Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: پنجم)|فیضان المصطفی قادری

امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: پنجم)
عنوان: امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: پنجم)
تحریر: فیضان المصطفی قادری
پیش کش: عائشہ امجدی کشمیر

تدفین کے بعد اذان و دعا کا مسئلہ

ایک مسئلہ دریافت کیا گیا کہ دفن کے وقت جو قبر پر اذان کہی جاتی ہے، وہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ تو اس کے جواب میں آپ نے إِيذَانُ الْأَجْرِ فِي أَذَانِ الْقَبْرِ [1307ھ] نامی ایک تحقیقی کتاب رقم فرمائی، جس کی تمہید میں قبر پر اذان کے جواز کو ثابت کرنے کے بعد ذکر و دعا کی طرف آئے ہیں اور اس تعلق سے بہت سے منفرد گوشوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ چنانچہ تمہید میں نفسِ سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

بعض علمائے دین نے میت کو قبر میں اتارتے وقت اذان کہنے کو سنت فرمایا۔ امام ابنِ حجر مکی و علامہ خیر الملتہ والدین رملی استادِ صاحبِ درِ مختار علیہم رحمۃ الغفار نے ان کا یہ قول نقل کیا: اما المکی ففی فتاواہ، وفی شرح العباب وعارض، وأما الرملٰی ففی حاشیہ البحر الرائق ومرض۔ (یعنی مکی نے اپنے فتاویٰ اور شرح العباب میں نقل کیا اور اس نے معارضہ کیا، رملی نے حاشیہ البحر الرائق میں نقل کیا اور اسے کمزور کہا)۔ حق یہ ہے کہ اذانِ مذکور فی السوال کا جواز یقینی ہے، ہرگز شرعِ مطہر سے اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں اور جس امر سے شرع منع نہ فرمائے اصلا ممنوع نہیں ہو سکتا، قائلانِ جواز کے لیے اس قدر کافی، جو مدعی ممانعت ہو دلائلِ شرعیہ سے اپنا دعویٰ ثابت کرے۔ [فتاویٰ رضویہ: 4/ 490]

پھر اس کے بعد اس موقف کی تائید میں علماے محققین کے اقوال کو پیش فرمایا ہے اور استخراجِ نتیجہ کیا ہے۔ قبر کے وقت شیطان کی دخل اندازی اور اس کی دسیسہ کاری معروف ہے۔ نیز وہ ایک وحشت و غربت کا سماں ہوتا ہے، پھر ملکوتی نمائندوں کے سوالوں کی جواب دہی، یہ وہ چیزیں ہیں جو مردے کے لیے خاصی باعثِ تشویش و حیرانی ہوتی ہیں۔ تو اس موقع پر اذان دینے کی جو وجوہات ہیں اُن کی اعلیٰ حضرت نے بہت سی علتیں بیان فرمائی ہیں، دو ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں:

جو نزع میں ہے وہ مجازاً مردہ ہے اور اسے کلمہ اسلام سکھانے کی حاجت کہ بحولِ اللہ تعالیٰ خاتمہ اسی پاک کلمے پر ہو اور شیطانِ لعین کے بہکانے میں نہ آئے اور جو دفن ہو چکا حقیقتاً مردہ ہے اور اسے بھی کلمہ پاک سکھانے کی حاجت کہ بعونِ اللہ تعالیٰ جواب یاد ہو جائے اور شیطانِ رجیم کے بہکانے میں نہ آئے اور بیشک اذان میں یہی کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تین جگہ موجود بلکہ اس کے تمام کلمات جوابِ نکیرین بتاتے ہیں۔ ان کے سوال تین ہیں: 1) من ربک؟ تیرا رب کون ہے، 2) ما دینک؟ تیرا دین کیا ہے، 3) ما کنت تقول فی ھذا الرجل؟ تو اس مرد یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باب میں کیا اعتقاد رکھتا تھا۔ اب اذان کی ابتدا میں اللَّهُ أَكْبَرُ... أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اور آخر میں اللَّهُ أَكْبَرُ... لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ سوال 'من ربک؟' کا جواب سکھائیں گے ان کے سننے سے یاد آئے گا کہ میرا رب اللہ ہے اور أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ سوال 'ما کنت تقول فی ھذا الرجل؟' کا جواب تعلیم کریں گے کہ میں انہیں اللہ کا رسول جانتا تھا اور حَیَّ عَلَی الصَّلَاةِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ جواب 'ما دینک؟' کی طرف اشارہ کریں گے کہ میرا دین وہ تھا جس میں نماز رکن و ستون ہے کہ الصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّينِ تو بعدِ دفن اذان دینا عین ارشاد کی تعمیل ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثِ صحیح متواتر مذکور میں فرمایا۔ [فتاویٰ رضویہ: 4/ 492-493]

پھر اس کے آگے ایک مقام پر فرماتے ہیں:

حدیثوں سے جس طرح یہ ثابت ہوا کہ اس وقت عیاذ باللہ شیطانِ رجیم کا دخل ہوتا ہے یونہی یہ بھی واضح ہوا کہ اس کے دفع کی تدبیر سنت ہے کہ دعا نہیں مگر ایک تدبیر اور احادیثِ سابقہ دلیلِ اول سے واضح کہ اذان دفعِ شیطان کی ایک عمدہ تدبیر ہے تو یہ بھی مقصودِ شارع کے مطابق اور اپنی نظیرِ شرعی سے موافق ہوئی۔ [فتاویٰ رضویہ: 4/ 494]

تدفین کے بعد دعا کی سنیت

جب اذانِ قبر کی تحقیق مکمل ہوئی تو اعلیٰ حضرت دلیلِ ششم کے تحت میت کے لیے دعا کی سنیت و اہمیت کو ثابت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ابو داؤد و حاکم و بیہقی امیر المومنین عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے راوی:

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ قَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثَبُّتِ فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ. [سنن أبي داود، رقم الحديث: 3221]

یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب دفنِ میت سے فارغ ہوتے قبر پر وقوف فرماتے اور ارشاد کرتے اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے جوابِ نکیرین میں ثابت قدم رہنے کی دعا مانگو کہ اب اس سے سوال ہوتا ہے۔

سعید بن منصور اپنے سنن میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی:

قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقِفُ عَلَى الْقَبْرِ بَعْدَ مَا سُوَّى عَلَيْهِ فَيَقُولُ: اللَّهُمَّ نَزَلَ بِكَ صَاحِبُنَا وَخَلَّفَ الدُّنْيَا خَلْفَ ظَهْرِهِ اللَّهُمَّ ثَبِّتْ عِنْدَ الْمَسْأَلَةِ مَنْطِقَهُ وَلَا تُبْتَلِهِ فِي قَبْرِهِ بِمَا لَا طَاقَةَ لَهُ بِهِ. [الدر المنثور: 4/ 83]

یعنی جب مردہ دفن ہو کر قبر درست ہو جاتی، حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر کھڑے ہو کر دعا کرتے الہی! ہمارا ساتھی تیرا مہمان ہوا اور دنیا اپنے پسِ پشت چھوڑ آیا، الہی! سوال کے وقت اس کی زبان درست رکھ اور قبر میں اس پر وہ بلا نہ ڈال جس کی اسے طاقت نہ ہو۔

ان حدیثوں سے ثابت کہ دفن کے بعد دعا سنت ہے۔ امام محمد بن علی حکیم ترمذی قدس سرہ الشریف دعا بعدِ دفن کی حکمت میں فرماتے ہیں کہ نمازِ جنازہ جماعتِ مسلمین ایک لشکر تھا کہ آستانہِ شاہی پر میت کی شفاعت و عذر خواہی کے لیے حاضر ہوا اور اب قبر پر کھڑے ہو کر دعا یہ اس لشکر کی مدد ہے کہ یہ وقت میت کی مشغولی کا ہے کہ اسے اس نئی جگہ کا ہول اور نکیرین کا سوال پیش آنے والا ہے۔ نقلہ المولیٰ جلال الملتہ والدین السیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ فی شرح الصدور۔ اسی طرح اذکار امام نووی، جوہرہ نیرہ، در مختار و فتاویٰ عالمگیری وغیرہا اسفار میں ہے۔ [فتاویٰ رضویہ: 4/ 494-495]

پھر اس کے بعد اعلیٰ حضرت نے تدفین کے بعد اذان اور دعا کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے ایک بڑی خوبصورت بات استشہاداً رقم فرمائی ہے، لکھتے ہیں:

یہ تو واضح ہو لیا کہ بعدِ دفن میت کے لیے دعا سنت ہے۔ اور علما فرماتے ہیں آدابِ دعا سے ہے کہ اس سے پہلے کوئی عملِ صالح کرے۔ امام شمس الدین محمد بن الجزری کی 'حصنِ حصین' شریف میں ہے: اداب الدعاء منھا: تقدیم عمل صالح وذکرہ عند الشدۃ (یعنی آدابِ دعا میں سے ہے کہ اس سے پہلے عملِ صالح ہو اور ذکرِ الٰہی مشکل وقت میں ضرور کرنا چاہیے)۔ اور شک نہیں کہ اذان بھی عملِ صالح ہے تو دعا پر اس کی تقدیم مطابقِ مقصود و سنت ہوئی۔ [فتاویٰ رضویہ: 4/ 496]

جنازے کی دعائیں: المنیۃ الممتازة

برصغیر پاک و ہند میں چھوٹے بڑے کسی کا جنازہ ہو، بس ایک ہی مروج و مشہور دعا پڑھنے کا معمول ہے۔ جبکہ اعلیٰ حضرت نے جنازے میں پڑھی جانے والی دعاؤں کے تعلق سے مستقل ایک تاریخی کتاب الْمِنَّةُ الْمُمْتَازَةُ فِي دَعَوَاتِ الْجِنَازَةِ [1318ھ] کے نام سے تصنیف فرمائی، جس میں آپ نے مستند احادیث سے چودہ خصوصی دعاؤں کا ذکر فرمایا ہے۔ آپ وصایا شریف میں اپنی نمازِ جنازہ میں ان دعاؤں کو پڑھنے کی وصیت بھی کر گئے تھے۔

آپ نے وصیت فرمائی کہ جب تک میری قبر تیار ہو حاضرین یہ دعا پڑھتے رہیں:

سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ ثَبِّتْ عَبْدَكَ هَذَا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ بِجَاهِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.

لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ استقبالِ موت کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں، اپنی قبروں کو روشن کرنے کی فکر کریں، ان دعاؤں کو پہلے خود یاد کریں اور پھر دوسروں تک اس کی برکات و تجلیات پہنچانے میں اپنا مومنانہ کردار ادا کریں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!