Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ایک فکری احتساب: منبر و مشاعرہ کے زاویے سے

ایک فکری احتساب: منبر و مشاعرہ کے زاویے سے
عنوان: ایک فکری احتساب: منبر و مشاعرہ کے زاویے سے
تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

ہندوستان کی سرزمین ہمیشہ علم و فن، سخن و خطابت اور دینی و روحانی محافل کا مرکز رہی ہے۔ مگر افسوس کہ موجودہ دور میں کچھ ایسے مناظر سامنے آرہے ہیں جو اس علمی و روحانی ورثے پر دھند ڈال رہے ہیں۔ آج جلسوں اور محافل میں یہ عام مشاہدہ ہے کہ خطبا و شعرا ایک دوسرے پر تنقید بلکہ تضحیک کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں کوئی خطیب کسی شاعر کو نامناسب القابات سے یاد کرتا ہے، تو کہیں کوئی شاعر کسی مقرر کو طنز و تمسخر کا نشانہ بناتا ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ دینی محافل کے تقدس پر سوالیہ نشان بھی ہے۔

عوامی سطح پر تنقید اور مسلک کی بدنامی

ایسے کئی واقعات منظرِ عام پر آئے جن میں معروف خطبا اور شعرا نے ایک دوسرے کے خلاف سخت جملے کہے، جس کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر طعن و تشنیع اور جملہ بازی نے اصلاح و تبلیغ کی جگہ لے لی۔ عوام الناس کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ جیسے اہلِ سنت کی محافل علم و ادب کا نہیں بلکہ مناظرانہ جھگڑوں اور ذاتی مخالفتوں کا مرکز بن گئی ہیں۔ ایسے لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ چند افراد کی لغزش کو پورے مسلک کی پہچان نہیں بنایا جا سکتا۔

مسلکِ اعلیٰ حضرت اور اعتدال کی راہ

درحقیقت، مسلکِ اہلِ سنت و جماعت وہی راہِ حق ہے جسے امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں منظم اور مضبوط بنیادوں پر پیش کیا۔ اس مسلک کی اساس قرآن، سنت، محبتِ رسول ﷺ، اور احترامِ اولیا و علما ہے۔ اس میں نفرت، تفرقہ، خودنمائی یا ایک دوسرے کی تحقیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر کوئی خطیب یا شاعر اپنی انفرادی خطا کا ارتکاب کرتا ہے تو اس سے نہ قرآن کا پیغام متاثر ہوتا ہے، نہ سنت کی روش بدلتی ہے، اور نہ ہی مسلکِ اہلِ سنت کی بنیادیں کمزور ہوتی ہیں۔

قرآنی تعلیمات اور دعوت کا اسلوب

ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلِ منبر و محراب اور اہلِ شعر و نعت اپنے اسلوب میں سنجیدگی، متانت اور دینی غیرت پیدا کریں۔ منبرِ رسول ﷺ وعظ و نصیحت کا مقام ہے، بحث و جدال کا میدان نہیں۔ نعتِ رسول ﷺ عشق و عقیدت کی زبان ہے، تفریح یا شہرت کا ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾۔ اس آیت میں صاف ارشاد ہے کہ دعوت کا راستہ نرمی، دانائی اور حسنِ بیان سے مزین ہونا چاہیے، نہ کہ سختی یا طنز سے۔

اتحاد کی ضرورت اور خلاصہ کلام

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب باہمی اختلافات کو بھلا کر دین کی سربلندی اور مسلکِ اہلِ سنت کی عزت کے تحفظ کے لیے ایک صف میں کھڑے ہوں۔ علامہ اقبال نے فرمایا:
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

آؤ، ہم سب عہد کریں کہ منبر و مشاعرہ دونوں کو اصلاح و محبت کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ مخالفت و مفادات کا میدان۔ یاد رکھو! منبر و مشاعرہ اگر تبلیغ، محبت اور اتحاد کا منبع بن جائیں تو وہ امت کی اصلاح کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ اگر ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے خیرخواہ رہیں، تو یہی پیغامِ اعلیٰ حضرت ہے اور یہی اصل دعوتِ اسلام ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!