Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

انسان گناہ چار وجوہات کی بنا پر کرتا ہے|محمد عارف رضا قادری امجدی

انسان گناہ چار وجوہات کی بنا پر کرتا ہے
عنوان: انسان گناہ چار وجوہات کی بنا پر کرتا ہے
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

پہلی وجہ: بندہ سمجھتا ہے کہ اسے کوئی دیکھنے والا نہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ﴾ بے شک رب یقیناً دیکھ رہا ہے۔ [سورۃ الفجر: 14]

دوسری وجہ: بندہ سمجھتا ہے کہ وہ اکیلا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ﴾ تم جہاں کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ [سورۃ الحدید: 4]

تیسری وجہ: بندہ یہ سمجھتا ہے کہ میں نے کسی کو پتہ ہی نہیں چلنے دیا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ﴾ اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ [سورۃ غافر: 19]

آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نامحرم عورتوں کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے۔

چوتھی وجہ: انسان کے ذہن میں ہوتا ہے کہ کوئی میرا کیا کر لے گا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ﴾ بے شک اس کی پکڑ درد ناک اور سخت ہے۔ [سورۃ ہود: 102]

بخاری شریف میں حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: مؤمن اپنے گناہوں کو اس انداز سے دیکھ رہا ہوتا ہے گویا کہ وہ کسی پہاڑ تلے بیٹھا ہے اور اسے ڈر ہے کہ کہیں یہ پہاڑ اس کے اوپر نہ آ گرے جبکہ فاسق و فاجر کے نزدیک گناہوں کا معاملہ ایسا ہے گویا کوئی مکھی اس کی ناک پر بیٹھی اور اس نے ہاتھ کے اشارے سے اڑا دی۔ [بخاری، ج: 4، ص: 190، رقم الحدیث: 3608]

حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مؤمن کی پہچان یہ ہے کہ وہ گناہ صغیرہ کو بھی ہلکا نہیں جانتا، وہ سمجھتا ہے کہ چھوٹی چنگاری بھی گھر جلا سکتی ہے، اس لیے وہ ان کے کر لینے پر بھی جرأت نہیں کرتا اور اگر ہو جائیں تو فوراً توبہ کر لیتا ہے، گناہوں سے خوف کمالِ ایمان کی علامت ہے۔ مزید فرماتے ہیں: بدکار شخص چھوٹے کیا، بڑے گناہوں کو بھی ہلکا جانتا ہے، کہتا ہے کہ میں نے گناہ کر لیا تو کیا ہوا! رب غفور رحیم ہے، بخش دے گا۔ یہ خیال امید نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے بے خوفی ہے جو کفر تک پہنچا دیتی ہے، انسان پہلے چھوٹے گناہ کو ہلکا جانتا ہے، پھر بڑے گناہوں کو، پھر کفر و شرک کو بھی معمولی چیز سمجھنے لگتا ہے۔ [مراٰۃ المناجیح، ج: 3، ص: 375]

گناہ سے بڑا گناہ

حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں: اے گناہ کرنے والے! تو برے خاتمے سے بے خوف نہ ہو اور جب تو کوئی گناہ کر لے تو اس کے بعد اس سے بڑا گناہ نہ کر! تیرا دائیں، بائیں جانب کے فرشتوں سے حیا میں کمی کرنا اس گناہ سے بڑا گناہ ہے جو تو نے کیا! اور تیرا گناہ کر لینے پر خوش ہونا اس سے بھی بڑا گناہ ہے حالانکہ تو نہیں جانتا کہ اللہ عزوجل تیرے ساتھ کیا سلوک فرمانے والا ہے! [تاریخ ابن عساکر، ج: 10، ص: 60]

دل کالا ہو جاتا ہے

گناہوں کے عادیوں کو خبردار کرتے ہوئے حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں: بیشک گناہ کرنے سے دل کالا ہو جاتا ہے، اور دل کی سیاہی کی علامت و پہچان یہ ہے کہ گناہوں سے گھبراہٹ نہیں ہوتی، اطاعت کی سعادت نہیں ملتی اور نصیحت اثر نہیں کرتی۔ تم کسی بھی گناہ کو معمولی مت سمجھو اور کبیرہ گناہوں پر اصرار (یعنی مسلسل) کرنے کے باوجود اپنے آپ کو توبہ کرنے والا گمان نہ کرو۔ [منہاج العابدین، ص: 24]

گناہوں میں بے باک ہونے کی وجوہات

  1. علمِ دین کی کمی بھی بے باکی کی ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ جو مسلمان علم رکھتا ہوگا کہ یہ کام گناہ ہے اور اس کی سزا یہ ہے، وہ اس سے بچنے کی کوشش بھی کرے گا۔

  2. بری صحبت بھی اپنا رنگ دکھاتی ہے، گالیاں بکنے والوں میں بیٹھنے والا گالیاں نہیں بکے گا تو اور کیا کرے گا۔

  3. حیا باقی نہ رہنا بھی ایک سبب ہے کیونکہ ہمارے سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پہلے فرما دیا کہ جب تجھ میں حیا نہیں رہے تو جو چاہے کر۔ [بخاری، ج: 2، ص: 470، رقم الحدیث: 3484]

  4. گناہ کرنے میں آسانی بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔

  5. فوری گرفت نہ ہونا بھی گناہوں پر دلیر ہونے کی ایک وجہ ہے۔

  6. انسان کا نفس اسے سزاؤں کے بارے میں سوچنے ہی نہیں دیتا، یوں وہ گناہوں پر جرأت مند ہو جاتا ہے۔

  7. گئے وقتوں میں معاشرتی نظام بھی انسان کو برائیوں سے باز رکھتا تھا، گھر میں ماں باپ، چچا، تایا بھی تربیت کرتے تھے اور باہر گلی محلے میں بڑی عمر کے سمجھدار لوگ بھی نوجوانوں کو برائیوں میں مبتلا دیکھ کر سمجھا دیا کرتے تھے، اب وہ معاشرتی نظام بھی تقریباً ٹوٹ چکا، نوجوان اب ماں باپ کی نہیں سنتے باہر والوں کی کہاں سنیں گے!

  8. میڈیا و سوشل میڈیا کا کردار سب سے خطرناک ہے، اس پر دکھائی جانے والی فلموں ڈراموں کی کہانیوں، ٹاک شوز اور طرح طرح کے اشتہاروں کے انداز نے اسلامی معاشرے کے دامن پر جو بجلیاں گرائی ہیں، اٹھتا ہوا دھواں اس کا گواہ ہے۔

کیا ہماری غیرتِ ایمانی یہ گوارا کرے گی؟

آج گناہوں میں بڑا مزہ آتا ہے، بڑی لذت محسوس ہوتی ہے مگر سب نقلی اور جعلی ہے، زندگی کا حقیقی لطف تو نیکیوں میں ہے جبکہ گناہوں کا انجام جہنم ہے اور جہنم کے عذابات ایسے ہولناک ہیں جنہیں برداشت کرنے کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔

  1. جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے 70 گنا تیز ہے۔

  2. اگر جہنم کو سوئی کے ناکے کے برابر کھول دیا جائے تو تمام اہلِ زمین اس کی گرمی سے مر جائیں۔

  3. اگر جہنمیوں کو باندھنے والی ایک زنجیر کی ایک کڑی دنیا کے کسی پہاڑ پر رکھ دی جائے تو وہ پگھل جائے۔

  4. جہنم میں اونٹ کے برابر سانپ ہیں، ان میں سے اگر کوئی سانپ کسی کو کاٹ لے تو چالیس سال تک اس کا درد محسوس ہوتا رہے گا۔

  5. اس میں خچر کے برابر بچھو ہیں جو ایک مرتبہ کاٹ لیں تو چالیس برس تک تکلیف محسوس ہوتی رہے گی۔

  6. جہنم کا ہلکا ترین عذاب یہ ہے کہ انسان کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی، جس سے اس کا دماغ ہانڈی کی طرح کھولنے لگے گا۔

گر تو ناراض ہوا تو میری ہلاکت ہوگی
ہائے میں نارِ جہنم میں جلوں گا یا رب

ابھی بھی وقت ہے

گناہوں میں سرکشی اور بے باکی کی وجہ سے سابقہ قوموں مثلاً قومِ لوط، قومِ عاد، قومِ نوح اور قومِ صالح پر دنیا ہی میں اللہ کا قہر نازل ہوا اور وہ رہتی دنیا تک داستانِ عبرت بن گئیں۔ ہمیں اللہ پاک کے عذاب سے ڈرنا چاہیے، دنیا میں چاہے ہمیں کوئی کچھ نہ کہے، نافرمانیوں کا رزلٹ مرنے کے بعد پتا چلے گا لیکن اس وقت بڑی دیر ہو چکی ہوگی، ابھی ہم زندہ ہیں نہ جانے کس دن کتنے بجے ہمیں موت آ جائے! زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانیے اور گناہوں سے رک جائیے، اپنے رب پاک کی بارگاہ میں سچی توبہ کر لیجیے اور نیکیاں کمانے میں مصروف ہو کر اپنی دنیا و آخرت دونوں سنوار لیجیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔

پہلے تو یہ ذہن میں رکھیں کہ ہر بھلائی، برائی اللہ عزوجل نے اپنے علمِ ازلی کے موافق مقدر فرما دی ہے، جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا، اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے، بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ تقدیر کی وجہ سے ہم نے غلط کیا تو اب گناہ نہیں ہوگا، یہ سوچ گمراہ کن ہے۔

سیدی اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: “زید کہتا ہے جو ہوا اور ہوگا سب خدا کے حکم سے ہی ہوا اور ہوگا پھر بندہ سے کیوں گرفت ہے اور اس کو کیوں سزا کا مرتکب ٹھہرایا گیا اس نے کون سا کام کیا جو مستحق عذاب کا ہوا جو کچھ اس نے تقدیر میں لکھ دیا ہے وہی ہوتا ہے کیونکہ قرآن پاک سے ثابت ہو رہا ہے کہ بلا حکم اس کے ایک ذرہ نہیں ہلتا۔ پھر بندے نے کون سا اپنے اختیار سے وہ کام کیا جو دوزخی ہوا یا کافر یا فاسق، جو برے کام تقدیر میں لکھے ہوں گے تو برے کام کرے گا اور بھلے لکھے ہوں گے تو بھلے، بہرحال تقدیر کا تابع ہے پھر کیوں اس کو مجرم بنایا جاتا ہے؟ چوری کرنا، زنا کرنا، قتل کرنا، وغیرہ وغیرہ جو بندہ کی تقدیر میں لکھ دیے ہیں وہی کرنا ہے ایسے ہی نیک کام کرنا ہے۔”

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا: زید گمراہ بے دین ہے، اسے کوئی جوتا مارے، تو کیوں ناراض ہوتا ہے، یہ بھی تو تقدیر میں تھا۔ اس کا کوئی مال دبا لے، تو کیوں بگڑتا ہے، یہ بھی تقدیر میں تھا۔ یہ شیطانی فعلوں کا دھوکا ہے کہ جیسا لکھ دیا ایسا ہمیں کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے اس نے اپنے علم سے جان کر وہی لکھا ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 29، ص: 284-285]

اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے بچائے نیز شیطان اور نفس کو ہم پر حاوی ہونے سے بچائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!