| عنوان: | امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: گیارہویں) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفی قادری |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
مسیحیت کے بنیادی عقیدہ "کفارہ و نجات" (Atonement) کو ثابت کرنے کے لیے پیش کیے گئے مذکورہ بالا بارہ اقتباسات سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ مسیحی فکر کس طرح "ایمان بالکفارہ" کو نجات کی واحد شرط قرار دیتی ہے۔ ان اقتباسات میں یہ نظریہ کارفرما ہے کہ انسانیت آدم علیہ السلام کے "آبائی گناہ" (Original Sin) کی وجہ سے موروثی گنہگار ہے، اور اس سے رہائی کا واحد راستہ مسیح علیہ السلام کی الوہیت اور ان کی قربانی پر ایمان لانا ہے۔
امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنی تصنیفات اور فتاویٰ میں اس عقیدے کی بنیاد پر اٹھائے گئے سوالات کا نہایت مدلل جواب دیا ہے۔ آپ کے نزدیک یہ عقیدہ نہ صرف عقلِ سلیم کے خلاف ہے بلکہ اسلامی توحید کے بالکل متضاد ہے۔ آپ کے علمی ردِ استدلال کے چند اہم نکات یہ ہیں:
- اول: عدلِ الٰہی کے منافی تصور: یہ تصور کہ کسی ایک انسان (آدم علیہ السلام) کے گناہ کا خمیازہ پوری نسلِ انسانی کو بھگتنا پڑے، خدا کی عدل و انصاف کی صفت کے سراسر منافی ہے۔ اسلام میں ہر شخص اپنے اعمال کا خود جوابدہ ہے (سورۃ النجم: 38)۔
- دوم: کفارے کی ضرورت کا انکار: اسلام میں توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی بے پایاں رحمت سے بندوں کے گناہ بلا کسی جانی کفارے کے معاف فرما دیتا ہے۔ انبیاء کو صلیب پر چڑھانا، ان کی شانِ نبوت کی توہین ہے نہ کہ گناہوں کی معافی کا کوئی ذریعہ۔
- سوم: اناجیل کا باہمی تعارض: امام احمد رضا نے نشاندہی کی ہے کہ بائبل کے مختلف ابواب اور پولس (St. Paul) کے خطوط میں "نجات" کی شرائط متضاد ہیں۔ کہیں صرف "ایمان" کو کافی قرار دیا گیا ہے اور کہیں "شریعت" کے کردار کو یکسر رد کیا گیا ہے، جس سے اس عقیدے کی داخلی غیر مستحکمی ظاہر ہوتی ہے۔
یہ گیارہویں قسط اس بحث کا ابتدائی حصہ ہے جس میں مسیحیوں کے اپنے دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اگلی قسطوں میں محدثِ بریلوی کی علمی بصیرت کے آئینے میں ان اقتباسات کا تفصیلی عقلی اور نقلی رد پیش کیا جائے گا، جس سے یہ ثابت ہوگا کہ اسلام کا تصورِ نجات کس قدر سادہ، منطقی اور شانِ الوہیت کے مطابق ہے۔
