| عنوان: | حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم کائنات (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد فرید خان قادری مدنی |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ شاہ جہان پور |
تمہید
تمام تعریف ہے اس خدائے رحمن و رحیم معلمِ قرآنِ کریم کے لیے جس نے انسانوں کی رشد و ہدایت، فلاح و بہبود، تعلیم و تربیت، تزکیۂ ظاہر و باطن اور شخصیت سازی کے لیے الگ الگ زمانہ میں کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار انبیاءِ کرام و رسلِ عظام علی نبینا و علیہما السلام کو پیدا فرمایا۔
لاکھوں درود اور کروڑوں سلام ہوں سب سے پہلے نورِ خداوندی سے پیدا ہونے والے اور سب سے آخری نبی ہو کر مبعوث ہونے والے، کائنات کے سب سے عظیم انقلابی شخصیت ساز معلم و مربی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر، جن کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کے اثر سے ظلم، جہل اور فساد میں ڈوبے ہوئے انسان عدل و انصاف، علم، تہذیب و تمدن، اچھے اوصاف، اعلیٰ اخلاق و کردار کے حامل، داعی اور مبلغ بن کر قیامت تک آنے والی انسانی نسل کے لیے مشعلِ راہ بن گئے۔
جس نے ذَرَّوں کو اُٹھایا اور صحرا کر دیا
جس نے قطروں کو مِلایا اور دریا کر دیا
جس کی حکمت نے یتیموں کو کیا دُرِّ یتیم
اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولا کر دیا
آدْمِیّت کا غرض ساماں مہیا کر دیا
اِک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا
خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا
[رسالہ: اتفاق میں برکت ہے، ص: 17، مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی]
آنے والے صفحات میں ہم “نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخصیت ساز معلم” اس موضوع پر لکھنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ شخصیت ساز معلم کسے کہتے ہیں۔
کس نے ذَرَّوں کو اُٹھایا اور صحرا کر دیا
کس نے قطروں کو مِلایا اور دریا کر دیا
کس کی حکمت نے یتیموں کو کیا دُرِّ یتیم
اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولا کر دیا
آدْمِیّت کا غرض ساماں مہیا کر دیا
اِک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا
[رسالہ: اتفاق میں برکت ہے، ص: 17، مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی]
شخصیت ساز معلم کا مفہوم
شخصیت (انگریزی: Personality) کی ایک جامع تعریف کرنا بہت مشکل ہے۔ سادہ الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی انسان کی شخصیت اس کی ظاہری و باطنی اور اکتسابی و غیر اکتسابی خصوصیات (Personality Attributes) کا مجموعہ ہے، شخصیت فرد کے ذہنی، جسمانی، شخصی، برتاؤ، رویوں، اوصاف اور کردار کے مجموعہ کا نام ہے۔ بالفاظ دیگر اگر سہل انداز میں شخصیت کی تعریف کی جائے تو یہ انسان کے ظاہری و باطنی صفات، نظریات، اخلاقی اقدار، افعال، احساسات اور جذبات سے منسوب ہے۔ ظاہری حسن و جمال وقتی طور پر کسی کی توجہ تو مبذول کر سکتا ہے لیکن کردار کا دائمی حسن ہی انسان کو زندہ و جاوید بناتا ہے۔ تعمیرِ کردار میں فکر و نظریات کا کلیدی رول ہوتا ہے۔ اس لیے شخصیت کا عموماً دار و مدار کسی کے ظاہر سے نہیں بلکہ اس کے باطن سے ہوتا ہے، جو اس کی حقیقی فطرت اور اس کی طرزِ زندگی اور سوچ پر محمول ہوتا ہے۔
ساز کا معنی ہے: بنانے والا، سنوارنے والا، ڈھالنے والا۔
معلم کا معنی ہے: پڑھانے والا، تعلیم دینے والا، سکھانے والا، استاد، مدرس۔ معلم کا کام صرف پڑھانا نہیں بلکہ اچھا انسان بنانا بھی ہوتا ہے۔
شخصیت ساز معلم کی مذکورہ تعریف و توضیح اور مفہوم کے اعتبار سے ہر شخصیت ساز معلم کے اندر ایسی خوبیاں موجود ہونی چاہئیں جو اس کی تعلیم اور شخصیت سازی میں تاثیر پیدا کریں۔ اسی وجہ سے شخصیت سازی پر کام کرنے والے عصری اداروں نے تحقیق و جستجو کے بعد ایسی 80 سے زائد خوبیوں کی فہرست تیار کی ہے جن کا ہر شخصیت ساز معلم میں موجود ہونا اس کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کی کامیابی کی دلیل ہوتی ہے۔ ان میں سے چند اہم خوبیاں ہم بہت اختصار کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔
عصر حاضر میں شخصیت ساز معلم کے اہم اوصاف
1. مضمون پر گہری مہارت اور علم
2. تعلیمی حکمتِ عملی کا علم
3. واضح اور شفاف تعلیم
4. طلبہ کے ساتھ مثبت اور مضبوط تعلقات
5. مؤثر فیڈ بیک فراہم کرنے کی صلاحیت
6. اعلیٰ توقعات قائم کرنا
7. جذباتی ذہانت اور ہمدردی
8. تنظیمی اور انتظامی صلاحیتیں
9. تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں کی حوصلہ افزائی
10. عکاسانہ مشق اور پیشہ ورانہ ترقی
11. مواصلاتی مہارتیں
12. کردار اور اخلاقیات
13. ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال
شخصیت ساز معلم کی مذکورہ تعریف و توضیح اور اوصاف کی روشنی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کا جس بھی زاویے سے جائزہ لیا جائے، معلمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی سب سے ممتاز، بے مثل و بے مثال نظر آتی ہے۔ اپنے ہوں یا غیر، جس نے بھی آپ کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی پر سالہا سال تحقیق و جستجو کی ہے، اس حقیقت کا برملا اعتراف کیا کہ تاریخِ انسانی میں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا مؤثر کوئی معلم ملا اور نہ ہی ظلم، جہل اور غباوت کے بدنما پتھروں کو آئینۂ حیات میں تبدیل کرنے والا شخصیت ساز نظر آیا۔ مشہور محدث شیخ عبدالفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف “الرسول المعلم وأساليبه في التعليم” میں اس حقیقت کا اعتراف فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور شخصیت سازی بے مثل و بے مثال ہے۔
تعلیم بذاتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم
بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ معلم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر منتخب فرمایا تاکہ وہ انسانیت کو اللہ کا دین اور اس کی آخری، ابدی اور عالمگیر شریعت سکھائیں۔ اور کائنات میں اللہ کے نزدیک اس کے دین سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں، پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس کی اشاعت و تعلیم کے لیے سب سے برگزیدہ نبی اور سب سے افضل رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب فرمایا۔
چنانچہ یہ معلمِ برگزیدہ، جسے اللہ نے اپنی شریعت کی تبلیغ اور تعلیم کے لیے چن لیا، اپنی ہی ذاتِ مبارکہ کے ظاہر اور باطن، اپنے حال اور مقال، اپنی سیرت اور کردار—ہر چیز کے ذریعے معلم اور رہبر تھے۔ آپ کی شخصیت کی کامل ہمہ گیری بذاتِ خود متعلمین کے لیے یہ پیغام اور اسلوب رکھتی تھی کہ وہ آپ کے اسوۂ شریف کو اپنا آئینہ اور نمونہ بنائیں۔
معلم کی سب سے اہم صفات یہ ہیں کہ وہ اپنی ذات میں عقل و فضیلت، علم و حکمت، حسن و جمال، وقار و خوش اسلوبی، سنجیدگی و لطافت, حرکات و سکنات کی متانت، خوشگوار گفتگو، خوشبو اور طہارت، لباس کی پاکیزگی، رخسار کی جاذبیت، دل آویز اندازِ بیان، حسنِ تدبیر اور اعلیٰ انتظامی صلاحیت—ان سب کمالات میں کامل ہو۔
یہ تمام اوصاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ معلم میں بدرجۂ اتم اور اعلیٰ ترین درجے پر جمع تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مقدس شخصیت کے ذریعے ہی ہر طالبِ علم اور ہر جویائے ہدایت کے لیے کامل معلم تھے۔ آپ کی ذاتِ اقدس مختلف اسالیبِ تعلیم کی جامعیت کا نقطۂ کمال تھی، کیونکہ تمام ذرائع و اسالیب کا مقصود یہی ہے کہ مسلمان اس حقیقت کو پا لے جسے قرآن نے یوں بیان فرمایا :
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ [سورۃ آل عمران: 110]
یہی وہ جامع کمال ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی انتہا کو پہنچا، اور یہی تعلیم و تہذیب کی اصل روح اور خلاصہ ہے۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بے مثال اور قطعی توثیق سے سرفراز فرمایا :
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ [سورۃ القلم: 4]
لهٰذا تعجب نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس محاسن اور سیرتِ مبارکہ کو تعلیم کے اسالیب میں شمار کیا جائے۔ تاریخ میں کون سا معلم ہے جس نے انسانیت پر آپ جیسا اثر ڈالا ہو؟ مختلف رنگ و نسل، زبان و تہذیب کے انسانوں نے آپ کی شریعت کو قبول کیا، اور زندگی کے ہر شعبے میں آپ کو اپنا کامل اسوہ اور بہترین نمونہ بنایا۔ یہ شرف صرف اور صرف اس عظیم رسول اور برگزیدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ [الرسول المعلم صلی اللہ علیہ وسلم وأساليبه في التعليم، ص: 216، مطبع مکتبة المطبوعات الإسلامية بحلب، الشام]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم، تعلیم اور شخصیت سازی کی وسعت
شخصیت ساز معلم کے مذکورہ تمام اوصاف پر تبصرہ اور اس کی تفصیل کا یہ محل نہیں، تاہم اس میں سب سے پہلے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ شخصیت ساز معلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مضمون پر حاوی ہو، اسے گہری مہارت اور علمی وسعت حاصل ہو۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جس معلم کا علم جتنا وسیع اور تجربہ جتنا زیادہ ہوگا، اسی اعتبار سے اس کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی میں نکھار پیدا ہوگا۔ اس زاویے سے اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وسعتِ علم و معرفت اور اس کے نتیجے میں آپ کی تعلیمی خوبیوں اور شخصیت سازی کا جائزہ لیا جائے تو بے مثل و بے مثال نظر آتی ہے اور ہر صاحبِ نظر پکار اٹھتا ہے :
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدائے وحدہ لاشریک نے جو کچھ ماضی میں ہوا اور جو بھی فی الحال ہے اور جو مستقبل میں ہونے والا ہے یعنی (علم ما کان وما یکون) بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ علم کا فضل و شرف عطا فرما کر تمام انبیاءِ کرام کا سردار بنایا۔ آپ کو تمام علومِ کائنات بشمول مروج سائنسی علوم اور عصرِ حاضر میں ہونے والی ایجادات وغیرہ کا علم عطا فرمایا۔ اس سلسلے میں متعدد علماءِ کرام نے بے شمار کتابیں تحریر فرمائی ہیں، بالخصوص امامِ عشق و محبت مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمِ غیب وغیرہ کے اثبات پر ناقابلِ تردید بے شمار دلائل کا دریا بہا کر روزِ روشن کی طرح واضح فرما دیا ہے کہ تمام انبیاءِ کرام اور رسلِ عظام اور تمام خلائق کی بنسبت مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا علمِ پاک اللہ رب العزت کی عطا سے بے انتہا وسیع ہے۔ کتابوں سے اقتباسات یا ان کا ترجمہ نقل کرنا طوالت کا باعث ہوگا۔ [الدولة المكية بالمادة الغيبية، دار أهل السنة لتحقيق الكتب، ص: 145، النظر الرابع مطلب: ليس علم جميع ما كان وما يكون إلا بعضاً من علوم نبينا صلى الله عليه وسلم؛ جلاء القلوب من الأصداء الغيبية ببيان إحاطته بالعلوم الكونية، سيدي محمد بن جعفر الكتاني، تحقيق: الشيخ أحمد فريد، دار الكتب العلمية بيروت؛ مطابقة الاختراعات العصرية لما أخبر به سيد البرية، علامہ أحمد بن صديق غماري، دار الطباعة المحمدية، قاهرة، مصر]
اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام رضی اللہ عنه کو کائنات کی ابتدا سے لے کر انتہا تک ہر قسم کی مفید، بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی تمام چیزوں کے بارے میں ایسی تعلیم فرمایا کرتے تھے جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ خود صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے اعترافات اور احادیثِ طیبہ میں درج سینکڑوں واقعات اس بات پر شاہدِ عدل ہیں کہ جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائے وحدہ لاشریک کی وحدانیت، ربوبیت اور ان کی معرفت کی راہیں انسانیت کے لیے ہموار فرمائیں، وہیں پر کائنات کی تخلیق کے سائنسی حقائق، انسانوں کے مرحلہ وار پیدائش کے مراحل کے بارے میں وغیرہ کے بارے میں سینکڑوں ہزاروں ایسے حقائق بیان فرمائے جن کا انکشاف دورِ جدید میں ہو رہا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا۔ جہاں پر آپ نے لوگوں کو تلاوتِ آیات کا ہنر عطا فرمایا، وہیں تزکیۂ ظاہر و باطن کا ایسا نظامِ ابدی عطا فرمایا جس سے انسان قیامت تک فیض یاب ہوتے رہیں گے۔
ایک طرف تعلیمِ کتاب اور تفسیرِ قرآنِ کریم کے زمرے میں آپ نے ہزاروں ہزاروں علوم کے دریا بہائے تو دوسری جانب قیامت تک آنے والی انسانیت کو پیش آنے والے زندگی کے تمام تر مسائل حل کرنے کے اصول و حکمتیں عطا فرمائیں جن کی روشنی پا کر انسانیت آج بھی شاہراہِ ترقی پر گامزن ہے۔ غرض کہ آپ نے قرآنِ کریم کے فرمان کے مطابق ہر طرح کی خشک و تر چیزوں کے بارے میں اصولی یا فروعی، کلی یا جزئی طور پر بیان فرما دیا اور اس وعدۂ خداوندِ قدوس کی سراپا عملی تصویر پیش فرمائی :
وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ [سورۃ النحل: 89]
ترجمۂ کنزالایمان : اور جس دن ہم ہر گروہ میں ایک گواہ انہیں میں سے اٹھائیں گے کہ ان پر گواہی دے اور اے محبوب تمہیں ان سب پر شاہد بناکر لائیں گے اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو۔ [تفسیر صراط الجنان متعلقہ آیات، مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی؛ انباء الحي بأن كلامه المصون تبيان لكل شيء، دار أهل السنة والجماعة لتحقيق الكتب والنشر]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت سازی زندگی کے تمام تر شعبوں کو محیط تھی
آپ صحابۂ کرام علیہم الرضوان کی ایسی شخصیت سازی فرمایا کرتے تھے کہ کل تک ناکارہ سمجھے جانے والے افراد اپنے اپنے میدانِ عمل کے شاہسوار اور نمونۂ عمل ہو جاتے تھے۔ صحابۂ کرام کی سیرت پر لکھی گئی کتابیں اس بات پر شاہدِ عدل ہیں کہ دامنِ اسلام سے وابستہ ہونے سے پہلے ان کی کیا حیثیت تھی اور دربارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظرِ کرم اور شخصیت سازی کے بعد ان میں کیسی انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں جس کی مثال انسانی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔
حد درجہ مفلسی اور فقر و یاس کی زندگی گزارنے والوں کی جب آپ نے شخصیت سازی فرما دی اور تجارت و حرفت کے اصول و اخلاقیات کا جام پلا دیا تو ان میں سے کوئی اپنے وقت کا سب سے بڑا تاجر، کوئی میدانِ کارزار کا سب سے عظیم سپہ سالار، کوئی جاہلیت میں اپنے چند اونٹ نہ سنبھالنے اور اس پر سزا پانے کی سختیاں برداشت کرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور نائب بن کر چمک گئے جن کی قیادت و سیادت اور حسنِ انتظام و انصرام کو زمانے نے تسلیم کیا، اپنے وقت کے سلاطین سرنگوں ہو گئے اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ایک آئیڈیل رہنما کے طور پر مشرق و مغرب میں پڑھا اور پڑھایا جانے لگا۔
غرض کہ آپ کی نظرِ کیمیا اثر اور شخصیت سازی کی بدولت ذرہ آفتاب بن کر چمک گیا۔ آپ نے ان کی تعلیم و تربیت اور کردار کی پختگی اور شخصیت پر اعتماد کرتے ہوئے خود ارشاد فرمایا :
أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ [رقم الحديث: 895، جامع بيان العلم وفضله، ابن عبد البر، المكتبة الشاملة]
ترجمہ : میرے صحابہ ہدایت کے روشن ستارے ہیں، تم ان میں سے جس کے بھی نقشِ قدم پر چلو گے ہدایت یافتہ رہو گے۔
شخصیت سازی کی اس سے اعلیٰ مثال ممکن نہیں ہے کہ خود معلمِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کردار کی پختگی، ان کے ایمان، عدالت اور ہادی و مہدی ہونے پر مہرِ تصدیق ثبت فرما رہے ہیں۔
ایسی جلیل القد تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کے پیچھے درحقیقت ربِ کائنات کی وہ عطا شامل تھی جو خدائے وحدہ لاشریک نے خاص اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی تھی۔ آپ کی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کے بے شمار امتیازی پہلو وہ ہیں جہاں تک کسی انسان کی رسائی ممکن نہیں ہے۔ اس بارے میں بھی سیرت نگاروں نے بہت تفصیل کے ساتھ لکھا ہے، ذیل میں ہم اسی کا کچھ خلاصہ پیش کرتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت سازی کی خاصیت اور امتیازات
1. وحی کی اصالت اور عصمت — آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سراسر وحیِ الٰہی کا پرتو ہے، اس میں انسانی خطا یا ذاتی رائے کا شائبہ تک نہیں۔ یہ دراصل ربانی اعلان ہے، نہ کہ محض بشری تدریس۔
2. جامع القدوہ ہونا — آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کی تعلیم میں صرف زبان ہی نہیں بلکہ عمل اور خاموش تائید بھی شامل تھی۔ یوں قول، فعل اور تقریر سب تربیت اور شخصیت سازی کا حصہ بن گئے۔
3. تزکیہ و اخلاقی تربیت کا امتزاج — آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلیماتی انداز محض معلومات کی فراہمی نہیں تھا بلکہ وہ ساتھ ہی ساتھ دلوں کو پاکیزہ اور کردار کو بلند بھی کرتا تھا، اس حد تک کہ آپ سے تعلیم و شخصیت سازی کی روشنی حاصل کرنے والے صحابۂ کرام خود قیامت تک آنے والی نسلِ انسانی کے لیے شخصیت ساز معلم بن جاتے ہیں۔
4. موقع و منظر کے مطابق تعلیم — آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی حالات، واقعات اور مناظر کو تربیت کا ذریعہ بنایا۔ ہر موقع ایک سبق اور ہر منظر ایک درس بن گیا۔
5. تدریج کا اصول — آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم و تربیت میں مرحلہ وار حکمتِ عملی اختیار کی، تاکہ انسان اپنی استطاعت اور حالات کے مطابق آگے بڑھ سکے۔
6. تعلیم کے بقا کی ضمانت — آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نظامِ امانت و روایت قائم کیا جسے “اسناد” کہا جاتا ہے۔ یہ منفرد طریقہ تعلیم کو ہر طرح کی تحریف سے محفوظ رکھنے کا ضامن بنا، اور اس حقیقت کا اعتراف اپنوں اور غیروں حتیٰ کہ معاند مستشرقین نے بھی کیا ہے کہ علم الاسناد ایسا عظیم علم ہے جو امتِ مسلمہ کے علاوہ کسی دوسری قوم کو حاصل نہیں ہے۔
7. شمولیت اور جامعیت — آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نصابِ تعلیم صرف عقیدہ یا عبادت تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں اخلاق، معاشرت اور سیاست سبھی پہلو شامل تھے۔
8. معاشرتی و قیادی اثرانگیزی — آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم نے افراد کو نہ صرف صالح بنایا بلکہ ایک منتشر قوم کو قلیل مدت میں ایک منظم اور قائدانہ امت میں تبدیل کر دیا۔
9. رحمت و رفق پر مبنی اسلوب — آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت سختی پر نہیں بلکہ نرمی، سہولت اور انسانوں کے حال کو ملحوظ رکھنے پر قائم تھی۔
10. جوامع الکلم اور فصاحت — آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ گہرے اور وسیع معانی کو نہایت مختصر اور جامع الفاظ میں بیان کرتے، جن کے اثرات دیرپا ثابت ہوتے۔
شخصیت سازی کے یہ وہ امتیازات ہیں جسے دوسرے انسان صرف اور صرف نقل کر سکتے ہیں، اس کا کامل نمونہ تمام تر انسانیت پیش کرنے سے قاصر ہے۔ [المنهاج التربوي النبوي خصائصه ووسائله، الدكتور عدنان الخليفي، مجلة المعرفة، العدد: 21، نومبر: 2024]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب اور ان کے واسطے سے قیامت تک آنے والی تمام تر نسلِ انسانی کو ہزارہا چیزوں کی تعلیم دی، تاہم اگر انہیں اصولی طور پر منضبط کیا جائے تو قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں ہم انہیں چھ عناصر میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ خداوندِ قدوس قرآنِ مقدس میں ارشاد فرماتا ہے :
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ [سورۃ الجمعة: 2]
ترجمۂ کنزالعرفان : وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتا ہے۔ [ترجمہ کنز العرفان مع صراط الجنان ایپ، مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی]
