Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: چہارم)|فیضان المصطفی قادری

امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: چہارم)
عنوان: امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: چہارم)
تحریر: فیضان المصطفی قادری
پیش کش: عائشہ امجدی کشمیر

مولانا محمد عبد الحمید چشتی فریدی بنارسی نے دعائے افطار کے وقت کی بابت ایک تفصیلی استفتا کیا، جس میں مختلف علم و محققین کی آرا بھی درج کیں کہ بعض نے افطار سے پہلے اور بعض نے افطار کے وقت دعا پڑھنے کا قول کیا، ساتھ ہی ان کی دلیلیں بھی اختصاراً پیش کر دیں، پھر اخیر میں اعلیٰ حضرت سے اس سلسلے میں حرفِ آخر لکھنے کی استدعا فرمائی۔ تو امام احمد رضا کا قلمِ حق رقم اٹھتا ہے اور تحقیق کی جوے شیر بہا دی جاتی ہے۔ ایک پورا رسالہ اسی عنوان سے معرضِ وجود میں آتا ہے، جس کا تاریخی نام الْعَرُوسُ الْمِعْطَارُ فِي زَمَنِ دَعْوَةِ الْإِفْطَارِ (1312ھ) رکھا جاتا ہے۔ جس میں آپ نے درجنوں ٹھوس دلائل و شواہد سے اس بات کا ثبوت بہم پہنچایا کہ دعا کا درست وقت بعدِ افطار ہے، نہ کہ وقتِ افطار یا قبلِ افطار۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

مقتضاے دلیل یہ ہے کہ دعاے روزہ افطار کر کے پڑھے۔ [فتاویٰ رضویہ: 8/ 459]

پھر اس پر دلائل دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

حدیثِ مذکور ابی داؤد کہ ابن السنی نے کتاب 'عمل الیوم واللیلۃ' اور بیہقی نے 'شعب الایمان' میں یوں روایت کی:

عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَانَنِي فَصُمْتُ وَرَزَقَنِي فَأَفْطَرْتُ. [شعب الإيمان: 3/ 406، رقم الحديث: 3902]

حضرت معاذ بن زہرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب افطار فرماتے تو یہ پڑھتے: سب حمد اللہ کی جس نے میری مدد فرمائی کہ میں نے روزہ رکھا اور مجھے رزق عطا فرمایا کہ میں نے افطار کیا۔

اور ابن السنی نے کتاب مذکور اور طبرانی نے 'معجم کبیر' اور دارقطنی نے سنن میں موصولاً یوں تخریج کی:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ صُمْنَا وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْنَا فَتَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ. [كتاب عمل اليوم والليلة: 128]

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب افطار فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! ہم نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا، ہماری طرف سے قبول فرما تو سننے اور جاننے والا ہے۔

نیز حدیثِ ابی داؤد، نسائی، دارقطنی، حاکم و غیرہم:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى. [سنن أبي داود، رقم الحديث: 2357]

حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کرتے تو فرماتے: پیاس چلی گئی، رگیں تر ہو گئیں، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا۔

ان سب کا مفادِ صریح یہی ہے 'أفطر' شرط اور 'قال کذا' اس کی جزا، مجرد قول کے مقولے سے معرا کر لیا جائے تو صلاحیتِ وقوع ہی نہیں رکھتا، ترتیب کہ لازمِ جزائیت ہے کہاں سے آئیگا؟ اللہم کو کلامِ مستأنف قرار دینا ایسی بات ہے کہ 'شرح مائۃ عامل' خواں بھی قبول نہ کرے گا، اور جزا شرط سے مقدم نہیں ہوتی بَلْ يَعْقُبُهُ وَيَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى كُلِّ مَنْ لَهُ أَدْنَى مَسَّةٍ (بلکہ جزا شرط سے مؤخر اور اس پر مترتب ہوتی ہے جیسا کہ ہر اس شخص پر واضح ہے جو اس فن کے ساتھ تھوڑا سا بھی تعلق رکھتا ہے) اور مقارنتِ حقیقیہ یہاں نامعقول نہیں کہ عینِ وقتِ افطار بالا کل والشرب یعنی جس وقت کوئی مطعوم حلق سے اتارا جائے عادۃً خاص اس حالت میں قراءت نامتیسر، لاجرم تعقیب مراد، وہو المقصود۔ [فتاویٰ رضویہ: 8/ 460]

پھر کچھ آگے چل کر اپنے موقف کی تائید و توثیق ایک مثال کے ذریعہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

(فرض کرو کہ) اگر عمرو بعد غروبِ شمس یہ دعائیں پڑھ کر افطار کرے اور زید بعد غروب فوراً افطار کر کے پڑھے تو دیکھنا چاہیے کہ اس میں کس کا فعل اللہ عز وجل کو زیادہ محبوب ہے۔ حدیث شاہدِ عدل ہے کہ فعلِ زید زیادہ پسندِ حضرتِ جل و علا ہے کہ رب العزت تبارک و تعالیٰ (حدیثِ قدسی میں) فرماتا ہے:

إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا. [جامع الترمذي، أبواب الصوم، رقم الحديث: 700]

مجھے اپنے بندوں میں وہ زیادہ پیارا ہے جو ان میں سب سے زیادہ جلد افطار کرتا ہے۔

شک نہیں کہ صورتِ مذکورہ میں زید کا افطار جلد تر ہوا تو یہی طریقہ زیادہ پسند و مرضی ربِ اکبر ہوا جل جلالہ، وعم نوالہ۔ یہ دوسرا مؤید ہے اس کا کہ وقتِ الافطار اور بعد الافطار کا مال واحد ہے کہ جب افطار غروبِ شمس کے بعد جلد ہو تو احب و افضل، اور مقارنتِ افطار و دعا نامتیسر اور پیش از غروب، وقتِ افطار معدوم، تو وہ صورت بعدِیتِ متصلہ ہی مقصود و مفہوم۔ [فتاویٰ رضویہ: 8/ 461]

اس کے بعد اس موقف کی تائید میں علماے اعلام کے استشہادات پیش فرمانے کے بعد لکھتے ہیں:

ان تقریرات سے بحمد اللہ تعالیٰ تمام سوالوں کا جواب ہو گیا اور روشن طور پر منجلی ہوا کہ مقتضاے سنت یہی ہے کہ بعد غروب جو خرمہ یا پانی وغیرہ از قبلِ نماز افطارِ معجل کرتے ہیں اس میں اور علم بـ غروبِ شمس میں اصلا فصل نہ چاہیے، یہ دعائیں اس کے بعد ہوں۔ [فتاویٰ رضویہ: 8/ 464]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!