| عنوان: | حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم کائنات (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد فرید خان قادری مدنی |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ شاہ جہان پور |
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور شخصیت سازی کے بنیادی عناصر و مقاصد
قرآنِ پاک کی درج بالا آیات کی روشنی میں بنیادی طور پر پانچ چیزیں نکل کر سامنے آتی ہیں جنہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے بنیادی عناصر شمار کر سکتے ہیں: 1۔ تلاوتِ آیات کا ہنر سکھانا، 2۔ تزکیۂ ظاہر، 3۔ باطن کی تعلیم، 4۔ تعلیمِ کتاب، 5۔ تعلیمِ حکمت۔
اور ایک چیز کا بیان حدیثِ پاک میں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ [رقم الحديث: 20571، السنن الكبرى للبيهقي، ومصنف ابن أبي شيبة، ح: 31773، المكتبة الشاملة]
ترجمہ: بے شک مجھے اخلاقِ عالیہ کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔
سابقہ پانچوں عناصر اور اخلاقِ عالیہ کی تکمیل، یہ چھ چیزیں اپنے تمام تر لوازمات اور وسیع تر مفہوم کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کا محور ہوا کرتی تھیں جس سے کہ صحابہ کرام علیہم الرحمہ نے روشنی حاصل کی اور انہی چھ عناصر کی تعلیمات سے قیامت تک آنے والی تمام تر نسلِ انسانی گمراہی کے اندھیروں سے ہدایت کی روشن راہ پر گامزن ہوتی رہے گی۔
اور ان سب تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کا بنیادی مقصد اور محور زندگی کے ہر موڑ پر بھٹکتی ہوئی انسانیت کی ہمیشہ ہمیش کے لیے کامل ہدایت اور رہنمائی تھی جسے قرآنِ مقدس نے اسی آیت کے اخیر میں بیان فرمایا ہے:
وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
ترجمۂ کنز العرفان: اور بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔
یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی سے قبل کھلی ہوئی گمراہی میں تھے لیکن جب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں ان چھ عناصر کی تعلیم فرما دی تو وہ گمراہی سے نکل کر راہِ ہدایت کے تیز رفتار مسافر ہو گئے۔ [مقاصد البعثة المحمدية، الأستاذ أحمد الريسوني، كلية الآداب بالرباط المغرب؛ تفسیر صراط الجنان، مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی، متعلقہ آیات]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کے 40 سے زائد طریقے
جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت کے عناصر اور مقاصد محدود نہیں بلکہ متنوع تھے، یوں ہی آپ کا اندازِ تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی بھی موقع محل کی مناسبت اور نفسیات کا لحاظ کرتے ہوئے متعدد ہوتا تھا۔ اس موضوع پر بھی متعدد سیرت نگاروں نے آپ کے اسالیب اور ان کی خوبیوں پر تفصیلی کلام فرمایا ہے۔ بالخصوص مشہور محدث شیخ عبدالفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسالیبِ تعلیم و تربیت پر 200 صفحات سے زائد پر مشتمل ایک تحقیقی کتاب تحریر فرمائی ہے جس میں 40 سے زائد طریقے آپ کی تعلیم و تربیت کے درج فرمائے ہیں جو کائناتِ انسانی کے کسی بھی بڑے سے بڑے معلم اور شخصیت ساز کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اور یہ تعداد انہی میں محدود نہیں بلکہ یہ ان کی کچھ دنوں کی کوششوں کا اثر تھی۔ اخیر میں انہوں نے مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسالیبِ تعلیم اور شخصیت سازی کے مزید قابلِ دریافت طریقوں کی وسعت کے بارے میں تحریر فرمایا:
“یہ چند کلمات میں نے اس لیے ذکر کیے ہیں تاکہ اسالیبِ نبویہ برائے تعلیم کے باب کو ان کے ساتھ مکمل کیا جائے، تاکہ یہ اسالیب چالیس تک پہنچ جائیں، اور یہ آخری اسلوب گویا مشکِ ختام ہو جو ساری بحث کو مہکا دے۔ والحمد لله رب العالمين۔
یہ صرف چند نمونے ہیں ان تعلیمی طریقوں کے جو سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمائے اور جن کی ہدایت دی۔ یہ ذکر میں نے محض بطورِ مثال اور بیان کیا ہے، نہ کہ استقصاء اور احاطہ کی نیت سے۔ کیونکہ جو شخص گہرائی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور آپ کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرے گا، وہ ان سے کہیں زیادہ اور مزید تعلیمی نکات اور اسالیب دریافت کرے گا۔
میرا مقصد فی الحال وہ نہیں تھا، بلکہ محض ان پہلوؤں کو ذکر کرنا تھا جو مطالعے کے دوران اتفاقاً سامنے آئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس میں توفیق و اخلاص عطا فرمائے، اور سیدِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بہرہ ور کرے۔ اسی طرح میں اللہ سے یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کی توفیق دے، اور آپ کے اصحابِ کرام، تابعین اور ان کی احسان کے ساتھ پیروی کرنے والوں پر اپنی رضا نازل فرمائے، یہاں تک کہ قیامت کے دن ہم سب کو اپنی خوشنودی اور جنت کی بشارت دے۔ والحمد لله رب العالمين۔” [الرسول المعلم وأساليبه في التعليم، المطبوعات الإسلامية بحلب، ص: 218، خاتمہ]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور شخصیت سازی سے بلا واسطہ مستفیض ہونے والے افراد کی کثیر معجزانہ تعداد
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی سے آپ کی ظاہری حیاتِ طیبہ میں ہی ہزاروں لاکھوں لوگ مستفیض ہوئے جنہوں نے دنیا کے کونے کونے میں جا کر علم، تہذیب و تمدن کے ایسے مینار تعمیر فرمائے جن کی مثال پیش کرنے سے تاریخِ انسانی قاصر ہے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کا ایک اعجازی پہلو یہ بھی ہے کہ جب آپ کی بعثت ہوئی اس وقت مکہ مکرمہ اور اس کے ارد گرد صرف 17 یا زیادہ سے زیادہ 30 افراد پڑھے لکھے شمار کیے جاتے تھے۔ [السيرة النبوية لابن هشام، عبد الملك، تحقيق: مصطفى السقا وآخرين، القاهرة: لجنة التأليف والترجمة والنشر، 1955م، ج: 1، ص: 262]
لیکن مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت، تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کی بدولت جب آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے تمام صحابۂ کرام کو خطبہ ارشاد فرمایا اور اس کے چند ماہ بعد دنیائے فانی کو الوداع کہا، اس وقت آپ کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی سے کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار افراد متاثر ہو کر دنیائے انسانیت کی سیادت و قیادت، تعلیم و تربیت، شخصیت سازی اور ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ [الوسيط في أصول ومصطلح الحديث، محمد أبو شهبة، ص: 518، المكتبة الشاملة]
اور عصرِ حاضر میں بھی ان میں سے ایک لاکھ 20 ہزار صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے بارے میں تحقیق ہو چکی ہے جنہوں نے انسانی تاریخ کے دھارے بدل کر رکھ دیے۔ [مركز الأزهر العالمي: عدد أصحاب النبي محمد صلى الله عليه وسلم 120000 صحابي، ویب سائٹ: القدس العربي]
23 سال کی قلیل مدت میں لاکھوں افراد کی تعلیم و تربیت بلاشبہ آپ کا واضح معجزہ ہے جس کی نظیر تاریخِ انسانی نہیں پیش کر سکتی۔ اور یہ اعجاز آج بھی واضح ہے کہ اتنے محدود وسائل، مشکلات اور ذرائع کی قلت کے باوجود اتنی بڑی انسانی آبادی تک اپنا پیغام پہنچا دینا وہ بھی تقریباً 1500 سال پہلے، اس کی کوئی دوسری مثال سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پوری تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور شخصیت سازی سے بالواسطہ قیامت تک مستفید ہونے والے افراد
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کا ایک اعجازی پہلو یہ بھی ہے کہ قیامت تک آنے والی تمام تر نسلِ انسانی اس سے مستفیض ہوتی رہے گی۔ جو نورِ تعلیم و تربیت صحابۂ کرام، خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دربارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا، اس کے الگ الگ چراغ اور مشعلیں تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، جملہ شہداء و صالحین، سلاطینِ اسلام، جلیل القدر علماء، محدثین، فقہاء اور ماہرینِ علومِ شرعیہ و عصریہ کی شکل میں کائنات کے مختلف خطوں میں روشن ہوتے چلے گئے اور دنیا کے کونے کونے تک ان کے علم، تہذیب و تمدن، اخلاق و کردار کی خوشبو پھیل گئی اور کفر و شرک، نفاق، جہالت، بدعت و خرافات کی بدبو سے دم توڑتی انسانیت کے مشامِ جاں کو معطر کر ڈالا۔
قرنِ اول سے لے کر آج تک کوئی ایسا عہد نہیں رہا جب کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مشعلِ تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی سے مختلف رنگ و نسل کی اقوام فیض نہ پاتی رہی ہوں اور یہ سلسلہ یوں ہی قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔ خود صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عظمت نشان ہے:
لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: وَهُمْ كَذَلِكَ. [رقم الحديث: 1920، صحيح مسلم، المكتبة الشاملة]
ترجمہ: میری امت کا ایک بڑا طبقہ ہمیشہ حق پر ڈٹا رہے گا انہیں اس بات سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کہ کون ان کی رسوائی چاہتا ہے یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ لوگ اسی طرح حق پر قائم رہیں گے۔
اس وقت دنیا میں اربوں انسان ایسے ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو سچے دل سے قبول کر لیا ہے اور کروڑوں لوگ وہ ہیں جو جانتے ہیں مگر مانتے نہیں یا بعض حصہ مانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں بھی فرمانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ایک وقت آئے گا وہ سب کے سب بھی آپ کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کو سچے دل سے قبول کر لیں گے:
لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ، بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ، عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ، وَذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ [رقم الحديث: 16957، مسند أحمد بن حنبل، موسوعة الأحاديث النبوية، آن لائن ویب سائٹ]
مفہومِ حدیثِ پاک: صحابۂ کرام کو آپ نے مخاطب کر کے فرمایا کہ میرا یہ کاروانِ تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی ضرور بالضرور ایک دن دنیا کے کونے کونے تک پہنچ جائے گا اور اللہ تعالیٰ کسی کچے یا پکے گھر کے مکین کو نہیں چھوڑے گا مگر یہ کہ وہ سب اسلام میں داخل ہو جائیں گے، اللہ تعالیٰ اسلام کی عزت اور کفر کی ذلت لوگوں پر واضح فرما دے گا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور شخصیت سازی کے انسانی دنیا پر اثرات
آج انسانی آبادی میں جو بھی خیر ہے وہ سب کی سب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کی بدولت ہے اور قیامت تک انسانی آبادی میں اٹھنے والا ہر صالح انقلاب کی بنیاد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہی کی مرہونِ منت ہوگی۔ کائناتِ انسانی میں کوئی ایسا فرد نہیں جس نے انسانی تاریخ پر اپنی تعلیمات اور شخصیت سازی کے اتنے گہرے اثرات ثبت کیے ہوں جتنے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اثرات واضح اور نمایاں ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف اپنوں اور بالخصوص غیروں نے برملا کیا ہے۔ چنانچہ ایک مشہورِ زمانہ مغربی مورخ مائیکل ہارٹ نے جب انسانوں کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والی سو عظیم شخصیات کی تاریخ مرتب کی تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے رکھا اور اس حقیقت کا برملا اعتراف کرتے ہوئے تحریر کیا:
“ممکن ہے کہ انتہائی متاثر کن شخصیات کی فہرست میں (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا شمار سب سے پہلے کرنے پر چند احباب کو حیرت ہو اور کچھ معترض بھی ہوں۔ لیکن یہ واحد تاریخی ہستی ہیں جو دینی اور دنیاوی دونوں محاذوں پر برابر طور پر کامیاب رہیں۔ (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عاجزانہ طور پر اپنی مساعی کا آغاز کیا اور دنیا کے ایک عظیم مذہب کی بنیاد رکھی اور اسے پھیلایا۔ وہ ایک انتہائی مؤثر سیاسی رہنما بھی ثابت ہوئے۔ آج تیرہ سو برس گزرنے کے باوجود ان کے اثرات انسانوں پر ہنوز مسلم اور گہرے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں عرب فتوحات کے انسانی تاریخ پر اثرات ہنوز موجود ہیں۔ یہ دینی اور دنیاوی اثرات کا ایسا بے نظیر اشتراک ہے جو میرے خیال میں (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ متاثر کن شخصیت کا درجہ دینے کا جواز بنتا ہے۔” [100 Most Influential Persons in History، مائیکل ہارٹ، اردو ترجمہ: 100 سو عظیم آدمی، ص: 25-29، مترجم: محمد عاصم بٹ، تخليقات، لاہور]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور شخصیت سازی اور عصر حاضر میں اس کی ضرورت و اہمیت
ہم جس دور میں جی رہے ہیں یعنی 21 ویں صدی، یہ دور اپنی کچھ خوبیوں کے باوجود بے تحاشہ برق رفتار مادی ترقی، مادیت پرستی، قدرتی وسائل پر قبضے کے لیے بے تحاشہ لاکھوں لاکھ انسانوں کا قتل و خون، زنا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کروڑوں بچوں کے ماؤں کے پیٹ میں قتل، فطرت سے انحراف، الحاد، لادینیت اور اس کے اسباب کی فراوانی کے حوالے سے عرب کے دورِ جاہلیت سے اپنی کمیت و کیفیت کے لحاظ سے سینکڑوں گنا بدترین شکل اختیار کر گیا ہے۔ اور قدیم جاہلیت اپنی جدید شکل کے ساتھ پلٹ آئی ہے۔ ایسے وقت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت اور آپ کے بتائے ہوئے شخصیت سازی کے اصول سے ہی انسانی معاشرہ تباہی سے بچ سکتا ہے، اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔ اس حقیقت کو دنیا جتنا جلدی تسلیم کر کے دامانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہو جائے گی، ظلم و جبر اور طرح طرح کی جدید جاہلیت کی چکیوں میں پستا ہوا انسان ایمان و یقین کی منزل سے ہمکنار ہو جائے گا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور شخصیت سازی اور امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ
آج جب کہ انسانیت سسک رہی ہے، اسے ضرورت ہے ایک ایسے معلمِ کامل کی جو اس کی عقل و خرد کے ساتھ ساتھ اس کی روح کو بالیدگی عطا کرے، جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ ہی قلبی اطمینان اور ایمان و ایقان کی دولت سے سرفراز کرے، تمام تر مادی وسائل کے باوجود یاس اور ڈپریشن میں ڈوبتی ہوئی انسانیت کو خالقِ کائنات مسبب الاسباب کی معرفت کا جام پلائے۔ ایسے وقت میں امتِ مسلمہ پر فرض ہے کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو دل و جان میں بسا کر ایمان و یقین کا درسِ نبوی تمام انسانوں تک پہنچانے کا اپنا فرضِ منصبی ادا کرے اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا عملی نمونہ بن کر اپنی استطاعت بھر تمام انسانوں کو واقف کرانے کی کوشش کرے۔ پھر وہ دن دور نہیں کہ خدائے وحدہ لاشریک نہ صرف ہماری کھوئی ہوئی عظمت پھر واپس فرما دے گا بلکہ امتِ مسلمہ پوری انسانیت کے لیے نجات دہندہ ہو جائے گی اور خلقِ خدا ان کی قیادت و سیادت اور امامت قبول کرنے کے لیے دوڑ پڑے گی۔
سرشکِ چشمِ مُسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گُہر پیدا
کتابِ مِلّتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
سبَق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اُخُوّت کی جہاںگیری، محبّت کی فراوانی
بُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر مِلّت میں گُم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی
[کلیاتِ اقبال، نظم: طلوعِ اسلام]
