| عنوان: | حضورِ رحمتِ عالم ﷺ اور محنت کش طبقے کے حقوق |
|---|---|
| تحریر: | انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
اسلام کا نظامِ حیات عدل، توازن، مساوات اور خدمتِ انسانیت پر مبنی ہے۔ نبیِ اکرم ﷺ نے نہ صرف قولاً بلکہ عملاً مزدور، کسان، صنعت کار اور خادم کے حقوق کو واضح فرمایا۔ اسلام کا ظہور محض ایک دینی انقلاب نہیں بلکہ ایک جامع سماجی و معاشی انقلاب تھا جس نے انسانیت کو طبقاتی استحصال سے آزاد کر کے محنت کو شرف و عزت بخشی۔ حضور ﷺ نے محنت کو عبادت اور قربتِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: "جو شخص محنت سے رزق کماتا ہے، وہ اللہ کا محبوب ہے۔" (المعجم الاوسط)
اسلام کا نظریۂ عمل اور انسانی وقار
قرآنِ کریم نے انسان کی عظمت کو اُس کی سعی و محنت سے وابستہ کیا ہے: ﴿وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى﴾۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔" یہ حدیث دراصل خودداری اور رزقِ حلال کی طلب کا منشور ہے۔ حضور ﷺ نے ایک مزدور کے محنت زدہ ہاتھ چوم کر فرمایا: "یہ وہ ہاتھ ہے جسے دوزخ کی آگ چھوئے گی نہیں۔"
مزدور کے حقوق: نبوی منشور
- بروقت اجرت: آپ ﷺ نے فرمایا: "مزدور کو اُس کی مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔" اجرت کی تاخیر کو ظلم قرار دیا گیا۔
- الٰہی ضمانت: حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "تین اشخاص کے خلاف قیامت کے دن میں خود مقدمہ لڑوں گا... اور وہ جس نے مزدور سے کام لیا مگر مزدوری نہ دی۔"
- مساواتِ انسانی: خادموں اور زیرِ دستوں کے بارے میں فرمایا: "تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں... لہٰذا اُنہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔"
سماجی انصاف اور ظلم کی ممانعت
قرآن نے ناپ تول اور حقوق میں کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں میں بدل جائے گا۔" اس میں معاشی استحصال، کم اجرت اور مزدور کے حق میں کوتاہی سب شامل ہیں۔ آپ ﷺ نے خود اپنی زندگی میں تعمیرِ مسجدِ نبوی اور غزوۂ خندق کے دوران صحابہ کے ساتھ مل کر جسمانی مشقت کی، جو محنت کی تقدیس کی عملی مثال ہے۔
اسلامی معیشت اور محنت کش
اسلامی معیشت کا بنیادی اصول عدلِ اجتماعی ہے۔ قرآن نے دولت کے ارتکاز (مرکزیت) کو حرام قرار دیا ہے تاکہ دولت صرف مالداروں کے درمیان گردش نہ کرے۔ اسلامی نظام میں مزدور کو محض اجیر نہیں بلکہ شراکت دار تصور کیا جاتا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "جس قوم نے مزدور کا حق روکا، اللہ نے اُن سے برکت چھین لی۔"
عصرِ حاضر میں معنویت
موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں انسان محض مشین کا پرزہ بن چکا ہے۔ ایسے میں رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات ایک نجات دہندہ منشور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسلام کا مقصد ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں دولت چند ہاتھوں میں محدود نہ ہو، محنت کرنے والا عزت کے ساتھ جئے، اور جہاں اجرت عدل کی بنیاد پر طے ہو۔ حضور ﷺ کی تعلیمات نے آج سے چودہ سو سال قبل ہی مزدور کے حقوق کی جو ضمانت دی، وہ آج بھی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
