Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

دینی جلسوں میں بڑھتی فضول خرچی اور مدارسِ اسلامیہ کے خستہ حالات

دینی جلسوں میں بڑھتی فضول خرچی اور مدارسِ اسلامیہ کے خستہ حالات
عنوان: دینی جلسوں میں بڑھتی فضول خرچی اور مدارسِ اسلامیہ کے خستہ حالات
تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال، سادگی، اخلاص اور تقویٰ کی راہ دکھاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں فضول خرچی کو "اخوانُ الشیاطین" یعنی شیطان کے بھائیوں کا عمل قرار دیا گیا ہے۔ مقصدِ دین یہ ہے کہ بندہ اپنے ہر عمل میں اللہ کی رضا اور اصلاحِ امت کو پیشِ نظر رکھے، نہ کہ نمود و نمائش اور دکھاوے کو۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے دور میں دینی سرگرمیوں کے نام پر ایسے رجحانات تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں جو نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں بلکہ ہماری دینی ترجیحات کو بھی بُری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ دین کے پیغام کو عام کرنے کے لیے منعقد کیے جانے والے جلسے اور اجتماعات یقیناً ایک مفید ذریعہ ہیں، لیکن ان میں حد سے بڑھتی ہوئی فضول خرچی نے دین کی اصل روح کو مجروح کر دیا ہے۔

دینی جلسوں کی موجودہ صورتِ حال

گزشتہ چند برسوں میں دینی جلسوں کا رواج بے پناہ بڑھ گیا ہے۔ چھوٹے چھوٹے دیہاتوں سے لے کر بڑے شہروں تک، ہر جگہ دین کے نام پر جلسے اور کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں۔ بظاہر ان کا مقصد دین کی تبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ ہوتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات یہ اجتماعات نمود و نمائش اور مقابلۂ شہرت کا میدان بن چکے ہیں۔

ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے صرف اس بات پر خرچ کیے جاتے ہیں کہ اسٹیج زیادہ پرکشش نظر آئے، مہمان مقرر زیادہ مشہور ہوں، اور پروگرام زیادہ دیر تک جاری رہے۔ بعض مقررین ایک رات کے لیے بیس سے پچیس ہزار روپے تک وصول کرتے ہیں، جب کہ دوسری جانب دینی مدارس کے اساتذہ محض پانچ یا چھ ہزار روپے ماہانہ پر گزر بسر کر رہے ہیں۔ یہ تفاوت اور ترجیحات کا بگاڑ امتِ مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

مدارس کی ناگفتہ بہ حالت

اسلامی تعلیم کے حقیقی مراکز تو ہمارے مدارس ہیں، جہاں قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر اور عقائد کی تعلیم دی جاتی ہے۔ انہی مدارس سے فارغ ہونے والے علماء دین کے قلعوں کی حفاظت کرتے ہیں اور امت کی فکری و اعتقادی سرحدوں پر پہرہ دیتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج وہی مدارس مالی بحران کا شکار ہیں۔

کئی مدارس میں تعمیراتی کام سالہا سال سے رکے ہوئے ہیں، بعض جگہ اساتذہ کی تنخواہیں تاخیر سے ملتی ہیں، اور بہت سے غریب طلبہ محض فیس یا رہائش کے اخراجات برداشت نہ کر پانے کی وجہ سے تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ہم وہی پیسہ اسٹیج، بینر، لائٹنگ اور نعت خوانوں کے سفر و قیام پر خرچ کر دیتے ہیں۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ جس دین کے فروغ کے لیے جلسے کیے جا رہے ہیں، اسی دین کے حقیقی مراکز بدحالی کا شکار ہیں۔

دینی کام کا حقیقی میدان

حقیقت یہ ہے کہ دین کی اصل خدمت منبروں اور محرابوں سے ہوتی ہے، نہ کہ رنگین اسٹیجوں اور لاؤڈ اسپیکروں سے۔ جو محنت ایک مدرس استاد روزانہ اپنے شاگردوں پر صرف کرتا ہے، وہی دراصل دین کی جڑوں کو مضبوط کرتی ہے۔ جلسوں میں بسا اوقات رات بھر تقاریر ہوتی ہیں، لوگ جذباتی ہو جاتے ہیں، مگر عملی تبدیلی ان کے کردار میں نہیں آتی۔

مساجد خالی رہتی ہیں، نمازیں قضا ہو جاتی ہیں، اور جلسے کے بعد وہی سماجی و اخلاقی بگاڑ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ دین محض سننے کا نہیں، بلکہ عمل کا نام ہے۔ جب تک ہم سننے کے ساتھ سمجھنے اور عمل کرنے کا عزم نہیں کرتے، یہ تمام تقریبات محض وقتی جذبات کا مظاہرہ رہ جاتی ہیں۔

دینی ترجیحات کی ازسرنو تعیین

ہمیں اپنی ترجیحات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے پاس وسائل ہیں تو ہمیں انہیں اُن مقامات پر خرچ کرنا چاہیے جہاں دین کی حقیقی خدمت ہو رہی ہے۔

  • مدارس کی امداد: مدارس کے اساتذہ و طلبہ کی مالی امداد، ان کے لیے کتابوں کی فراہمی، تحقیقی و تعلیمی کاموں کی حوصلہ افزائی، اور تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل—یہ سب وہ میدان ہیں جہاں خرچ کرنا واقعی صدقۂ جاریہ ہے۔

  • علمی استعداد: اسی طرح علماء و طلبہ کو بھی چاہیے کہ وہ مطالعہ کو وسیع کریں، مناظرانہ و تحقیقی صلاحیت پیدا کریں، اور وقت کے فتنوں—چاہے وہ وہابیت ہو، دیوبندیت ہو یا دیگر باطل عقائد—کا علمی جواب دینے کی استعداد پیدا کریں۔ دین کی حفاظت جلسوں سے نہیں بلکہ علم و بصیرت سے ہوتی ہے۔

اخلاص و اعتدال کی راہ

جلسے اور اجتماعات اگر اخلاص، سادگی اور مقصدیت کے ساتھ منعقد کیے جائیں تو ان کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جب یہ محض مقابلہ آرائی، ناموری اور ریاکاری کا ذریعہ بن جائیں تو یہ دین کے نام پر گناہ کے کام بن جاتے ہیں۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ کی سیرت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ جیسی عظیم شخصیت سال بھر میں محض چند اجلاسوں میں شریک ہوتی تھیں، وہ بھی دین کی ضرورت کے پیش نظر۔ اس سے ہمیں سبق لینا چاہیے کہ اصل دین عمل، علم اور تقویٰ میں ہے نہ کہ شہرت و اسٹیج میں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فضول خرچی کے اس سیلاب کو روکیں، اور دین کے وسائل کو صحیح سمت میں استعمال کریں۔ جلسے ضرور کریں، مگر اعتدال کے ساتھ، اخلاص کے ساتھ، اور مقصدِ اصلاح کے ساتھ۔ عوام کو چاہیے کہ وہ محض دکھاوے کے خرچ سے اجتناب کریں، اور اپنے پیسے کو ایسے کاموں میں لگائیں جن سے امت کو حقیقی فائدہ پہنچے۔ دین کی خدمت کا اصل راستہ علم، عمل اور اخلاق کی مضبوطی میں ہے—نہ کہ روشنیوں سے مزین اسٹیجوں اور مہنگے مقررین کی تقاریر میں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!