ہر طرف سے کھانا کھاتا تھا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے لڑکے بسم اللہ پڑھو، اور سیدھے ہاتھ سے اپنے سامنے سے کھاؤ، اس کے بعد سے میں اسی طرح کھاتا ہوں۔ [اسلامی اخلاق و آداب]
کھانے میں وٹامنز (vitamins) نمکیات اور بے شمار نافع جسم اجزا ہوتے ہیں، ان میں آئرن اور دیگر ایسے اجزاء تہہ میں بیٹھ جاتے ہیں۔ جب کہ وٹامنز اور لطیف اجزا کناروں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، جو کھانے کے خاص اجزا ہوتے ہیں اور جسم کی تقویت کے لیے نہایت ضروری ہوتے ہیں، جسم کو خالص روغنی اجزا کی ضرورت ہوتی ہے، اور قریب ترین چیزوں کا کھانا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بجا آوری کا ثبوت ہے۔ [جدید تحقیق]
-
جانوروں کے جیسے چپ چپ کر کے نہ کھائیں: کیوں کہ کھانا دین کا جز ہے اور علم و عمل اور عبادت کا واحد ذریعہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس عمل میں بھی دین کے انوار ظاہر ہوں۔ انوار سے مراد یہاں کھانا کھانے کے آداب و سنتیں ہیں۔
اس کی حکمت یہ ہے کہ جب بھی کوئی چیز کھائی جاتی ہے تو وہ ہضم ہو کر جزو بدن بن جاتی ہے، عمدہ ہاضمہ اور عمدہ تندرستی کے لئے چبا کر کھانے کا فن جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پہلے ہی بتا دیا، وہاں جدید سائنسی تحقیقات نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ کھانے کو بغیر چبائے نہیں نگلنا چاہیے۔ جو لوگ کھانے والی چیزوں کو بغیر چبائے نگل جاتے ہیں، وہ جدید سائنس کی روشنی میں دبلے پتلے اور بہت ہی کمزور ہوا کرتے ہیں، اکثر ایسے لوگ ضعیف معدہ کے شکار ہو جایا کرتے ہیں کھانے کا عمدہ طریقہ یہ ہے کہ جو نوالہ منہ میں ڈالا جائے اس کو اچھی طرح سے چبا کر کھایا جائے جو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے طریقہ بتایا ہے۔ [www.kitabosunnat.com]
-
دسترخوان پر کھانا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دسترخوان پر یکجا ہو کر کھانا کھانے میں برکت ہوتی ہے، باہمی الفت و محبت، بھائی چارہ اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ اور دسترخوان پر غیر ضروری باتیں نہ کریں، بلکہ خوشگوار باتیں کی جائیں۔ [اسلامی اخلاق کے آداب]
دسترخوان پر ایسے شرعی امور زیرِ بحث لائے جائیں، جس سے تفریح ہو اور غم و غصہ فرو ہو جائے، اس سے معدے کو طاقت ملتی ہے، اور جو لوگ غم و غصے کی حالت میں کھانا کھاتے ہیں ایسے لوگ الجھنوں کا شکار ہوتے ہیں اور بہت جلد معدے کے السر اور آنتوں کے دق کے مہلک مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
-
برتن کو اچھے سے صاف کر کے کھائیں: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ نے نبیشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کھانے کے بعد برتن کو چاٹ لے گا وہ برتن اس کے لیے استغفار کرے گا۔ [اسلامی اخلاق و آداب]
جدید تحقیق یہ کہتی ہے کہ کھانے کی پلیٹ یا برتن کے پیندے میں وٹامنز اور خاص طور پر کھانے کے پیندے میں موجود وٹامن بی کمپلیکس اور ایسے غذائی اجزا ہوتے ہیں، جو تمام کھانے میں کم اور پیندے میں زیادہ ہوتے ہیں اور غذا میں موجود معدنی نمکیات تو صرف پیندے ہی میں ہوتے ہیں۔ [عبقری گروپ آف میڈیا]
