| عنوان: | امام احمد رضا اور اذکار و ادعیہ (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفی قادری |
| پیش کش: | عائشہ امجدی کشمیر |
دعا کی اہمیت کو بیان کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت فوراً عنانِ قلم عظمتِ ذکر کی طرف پھیر دیتے ہیں اور ذکر کی ہمہ گیریت کے حوالے سے بڑے اہم نکات کی طرف رہنمائی فرماتے ہیں۔ چنانچہ قلم طراز ہیں:
دعا کے بارے میں آیات و حدیث سن ہی چکے اور دلائلِ مطلقہ تکثیرِ ذکر کہ ہر دعا بالبداہت ذکرِ الٰہی ہے اور اس پر علما نے تخصیص بھی فرمائی۔ مولانا قاری شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں: كُلُّ دُعَاءٍ ذِكْرٌ. (یعنی ہر دعا ذکر ہے)۔ فقیر غفر لہ المولى القدیر نے اپنے رسالہ 'نسیم الصبا فی ان الاذان یحول الوباء' میں اس مدعا پر بکثرت آیات و احادیث لکھی ہیں۔
اس کے بعد اعلیٰ حضرت نے مشتے نمونہ از خروارے ذکر کی فضیلت پر بعض مشہور آیات و احادیث ذکر کی ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں: یہاں صرف بعض آیات اور ان کی تفسیروں پر اقتصار ہوتا ہے اور جو عموماً تمامی اوقات و احوال میں نص ہیں:
آیت: قال جل ذکره: فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ. [سورۃ النساء: 103]
اللہ کا ذکر کرو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر۔ علماے کرام اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ جمیع احوال میں ذکرِ الٰہی و دعا کی مداومت کرو۔ بیضاوی میں ہے:
دَاوِمُوا عَلَى الذِّكْرِ فِي جَمِيعِ الْأَحْوَالِ أَيْ دَاوِمُوا عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى فِي جَمِيعِ الْأَحْوَالِ. [أنوار التنزيل وأسرار التأويل: 1/ 204]
یعنی تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے ذکر پر دوام اختیار کرو۔
ارشاد العقل السلیم میں ہے:
دَاوِمُوا عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى حَافِظُوا عَلَى مُرَاقَبَتِهِ وَمُنَاجَاتِهِ وَدُعَائِهِ فِي جَمِيعِ الْأَحْوَالِ. [تفسير إرشاد العقل السليم: 2/ 228]
یعنی تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے ذکر پر مداومت کرو، اور مراقبہ، مناجات اور رب سے دعا کی محافظت کرو۔
آیت: قال عزاسمہ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا. [سورۃ الاحزاب: 41]
اے ایمان والو! اللہ کا ذکر بکثرت کرو۔
علامۃ الوجود مفتی ابوالسعود ارشاد میں ارشاد فرماتے ہیں: يَعُمُّ الْأَوْقَاتَ وَالْأَحْوَالَ. یہ آیت تمام اوقات و احوال کو عام ہے۔
آیت: قال تعالی شانه: فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا. [سورۃ البقرۃ: 200]
اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
امام نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں: أُرِيدَ بِهِ ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى فِي الْأَوْقَاتِ كُلِّهَا. یعنی اس آیت سے یہ مراد ہے کہ ذکرِ الٰہی جمیع اوقات میں کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ. [جامع الترمذي، أبواب الدعوات، رقم الحديث: 3375]
یعنی ہمیشہ ذکرِ الٰہی میں تر زبان رہ۔
حدیث جید الاسناد حضرت ام انس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، حضور والا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَكْثِرِي مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ فَإِنَّكِ لَا تَأْتِينَ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ كَثْرَةِ ذِكْرِهِ. [المعجم الأوسط، رقم الحديث: 5464]
یعنی اللہ کا ذکر بکثرت کر کہ تو کوئی چیز ایسی نہ لائے جو خدا کو اپنی کثرتِ ذکر سے زیادہ پیاری ہو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مَنْ لَمْ يُكْثِرْ ذِكْرَ اللَّهِ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الْإِيمَانِ. [المعجم الأوسط، رقم الحديث: 5465]
یعنی جو ذکرِ الٰہی کی کثرت نہ کرے وہ ایمان سے بری ہو گیا۔
حدیث صحیح ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ تَعَالَى عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ. [سنن أبي داود، باب في الرجل يذكر الله تعالى على غير وضوء، رقم الحديث: 18]
یعنی حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت ذکرِ خدا فرمایا کرتے تھے۔
ان کے علاوہ متعدد احادیث و آثار ہیں۔ [فتاویٰ رضویہ: 6/ 751]
ذکرِ الٰہی جملہ اعمالِ صالحہ کی کلید ہے
ایک مسئلہ دریافت کیا گیا کہ ایک مسجد میں سب لوگ بعدِ نماز کلمہ شریف باآواز بلند چار پانچ مرتبہ پڑھتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟ اور جو شخص یا امام منع کرے اس کا کیا حکم ہے؟ اس کے جواب میں اعلیٰ حضرت ارشاد فرماتے ہیں:
ذکرِ الٰہی افضل الاعمال بلکہ اصلِ جملہ اعمالِ حسنہ صالحہ ہے۔ یہاں تک کہ بعدِ ایمان اعظمِ ارکانِ اسلام نماز سے بھی وہی مقصود ہے۔
قال الله تعالى: وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي. [سورۃ طہ: 14]
اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔
اور کلمہ طیبہ کہ اصل الاصول اور افضل الاذکار ہے۔ قال صلی اللہ علیہ وسلم:
أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. [سنن الترمذي، أبواب الدعوات، رقم الحديث: 3383]
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے اچھا ذکر 'لا الہ الا اللہ' ہے۔ اللہ عز وجل نے قرآن مجید میں ذکر کا مطلق حکم فرمایا اور تمیمِ احوال فرمائی:
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ. [سورۃ آل عمران: 191]
اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے یاد کرتے ہیں یعنی ہر حال میں خدا کا ذکر کرتے ہیں۔
بلکہ اس کی تکثیر کا حکم فرمایا:
قال الله تعالى: وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ. [سورۃ الجمعۃ: 10]
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ کا ذکر کثرت سے کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔
وقال صلی اللہ علیہ وسلم:
أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ حَتَّى يَقُولُوا إِنَّهُ مَجْنُونٌ. [مسند أحمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، رقم الحديث: 11671]
یعنی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ کہنے لگیں یہ تو دیوانہ ہے۔
جس چیز کی تکثیر شارع کو مطلوب ہو اس کی تقلیل نہ چاہے گا، مگر وہ جسے شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ضد ہے۔ رہا خوفِ ریا، وہ متعلق بہ قلب ہے، ریا سے اگر نماز ہو تو وہ بھی ناجائز ہے۔ مگر عقل و دین والا ریا سے منع کرے گا، نماز سے نہ روکے گا۔ حضرت سیدی شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس اللہ سرہ کے حضور کسی طالبِ خدا نے عرض کی کہ:
يَا سَيِّدِي إِنْ عَمِلْتُ دَاخَلَنِيَ الرِّيَاءُ وَإِنْ تَرَكْتُ أَخْلَدْتُ إِلَى أَرْضِ الْبَطَالَةِ.
اے میرے سردار! میں عمل کرتا ہوں تو ریا آجاتا ہے اور چھوڑ دیتا ہوں تو بیکاری کی زمین پر گرا پڑتا ہوں۔ جواب ارشاد فرمایا:
اِعْمَلْ وَتُبْ إِلَى اللَّهِ.
کام کیے جاؤ اور ریا سے اللہ کی طرف توبہ کرو۔
ہاں! دوسرے مسلمانوں کی ایذا نہ ہونے کا لحاظ لازم ہے، سوتوں کی نیند میں خلل نہ ہو، نمازیوں کی نماز میں تشویش نہ ہو، جیسا کہ اس پر نص ہے البحر الرائق اور رد المحتار وغیرہا میں۔ جب وقت لوگوں کی نیند کا ہو یا کچھ نماز پڑھ رہے ہوں تو ذکر کرو جس طرح چاہو مگر نہ اتنی آواز سے کہ ان کو ایذا ہو اور جب اس سے خالی ہو تو مختارِ مطلق ہو، کرو اور اتنی کثرت سے کرو کہ منافق مجنون کہیں اور وہابی بدعت۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [فتاویٰ رضویہ: 114 تا 115]
جمع ہو کر ذکر کرنا کیسا؟
کسی نے سوال کیا کہ جمع ہو کر ذکر کرنا کیسا ہے؟ تو اس کا ایک تفصیلی جواب رقم فرمایا، جس کا خلاصہ یہ ہے:
اجتماع ہو کر ذکر حسن ہے۔ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ رب عز وجل (حدیثِ قدسی میں) فرماتا ہے:
وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُ. [صحيح البخاري، كتاب التوحيد، رقم الحديث: 7405]
یعنی اگر کسی شخص نے مجھے کسی مجلس میں یاد کیا (یعنی میرا ذکر کیا) تو میں اس سے بہتر اور اعلیٰ مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔
نیز ذکر بالجہر صحیح یہ ہے کہ جائز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا. قَالُوا وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ، قَالَ حِلَقُ الذِّكْرِ. [جامع الترمذي، أبواب الدعوات، رقم الحديث: 3510]
یعنی لوگو! جب تم جنت کے باغیچوں سے گزرنے لگو تو اچھی طرح چر لیا کرو۔ لوگوں نے عرض کی: اے اللہ تعالیٰ کے حبیب! جنت کے باغیچے کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا: ذکر کے حلقے۔ [فتاویٰ رضویہ: 4/ 496]
ذکرِ جہر چہار ضربی کا طریقہ
ذکرِ جہر چہار ضربی کے تعلق سے بعض لوگوں کو کنفیوژن تھا، اور وہ اس کی ادائیگی کے درست طریقے سے آشنا نہ تھے۔ اعلیٰ حضرت نے ذکر و فکر کے تعلق سے جب اُن کی تشنگی محسوس کی تو ذکرِ جہر چہار ضربی کا طریقہ تفصیلِ تمام کے ساتھ بیان فرما دیا۔ اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں:
چار زانو بیٹھے، بائیں زانو کی رگ کیماس دہنے پاؤں کے انگوٹھے اور اس کے برابر کی انگلی میں دبا لے، پھر سر جھکا کر بائیں گھٹنے کے محاذی لا کر 'لا' کا لام یہاں سے شروع کر کے دہنے گھٹنے کے محاذات تک کھینچتا ہوا لے جائے۔
اب یہاں سے 'إله' کا ہمزہ شروع کر کے لام کے بعد کا الف دہنے شانے تک کھینچتا ہوا لے جائے اور دہنی طرف خوب منہ پھیر کر کہے، پھر وہاں سے 'إلا الله' بقوتِ دل پر ضرب کرے۔ سو بار یا حسبِ قوت کم سے شروع کرے۔
پھر حسبِ طاقت و فرصت بڑھاتا جائے۔ بہتر یہ ہے کہ پانچ ہزار ضرب روزانہ تک پہنچائے۔ جب حرارت بڑھنے لگے، ہر سو بار کے بعد ایک یا تین بار:
مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمَ.
کہہ لے تسکین پائے گا۔ مگر مبتدی کا جب تک زنگ دور نہ ہو خالص حرارت کا محتاج ہے۔ ایسے وقت اور ایسی جگہ ہو کہ ریا نہ آئے۔ کسی نمازی، ذاکر، یا مریض یا سوتے کو تشویش نہ ہو۔ اگر دیکھے کہ ریا آتا ہے تو نہ چھوڑے اور خیالِ ریا کو دفع کرے۔ اللہ عز وجل کی طرف اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسل سے رجوع لائے، تائب ہو، ان شاء اللہ تعالیٰ ریا دفع ہوگا۔ [الوظيفة الكريمة: 20، 21]
